نعمت خانہ - چھٹی قسط

نعمت خانہ - چھٹی قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اپنی یادداشت پر اتنا غرور ہونے کے باوجود افسوس، میں یہ بتانا توبھول ہی گیا کہ ہمارے گھر میں ایک اور مسئلہ بھی تھا۔

اس گھر میں، باورچی خانہ کبھی کبھی کھسک کر چاروں طرف رینگنے لگتا تھا۔ ٹین میں داسے پر لٹکا ہوا چھینکا جس میں زیادہ تر دودھ کا برتن ہوتا۔ (برابر میں سنبل کا پنجرہ جھولتا رہتا تھا) کبھی کبھی چھینکے میں سالن بھی ہوتا۔

داسے کے دوسرے سرے پر مدّھم اور اُداس روشنی والی لالٹین۔ اس روشنی میں چھینکے کا سایہ ہوا میں آہستہ آہستہ ڈولتا تھا۔ اُس وقت آنگن میں پُراسرار طریقے سے غیر مرئی اشیا اکٹھا ہوتی جاتی تھیں۔ کہیں کسی چھینکے میں اُبلا ہوا گوشت لٹکا تھا، کہیں درختوں کی کیاری کے پاس رکھے ایک چھوٹے سے لکڑی کے اسٹول پر بچی ہوئی روٹیاں ڈلیا میں رکھی تھیں۔ باورچی خانے کے جھوٹے برتن نل کی حوضیہ میں پڑے تھے۔ گھر میں کتّا کوئی نہ تھا ا ور بلّیوں کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ وہ توپاک صاف جانور تھے۔

آنگن میں کھانوں کی بے ہنگم ڈولتی اور کانپتی ہوئی پرچھائیاں جو چاندنی راتوں میں اپنی سیاہ لکیروں کی حدود سے، پُراسرار اندازمیں ماورا ہوجانے کے درپے تھیں۔ اور ایک نعمت خانہ بھی تو تھا۔باہر والے دالان میں، اندر کی طرف، مغربی دیوار سے لگا ہوا نعمت خانے میں ایک سیاہ جالی تھی۔ سیاہ تو وہ دُھول دھکّڑ سے ہو گئی تھی۔ جالی کے چھید، دھول خاک اور میل سے بند ہوچکے تھے۔ نعمت خانے کا لکڑی کا ڈھانچہ جگہ جگہ سے گل رہا تھا۔ کبھی لکڑی پر سفید رنگ پوتا گیا تھا، مگر اب یہ سفیدی بھی کلجماہٹ میں تبدیل ہوگئی تھی۔

نعمت خانے میں انڈے، ڈبل روٹی، بڑے بڑے گول بسکٹ، کچھ پھل مثلاً زیادہ تر تو امرود یا خربوزے وغیرہ رکھے رہتے تھے۔ سیب اور انار کبھی کبھی ہی آتے اور وہ بھی شاید بیمار لوگوں کے لیے پتہ نہیں اُس کو نعمت خانہ کیوں کہتے تھے۔ مجھے تو وہ نعمت خانہ صرف اسی روز محسوس ہوتا تھا جب اُس میں شاہی ٹکڑے یا فیرینی کے پیالے رکھے ہوتے تھے۔ یا پھر کوئی مٹھائی۔ مگر یہ اشیا نعمت خانے کو روز روز کہاں نصیب تھیں۔

تو بس کھانا، کھانا اور کھانا۔ پورا گھر گویا مٹّی، گارے اور اینٹوںسے نہ بن کر پیاز، لہسن، ہلدی، دھنیہ، گرم مصالحوں اور گوشت اور ہڈیوں سے تعمیر ہواتھا۔ سارا سفر باورچی خانے سے شروع ہوتا تھا اور باورچی خانے پر ہی ختم ہوتا تھا۔

