نفرت کی تکون

نفرت کی تکون

محمد حنیف کا یہ مضمون نیویارک ٹائمز میں شائع ہوا، جسے ایکسپریس ٹریبون کی انتظامیہ نے شائع نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ یہ فیصلہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان میں خود ساختہ سنسنر شپ میں کس قدر اضافہ ہوا ہے۔ لالٹین پر اس مضمون کے ترجمے کی اشاعت پاکستانی قارئین کو اس تحریر سے بھرپور آگاہی فراہم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے تاکہ پاکستان میں سنسر شپ کے تازہ رحجان کی نفی کی جا سکے۔

کراچی، پاکستان۔ پاکستان کو ہندوستان کے خلاف کبھی نہ ختم ہونے والی جنگ میں ایک اور حلیف مل گیا ہے اور یہ حلیف بے رحم ترین قاتلوں کا عوامی چہرہ ہے۔

کئی برس تک لیاقت علی المعروف احسان اللہ احسان ملکی ذرائع ابلاغ پر دکھائی دینے والا ایک دہشت ناک مگر جانا پہچانا چہرہ تھا۔ تحریک طالبان پاکستان کے ہر حملے کے بعد وہ اپنے آڈیو پیغامات یا خونریزی پر مبنی ویڈیوز میں فاتحانہ بیانات کے ذریعے پاکستانی ذرائع ابلاغ کے دلوں میں خوفِ خدا اور عوامی حلقوں میں سراسیمگی پھیلایا کرتے تھے۔

جنوری 2014 میں تحریک طالبان کے ہاتھوں ایکسپریس ٹی وی کے تین اہلکاروں کی ہلاکت کے فوراً بعد مذکورہ ٹی وی چینل نے احسان اللہ احسان کو فون کے ذریعے براہ راست نشریات میں شامل کیا۔ احسان اللہ احسان نے نہایت اطمینان سے اس قتل کی وجوہ بیان کیں، انٹرویو کرنے والے صاحب نے نہایت تعظیم سے مزید حملے نہ کرنے کی ضمانت طلب کرتے ہوئے احسان اللہ احسان کو بولنے کے لیے مزید وقت دینے کا متعدد بار وعدہ کیا۔

احسان اللہ احسان نے ایسٹر کے موقعے پر لاہور میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری قبول کی جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے۔ اس سے قبل وہ ملالہ پر حملے کی ذمہ داری بھی قبول کر چکے ہیں جسے سکول جاتے ہوئے سر میں گولی مار کر ہلاک کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں ے ملالہ کے بچ جانے کی صورت میں اسے ڈھونڈ نکالنے اور مار ڈالنے کی دھمکی بھی دی۔ احسان اللہ احسان کے اب اس طرح سامنے آنے سے یوں معلوام ہوتا ہے جیسے پاکستانی فوج یہ پیغام دینا چاہتی ہے: آپ ہزاروں پاکستانیوں کو قتل کر سکتے ہیں لیکن اگر آپ ہندوستان سے اتنی ہی نفرت کرتے ہیں جتنی ہم کرتے ہیں تو سب گناہ معاف کیے جا سکتے ہیں۔
اس پیش رفت کے نتائج بھی سامنے آئے۔ ذرائع ابلاغ کے نگران ریاستی اداروں نے طالبان کے ہاتھوں ہلاک ہونے والوں کے ورثاء کی جانب سے غم و غصے کے اظہار کے بعد احسان اللہ احسان کا تفصیلی انٹرویو نشر کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی۔ آرمی پبلک سکول پشاور پر 2014 میں ہونے والے حملے میں ہلاک ہونے طلبہ کے والدین احسان اللہ احسان کی سکول کے سامنے سرعام پھانسی دینے کے خواہاں تھے۔ اس حملے میں 140 سے زائد افراد ہلاک ہوئے جن میں اکثریت طلبہ کی تھی۔

لیکن فوج نے احسان اللہ احسان کا اس کی فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ تی وی چینلوں کے سامنے طواف کرانے کو ترجیح دی۔ فوج نے احسان اللہ احسان کے ویڈیو بیانات جاری کرنا زیادہ مناسب خیال کیا جن میں وہ اپنے طالبان ساتھوں کی کثیر زوجگی اور اپنے استاد کی بیٹی سے زبردستی شادی کی چٹ پٹی داستانیں بیان کر رہے ہیں۔ اس سب کا مقصد یہی معلوم ہوتا ہے کہ طالبان کو ایسے جنسی بے راہرووں کی طرح پیش کیاجائے جن کاپاکستانی کی سماجی اقدار سے کوئی تعلق نہیں اور جنہیں ہندوستان کا مالی تعاون حاصل ہے۔۔۔ ہندوستان جو ہمارا ازلی دشمن ہے۔ یہ درست ہے کہ ہندوستان نے کشمیر میں پاکستانی مداخلت کے توڑ کے لیے عسکری تنظیموں کو معاونت فراہم کی ہے۔ لیکن کیا ہمارے لیے ہندوستان کے خلاف اپنی مہم کے لیے اپنے بچوں کے قاتلوں کو بھرتی کرنا ضروری ہے؟

