نعمت خانہ - گیارہویں قسط

نعمت خانہ - گیارہویں قسط
اس ناول کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اُس زمانے میں مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ یہ کرّہ ارض ایک معمولی سے نقطے سے شروع ہوا تھا۔ اب مجھے یہ بات معلوم ہو گئی ہے کہ واقعی یہ دنیا سفید کاغذ پر سرمئی پنسل سے لگایا گیا ایک نقطہ ہی تھا۔

پھر جو اس نقطے نے پھیلنا شروع کیا اور شیطانی آنت کی طرح جو روپ اور حجم اختیار کیا اُس کے بارے میں یہاں کچھ بھی لکھنا محض ایک تضیع اوقات ہے۔

حالانکہ دنیا میرے لیے کوئی بہت بڑا معمّہ نہیں ہے۔ (دنیا میں رہنے والے انسان معمّہ ہیں اور خود میں معمّہ ہوں)
ایک بے تُکے نقطے کا بے تُکے انداز میں پھیلتے رہنے سے مجھے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے۔ یہ تو ایک مرض کی مانند ہے۔ ایک کینسر کی طرح۔ مگر اس نقطے کے اندر جو ایک لامحدود حجم والا بھورے رنگ کا لفافہ بن چکاہے، اُس میں عورت مرد رہتے ہیں۔ جانور رہتے ہیں، کیڑے مکوڑے رہتے ہیں اور بچّے رہتے ہیں۔ جی ہاں بچّے بھی۔ اوراسی دنیا میں جہاں پہاڑ، سمندر، آتش فشاں، جنگل، ندیاں اور ریگستان ہیں۔ وہیں ایک باورچی خانہ بھی تو اسی نقطے میں ہے۔ باورچی خانہ جیسا کہ میں باربار کہتا ہوں (کیونکہ تکرار مجھے پسند ہے، مجھے بھی اور اِس دنیا کوبھی) کہ وہ ایک انتہائی بھیانک اور ناخوشگوار مگر انسانی آنتوںکے لیے شہوت سے بھری ایک جگہ کا نام ہے۔ انسانی آنتوں کی شہوت اپنی ماہیت میں اُس کے پوشیدہ اعضاء کی شہوت سے زیادہ خوفناک ہے۔ اور کیا عجب اس نقطے (کرّۂ ارض) کو بڑھانے اور پھیلانے میں شاید سب سے زیادہ مدد اِسی شیطانی مقام نے کی ہو اور مجھے تو اَب مستقبل کی تمام بدشگونیوں کی علامتیں باورچی خانے سے ہی حاصل ہوتی ہیں۔

اس لیے دنیا کے بڑھتے، پھیلتے رہنے یا فنا ہونے وغیرہ سے کوئی دلچسپی نہ ہونے کے باوجود میں اس نقطے پر ایک پسّو کی مانند جاکر چپک جانا چاہتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میری معجزاتی یادداشت کی ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ وہ دنیا نام کے کاغذ پر لگاگئے گئے اُسی نقطے تک پہنچ جائے۔ میں اپنے جسم سے بھٹک گئے ایک خلیے کی مانند، ہوا میں اُڑتے ہوئے یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ اس دنیا نے انسانوں کے ساتھ کیا برتائو کیا۔ یا یہ کہ انسانوں نے دنیا کے ساتھ کیا کمینہ پن کیا، مگر افسوس کہ میرا حافظہ زیادہ سے زیادہ میرے بچپن تک ہی جاکر رُک جاتا ہے اور پھر ایک ایسی ذہنی کشمکش شروع ہوجاتی ہے جس کا انجام میرے سر میں بھیانک درد کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔

میرا بچپن؟

میں اپنے بچپن کو دوبارہ اس لیے نہیں حاصل کرنا چاہتا، کہ اُسے ایک بارپھر سے جینے لگوں۔ میں اب اُس تک اس لیے رسائی حاصل کرنا چاہتا ہوں کہ اُسے سمجھ سکوں۔ جس طرح ذرا بڑے ہو جانے پر بچّے اپنی پرانی گیند کو توڑ کر اُس کے اندر جھانکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ پرانے کھلونوں کو توڑ کر اُس کے انجر پنجر ایک کرکے رکھ دیتے ہیں تاکہ سمجھ سکیں کہ چابی والا بندر دودھ کی شیشی منھ میں کس طرح لے کر پیتا تھا۔

