نوح، فاختہ اورکبوتر باز

نوح، فاختہ اورکبوتر باز
خدانے بادلوں کو دھکیل کر آسمان اور زمین کے درمیان کے راستے کو صاف کر دیااور خدا کی آواز سورج کی کرنوں کے ساتھ مسافت طے کرتی ہوئی حضرت نوح علیہ السلام کے کانوں سے جا ٹکرائی۔ وہ آواز حکم نہیں تھا۔ بلکہ مشورہ تھا۔ خدا کے عذاب سے اْن بے گناہوں کو بچانے کا۔ اس زمین کو دھودیا جائے۔ گناہوں کی میل کو نکال نچوڑ پھینک دیا جائے۔خدا کا ایک فیصلہ تھا۔حضرت نوح علیہ السلام سجدے میں گر گئے اور خدا کے فرمان کے ایک ایک لفظ کو جمع کرنے لگ گئے جیسے کسی ملک کا وزیرخزانہ غلے کی ذخیرہ اندوزی کرلیتاہے۔ کسی بہت بڑے طوفان کی آمد سے پہلے ایک محفوظ جگہ پر اکٹھا کر لیتا ہے۔

خدا نے مشورہ دیا سفینہ حیات عمل میں لاؤ۔ ایک بڑی کشتی کو وجود دو۔ حضرت نوح علیہ السلام شش و پنج میں کھو گئے۔ اتنی بڑی کشتی کیسے بناوں گا؟ خدا نے حضرت نوح کی پشیمانی کو سمجھتے ہوئے کہا۔ ہم نے تجھے جس کام کے لیے چناہے ہم وسیلہ بھی مہیا کردیں گے۔ یہ کشتی ساگوان کے درخت سے تشکیل دینا۔ ساگوان اور زمین کے کان کھڑے ہوئے۔ اور اسی وقت زمین نے حضرت نوح علیہ السلام کے ارد گرد اپنے جسم پر گھاس کپاس کی جگہ ساگوان کو پلک جھپکتے اُگا کر بہت بڑا جنگل کھڑا کر دیا۔

خدا نے کہا ساگوان کی لکڑی سے پرندے کا پیٹ بنا لینا۔ یہ اس لیے پیٹ کو سب سے محفوظ جگہ بنادیا گیا ہے کہ ماں اپنے بچے کو اپنی زندگی سے زیادہ محفوظ کر لیتی ہے بالکل ویسے ہی جیسے ہم نے حضرت یونس علیہ السلام کو مچھلی کے پیٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔انسانوں کے گناہ کی سزا معصوم جانوروں کو کیوں ملے۔ انسان نے لالچ کیا طمع کیا اور اپنی بھوک مٹانے کے لیے اپنے ہی جنے ہوئے بچوں کو چبانے لگی۔

تو پھر سب کچھ مٹادیا جاتا ہے۔ تباہی ایسی تباہی جو جنم دے۔ اتحاد کی ماں کو اور وہ ما ں پھر جنم دے محبت کو، امن کو، سکون کو، خوشحالی کو، صلح کو، پناہ کو۔

حضرت نوح نے کالی پہاڑی کوے کو زیتون کی ٹہنی دی اور کہاکہ امن کا یہ پیغام تم لے جاؤ اور دنیا کو بتادو۔ اس دنیا میں گناہ اور گناہ گار کو مٹا دیا جائے گا۔ پھر نئے سرے سے یہ دنیا گناہوں سے پاک ہو کر اُٹھے گی۔
اورحضرت نوحؑ خدا کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے اپنے کام میں جت گئے۔ ایک بہت بڑی کشتی بنانے لگے۔ اتنی بڑی کہ جس میں تمام چرند پرند انسان حیوان سماسکیں۔ اور اپنے آپ کو قہر خدا سے بچاسکیں۔

پرندے کے شکم نما وجو بنانے میں مصروف ہوگئے۔ تاریخ کے سب سے بڑے طوفان جو قہر غضب ہے اس سے لڑ سکے۔ پرندے کے شکم نما بیڑے کو تین بڑے بڑے حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔ اس کی تین مشترکہ عمارتیں نما کشتی کی ایک منزل میں جنگلی اور خونخوار کے لیے وقف کیا۔ دوسرے حصے میں پالتو جانوروں کا قیام کابندوبست کیاگیا۔ دوسری منزل انسانوں کے لیے وقف کردی گئی۔ اور تیسری منزل پر پرندوں کابسیرا طے پایا گیا۔ سب سے اوپر والے حصے پر حضرت نوح کے اگلے حصے میں انکے بیٹے اوج کو جگہ دے دی گئی۔ اوج واحد جن تھے جن کو سفینہ نوح میں پناہ ملی۔ تینوں حصوں کو تین پیغمبروں کے نام سے منسوب کردیاگیا۔ حضرت آدم نے انسانوں کے لیے کشتی کے درمیانی حصے کو چنا۔ جو تقسیم کردیا دو حصوں میں۔ عورتوں اور مردوں کے درمیان ایک راستہ نکال دیا۔

اللہ کے نام سے ہی سفینہ نوح اپنی زندگی کے سفر کاآغاز کرے گااور اسی کے نام سے اختتام۔
حضرت نوح ؑ نے پانچ سے چھ مہینے اس سفینہ حیات میں گزارے۔