پاکستانی معاشرہ اس معاملے میں منقسم ہے کہ طالبان آخر کس (نقطہ نظر) کی نمائندگی کرتے ہیں۔ کچھ کے خیال میں طالبان وہ درندے ہیں جوہمارے مخدوش اور غیر یقینی جمہوری اور سیاسی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے درپے ہیں۔ دیگر کے خیال میں طالبان ہمارے گمراہ بھائی ہیں، طالبان بھی ایک منصفانہ معاشرہ چاہتے ہیں بس ان کے ہتھکنڈے ناقابل قبول ہیں۔ (اس طبقے کے خیال میں) طالبان بہادر ہیں اور ہمیں کسی قدران پر فخر بھی ہے اور افغانستان میں شکست کھانے کے باوجود ہمارے یہ بھائی امریکہ کو ہماری سرحدوں سے دور رکھے ہوئے ہیں۔ لیکن جب ہمارے یہ بھائی اپنی بہادری کا استعمال پاکستان کے خلاف کرتے ہیں تو ہم چکرا کے رہ جاتے ہیں۔

طالبان کو تو ہندوستان کے خلاف ہماری تاریخی جنگ میں ہماری صفوں میں کھڑے ہونا تھا۔ 2008 میں جب ہندوستان اور پاکستان جنگ کے دہانے پر کھڑے تھے، تو اس وقت کی طالبان قیادت نے پاکستانی سپاہ کے ساتھ مل کر لڑنے کا عہد کیا تھا۔

پاکستانی طالبان کے ترجمان کا کہنا تھا " اگر انہوں نے پاکستان پر حملے کی جرات کی تو انشاء اللہ ہم پاکستانیوں کے ساتھ ہر خوشی غمی میں شریک ہوں گے۔ ہم پاکستانی فوج سے اپنی دشمنی اور جنگ پس پشت ڈالتے ہوئے ، انہی کے ہتھیاروں سے ، ان کے ملک اور سرحدوں کا تحفظ کریں گے"۔ آج جبکہ ایک جانب پاکستانی قوم اس تذبذب کا شکار ہے کہ کیا کل کے دشمن آج محب وطن ہو سکتے ہیں، تو دوسری جانب فوج نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اس معاملے میں وہ اپنی فیصلہ کن حیثیت تسلیم کرانے کے خواہش مند ہیں۔

صف اول کے اخبار ڈان نے گزشتہ برس سول اور عسکری قیادت کے مابین پاکستان میں موجود ہندوستان مخالف عسکری تنظیموں کے خلاف کارروائی پر تقسیم سے متعلق خبر شائع کی تھی۔ ان گروہوں پر ہندوستان میں حملوں کے الزامات لگتے رہتے ہیں۔ فوج نے اس خبر کی اشاعت کو قومی سلامتی کی خلاف ورزی قرار دیااور سول عسکری تقسیم سے متعلق اطلاعات کو لیک کرنے والوں اور انہیں خبر کی صورت میں شائع کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اس مقصد کے لیے اعلیٰ سطحی تحقیقات کا آغاز کیا گیا جو ڈان لیکس کے نام سے معروف ہیں۔ گزشتہ ہفتے اس تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ کا جائزہ لے کر وزیراعظم نے اپنے دو قریبی اہلکاروں کو برطرف کرنے اور اخبار اور صحافی کا معاملہ اخبارات کی نمائندہ تنظیم (آل پاکستان نیوز پیپرز ایسوسی ایشن) کے سپرد کرنے کا حکم جاری کیا۔ (جس کے ردعمل میں) فوج کے ترجمان نے یہ ٹویٹ کی"نوٹیفیکیشن مسترد کیا جاتا ہے"۔ فوج سول قیادت کے ساتھ اچھے اور برے عسکریت پسندوں یا اچھے اور برے پاکستانی کے موضوع پر کسی قسم کی بات چیت قبول کرنے کو تیار نہیں۔

بہت سے پاکستانی اب بھی فوج سے پیار کرتے ہیں اور بہت سے سیاستدان اس خوفزدہ رہتے ہیں۔ سیاستدان اپنے مخالفین سے چھٹکارا پانے اور ایک دوسرے کو غدار نہیں تو کم از کم سیکیورٹی خطرہ قرار دینے کے لیے فوج کی جانب دیکھتے ہیں۔ کئی سیاسی جماعتیں فوج کے ساتھ ایسی بات چیت کرنے پر جس سے فوج صحیح اور غلط کے تصور کی تردید ہو، نوازشریف کا سر مانگ رہے ہیں۔

کہاجاتا ہے کہ دیگر ممالک کی افواج ہوا کرتی ہیں، لیکن پاکستانی فوج کا اپنا ایک ملک ہے۔ اگر سیاستدان اس ملک کو اپنی عملداری میں لانا چاہتے ہیں تو انہیں ایک دوسرے کو فوج کو خوش کرنے کی خاطر غدار کہنے سے گریز کرنا ہو گا۔

Related Articles

Pakistan’s post-9/11 Afghan policy: A Political Audit

Rafi Ullah Kakar Ten years on, the events of 9/11 and the resulting ‘War on Terror’ have transformed the political

اور قبلہ پیا گھر سُدھار گئے

قربان جاؤں قبلہ کی شان پر۔۔ کتھے میں نکما ،تے کتھے قبلہ دی روح پرور شخصیت۔ سبحان اللہ۔ اللہ اللہ۔۔۔

دھاندلی کیا ہے؟

حکمران جماعت اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان 2013ء کے عام انتخابات کے بعد سے ہی باہمی کشمکش جاری ہے۔