ساری محبت، ساری نفرت، ہر قسم کی لگاوٹ اور ہر قسم کا تشدّد باورچی خانے کے چولہے کی راکھ اور دھوئیں سے ہی نکل نکل کر گھر کے باقی حصوں یعنی برآمدے، دالان اور کوٹھریوں اور دروازوں تک پہنچتے تھے۔ باورچی خانہ ہی انسانوں کا گڑھا ہوا وہ متن تھا جس میں ہزار ہا معنی پوشیدہ تھے بلکہ معنی لگاتار پیدا ہوتے رہتے تھے۔

شادی، موت، ہر ہنگامے پر باورچی خانہ کا ایک انفرادی کردار ہوا کرتا تھا۔ نیاز، نذر اور تیوہار بس اِسی مقام پر اپنی معنویت کا مرکز رکھتے تھے۔ رَت جگوں کے گلگلے، کونڈوں کی پوریاں، کھیر، سویّاں اور موت کا حلوہ، سب اپنے ذائقے اور خوشبو کے لیے اسی کے مرہونِ منت تھے۔
سچ تو یہ ہے کہ بقیہ تمام گھر، اُس کے آگے کمزور اور بے بس نظر آتا تھا۔ وہ قوت کا مرکز تھا۔ نئے زمانے کے جدید کچن کا باورچی خانوں کی عظیم مگر بھیانک روایت سے بظاہر کوئی تعلق نہیں نظر آتا۔

چندرگُپت موریہ کے زمانے سے لے کر مغلیہ دورِ حکومت کے اختتام تک تاریخ اِس امر کی شاہد ہے کہ رسوئی اور باورچی خانے کا رول حکومتوں کو بنانے اور بگاڑنے میں بہت اہم مگر خفیہ نوعیت کا رہاہے۔ مہاتما بُدھ کی موت بھی بھکشا میں ملے ہوئے سڑے ہوئے گوشت کے کھانے سے ہی ہوئی تھی۔

باورچی خانے کا تعلق کھانا پکنے سے ہے اور کھانے کا تعلق انسان کی آنتوں سے اور بھوک سے اور بدنیتی سے بھی۔ کیا کبھی سوچا ہے کہ انسان کے اعضائے تکلم ایک دوسرا کام بھی تو کرتے ہیں جس طرح جنسی اعضاء دو کام انجام دیتے ہیں۔

منھ، زبان، تالو، جبڑے اور دانت کھانا بھی تو چباتے ہیں۔ کھانے کا ذائقہ، لمس، مہک اور اُس کا چبانا، ریزے ریزے کر دینا اور پھر نگل کر آنتوں میں پھینک دیا جانا سب انھیں اعضا کے رحم و کرم پر مبنی ہیں۔

مگر آدمی بولتا بھی تو انھیں کے سہارے ہے۔ انھیں اعضا نے تو انسان کو قوتِ گویائی بخشی ہے۔ آخر کیوں؟

آخر کیوں؟ یہی اعضا کیوں؟؟ آنکھیںاور کان اور ناک کیوں نہیں؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ کھانا بھی ایک قسم کی وحشی اور گونگی بھاشا ہو اور بھوک اُس کے معنی!

ساری دنیا کی ایک عالمگیر زبان بھوک نہیں تو اور کیا ہے۔یہ اعضا زبان بولنے اور کھانا چبانے میں کوئی فرق نہیں محسوس کرتے۔ ان دونوں کاموں سے اُنہیں ایک ہی قسم کی طمانیت اور سرشاری کا احساس ہوتا ہے۔ ایک حیاتیاتی سطح پر اور دوسرا تہذیبی سطح پر۔

مگر نہیں! کہاں کی حیات اور کہاں کی تہذیب، سب افواہیں ہیں اور دشمنوں کی اُڑائی ہوئی ہیں۔ معاملہ کچھ اور ہی ہوگا اور جوبھی ہوگا وہ بہت بھیانک ہوگا۔