زندگی کے اس سفر کے اختتام پر جب حضرت نوح ؑ نے کوے کوواپس سفینہ نوح پر آتے دیکھا تو جس کی چونچ میں زیتون کی ٹہنی کی بجائے مردار گیدڑ کے گوشت کے ریشے تھے۔ غصے سے آگ بگولا ہوئے۔ ’’لعنت ہو تم پر، تم لالچی ہو، حرصی ہو۔ تم میرا امن کاپیغام دنیا تک پہنچانے میں ناکام ہوئے۔ تم نےراستے میں مردہ گیدڑ دیکھا اور امن کانشان زیتون کی ٹہنی کو چھوڑ کر اپنی پیٹ کی بھوک مٹانے لگ گئے۔ "

حضرت نوح علیہ السلام نے فاختہ کوبلایا اور کہاکہ تم انسانوں سے محبت کرنے والا پرندہ ہو۔ ا ور یہ لو۔ زیتون کی اک ٹہنی جو پتوں سمیت تھی کو توڑ کر فاختہ کو دیتے ہوئے کہا۔

جاؤ تم امن کا پیغام دنیا کو پہنچانا خدا تمہارا حامی و ناصر ہو گا۔

فاختہ کے لیے اصل سفینہ نوح تو اب شروع ہواتھا۔ اس کے ذمے ایک پیغام تھا جو اس نے دنیاکو پہنچاناتھا۔ یہ پیغام اس کی زندگی سے زیادہ اہم تھا۔ اسے فخر محسوس ہو رہاتھا۔ مجھےچنا گیاہے کہ میں انسانیت کی بقا کے لیے ایک امن کا پیغام لے کر انسانوں سے دوستی کا حق ادا کرسکوں۔ مجھے سب پرندوں میں سے افضل اور چنا گیاہے کہ میں اس عظیم عمل کو پورا کروں۔

فاختہ کو یوں لگ رہاتھاکہ دنیا میں سب صوفیاؤں نے اپنے درباروں کے دروازے اس کے لیے کھول دیے ہیں۔ اپنے گنبدوں کو اجازت دے دی ہےمیرے فاختالی رنگوں کو اپنے سبز رنگ میں نمایاں کرنے کی۔

ننھی سی فاختہ امن کے زہتونی پرچم کو چونچ میں دبائے پھڑپھڑاتی اڑتی چلی گئی۔ سمندری طوفانوں کے منہ زور تھپیڑے اس کی ہمت کے آگے کچھ بھی نہ تھے۔ وہ اڑتی رہی اڑتی رہی۔ طوفان اور ہوا کی کچھ ایسی قاری ضرب لگی کہ نہ جانے یورپ کے اس حصے میں جا پہنچی جہاں فوجی وردی میں ایک چھوٹے قد کاانسان۔ قدآور خدا سے مقابلہ کرنے پر تُلا ہوا تھا۔ ٹینک اور فوجی مشقیں اس کے حکم کے انتظار میں انسانوں کو کچلنے کے لیے تیار کھڑی تھیں۔ اس نے اپنی ناپسندیدہ قوم کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور وہ خود اپنی موت خودہی مرگیا۔

فاختہ اڑتی ہوئی جاپان جا پہنچی جہاں دنیا کی ایک بڑی طاقت نے دوسری طاقت کو سبق سکھانے کہلیےایٹم بم پھینکے۔ فاختہ دیکھ رہی تھی۔ ایک طوفان ا ٹھا تھا برقی شعاعوں کا جو مقناطیسی موجوں کی مدد سے مادے کو ذروں میں منقسم کر تا ہو انسان چرند پرند نباتات کو بے جان ذروں میں منتقل کر رہی تھیں اور چند لمحوں میں ایک نفرین کی بوچھاڑ اور ایک بڑے جکھڑ نے فلک بوس عمارتوں کو ایک چٹیل میدان بنا دیا۔لیکن پھر بھی وہ طوفان نوح جیسا طافان نہ تھا۔ پھر بھی لوگ بچ گیے تھے۔