میرا بچپن؟ وہ کہاں چھپا بیٹھا ہے؟

میں نے اپنی عمررسیدہ بدرنگ کھال کو باربار ساٹھ کی دہائی کے محمد رفیع کے فلمی گانوں کی نوکوں سے ادھیڑا اور چھیلا۔ ابن صفی کے ناولوں کی دھاردار قینچی سے باطن کے یہ موٹے موٹے بے رحم دھاگے اور ستلیاں کاٹ ڈالے۔ پرانے دوستوں کے ساتھ پرانی باتیں کرتا رہا اور میرے حافظے کو ان سب کی کمک ملتے رہنے کے باوجود، بچپن اس طرح نہ ملا جس طرح میں چاہتا ہوں۔ حالانکہ وہ میرے اندر ہی کہیں ہے۔ کھال کے نیچے، ہڈیوں کے گُودے میں، کہیں چپکا ہوا، گھر کے کسی تاریک گوشے میں پڑے پلاسٹک کی گیند کے ایک ٹوٹے ہوئے ٹکڑے کی طرح، اپنے بچپن کے ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں پر جب توجہ مرکوز کرتے ہوئے غور وفکر کرتا ہوں تو ایک بات سامنے ضرور آتی ہے اور وہ یہ کہ آہستہ آہستہ میرے اندر ایک قسم کی کینہ پروری پیدا ہوتی جارہی تھی۔ ایک خطرناک قسم کا کینہ، جس کے اندر ایک گھٹیا قسم کا تشدّد پوشیدہ تھا۔ دوسروں کو ایذا پہنچانے کی ایک ناقابل فہم خواہش اکثر میرے اند رپیدا ہوتی رہتی تھی۔ مثلاً باربار میرا جی چاہتا تھا کہ اپنے پاس بیٹھے افراد کے جسم میں کوئی باریک سی سوئی چبھو دوں، یا کھانا پکاتے ہوئے کسی شخص کے کھانے میں چپکے سے تھوک دوں، اور بھی اِسی قسم کی گھٹیا اور غیر اخلاقی حرکتیں کرتا پھروں۔

میں مثال کے طور پر ایک واقعہ کا ذکر کروں گا، کچھ دنوں سے مَیں دیکھ رہاتھاکہ ثروت ممانی اور فیروز خالو آپس میں بہت بے تکلف ہوتے جارہے ہیں اور ماموں اور ممانی کے آپسی جھگڑے ضرورت سے زیادہ بڑھتے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ ایک رات ماموںنے ممانی کو چپّلوں سے مارا پیٹا بھی۔ مجھے خوشی ہوئی کیونکہ ثروت ممانی بے حد بددماغ قسم کی عورت تھیں اُن کے کوئی اولاد نہ تھی مگر میں نے ہمیشہ یہ محسوس کیا کہ وہ مجھ سے چڑتی تھیں۔ اس کی کوئی نہ کوئی وجہ ضرور ہوگی۔ جس کا مجھے علم نہیں۔ انسان کو وجہوں کے پیچھے ہاتھ دھوکر نہیں پڑنا چاہئیے۔ بس تیل دیکھنا چاہئیے، اور تیل کی دھار۔ اگرچہ اس کارآمد اُصول پر میں خود بھی قائم نہ رہ سکا۔

اُس شام باورچی خانے سے اُس مسالے کی بُو آرہی تھی جس کے ساتھ مچھلی بھونی جاتی ہے۔ مجھے مسالے والی مچھلی بہت پسند ہے مگرمیری چھٹی حس نے مجھے آگاہ کر دیا تھا کہ آج یہ اچھا شگون نہیں ہے۔ کوئی بھی برُا واقعہ کسی کے بھی ساتھ پیش آسکتا ہے۔ مگر میں نے اُس رات مچھلی خوب مزے لے لے کرکھائی۔ مچھلی ثروت ممانی نے پکائی، اگر انجم باجی پکاتیں تو لطف دوبالا ہوجاتا۔ رات کا کھانا ساتھ خیریت کے کھالیاگیا اور کوئی ناخوشگوار واقعہ یا حادثہ پیش نہیں آیا۔ میری چھٹی حس بھی سوگئی۔

