نولکھی کوٹھی - انتیسویں قسط

نولکھی کوٹھی - انتیسویں قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(49)

تقسیم کے بعد فضل دین کاکام کافی بڑھ گیا تھا۔ اُس کی ڈیوٹی لاہور ریوینیو بورڈ میں ایک تحصیل دار کے ساتھ لگ چکی تھی،جس کا کام مہاجرین کی آباد کاری کے لیے، اُن کی جائدادوں کا جا ئزہ لینا اور مشرقی پنجاب یا انڈیا کے کسی بھی علاقے سے آنے والوں کی ملکیت کے گوشواروں کی جانچ پڑتال اور اُن کی پاکستان میں الاٹمنٹوں کا بندوبست کرنا تھا۔ یہ بات ٹھیک تھی کہ اکیلے فضل دین یا تحصیل دار گلزار محمد کا کام نہیں تھا۔ بلکہ اِس کام پر بہت سے سرکاری منشی کلرک اور افسر لگے ہوئے تھے اور پچھلے کئی مہینوں سے کیمپوں میں بیٹھے ہوئے لوگوں کو آباد کر چکے تھے۔ لیکن فضل دین نے اِس کام میں دن رات ایک کر دیا تھا۔ اُس کے ذمے دو ڈیوٹیاں تھیں۔ ایک تو کیمپوں میں جا کر لوگوں کی حقیقی جائدادوں کے بارے میں اُن کے پڑوسیوں اور رشتہ داروں سے پوچھ گچھ کرکے صحیح ریکارڈ دستیاب کرنا اور دوسرا جعلی کاغذات کو اصل کاغذات سے الگ کرکے بالکل صحیح صورت حال تحصیلدار تک پہنچانا۔ پھر تحصیل دار گلزار محمد کے حکم سے حتمی فیصلہ کے تحت کسی کی جائداد کی الاٹمنٹ کے کاغذات تیار کرنا تھے۔ پہلے دو چار ہفتے یہ کام انتہائی ایمانداری اور تندہی سے جاری رہا لیکن اِس کام میں محنت بڑی پرتی تھی اور وقت کا بھی بہت زیاں ہوتا تھا۔ اِس لیے اُس کو مختصر کر دیا گیا اور لوگوں کو جان پہچان،رشوت اور اثر رسوخ کے ذریعے ہی ڈیل کیا جانے لگا۔ پھر اُوپر سے بہت سی سفارشات شامل ہونے لگیں۔ بلکہ فضل دین نے بعض جگہ،جب اُس کے بھیجے ہوئے کاغذات کے بالکل برعکس فائلوں میں درج جائداد اور الائٹمنٹ کے گوشوارے دیکھے،تو وہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟۔ اِس سلسلے میں ایک ہی خاندان کے کئی کئی کیس تیار کر کے اُن کو مختلف جگہوں پر الاٹمنٹ کر دی جاتی یا لاہوریوں اور مقامی لوگوں کی اولادوں کو مہاجر قرار دے کر اُن کی ملکیتوں کے جعلی کاغذات تیار کر کے اُن کے نام کھاتے کھول دیے جاتے۔ شروع شروع میں فضل دین کو یہ کام بہت عجیب لگا،لیکن جب گلزار محمد نے فضل دین کو سمجھایا اور بتایا کہ یہ سب اُن کو خدا دے رہا ہے۔ ہم کون ہوتے ہیں،کسی کو جائداد یا زمینوں کے ملکیتی حقوق دینے والے؟ ہم تو صرف درمیان میں ایک وسیلہ ہیں۔ اِسی بہانے ہمیں بھی خدا نواز رہا ہے اور سچ پوچھو تو خدا نے مہاجرین پر عذاب نازل کیا ہے۔ ورنہ اُس کے حکم کے بغیر تو پتہً بھی نہیں ہل سکتا تھا۔ مولوی ہوتے ہوئے تمھیں تو ان باتوں کا مجھ سے بھی زیادہ پتا ہے۔ چنانچہ شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں اور جو کچھ ہو رہا ہے،اُس پر فرمانبرداری سے عمل کرتے رہو۔ ورنہ کسی بھی وقت نوکری ہی سے فارغ کر دیے جاؤ گے۔ اِس طرح فضل دین کو تحصیل دار کی یہ بات سمجھ میں آ گئی۔ پھر تو اُس کے ہاں بھی چند دنوں میں اللہ کا اتنا فضل ہو گیا کہ اُسے اپنے مکان میں یہ فضل رکھنے کی بھی جگہ نہ بچی۔ مولوی فضل دین نے بھی اپنے،اپنی بیوی،ماں اور ساس کے نام کئی کئی الاٹمنٹوں کے کاغذات تیار کر کے،مال روڈ پر ایک دوکان، ماڈل ٹاون میں ایک کوٹھی، ریگل چوک میں ایک مکان، ایک آٹے کی مِل شاہ عالمی میں الاٹ کرا لی۔ اِس کے علاوہ سو ایکڑ زمین بھی ٹھوکر کے قریب ہی جی ٹی روڈ کے ساتھ رکھوا لی۔ تحصیل دار نے تو فضل دین کو اور بھی کہا تھا۔ لیکن اُس نے اتنے کو کافی سمجھا حالانکہ وہ جانتا تھا،تحصیل دار گلزار محمد اور دوسرے افسر کیا کچھ رہے تھے۔ اِن سب افسروں اور سیاستدانوں نے اپنے اور اپنے رشتے داروں کوچار پانچ نسلوں تک معاشی فکر سے آزاد کر دیا تھا۔ فضل دین کے اِس عمل سے ایک اور بھی فائدہ ہوا کہ اُس کے ایک خواب کی تکمیل ہوتی نظر آ رہی تھی۔ اُسے اپنے بیٹے نوازالحق اور بیٹیوں کی تعلیم کے اخراجات پورے کرنے میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی۔ نواز الحق ابھی چھوٹا تھا لیکن مولوی فضل دین نے سوچا،یہ جائداد اُس کے لیے ایک قسم کا محفوظ بنک اکاؤنٹ ہے۔ ہر چند فضل دین چاہتا تھا،ستلج کے کنارے پر بھی دو ڈھائی ہزار ایکڑ زمین الاٹ کروا لے۔ جہاں سے اُس کا اصلی وطن جلال آباد پڑتا تھا،لیکن وہاں ایک خرابی پیدا ہو گئی کہ اُسے زیادہ تر فوج کے کنٹرول میں دے دیا گیا۔ لہذا فیصلہ دوسرے ہاتھوں میں چلے جانے سے فضل دین کی یہ تمنا بر نہ آئی۔ البتہ اُس کی جنم بھومی ضلع قصور کے چک راڑے کے پاس اُس نے کافی ساری زمین اپنے بیٹے کے کاغذات تیار کرا کے اُس کے نام کروا لی جو اتنی زیادہ تھی کہ جب وہ چک راڑے میں روٹیاں مانگا کرتا تھا،اُس وقت اُس گاؤں کے لوگوں کی ساری زمین ملا کے بھی اتنی نہیں بنتی تھی۔ فضل دین نے سوچا،خدا کتنا مہربان اور کار ساز ہے،اُسے بیٹھے بیٹھائے اتنا امیر بنا دیا۔ فضل دین نے پچھلی پوری زندگی پر نظر ڈالی کہ اُس نے کون سا اچھا کام کیا ہے،جس کی بنا پر خدا نے خوش ہو کر اتنی دولت نواز دی ہے۔ جب اُسے اپنی ذات سے ایسا کوئی کارنامہ برآمد نہ ہوا تو فضل دین نے خیال کیا،لازمی اُس کے والد مولوی کرامت کے ہاتھوں ضرور کوئی نیکی ایسی سرزد ہوئی ہے جس کا اُسے یہ صلہ ملا ہے۔

