نعمت خانہ - پچیسویں قسط

نعمت خانہ - پچیسویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اس بات کی رتّی برابر بھی پروا کیے بغیر کہ جمعرات کی شام، جبکہ دونوں وقت گلے مل رہے تھے، اور مُردے اپنی اپنی قبروں میں فاتحے کے کھانے کا بے چارگی کے ساتھ انتظار کر رہے ہوں گے، میں ایک کے بعد ایک قبریں پھلانگتا ہوا انجم آپا کے گھر کی طرف دوڑا چلا جارہا تھا۔
وہ باورچی خانے میں ہی ایک پٹلی پر بیٹھی ہوئی نظر آئیں۔ دُبلی اور پہلے سے زیادہ کالی۔مجھے دیکھ کر وہ اُٹھ کر کھڑی ہو گئیں۔ اُن کا قد پہلے سے زیادہ ٹھگنا محسوس ہوا۔ وہ ایک ایسی پتھّر کی مُورت لگیں جس کے پیر اور پنجے آہستہ آہستہ گھس رہے ہوں۔

انجم آپا کی آنکھیں سونی پڑی تھیں۔ مگر شاید یہ آنسوؤں کے آنے سے پہلے کا سونا پن تھا۔ یا آنسو راستہ بھٹک گئے تھے کیونکہ اُن کی ناک سے لگاتار پانی بہہ رہاتھا۔

’’انجم آپا ؟‘‘
’’گڈّو میاں۔‘‘

’’انجم آپا، انجم آپا۔‘‘ میں نے دہرایا۔

’’گڈّو میاں۔‘‘ اُنھوں نے خلا میں ہاتھ بڑھائے۔ شاید وہ ٹٹول رہی تھیں اور تب میں نے غور کیا کہ اُن کی آنکھیں سونی ہونے کے علاوہ ساکت وجامد بھی تھیں۔

میں اُن کے بالکل قریب چلا آیا۔ ان کے کپڑوں سے مسالوں کی خوشبو آرہی تھی، جو زیادہ تر باورچی خانے میں وقت گزارنے والی ہر گھریلو عورت کے بدن سے آتی ہے۔

انھوں نے میرے بال چھوئے۔ میرا سر سہلایا۔

’’سنا ہے تم بہت بیمار ہو گئے تھے۔‘‘ اُن کی آواز کی ترنگوں میں کسی ایک ارتعاش کی کمی تھی۔ ایک بہت جانا پہچانا اور مانوس ارتعاش جو اب غائب تھا۔

’’ہاں۔‘‘
’’میں تمھیں دیکھنے نہ آسکی، مجھے معاف کر دو۔‘‘

’’ارے چھوڑو انجم آپا۔ پتہ ہے ایک نیا ہیبت ناک ناول آیا ہے، ’’آسیبی بلّی۔‘‘ کل تمھارے لیے لے کر آؤں گا۔‘‘
’’نہیں۔‘‘ انجم آپا نے سسکی لی۔
’’کیوں؟ تمھیں تو بھیانک اور ہیبت ناک ناول بہت پسند تھے۔‘‘
’’تو پھر۔۔۔ تمھیں پڑھ کر سنانا ہوگا۔‘‘ انجم آپا کی آوازبہت دور سے آتی ہوئی محسوس ہوئی۔
’’کیا مطلب؟‘‘
’’کیونکہ میں اندھی ہوچکی ہوں۔‘‘

اوراب پہلی بار مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا۔ مجھے بہت پہلے ہی یہ جان لینا چاہئیے تھا کہ وہ اندھی ہو چکی ہیں۔
’’میں کل آؤںگا۔‘‘ غیر اضطراری طور پر گھبرا کر پیچھے ہٹتے ہوئے میں نے کہا۔