وہ شاید اپریل کے شروع کے دن تھے۔ باہر والے دالان سے ملحق ایک آڑ میں چھوٹا سا برآمدہ تھا جس کی چھت لکڑی کی کڑیوں اور شہتیروں کی تھی۔ ان اطراف میں ان دنوں شہد کی مکھّیاں جگہ جگہ اپنے چھتّے بناتی پھرتی تھیں۔ برآمدے میں ایک شہتیر پر شہد کی مکھّیوں نے بہت بڑا سا چھتہ بنا رکھاتھا۔ تیز کتھئی رنگ کا بے حد نفاست اور ناپ تول کر بنایا گیا چھتّہ جو کبھی کبھی چھت پر فانوس کی طرح لٹکا ہوا نظر آتاتھا ۔ گھر میں کسی کی ہمت نہ تھی کہ اُسے چھیڑے۔

برآمدے کے سامنے باورچی خانے کا عقبی روشندان کھلتا تھا۔ جس سے یہ چھتّہ صاف نظر آتا تھا۔ رات کے تقریباً دو بج رہے تھے اور مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔کچھ بے چینی سی تھی۔ گھر کے تمام افراد اِدھر ُدھر دُبکے ہوئے سو رہے تھے۔ مجھے کچھ میٹھا کھانے کی خواہش ہوئی۔ رات میں اکثر میں چھپ کر میٹھا کھاتا تھا جس کے لیے مجھے باورچی خانے میں جانا پڑتا تھا۔ میں نے سوچا کہ تھوڑی شکر ہی پھانک لوں۔ اپنے ارادے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے میں بستر سے اُٹھتا ہوں اور بلّی کی چال چلتے ہوئے باورچی خانے تک پہنچتاہوں۔ بہت آہستگی اور کمالِ احتیاط سے کام لیتا ہوا میں باورچی خانے کا دروازہ کھولتا ہوں ۔ اندر داخل ہوتا ہوں۔ اندھیرے باورچی خانے میں مچھلی کی بساندھ بھری ہوئی ہے۔ بغیر بتّی جلائے، اندازے سے میں شکر کے ڈبّے تک پہنچتا ہوں۔ روشندان میں سے پام کا ایک بڑا سا پتّہ اندر کو چلا آیا ہے جو اپریل کی رات میں چلنے والی خوشگوار ہوا میں آہستہ آہستہ لرز رہا ہے۔

میں شکر کا ڈبّہ کھولتا ہوں، شکر کو مٹھی میں دبائے ہوئے اُسے منھ میں ڈالنے ہی کو ہوتا ہوں کہ ایک عجیب سی آہٹ سنائی دیتی ہے۔
میرا کن کٹا خرگوش؟

لوسی یا جیک؟
کوئی بلّی؟
یا وہ سیاہ ناگ؟

میں خوفزدہ ہو جاتا ہوں۔ میری بند مٹھی کھل جاتی ہے۔ ساری شکر اندھیرے میں فرش پر گر جاتی ہے۔
مگر نہیں یہ انسانی سانسیں ہیں اور انسانی سرگوشیاں۔

کوئی برآمدے میں ہے۔

میں ہمت سے کام لیتاہوں اور ایک بڑے سے پتیلے پر پیر رکھ کر روشندان سے جھانکتا ہوں۔ پام کا پتّہ میری آنکھوں اور ناک پر چبھنے لگتا ہے۔ میرے پورے چہرے پر سخت قسم کی کھجلی ہونے لگتی ہے۔ جس کو برداشت کرتے ہوئے اُچک کر میں دیکھتا ہوں۔
مدھم سی چاندنی میں دوسائے آپس میں اس طرح گتھے ہوئے نظر آئے جیسے کشتی لڑ رہے ہوں۔ ایک پل کو اُن کے چہروں پر خاص زاویے سے روشنی پڑتی ہے۔ میں اُنہیں پہچان لیتا ہوں۔

