ننھی ماچس فروش

ننھی ماچس فروش
وہ شام بھی کیا سرد شام تھی ، معلوم ہوتا تھا کہ سرد ہواوں نے سورج کو بھی بجھا دیا ہو ، آہستہ آہستہ سرد ہوتے کوئلے جیسے سیاہ پڑتے ہیں بالکل ویسے ہی یہ شام بھی سیاہ ہوتی جا رہی تھی سال کی یہ آخری شامیں آج سردی سے کچھ نیلگوں نظر آتی تھیں ایسے میں جب شہر کے رہنے والے امراء آتشیں انگیٹھیوں کے سامنے لیٹے ، گرم شالیں اوڑھے اپنے بچوں کو مسیح کی غریب پروری کی داستانیں بیان کر رہے تھے تب ایک بچی لڑکھڑاتی ،ڈگمگاتی اس سڑک پر آ نکلی جہاں یہ پوش مکانات واقع تھے ، اسکے سر پر اس سرد ہوا سے بچنے کے لیے کوئی مفلر بھی نہ تھا ، پیر بھی جوتوں سے محروم تھے ... ہاں جب وہ گھر سے نکلی تو اسکے پیر میں ایک چپل ضرور تھی مگر شاید وہ اس کے کچھ کام نہ آ سکتی تھی ، اول تو وہ چپل اسکی ماں کی تھی ، بھلا ایک جوان عورت کی چپل اس سات سال کی بچی کے پیروں میں کیونکر آتی ؟ پھر وہ چپلیں اس قدر کاٹتی تھیں کے اسکے پیروں میں چھالے پڑ چکے تھے ۔۔ چھالوں میں درد تو چلو سردی میں جسم سن ہونے کی بنا پر اسے کچھ محسوس نہ ہوتا ہو گا مگر برا ہو ان بگھیوں کا، جو شہر کی مرکزی شاہراہ پر دوڑ لگاتی آ رہیں تھیں، یہ بچی اس شاہراہ پر دیا سلائی بیچا کرتی تھی ، گھوڑے جو قریب آ کر ہنہناے تو بچی خوف سے بھاگ اٹھی ،اور بھاگتے بھاگتے اسکا ایک جوتا اسکے پیروں سے نکل گیا۔۔۔ بھاگتے بھاگتے وہ شہر کے اس پوش حصے میں آ نکلی تھی ، برف کے نرم و گداز گالوں نے اسکے گھنگریالے بالوں پر خوشنما نقش بنا ڈالے تھے ایسا لگتا تھا جیسے چنبیلی کے سفید پھولوں کے ساتھ اسکے بالوں کو گوندھا گیا ہو ، اس امید پر کہ شاید واپسی پر اسے اپنی ماں کا کھویا چپل مل جاے اس نے دوسرا جوڑا پیر سے اتارا اور اپنے ہاتھ میں اٹھا کر چلنے لگی ، آج تو کسی نے بھی اس سے دیا سلائی نہیں خریدی تھیں ، سب ڈبیاں اس کے کمر کے ساتھ بندھے تھیلے میں رکھیں برف کی ڈالیوں کی طرح محسوس ہوتی تھیں۔مگر معلوم ہوتا تھا یہ بچی اس سب سے بے غرض تھی ،اب شہر کے اس کوچے میں اس نے اشتہا انگیز کھانوں کی خوشبو سونگھی تو اسے یاد آیا کہ صبح منہ اندھیرے ہی وہ گھر سے نکل کھڑی ہوئی تھی اور اب اس وقت شام میں خالی پیٹ جو آنتوں میں درد اٹھا تو بیچاری کی حالت ہی غیر ہو گئی، سخت سردی میں کانپتی ، وہ بھوک سے بلبلاتی ایک حویلی کی دیوار سے لگ کر اکڑوں بیٹھ گئی ، سامنے حویلی میں کھڑکی کے پار اسے ایک میز نظر آیا جس پر موم بتیاں جل رہیں تھیں ، اس پر رکھے بھنے گوشت کے پارچے ، تلی ہوئی مچھلیاں ،سوپ اور پھر ان سے نکلتی گرم بھاپ۔۔یہ سب منظر دیکھنے کے بعد تو بھوک اور سردی کا احساس کچھ اور ہی بڑھ گیا سو اس نے اوٹ بدلی اور دیوار کے پاس پڑے کچرے کے ڈھیر میں بیٹھ کر اپنے آپ کو گرم رکھنے کی ناکام کوشش کرنے لگی کچھ دیوار کے ساتھ مس ہوتا جسم ،کچھ کوڑے کے ڈھیر میں پڑا کچرا۔۔۔