پھر فاختہ زیتون کی ٹہنی دبائے اُڑتی اُڑتی نہ جانے ایشیا کے ایسے خطے میں آن پہنچی جہاں سینکڑوں، ہزاروں دس ہزاروں لوگ اپنے اپنے گھروں کو چھوڑ کر دوسرے کے چھوڑے ہوے گھروں میں بسنے کے لیے ہجرت کررہے تھے۔ ایک دوسرے کو مار رہے تھے۔ خون کی ندیاں بہہ رہی تھیں۔ سرحد کی کھینچی ہوئی خار دار تار پر بیٹھ کر فا ختہ کا رونے کو اس کا دل چاہا۔ لیکن اسے اپنا مقصد یاد تھا۔ اوپر آسمان کی طرف اڑنا شروع کردیا۔ اپنے سفید رنگ کے امن کا پرچم پھڑپڑھاتا نظر آیا۔ وہ جھنڈے کی چوٹی پر بیٹھ کر گوں، گوں، گوں کرکے حضرت نوح کا دیا ہوا پیغام پہچانا چاہتی تھی۔ ابھی جھنڈے کی جانب اڑ ہی رہی تھی کہ گولیوں کی بوچھاڑ سے جھنڈ ا زمین پر آن گرا۔ چھریوں، برچھیوں نے جھنڈے کا ریزہ ریزہ کر دیا گیا۔ اپنے منہ میں دبائے ہوئے زیتون کی ٹہنی جو امن کی ٹہنی تھی۔ منہ میں دباتی کبھی اپنے پنجے سے امن کا ایک ہر ابھرا پتہ سکون پناہ صلح کا سندیسہ ساتھ لیے آسمان پر تیرتے ہوئے بادلوں کے ساتھ تیرتی کہاں سے کہاں جا پہنچی۔ ہوائیں ہمیشہ اسے وہاں دھکیل دیتی جہاں اس کو امن کا پیغام پہنچانا ہوتاتھا۔ وہ اس مقام پر پہنچی جہاں انسانیت ظلم کے تیز دھار تلوار کی نوک پر دم توڑ رہی تھی۔ جہاں حاملہ ماؤں کو ٹینکوں کے آہنی تیشے کچل رہے تھے۔ فلسطین کے گھروں کو روندتے ہوئے اسرائیلی ٹینک کی چڑھائی کا تماشہ دنیا تو دیکھ رہی تھی لیکن اس فاختہ سے یہ منظر نہ دیکھا گیا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ ان ٹینکوں سے گولے برساتی نالیوں کے منہ پر اپنا پنجہ رکھ دے۔ فاختہ ایک ٹینک کی نالی پر جا بیٹھی۔ ٹینک نے جب گولہ برسایا تو ٹینک کی نالی بارو کی تپش سے دیکھتے ہوئے کوئلے کی طرح سرخ ہوگئی۔ بیچاری فاختہ کے دونوں پنجے جل گئے اور چیخ سے اس کے منہ سے امن کی ٹہنی گر گئی۔ اس کے لیے جان دینا تو آسان تھا لیکن جان بچا کر پیغام پہنچانا زیادہ ضروری تھا۔ وہاں سے اڑتی اڑتی مشرق وسطی کی کسی عرب امارات کی ریاست میں ایک بہت بڑی مسجد کے تالاب سیے اپنے جلے ہوئے پنجوں کو ٹھنڈے پانی میں بھگونے کے لیے تالاب کے پانی میں اتر کر تیرنے لگی۔

کھلو اس زخمی فاختہ کو دیکھ کر سمجھ گیا کہ اس بیچاری کو فوری مدد کی ضرورت ہے۔ کھلو کا اصل نام خالد تھا۔ وہ پاکستان کے ایک چھوٹے سے قصبے میں رہتاتھا۔ اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے یہاں محنت مزدوری کرنے آیا ہواتھا۔ کام سے فارغ ہو کر مسجد کے تالاب پر آکرکبوتروں کو دانہ ڈالتا، ان کی دیکھ بھال کرتا۔ کھلو اپنے شہر کامشہور کبوتر باز تھا۔ کبوتربازی کے شوق میں وہ بالکل نہ پڑھ سکا۔ اکیلے سارا سارا دن کوٹھے کی چھت پر اپنے پالتو کبوتروں کی ٹولی کو آسمانوں سے اڑاتا۔ اس کی کبوتروں کی ٹولی دوسرے کبوتروں میں گھل مل کر کئی کبوتروں کو اپنی ٹولی میں ساتھ لے آتے۔ جبھٹ کر کھلو اجنبی کبوتروں کو پکڑ کر ان کے پر دھاگے سے باندھ دیتا۔ ہمیشہ فخر سے کبوتربازوں کو نسخہ بتاتااگر کبوتر کو گردان کرنا ہو تو اسے ہر روز موتی چور کے لڈوکے دانے کھلا دو۔ تمہارا گھر نہیں چھوڑیں گے۔ وہ اپنے بیمار کبوتروں کا علاج بھی کرلیتا۔ اسی وجہ سے جو کبوتر اس کی ٹولی میں شامل ہوتا کبھی وہاں سے نہ جاتا۔ اس کے گھر کی مٹی سے بنے ہوئے کبوتروں کے کُھڈے میں جنگلی کبوتروں سے لے کر جھونسے۔چنیے۔لکے۔کل سرےٹیڈی قصوری کبوتر تھے۔ اسے کبوتروں سے عشق تھا۔ وہ کبوتروں کے کبوتروں کے پاوں میں سونے اور چاندی کے گھنگرو باندھتا۔ایک دفعہ تو کبوتر خریدنے کے لیے اپنی بیوی کے زیور تک بیچ دئیئے۔ اس عشق میں میٹرک کے امتحان میں فیل ہوگیا۔ لیکن کبوتربازی سے اسے اتنی آمدنی تھی وہ آرام سے گزر بسر کر لیتا تھا۔ کیونکہ وہ جو بھی کبوتر بیچتا وہ کچھ دنوں بعد اُڑکر اس کے گھر آجاتا۔ جب اس نے زخمی فاختہ کو دیکھا تو فوراً اس نے فاختہ کے پیچھے سے جاکے جھپٹ کر پکڑ لیا۔ اپنے منہ کے لعاب سے زخمی فاختہ کے پنجوں پر لگادیا اسے اپنے ساتھ گھر لے آیا کمرے میں دروازہ بند کرکے ہلدی اورشہد کے ملاپ سے مرہم بنا کر فاختہ کے پنجوں پر لگا کر اپنی پرانی قمیض کی چھوٹی سی پٹی پنجوں پر باندھ کر اس کاعلاج کرنا شروع کردیا۔