وہ ثروت ممانی اور فیروز خالو ہیں۔

میرے اندر ایک زبردست قسم کی نفرت کا بھنور پیدا ہوگیا۔ میرے اندر کینہ اور بغض اپنی حدوں کو پار کرنے لگے۔ میں سراپا تشدّد بن گیا، مگر کچھ نہ کر پانے کی سکت کے احساس نے میرے پورے جسم پر کپکپی طاری کر دی۔

ٹھیک اُسی وقت چاندنی رات میں مجھے وہ نظرآیا۔ وہ چھتّہ جو ٹھیک اُن دونوں کے سروں پر ہی لٹک رہا تھا۔

میں کانپتے ہوئے پیروں سے پتیلے سے نیچے اُترا۔ تاریک باورچی خانے میں اٹکل سے مٹّی کی اُس ہانڈی تک پہنچا جس میں نمک کے ڈبّے پڑے ہوئے تھے۔ میں نے نمک کا ایک بڑا سا ڈیلہ ہاتھ میں دبایا اور دوبارہ اُس پتیلے پر چڑھ گیا۔ اس بار میں کانپ نہیں رہاتھا۔ حیرت انگیز طور پر میں خود کو بہت طاقتور محسوس کر رہا تھا۔

دو تاریک سائے دو جانوروںکی مانند ایک دوسرے سے گتھے ہوئے اور لپٹے ہوئے ہیں۔ میں پام کے پتّے کو ایک ہاتھ سے تھوڑا سا ہٹاتا ہوں۔ شہد کی مکھّیوں کے چھتّے پر اپنا نشانہ سادھتا ہوں۔ سانس روک کر اپنے دائیں ہاتھ میں اپنے جسم اور روح کی تمام طاقت کو منتقل کرتا ہوں اور پھر نمک کا ڈیلہ چھتّے پر زور سے پھینک کر مار دیتا ہوں۔ ہلکی سی آواز آتی ہے۔ جس کے بعد ایک عجیب اور پُراسرار سی بھنبھناہٹ گونجتی ہے۔ جیسے موت غصّے میں بھری سرگوشیاں کر رہی ہو۔

اُن دونوں کی ہذیانی چیخوں سے سارا گھر جاگ جاتا ہے۔ مکّھیاں دونوں پر بری طرح چمٹ گئی تھیں۔ چاندنی رات میں مکّھیوںکے سائے بھیانک تاریک دھبّوں کی طرح اُڑتے اور گردش کرتے پھر رہے تھے۔

غیض و غضب سے بھری شہد کی مکّھیاں اُن کے کپڑوں میں گھس گئی تھیں۔ فیروز خالو کو میں نے بھاگتے ہوئے زینے کی طرف جاتے دیکھا۔ وہ چھت پر دوڑ رہے تھے، شاید منڈیر سے برابر والے گھر یا گلی میں چھلانگ لگانے کے لیے۔ ان کی قمیض اور پتلون اُن کے کاندھوں پر تھی۔ وہ باربار اپنے نچلے حصّے پر اِدھراُدھر ہاتھ مار رہے تھے شاید اُن کے پوشیدہ اعضاء کو مکھّیوں نے ڈنک مارے تھے۔