مگر دسمبر کی برفانی ہواؤں کا مقابلہ بھلا اس طور کیونکر ہو ؟پھر جب مقابلہ بھی اس قدر غیر مساوی ہو۔۔۔ ایک طرف سرما کی دیوی جو اپنی خنک سانس سے سورج دیوتا کو برف کر دے دوسری جانب ایک سات سال کی نحیف،بھوکی بچی جس کے بدن پر لباس کے نام پر چند بوسیدہ چیتھڑے لٹکے ہوں۔۔۔ سردی نے اب اس کی ٹانگوں کو بھی سن کر رکھا تھا، اس نے گھر واپس جانے کا سوچا تو ایک لمحے کے لیے اس کے باپ کا کرخت چہرہ اسکی نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ جب وہ سنے گا کہ آج یہ کمبخت ایک بھی دیا سلائی نہ بیچ پائی تو اس کا باپ اس کو کس بری طرح پیٹے گا ؟یہ سوچ کر ہی وہ کانپ اٹھی۔ پھر وہ گھر بھی تو اسی طرح ٹھنڈا تھا ، گیلی دیواریں اور ٹوٹی پھوٹی چھت۔۔جب سنسناتی ہوا چنگھاڑتی ہوئی چلتی تو اس کی ہڈیاں تک برف ہو جاتیں۔۔ سردی نے اس کی انگلیاں بھی سن کر دی تھیں۔۔ کیا ہی اچھا ہو اگر یہ دیا سلائی جلائی جائے ، شاید اس نحیف شعلے کی حدت انگلیوں میں تکلیف کو کم کر دے ، کچھ دیر کے لیے ہی سہی۔۔ یہ سوچ کر اس نے اپنے تھیلے سے دیا سلائی کی ڈبی نکالی دیوار کے ساتھ مسالا رگڑا تو تیلیاں جل اٹھیں۔۔ تیلیوں میں جلتی آگ اسے کتنا لطف دے رہی تھی ، وہ جلتی تیلیوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیتی ہے ، اسے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی آتشیں الاؤ کے سامنے بیٹھی ہو۔۔۔مگر یہ تیلیاں بھی آخر کب تک جلتیں ؟ اس نے اپنے پیروں کو جلتی تیلیوں کے پاس لانا چاہا مگر اب تو وہاں صرف راکھ کے ڈھیر میں چند بجھتے شعلے تھے۔۔۔بچی نے دوسری ڈبی تھیلے سے نکالی اور دیوار سے دوبارہ رگڑا تو وہ بھی جل اٹھی۔۔ مگر یہ کیا ؟! آگ کا عکس جب دیوار پر پڑا تو وہ تو ایک شفاف شیشے کی طرح دکھائی دینے لگی جس کے پار بھی دیکھا جا سکتا ہو۔۔ اور اس نے دیکھا کہ ایک کمرہ ہے جس میں ایک خوبصورت لکڑی کی میز رکھی ہے اور اس میز پر ایک بھنا ہوا ہوا مرغ رکھا ہے۔۔ چٹنییوں اور سیبوں کے مربے کے ساتھ ،پھر اس سے بھی اچھا یہ ہوا کہ اس مرغ نے میز سے چھلانگ ماری اور آہستہ آہستہ اس بچی کی جانب بڑھنے لگا۔۔۔ مگر یہ کیا وہ دھندلا کیوں رہا ہے ؟ اب بچی کے سامنے صرف ایک اینٹوں کی دیوار تھی،تیلیاں دوبارہ بجھ چکی تھیں ۔بچی نے تیسری ڈبیا نکالی اور دوبارہ تیلیوں کو آگ لگائی اب کے دوبارہ دیوار پر عکس بنا۔اس مرتبہ بچی نے اپنے آپ کو ایک کرسمس ٹری کے نیچے پایا ۔ یہ کتنا خوبصورت سجایا گیا تھا بالکل ویسے جیسے اس نے شیشوں کے پیچھے سے امیر تاجر کے گھر دیکھا تھا۔۔۔ مگر یہ والا کرسمس ٹری کچھ زیادہ خوبصورت تھا ، اس پر کیسے حسین ستارے لٹکے تھے ، اس قدر دلنشیں تصویریں اور ٹمٹماتی موم بتیاں بھی جگمگا رہی تھیں ، بچی نے ہاتھ بڑھا کر ستاروں کو پکڑنا چاہا مگر ایک مرتبہ پھر منظر دھندلا گیا۔۔۔