بچپن سے ہی مجھے باورچی خانے سے ایک اجنبی اور نامانوس بُو کے آتے رہنے کا احساس تھا۔ یہ بُو ہلدی، مرچ، پیاز اور لہسن اور سرسوںکے تیل کے بگھار سے ملتی جلتی ہونے کے باوجود اُن سے الگ تھی۔ یہ زیادہ بھاری تھی اور اِسی لیے اس بُو کے سالمے بقیہ سے الگ اپنی ایک تہہ بناتے تھے۔ وہ ان سب اشیا کی بو میں گھل مل نہیں سکتے تھے۔

وہ نامانوس بو کس چیز کی تھی؟

تب تو نہیں مگر اب اِس عمر میں، تقریباً بوڑھا ہوجانے کے بعد مجھ پر یہ انکشاف ہوا ہے کہ وہ درندوں اور جنگلی جانوروںکے جسم سے آنے والی بو تھی۔

باورچی خانہ، آخر سرکس کا ایک تنبو بھی تو تھا۔

سرکس کے اس تنبو میں، ایک مسخرہ بن کر جیتے جیتے اور جانوروں کی بدبوئوں کے ساتھ رہ کر میری روح کی تمام خوشبو گھل گھل کر ختم ہوگئی۔

شایداب بھی میں کچھ جانوروں کے ساتھ رہتاہوں۔ اُن کا رِنگ ماسٹر اگرچہ مجھے قابو نہیں کرتا مگر میں اپنے آپ ہی اُس کی تعمیل کرتا ہوں۔ میں اُس کے چہرے اور اُس کے کوڑے دونوں ہی کے مزاج پہچانتا ہوں۔

میں جانوروں کے ساتھ ہی اُٹھ بیٹھ رہا ہوں۔ اُن کے ساتھ ہی میرا آب و دانہ ہے اوراُن کے ساتھ ہی میرا پیشاب پاخانہ۔

میں اِن سب سے اور باورچی خانے سے بھاگ کر کہیں نہیں جاسکتا۔ کوئی بھی نہیں جاسکتا۔
انسان کہیں نہیں جاتا۔ سب چیزیں اُس کے پاس آتی ہیں، بالکل آنے والے کل کی طرح۔
آنے والا کل، شاید صرف اُس جسم کے لیے نہ ہو جو آنتوں اور معدے سے خالی ہو۔

مجھے ہندو دھرم کا یہ خیال باربار چونکاتا رہتا ہے کہ جس طرح ہون کنڈ میں اناج اور غلّہ وغیرہ ڈالاجاتا ہے، اُسی طرح معدہ بھی ایک قسم کا ہون کنڈ ہے۔ اور بھوک ایک آگ۔ پیٹ کی آگ کے لیے کھانا چاہئیے۔ کھانا کھانا ایک یگیہ سے مماثل ہے۔

ویسے بات کچھ خاص نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ میں استعارے سے کتراتا ہوں، مجھے تشبیہ پسند ہے۔

Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - چوتھی قسط

خالد جاوید: میری یادداشت ایک معجزہ ہے۔ مجھے سب یاد ہے بس شرط یہ ہے کہ جو بھی میں نے دیکھا ہو، شاید بصری یادداشت اسی کو کہتے ہیں۔

نعمت خانہ - پانچویں قسط

خالد جاوید:
باورچی خانہ چاہے گھر کے کسی حصّے میں ہو یا کسی بھی رُخ پر بنا ہو، چاہے واستو شاستر والوں سے کتنی ہی مدد کیوں نہ لے لی جائے، وہاں کے لڑائی جھگڑے نہیں جاتے۔

نعمت خانہ - چوبیسویں قسط

خالد جاوید: تو مجھے یرقان ہوا تھا۔ شام ہوتے ہوتے مجھے گھر اور دنیا کی ہر شے پیلی نظر آنے لگی۔ میرے پیشاب کا رنگ ہلدی کی طرح ہو گیا۔ میرے جسم کی کھال پر جیسے زرد سفوف سا مل دیا گیا تھا جو شاید بستر پر بھی جھڑتا رہتا تھا۔