ثروت ممانی بری طرح چیخیں مار رہی تھیںاور دیوانوں کی طرح زمین پر لوٹیں لگا رہی تھیں۔ کبھی وہ اُٹھ کر کھڑی ہوتیں اور بگولے کی طرح چکرانے لگتیں۔ اُن کے بال کھل کر اُن کے گھنٹوں تک جارہے تھے۔ پھر زمین پر گر کر لوٹیں لگانے لگتیں۔ میں نے اُنہیں اپنا جمپر اُتارتے ہوئے دیکھا، ان کی غیر معمولی طور پر بڑی اور بھاری بھاری لٹکی ہوئی چھاتیوں کی پرچھائیں کبھی زمین پر پڑتی،کبھی دیوار پر۔ اُن کے بال کھل گئے تھے۔ ان کا چہرہ اُن میں چھپ گیا۔ ان کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے وہ کوئی خوفناک تانڈو ناچ ناچ رہی ہوں۔ ایک چڑیل، ایک آسیب کی مانند۔ ان کی چیخیں کبھی بھاری اور طویل ہوجاتیں اور کبھی پتلی، باریک اور مختصر — وہ کسی غیر انسانی شے میں تبدیل ہو چکی تھیں۔ تھوڑی دیر بعد بالکل خاموش ہوکر وہ زمین پر ایک وزنی درخت کی مانند آگریں۔ مجھے لگا کہ وہ مر گئیں۔

گھر کے تمام افراد خوف زدہ سے اِدھر اُدھر کھڑے یا چھُپے ہوئے تھے۔

آہستہ آہستہ وہ خوفناک بھنبھناہٹ مدھم پڑتی گئی۔ مکھّیوں کے سائے سمٹنے لگے۔ اپریل کی ہوا پھر چلتی ہوئی محسوس ہوئی۔ ثروت ممانی اب تقریباً بالکل ننگی فرش پر شاید بے ہو ش پڑی تھیں۔ گھر کے دوسرے لوگ اِدھر کو آنے لگے۔ میرا سارا جسم پسینے سے بھیگ گیا۔ دل اس طرح دھڑک رہا تھا کہ مجھے محسوس ہوا کہ میں یہیں، اسی جگہ، اسی باورچی خانے میں مرجائوں گا۔

مگر نہیں، اچانک پھرایک مکّار ہمت اور چالاکی نے مجھے نہ جانے کہاں سے نمودار ہوکر سہارا دیا ۔ میں تیزی سے باورچی خانے سے نکل کر برآمدے اورآنگن میں اکٹھا دوسرے افراد میں جاکر گھل مل گیا۔ اس افراتفری میں کسی نے بھی مجھے وہاں سے نکلتے نہیں دیکھا۔

یہ تو خیر ہوئی کہ چھتّہ ٹوٹ کر نیچے نہیں گرا تھا۔ نمک کے ڈھیلے سے وہ شاید صرف ہل کر رہ گیا ہوگا۔ اسی لیے مکھّیاں اپنا بدلہ لینے کے بعد دوبارہ چھتے پر جاکر چپک گئیں تھیں۔ نورجہاں خالہ نے ثروت ممانی کے ننگے بدن پراپنا سوتی دوپٹہ ڈال دیا تھا۔ مگر دوپٹہ ڈالنے سے پہلے میں نے اُن کے سینے کی طرف دیکھا تھا۔ وہاں اب چھاتیاں نہ تھیں۔ وہ سوج کر ایک بہت بڑے سے تھیلے میں بدل چکی تھیں۔
مجھے آٹا لانے والا تھیلا یادآگیا۔ تب اُنھیں اُٹھا کر اندرلایا گیا۔ ان کا پورا چہرہ سوج کر کپّا ہو گیا تھا۔ آنکھیں نظر ہی نہ آتی تھیں۔ ان کے ہونٹ کسی درندے کی تھوتھنی کی طرح نیچے لٹک رہے تھے۔ چہرہ اس قدر لال تھا جیسے کوئی بڑا سا انگارہ، مجھے یہ ہرگز علم نہ تھا کہ شہد کی مکھّیوں کے کاٹنے سے اس حد تک معاملہ بگڑ جائے گا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ اگر فوراً اسپتال نہ لے جایا گیا تو وہ مر بھی سکتی تھیں۔

’’مر جانے دو، مر جانے دو اس کتیا کو۔‘‘ ماموں چیخے۔ سب نے جھپٹ کر ماموں کا منھ بند کر دیا، مگر وہ دوبارہ پاگلوں کی طرح چیخنے لگے۔