تیلیاں پھر بجھ چکی تھیں ، اسی اثنا میں بچی نے آسمان پر ایک ٹوٹتا ہوا تارا دیکھا۔"شاید کوئی مر رہا ہے" ۔۔اس کی دادی اماں نے اسے بتایا تھا کہ جب کسی کی موت واقع ہونے لگتی ہے تو آسمان سے ایک تارہ ٹوٹ کر زمین پر گرتا ہے۔گھر میں ایک دادی ہی تو تھی جو اس ننھی سی پری سے پیار کرتی تھی مگر اب تو وہ بھی فوت ہو چکی تھی۔ بچی نے پھر دیا سلائی جلائی تو ایک مرتبہ پھر آگ کی روشنی دیوار پر منعکس ہوئی۔ دیوار کے اس پار اس کی دادی کھڑی تھی ،ایک محبت بھری مسکراہٹ کے ساتھ اپنی پوتی کی جانب دیکھتے ہوئے؛ "دادی ماں"، بچی چلائی۔ "مجھے بھی اپنے ساتھ لے چلو دادی ماں"۔ "دیکھو یہ تیلیاں بوجھ گئیں تو تم بھی مرغ اور کرسمس ٹری کی طرح مجھ سے روٹھ کر چلی جاؤ گی"۔ اس خوف سے کہ دادی روٹھ کر واپس نہ چلی جاے بچی نے اپنے تھیلے سے سب دیا سلائی کی ٹکیاں نکال کر انکو جلتی تیلیوں پر ڈال دیا۔ ایک اونچا شعلہ بلند ہوا۔۔دادی کا چہرہ اپنی پوتی کو دیکھ کر اتنا دمک رہا تھا۔ اب دادی اس کے قریب آئی اور اسے اپنی گود میں اٹھا کر اوپر کی جانب اڑنے لگی۔ حویلیوں کی چھتوں سے اوپر۔۔ آسمانوں سے پرے، بلندی کی جانب۔۔ اب بچی کو بھوک ستاتی تھی نہ ہی سردی۔۔ نہ اسے کوئی اور غم تھا۔ وہ اڑتی اڑتی خدا کی آغوش میں جا پہنچی۔
سورج کی کرنیں کوڑے میں ایک سات سال کی بچی کے سرخ رخساروں سے ٹکرا رہیں تھیں۔ دیوار کے ساتھ ٹیک لگاے لگتا تھاجیسے سو رہی ہو۔۔ سرخ گال اور ہونٹوں پر مسکراہٹ۔ "بیچاری بچی مر گئی۔۔ کتنے افسوس کی بات ہے۔" وہاں کھڑے کچھ لوگوں نے کہا۔ "یہ دیکھو تیلیوں کی راکھ پڑی ہے ، بیچاری نے ٹھنڈ سے بچنے کے لیے جلائی ہوں گی"۔ وہاں کھڑے لوگوں میں سے یہ کوئی نہ جان سکتا تھا کہ مرتی ہوئی بچی کے چہرے پر یہ مسکراہٹ کیسی ہے۔۔ آخر وہ کیسے جان سکتے کہ اس نے اپنی دادی کے ساتھ کتنی شاندار کرسمس منائی ہے اور کتنے آسمانوں کی سیر کی ہے۔

 

ہینس کرسٹین اینڈرسن
ترجمہ: فہد رضوان
The Laaltain

The Laaltain

For Open and Progressive Pakistan


Related Articles

عجب جنونِ مسافت میں گھر سے نکلا تھا

کیا مسلمانوں کا مقدر صرف جہالت،جذباتیت،فرقہ پرستی، قتل وغارت گری، اقتدار کے لیے نا ختم ہونے والی لڑائیاں اور مذہب کا معاشی و سیاسی استعمال ہی ہے؟

لکھاری اور رہگیر

جنیدالدین: تم لوگ کہاں سے ایسی باتیں نکال لیتے ہو؟ اور یہ سگریٹ تم ادیبوں کی سلاجیت ہوتی ہے کہ سلگائی اور باتیں پیدا کرنا شروع ہو گئے

گھنٹی کا انشائیہ

تالیف حیدر: میں تو اپنا فون کسی بھی حال میں خاموش نہیں کرتا ، پھر خواہ وہ کوئی محفل مشاعرہ ہو، رقص ہو، سنیما ہو یا سیمینار، کیوں کہ مجھے اپنی یہ گھنٹیا دنیا کے کسی بھی ثقافتی عمل سے ہزار گنا زیادہ عزیز ہیں۔