وہ ہمیشہ اپنی بیوی کو کہا کرتا تمہاری آنکھیں فاختہ کی طرح ہیں۔جب تم چلتی ہو تو جیسے فاختہ گنگنا رہی ہو۔جو غصے اور شدت سے عاری ہےجو محبت اور خوبصورتی سے بھرپور ہیں۔ جو مجھے چاہت اور معصومیت سے دیکھتی ہیں۔سرِ تسنیم خم خم کرتی رکھتی ہے۔

وہ اپنی بیوی کو کہتا تم فاختہ کی طرح شرمیلی ہو۔ جب تم بولتی ہو تو لگتاہے فاختہ جنگل کے سائے میں ہوں ہوں کر رہی ہے۔ تمہاری آواز ٹھنڈ ک بخشتی ہے۔ وہ ننھی فاختہ کو دیکھتا رہتا اور فاختہ بھی اسے حیرانی سے پیاربھری نگاہوں سے سر کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پر جنبش دے کر تکتی رہتی۔ فاختہ بالکل کھلو سے نہیں ڈرتی تھی۔اسے محسن کے ہاتھوں گرمائش میں اسےایک سکون ملتاتھا۔

وہ اس کے منہ کو تکتی رہتی اس کی مسکراہٹ کھلو محسوس کرلیتا تھا۔ وہ اسے بتانا چاہتی تھی۔ مجھے ایک بہت اہم فرض سونپاگیاہے۔ مجھے ہر حالت میں بھی اپنا فرض پوراکرناہے۔ اس کی آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو سب کچھ تو نہیں لیکن کھلو کو ا تنا سمجھا سکے کہ فاختہ یہاں نہیں رہنا چاہتی۔ کھلو اسے کہتا تمہارے پنجے ٹھیک ہوجائیں میں تمہیں تالاب میں چھوڑ دوں گا۔ لیکن اس کی آنکھوں کے تر آنسوؤں نے کھلو کو مجبور کردیا کہ میں اسے اسی حالت میں تالاب پر لے جآئے ۔ کھلو نے ویسا ہی کیا اور فاختہ کو پنجوں پر پٹیاں بندھے ہوئے تالاب پر لے گیا۔ اور اسے وہاں چھوڑ دیا۔ اپنی نوکری کو بھی خیر باد کہہ کر سارا دن فاختہ کی دیکھ بھال کرتا۔ تالا ب کے سب کبوترکھلو کے اردگرد جمع رہتے۔ جیسے وہ ان کا بہت اچھا دوست ہو۔ مالک شیخ نے کھلو کا والہانہ عشق دیکھ کر اسے مسجد میں کبوتروں کی دیکھ بھال کے لیے نوکر رکھ لیا۔

ایک بہت ہی خوبصورت کبوتر فاختہ کو دیکھتا رہتا کہ یہ بیچاری چل نہیں سکتی ایک جگہ بیٹھی رہتی ہے ہر روز اس کے پاس جا کر بیٹھ جاتاہے۔ ایک دن اس نے اسے کہہ ہی دیا کہ کچھ حسین حادثات ستاروں سے لٹک کر نیچے اُتر آتے ہیں۔ لیکن کسی میں اتنی طاقت نہیں ہے اس زمین کو اس کی تپش برداشت کرنے کی سکت نہیں ہے۔ کیا زمین نےتیرے حسن کی گرمائش سے تیرے ہی پنجوں کو جلا دیا۔ فاختہ شرماکے مسکرانے لگی۔ ہنستے ہوئے بولی میں تو خود برفیلی فاختہ کو وں کے غول میں پھنس گئی ہوں۔ جلتی زمین میرے پیار سے ٹھنڈی پڑ جاتی ہے۔ مشعل کی جلتی روشن آگ جلے بھی تو چمک دیتی ہے۔ اس میں نفرت کے لیے اتنا کچھ دیا جاتاہے کبھی کسی نے محبت اور امن کے لیے بھی کچھ کیا؟۔ کبوتر نے کہا میرے پنجوں کو ہونٹ سمجھ اور اس نے اپنے پنجے فاختہ کے پٹی سے لپٹے پنجوں پر رکھ دیے۔ دونوں بہت دیر تک ایک دوسرے کو دیکھتے سروں کو ہلکے سے جھٹکوں سے مختلف زاویوں پر رکھ کر دیکھتے رہے اور فاختہ بھرائی ہوئی آواز میں بولی میرے ہونٹ میرے دل کی طرح زخمی ہیں۔ یہ دنیا ہر روز اپنے ظلم وستم سے میرے دل کو زخمی کرتی رہتی ہے۔ کبوتر نے اپنی چونچ کو فاختہ کی چونچ کے ساتھ یوں ملایا جیسے دونوں ایک دوسرے کے رخساروں کو چھو رہے ہوں۔ آج سے مجھے اپنے غموں میں شریک سمجھنا۔ دونوں نے مل کر عہد کیا کہ ہم دونوں امن کاپیغام جو حضرت نوح علیہ السلام نے میرے ذمے سونپا تھا پوری دنیا تک پہنچائیں گے۔ لیکن فاختہ کی آنکھیں پھر تر ہوگئیں۔ مجھ سے امن کا جھنڈ ا زیتون کی ٹہنی کھو گئی ہے۔ کبوتر نے اسے تسلی دی تم فکر نہ کرو میں ڈھونڈ نکالوں گا۔ فاختہ کو محسوس ہواکہ یہ کبوتر اس کی روح کاساتھی ہے۔ کبوتر اور کھلو اس کابہت خیال کرتے۔ کھلو باقاعدگی سے اس کی پٹی بدلتا اور اپنے ہاتھ سے بنائی ہوئی مرہم اس کے جلے ہوئے تلوؤں پر لگاتا۔