’’پوچھو- پوچھو اِس چھنال سے، یہ کس کے ساتھ منھ کالاکر رہی تھی۔ کون چھت پر بھاگا تھا۔

انجم باجی نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا۔

’’چلو گڈّو میاں، تم جاکر سو جاؤ۔ میں بھی تمھارے ساتھ چلتی ہوں۔‘‘ انجم باجی میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے اندر والے دالان میں لے آئیں۔ انھوں نے پیار سے مجھے سو جانے کے لیے کہا۔ میں نے اُن کا چہرہ دیکھا۔ وہ بہت اُداس تھیں۔ اتنی اُداس کہ ان کے چہرے کی پاکیزگی تک اس افسردہ رنگ کی چھُوٹ میں کہیں گم ہو گئی تھی۔

اور میں سو گیا۔ میں واقعتا سو گیا۔ اتنا بڑا شیطانی کارنامہ انجام دینے کے بعد میں بے خبر سوگیا۔

دوسرے دن کی صبح غیرمعمولی طور پر سونی اور خاموش تھی۔ پتہ چلاکہ ثروت ممانی بچ تو گئی تھیں مگر اب وہ اس گھرمیں نہیں تھیں۔ مجھے یہی بتایا گیا کہ وہ علاج کے لیے بنگلہ دیش اپنے مائیکے کے کچھ رشتہ داروں کے یہاں چلی گئی تھیں۔

اس کے بعد ثروت ممانی کومیں نے کبھی نہیں دیکھا۔ چند دنوں پہلے کہیں سے یہ اُڑتی اُڑتی خبر آئی تھی کہ پاکستان میںاُن کاانتقال ہوگیا۔ وہ شاید بنگلہ دیش سے پاکستان منتقل ہو گئی تھیں۔

فیروز خالو جو محلے میں ہی رہتے تھے۔ اور ہمارے نسبتاً دورکے رشتہ دار تھے، اُن کا بھی کوئی پتہ نہ چلا۔ وہ تو اس طرح غائب ہوئے جیسے اُنہیں زمین کھا گئی ہو۔ ان کی بیوی کا اس واقعے سے پہلے ہی انتقال ہو چکاتھا۔ اور بچّے اپنی نانہال میں رہتے تھے۔

جہاں تک ماموں کا سوال ہے وہ ایک عرصے تک گم سم رہے۔ پھرانھوں نے اپنے آپ کو مقدموں اور کچہری کی دنیا میں پوری طرح غرق کردیا۔

یہ سب میں نے بڑی مشکل سے یاد کرکے لکھا ہے۔ اوراب مجھے یہ بھی احساس ہوتا ہے کہ وہ سب جتنا بھیانک تھا اتنا ہی مضحکہ خیز بھی۔ یعنی یہ کہ دو نفس جب جنسی عمل میں مشغول ہوں تو اُن پر شہد کی مکھّیوں کے ڈنگارے کا حملہ۔۔۔! اور فیروز خالو کے پوشیدہ اعضا پر ٹھیک اُس وقت ایسی مصیبت جب وہ اعضا بذاتِ خود دوسرے جہانوںکی سیر کر رہے ہوں۔ بہرحال مضحکہ خیزی اور بھیانک پن ایک ہی سکّے کے دو پہلو ہیں۔ ایک کے ساتھ دوسری کی موجودگی ناگزیر ہوتی ہے۔ مثال کے طورپر آپ بھوت کو ہی لے لیجیے۔ وہ ڈرائونا اور مسخرہ ایک ساتھ ہے۔ بس بات یہ ہے کہ آپ کس پہلو پر زور دیتے ہیں۔ میرے اندر اُس زمانے میں دوسرے کو ایذا پہنچانے کا خبط اس حد تک بڑھ چکا تھا کہ کسی بھی قسم کے احساسِ جرم وغیرہ سے میرا دور کا بھی واسطہ نہ تھا۔ اور ضمیر کس چڑیا کو کہتے ہیں، اس کا کوئی علم کم از کم اُس زمانے میں ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیداہوتا تھا۔ پھر یہ بھی ہے کہ میں اگر یہ حرکت نہ کرتا تب بھی کچھ نہ کچھ ہوکر رہتا۔ ایک غلط وقت اور غلط دن مسالحے دارمچھلی کا پکنا گُل کھلا کر ہی رہتا۔ یہ میرا ایمان اور ایقان ہے۔