’’اچھّا۔‘‘

انجم آپا کے گھر سے میں بہت سست قدموں کے ساتھ واپس آیا۔ گھر پر چھوٹے ماموں سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ انجم آپا کا شوہر انتہائی ظالم اور ناہنجار آدمی نکلا۔ اُس کا کوئی ذریعہ معاش نہیں ہے۔ دن رات جُوا کھیلتا رہتا ہے اور شراب کے نشے میں چور رہتا ہے۔ انجم آپا کو مار پیٹ کر وہ اُنہیں اپنے باپ سے پیسے مانگنے پر مجبور کرتا رہتا۔ ایک دن اُس نے شراب کے نشے میں انجم آپا کی آنکھوں میں جلتے ہوئے سگریٹ کی تمباکو جھونک دی۔ وہ بے زبان لڑکی اندھی ہو گئی، مگر کوئی کچھ بھی نہ کر سکا۔ اُس کی وجہ یہ کہ خود انجم آپا کے باپ اب اِسں عمر میں دوسری شادی کرنے جارہے ہیں۔ پولیس، مقدمہ اور طلاق ولاق کے چکر میں وہ نہیں پڑنا چاہتے۔ اُنھیں تو اَب گھر میں انجم آپا کا رہنا بھی گوارہ نہیں۔ دوسرے یہ بھی کہ انجم آپا کا شوہر شہر کے چھٹے ہوئے بدمعاشوں سے میل جول رکھتا ہے، اس لیے وہ اُس سے خوف زدہ بھی رہتے ہیں۔ وہ اکثر ان کی راشن کی دوکان پر جاکر اُنہیں گالیاں دیتا رہتا ہے اور وہ خامو ش سنتے رہتے ہیں۔

چھوٹے ماموں نے یہ بھی بتایا کہ وہ چھپ چھپ کر انجم آپا کے گھر بھی آتا جاتا رہتا ہے، اور وہاں بھی اُنھیں زدوکوب کرتا ہے۔
’’کوئی کچھ کہتا نہیں؟‘‘ میں نے پوچھا تھا۔

’’کسی کو کیا پڑی ہے، کسی کے معاملے میں دخل دینے کی، جب انجم آپا کے باپ ہی کچھ نہیں کہتے۔‘‘ چھوٹے ماموں بولے۔

مارچ کا مہینہ تھا، ایک اُداس، بڑے صدر دروازے جیسا مہینہ جس میں سے ہوکر ہوائیں آتی اور جاتی رہتی ہیں۔ کم از کم مجھے تو مارچ کا مہینہ کسی کھنڈر کے ایک ویران، گردآلود اکیلے صدر دروازے کی مانند ہی لگتا ہے۔

میں بہت دیر تک مارچ کے اس سنّاٹے میں چپ چاپ کھڑا رہا، اس سناٹے میں اگر کوئی آہٹ تھی تو وہ سردیوں کے واپس جاتے ہوئے قدموں کی تھی۔

یونہی چپ چاپ کھڑے کھڑے، اچانک میرے اندر اُسی پرانے تاریک دیو ہیکل غصّے نے ایک پھنکار ماری۔ وہی کالا غصہ جو ایک زہریلے سانپ کی طرح کنڈلی مار کر، سکڑ کر، میرے وجود کے نادیدہ ریشوںمیں کہیں چھپ کر بیٹھ گیا تھا۔ ایک بار پھر، میری روح کے خلیوں اور اُس کی جھلّیوں کو توڑتا ہوا باہر آنا چاہتا تھا۔

میں ڈر گیا۔ اپنے اندر کے اُس پرُاسرار کالے سانپ سے میں ڈر گیا اور مجھے یہ بھی یاد آیا کہ ابھی کل ہی شام تو اندر والے دالان کے کونے میں، میں نے سانپ کی اُتاری ہوئی کینچلی پڑی دیکھی تھی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - آٹھویں قسط

خالد جاوید: دراصل ہاتھوں کی اپنی شخصیت ہوتی ہے۔ یہ مجھے اب معلوم ہوا ہے، ہاتھ تو انسان کے دماغ سے بھی پہلے قوت نمو حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں۔

نعمت خانہ - پانچویں قسط

خالد جاوید:
باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔

نعمت خانہ - پہلی قسط

خالد جاوید: ہوا ہی وہ چشم دید گواہ تھی جس نے دیکھا کہ وہ اپنے ہی گھر میں ایک اکیلے مگر اُداس کالے چور کی طرح داخل ہوا۔ گھر پتہ نہیں بن رہاتھا یا گر رہا تھا یا کہ کھنڈر بن رہاتھا۔ یہ بھی کوئی نہیں جانتا، صرف ہوا جانتی تھی۔