کھلو جیسے ہی مسجد میں داخل ہوتا سب کبوتر اس کے اردگرد جمع ہوجاتے کوئی اس کے کندھے پر بیٹھ جاتےکوئی اس کے سر پر۔ کھلو بھی اپنا منہ پھلا کر اوں اوں کی آوازیں نکال کبوتروں سے باتیں کرتا۔ نومولود کبوتروں کے بچوں کو اپنے منہ میں گندم کے دانے بھر کر انہیں ماں کی طرح چوگا چوگاتا۔ فاختہ سے اسے والہانہ محبت تھی۔ اسے ایسے دیکھتا جیسے اپنی بیگم کو دیکھتا ایک دن اس نے دیکھا کہ فاختہ اپنی چونچ سے پنجوں پر بندھی ہوئی پٹی کو کھولنے کی کوشش کررہی تھی۔ کھلو نے بھاگ کر پٹی کھول دی تو خوشی کی انتہانہ رہی۔ فاختہ کے پنجے بالکل ٹھیک ہوگئے تھے۔ وہ چوکڑیاں بھرتی چھم چھم کرتی مورتی کی طرح ناچ رہی تھی، گا رہی تھی، بہت سارے کبوترفرداً اپنااپنا منہ پھلا ے سینہ تانے فاختہ کے گرد ٹہلتے اور محبت کا پیغام سرکو جھکا کر دیتے۔ لیکن فاختہ سب کے پیغاموں کو رد کردیتی جب کوئی بدمعاش کبوتر فاختہ کو بہت تنگ کرتا تو کھلو بدمعاش کبوتر کو بھگا دیتا۔
"بدمعاش کہیں کے جب وہ تمہیں پسند نہیں کرتی کیوں اسے تنگ کرتے ہو۔ ویسے بھی وہ فاختہ ہے کبوتری تھوڑی ہے۔ مجھے پتہ ہے تمہاری چچا زاد ہے۔ تمہارا تعلق جائز ہے لیکن اس میں فاختہ کی رضا مندی بہت ضروری ہے۔ لیکن فاختہ کو اس دوست چینا کبوتر بہت پسند تھا۔ کھلو سمجھ گیا۔ فاختہ اس چینے کبوتر کو پسند کرتی ہے۔ کھلو نے دونوں کو اٹھا کر اپنی گود میں بٹھا لیا۔ دونوں کواپنے ہاتھوں سے پیار کرنے لگا۔ جیسے وہ اپنے بچوں کو گود میں اٹھایا کرتا تھا۔ بہت دیراوں اوں کرتا رہا۔ جیسے دونوں کواشیرواد دے رہاہو یا دونوں کا نکاح پڑھا رہا ہو۔

کھلو نے دونوں کو ہوا میں اڑا دیا۔ دونوں اڑتے اڑتے ایک دیوار کے سائے میں بیٹھ گئے۔ کبوتر نے دوسرے کبوتروں کی سینہ پھلاکر سرکو جھکا یا فاختہ سے رضامندی پوچھی تو فاختہ نے اپنی خوبصورت مخمور آنکھیں بند کرکے سرجھکا لیا۔ فاختہ نے رضا مندی ظاہر کردی ہے۔ دونوں بہت خوش تھے۔ دونوں میاں بیوی کی طرح ایک دوسرے کا خیال رکھتے۔ کھلو نے جب دونوں کو اکٹھے دیکھا تو بہت خوش ہوا اور سمجھ گیاکہ فاختہ کو اس کا ساتھی مل گیا ہے۔ کھلو کو اپنے بیوی بچے بہت یاد آتے۔ یا تو خدا نے اس کے بچوں اور بیوی کی دعاسن لی تھی کیونکہ اگلے ہی دن مسجد کے شیخ نے اسے کہاتمہارا نوکری کامعاہدہ ختم ہوگیا ہے تمہیں واپس جانا ہوگا۔ لیکن کھلو نے شیخ سے التجا کی کہ مجھے فاختہ اور کبوتر کو ساتھ لے جانے کی اجازت دے دو۔ جسے شیخ نے باخوشی قبول کر لیا۔