یقینا یہ کہا جاسکتا ہے کہ میرے اندر مجرمانہ جراثیم بہت بچپن سے ہی پل رہے تھے۔ مگر ایک ایسا مجرم جس کی سزا جس عدالت میں طے ہونا تھی وہ ابھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔ لہٰذا ایک عرصے تک بلکہ شاید تازندگی میں اسی طرح چھٹّے بیل کی طرح گھومتا رہوں گا۔ اور اپنے اوپر اسرار کے اتنے دبیز اور سیاہ پردے ڈالے رکھوں گا کہ میرا باطنی وجود اپنے آپ میں ایک اسرار، ایک بھید،ایک خفیہ ریاضی میںبدل جائے گا۔

اور یہ سب ہونے میں بہت دیر نہیں ہے۔ اگر میں ناول لکھنے کے قابل ہوتا تو میرے مکھوٹے فطری طور پر آہستہ آہستہ سرک کر نیچے گرتے جاتے مگر مقدموں کی اپیلیں، عرض داشتیں اور عدالتوں میں ہونے والی بحثیں، یہ سب تو اپنے آپ میں خود سیاہ نقابیں ہیں۔ ہر وکیل، ہر گواہ اور ہر منصف ایک نقاب پوش ہے۔

میں جو یہ سب لکھ رہا ہوں (لکھ بھی رہاہوں یا بڑبڑا رہا ہوں؟) تو یہ بھی ایک اپیل، ایک عرض داشت کے سوا کچھ بھی نہیں۔ اس کو کس عدالت میں داخل کرنا ہے یہ ابھی مجھے نہیں معلوم۔ بس میں اسے ہاتھ میں پکڑے پکڑے بھٹک رہا ہوں۔ اپنی عدالت کی تلاش میں، جب بھی مجھے مل جائے گی میں وہاں اِسے داخل کرکے خاموشی کے ساتھ اپنے سارے مکھوٹے گرادوں گا۔ میں وہاں عدالت کے سامنے ننگا ہوجائوں گا۔ میں یہ جسم تک اُتار کر پھینک دوں گا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Khalid Javed

Khalid Javed

Khalid Jawed is an Urdu novelist, short story writer, social critic and essayist. Some of his works include Aakhri Dawat, Nematkhana and Maut ki Kitab, critically acclaimed for his unique style and narrative. He is also an Associate Professor in the Urdu Department of Jamia Milia Islamia, New Delhi


Related Articles

نعمت خانہ - تیرہویں قسط

خالد جاوید: اچھّن دادی نے بتایا کہ رات ناگ کا گزر اِدھر سے ہوا تھا۔ وہ اتنا زہریلا ہے کہ اس کی پھنکار سے ہی مرغیاں اور کبوتر مردہ ہو جاتے ہیں۔

نعمت خانہ - انیسویں قسط

خالد جاوید: مایّوں میں اُنہیں نمک دینا بھی بند کر دیا گیا تھا۔ وہ صرف میٹھا کھا سکتی تھیں۔ زیادہ تر دودھ جلیبی۔ جو بھی عورت اُن سے ملنے آتی، تو کسی برتن میں دودھ جلیبی لے کر ضرور آتی۔ ورنہ انجم باجی کے ہاتھ میں ایک دو روپے دودھ جلیبی کے نام پر تھماکر چلی جاتی۔

نعمت خانہ - اٹھارہویں قسط

خالد جاوید: مجھے اُس وقت تک کچھ پتہ نہ تھا کہ دسمبر میری زندگی کو ہمیشہ کے لیے ایک ایسی ریل گاڑی بناکر رکھ دے گا جو ایک سنسان، چھوٹے اسٹیشن پر اس لیے رُکی کھڑی رہے گی کہ کہرے میں اُسے کوئی سگنل نہ نظر آتا تھا۔