کبوتر کو اپنا فاختہ سے کیا ہوا وعدہ اچھی طرح یاد تھا۔ وہ روز زیتون کے درخت ڈھونڈتا۔ لیکن اس ریگستان میں پتھروں کی عمارتوں کا جنگل تو تھا لیکن زیتون کے درخت کا دور دور کہیں نشان نہ ملتا۔ لیکن ایک پرچون کے بہت بڑے گودام میں اسے ایک زیتون کےبیجوں کی بوری کی خوشبو نے کبوتر کو اپنی طرف کھینچا۔ وہ اڑتاپھڑپھڑاتا گودام میں جاپہنچا اور اپنی چونچ سے بوری کو پھاڑنے لگا۔ چھوٹی سی چونچ پٹ سن کے موٹے دھاگوں سے بنی ہوئی بوری پر لگی ہوئی ضربیں اس کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکتی تھیں۔ لیکن فاختہ سے عشق نے اس میں بہت سی طاقت انڈیل دی تھی۔ اور وہ لگاتا چونچ کے پے درپے واروں سے بوری کو پھاڑنے میں جتا رہا۔ تھک ہارکر ہانپنے لگا۔ سانس لے کر پھر بوری کے اسی خاص مقام چونچ کو ہتھوڑا بنائے ضربوں کی بوچھا ڑ کردی۔ اور وہ بوری کو پھاڑنے میں کامیاب ہوگیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کرنے کے بعد اس نے زیتون کے بیجوں کو چگنا شروع کردیا۔ کھا کھا کر اپنے گردن کے نیچے پوٹے کو پھلا لیا۔ جیسے اس کی سانس بندہونے لگی ہو۔

وہاں سے اڑکر فاختہ کے پاس آیا۔ فاختہ اس کاپھولا ہوا پیٹ دیکھ کر حیران ہوئی تم کہاں تھے۔ کہیں نہیں بس زیتون کے درخت ڈھونڈ رہا تھا۔

فاختہ ہنسنے لگی یہاں ریگستان میں تمہیں درخت کہاں ملیں گے۔ اسی لمحے کھلو دونوں کے پاس آیا دونوں کو پیار کرنے لگا۔ پیار کے بہانے دونوں کو پکڑ کر ایک تاروں کے پنجرے میں بند کردیا۔ دونوں کو بہت غصہ آیا۔ تم بھی دوسرے انسانوں کی طرح ہو۔ جو آزادی کو سلب کرکے خوش ہوتے ہو۔ تمہاری فطرت میں ہی ہے۔ فاختہ بہت چلائی مجھے تو پیغام پہنچانا ہے دنیا کو مجھے پنجرے میں قید نہ کرو۔

لیکن کھلوبے زبانوں کو کیا سمجھاتا کہ میں تو تم سے محبت کرتاہوں، تمہیں اپنے پاس رکھوں گا۔ کھلودونوں کو ہوائی جہاز میں اپنے ساتھ لے آیا۔

لیکن سفر میں کبوتر کی حالت ٹھیک نہ تھی وہ بالکل بیمار ہوگیا۔ پیٹ میں زیتون کے بہت زیادہ بیج اس کی قوت برداشت سے زیادہ تھے۔ جس نے اسے بیمار کرنا شروع کردیا۔ کھلو جیسے ہی گھر پہنچا تو وہ اپنے بیوی بچوں سے مل کر بہت خوش تھا۔ غیر دیار سے اپنی محنت مزدوری سے کمائے ہوئے کافی سارے پیسے اس کے لیے خاصی تھے۔ اس نے اپنے بچوں کو اچھی تعلیم دلانے کے لیے اپنے شہر کے سب سے اعلیٰ سکول میں اپنی بیٹی اور بیٹے کو داخل کروا دیا بیٹی کو فاختہ کی کہانیاں سناتا۔ فاختہ اور مکھی کی کہانی سن کے بیٹی پوچھتی کیا کہانیاں سچی ہوتی ہیں۔ کھلو کہتا۔کہانی جو بھی ہو سبق اچھا ہونا چاہیے۔اس نے فاختہ اور کبوتر دونوں کو پنجرے سے نکال کر آزاد کر دیا۔ اسے یقین تھا کہ دونوں میرے اسی گھر میں رہیں گے۔ کیونکہ پرندے تو انسانوں کے وفادار ہوتے ہیں۔ فاختہ اور کبوتر نے اردگرد کی دیوار پر بیٹھے کھلو کے خاندان کو پیار سے تکتے رہے۔ کھلو جب بچوں کو سکول چھوڑنے جا رہا تھا دونوں کھلو کا پیچھا کرتے سکول کی دیوار کے ساتھ لگے درخت پر بیٹھ کر بچوں کو دیکھتے دونوں نے فیصلہ کیا۔ کیوں نہ ہم اپنا گھونسلہ اسی درخت پر بنالیں دونوں نے تنکے جمع کرکے اسی درخت پر گھونسلہ بنا لیا۔ لیکن کبوتر کی طبیعت ٹھیک نہیں تھی۔ اس کے پیٹ میں پڑے ہوئے زیتون کے بیج اس کے معدے کو موافق نہ آئے۔ اس نے ایک قے کی اور سارے بیج نکال دیے اور کبوتر نے اپنی بے بس آنکھوں سے اپنی محبوب فاختہ کو دیکھتے دیکھتے اس نے اپیی آنکھوں کو موند لیا۔ فاختہ بہت روئی۔ اس کا جیون ساتھی رخصت ہوگیا تھا۔ اس نے محسوس کیاکہ اس کے پیٹ میں اس کے جیون ساتھی کی نشانی سانسیں لے رہی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی۔ وہ دن رات اپنی محبت کی نشانی کی پرورش کرنے لگی۔ آخر ایک فاختہ نے اپنے رنگ جیسا ایک ننھا سا انڈا اپنے جسم سے باہر دھکیل دیا۔ وہ بہت خوش تھی۔ وہ ہر طوفان اور برے اور بڑے پرندے سے اس کی حفاظت کرتی اپنے جسم کی حرارت سے زمانے کی حرارت سے اسے محفوظ رکھتی۔اسی گھونسلے کے اوپر ہی شہد کی مکھیوں کا چھتہ تھا ان میں سے ایک مکھی سے فاختہ کی دوستی ہوگیئ۔ ہر روز پھولوں سے شہد اکٹھا کر کےاپنے چھتے کو بھر کے فاختہ سے ملنے چلی آتی۔اسی درخت کے سامنے کھلو کی بیٹی کا سکول تھا۔ کچھ مذہبی جنونیوں نے کھلو کو پیغام بھیچا کہ وہ اپنی بیٹی کو سکول نہیں بھیج سکتا۔ اکھلو نے ان کے پیغام کو کوئی اہمیت نہ دی۔ کوسنے لگا۔ تعلیم یافتہ ماں ہی تو قوم کو بناتی ہے۔ مذسی جنونیوں نے تمام لوگوں کو سبق سکھانے کے لیے فیصلہ کیاکہ وہ سکول سے نکلتی ہوئی کھلوکی بیٹی کو گولی کانشانہ بنادیں گے تاکہ کوئی بھی آئندہ جرأت نہ کرسکے۔ سکول سے کچھ فاصلے پر ایک دہشت گرد نے اپنی بندوق کی نالی پر چپکی ہوئی دور بین کو فوکس کیا۔ سکول کے دروازے پر شست باندھی۔ فاختہ ہمیشہ بچوں کاانتظار کرتی۔ اس نے جب دیکھاکہ دہشت گرد نشانہ باندھے کھڑا ہے تو فاختہ پریشان ہوئی۔ پھڑُپھڑانے لگی۔ شہدکی مکھی کو سارا ماجرا سمجھ آگیا۔ باہراڑ کر دہشت گرد کے ہاتھ ہی پر بیٹھ گئی۔ جیسے ہی کھلوکی بیٹی سکول سے باہر نکل رہی تھی دہشت گرد نے بندوق سیدھی کرکے نشانہ باندھا۔ انگلی کو لبلبی پر رکھ کر گولی چلانے ہی والاتھا کہ مکھی نے اس کے ہاتھ پر ایسے زور سے کاٹا کہ اس کی چیخ نکل گئی۔ نشانہ تو چوک گیا لیکن گولیوں کی بوچھاڑ سے سکول کے گیٹ پر لگے بورڈ پر کئی چھید ہوگئے۔ ایک بھگڈر مچ گئی کھلو کی بیٹی کے بستے سے ایک کتاب زمیں پر گری جس میں شہد کی مکھی اور فاختہ کی کہانی جیسے فاختہ کے پروں کی طرح پھڑپھڑا رہی تھی اور سکول کو بند کردیاگیا۔

کھلونے سر کو اوپر اٹھا کر خدا سے دعا مانگی۔ آئے خدا جب ظلم حد سے بڑھ جائے انسان کو اپنے پیدا کیے ہوئے بچوں کو ہی نگلنے لگےان پر تعلیم کے دروازے بند کر دیے جایئں اور ظالم مذہب استعمال کرکے ظلم کی انتہاکردے تو پھر تمہیں اس دھرتی کو گناہوں سے پاک کرناہوگا۔ جب کوئی بھی تدبیر پر نہ آئے تو طوفان لاناہوگا۔ظلم سے پاک دنیا پھر سے بسانی ہوگی۔ جیسے خدا نے اس کی سن لی ہو۔ بارش کا ایک قطرہ جب کھلو کے منہ پر گرا تو وہ سمجھ گیا۔ ایک بہت بڑا طوفان آنے والاہے۔ اس نے فوراً قدرت کے فیصلے پر عمل کیا۔ ایک بہت بڑے درخت کے تنے کو صاف کرکے ایک کشتی بنائی۔ کشتی میں اپنی بیوی بچوں کو بٹھایا۔ فاختہ اور اس کے ننھے بچے کو ساتھ لیا۔ بارش تیز ہونی شروع ہوگئی۔ شدید گرمی کی وجہ سے پہاڑوں پر جمی ہوئی برف بھی پانی بن کر دریاؤں میں بندھ توڑتی ہوا تھوڑی ہی دیر میں اسی طرح طوفان کا حصہ بن گیا۔ طوفان اتنے زور کاتھا بڑی بڑی مضبوط عمارتیں گرنے لگیں۔ کھلو کی کشتی تیزی سے طوفان کامقابلہ کرتی بہتی جارہی تھی۔ فاختہ نے کیا دیکھاکہ کشتی کے کنارے اس کی دوست شہد کی مکھی بارش سے بھیگی ہوئی محفوظ جگہ پر چڑھنے کی کوشش کررہی ہے۔ فاختہ بہت خوش ہوئی۔ لیکن اسی لمحے پانی کے زور دار تھپیڑے نے مکھی کو اپنے ساتھ بہا کے لے جانے لگی۔ فاختہ بہت پریشان ہوئی۔ اس کو تدبیر سوجھی اور اس نے درخت کے چھوٹے پودے سے ٹہنی کو اپنی چونچ سے توڑنے کی کوشش کرنے لگی۔ کھلو نے دیکھاتو کچھ سمجھنے کی کوشش میں چلتی ہوی کشتی سے ٹہنی کو توڑ کر فاختہ کو دے دیا۔

فاختہ ٹہنی لے کر مکھی کے قریب پہنچی اور اس کے آگے پھینک دی۔ شہد کی مکھی بڑی مشکل سے ٹہنی پر چڑھنے میں کامیاب ہوگئی۔ فاختہ نے ٹہنی اٹھائی اور کشتی میں واپس آگئی۔ شہد کی مکھی کو بحفاظت چھوڑ کر کھلو کے منہ کی طر ف دیکھا۔ کھلونے ٹہنی کو فاختہ کو دیتے ہوئے کہا جاؤ امن کاپیغام دنیا کو پہنچا دو۔فاختہ نے ٹہنی کو قبول نہیں کیا کیونکہ وہزیتون کے درخت کی نہیں تھی۔

کشتی میں پڑے ہوے فاختہ کےننھے بچے اور سکولوں پر پڑے تالوں کے ساتھ انسانوں کے لٹکتے سروں کو کو دیکھ کر کھلو کہہ رہا گا۔شاید صدیوں کا نوح مر گیا ہےاتنا ظلم دنیا کی تایخ کبھی نہیں ہوا جتنا اب ہو رہا ہے۔اب کبھی طوفان نوح نہیں آئے گا۔

پورا خاندان واپس گھر پہنچا۔ ساری زمین پر نئی مٹی چڑہئ ہوی تھی۔ سکول کے سامنے والے درخت پر لگا ہو سیلاب
اپنے قد کا نشان چھوڑ گیا تھا۔ساتھی کبوتر یاد آنے لگا۔ اس نے اسی درخت پر اپنا گھونسلہ بنانا شروع کر دیا فاختہ کو اپنے بیتے دنوں کی یاد ستانے لگی۔

دل کے درد نے دو موٹے موٹے آنسو آنکھوں سے دھکیل دیے۔آنسو زمین پر گرنے کی بجآئے ایک پتے پر گرے۔ جس کی چھن سی آواز نے فاختہ کہ نیچے دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ گردن کو ایک طرف جھکا کے دیکھا تو درخت کے نیچے جہان اس کے محبوب کبوتر نے قے کی تھی۔ ایک ننھا سا پودا اپنا سر نکالے کھڑا تھا۔ فاختہ درخت سے نیچے اتر آئی۔ پودے کے پتوں کو دیکھ کر اس کی آنکھوں سے خوشی کے دو اورآنسو نکل آئے۔ کیونکہ وہ پودازیتون کا تھا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Mumtaz Hussain

Mumtaz Hussain

Mumtaz Hussain is an artist, film maker and a writer. He has also served as an art director for Calvin Klein, Ralph Lauren and Simon & Schuster. Mumtaz directed 13 episodes of an informative talk show for channel 9 "Ask a Lawyer." His Urdu book of short stories, GOOL AINAK K PECHAY, LAFZON MAIN TASVEERAIN is published. His script The Kind Executioner received finalist award at Hollywood Screenplay Contest Hollywood and first award at Jaipur International film festival. His paintings and films have been shown at numerous museums, universities, art galleries and international film Festivals.


Related Articles

کالے تجھے کتا کھالے

ممتاز حسین: اوئے کالے تجھ میں تو سب رنگ ہیں تیرے سب رنگ نکل جائیں تو میں بچتاہوں۔ چٹا صرف بے رنگ۔۔۔چٹا سائیں۔ تو جمع ہے میں تفریق ہوں۔ آؤ ہم آنکھوں کے ڈھیلوں کو بدل لیتے ہیں تمہاری آنکھین کالا دیکھیں اور میں سفید۔ ‘‘

درد مشترک

او ہنری: نہیں نہیں۔ "چور نے اس کی آستین تھام کر کہا،"میرے پاس پیسے ہیں فکر مت کرو تمہیں میٹھے تیل میں لونگ ڈال کے ذرا مالش بھی کروانی تھی۔

سون مچھلی

ایک شہر تھا جس میں تھوڑی سی دہلی، تھوڑی ممبئی، تھوڑا بنارس، تھوڑا کلکتہ، تھوڑا پٹنہ، وغیرہ ٹھیک ویسے ہی تھے جیسے دہلی میں تھوڑا پٹنہ، تھوڑا کلکتہ، تھوڑا بنارس وغیرہ ہیں۔