تقسیم کے بعد آباد کاری کا یہ سلسلہ تقریباًدو سال تک چلتا رہا اور اُسے کام سے ہٹ کر کان کھجانے کی بھی فرصت نہیں ملی۔ فضل دین نے دن رات ایک کر دیے۔ اِس عرصے میں اُس کے بڑے بڑے لوگوں سے تعلقات بھی پیدا ہوگئے۔ ہر شہر اور قصبے میں واقف کار نکل آئے۔ جن لوگوں کو آباد کرنے میں مولوی فضل دین کا ہاتھ تھا۔ وہ ویسے بھی اُس کے معتقد بن گئے تھے۔ لیکن فضل دین کی ذات میں ایک طرح کی انکساری پھر بھی رہی۔ شاید یہ وجہ تھی کہ فضل دین کو ابھی اپنی دولت کا احساس نہیں تھا۔ اس بات کو لوگ مولوی صاحب کی فروتنی اور عاجزی سمجھ کر اُس کی ذات کے اور بھی قائل ہوتے گئے۔ جب تقسیم کے پندھرویں سال وہ خانہ کعبہ سے حج کر کے لوٹے تو اُن کا دل اور بھی ملائم ہو گیا۔ اب وہ کافی تھک چکے تھے اور سارا سارا دن دفتر میں کام نہیں کر سکتے تھے۔ ویسے بھی اُس کے ساتھ کے کئی لوگوں نے اپنے کاروبار شروع کردیے تھے۔ کیونکہ تقسیم کے فوراً بعد خدا نے اُن کو جتنا کچھ دے دیا تھا،اُس کے بعد نوکری کی تنخواہ اُونٹ کے منہ میں زیرے سے زیادہ نہیں تھا اور فضل دین نے واقعی دیکھا تھا،اُن لوگوں نے کاروبار اور تقسیم کے وقت کی جائدادوں سے مزید اتنا کما لیا تھاجس کا کوئی حساب نہیں تھا۔ یہ سب کچھ دیکھ کر اُنہوں نے بھی نوکری چھوڑ دی اور ریگل چوک والے مکان میں اُٹھ آئے۔ یہ مکان پندرہ مرلے کی ایک عمدہ حویلی تھی۔ جس میں آسائش کا ہر سامان موجود تھا۔ باقی کے مکان اور جائدادیں ٹھیکے اور کرایہ پر چڑھا دیں۔ ویسے بھی اب اُسے اپنی دونوں بیٹیوں کی شادی کے لیے وقت درکار تھا،جو دفتر کی مصروفیات سے نہیں نکالا جا سکتا تھا۔ نوازلحق کو اُس نے کسی طریقے سے ایچی سن کالج میں داخل کرا دیا تھا،جو بہت اچھی کارکردگی سے آگے بڑھ رہا تھا۔ ان سب باتوں کے علاوہ مولوی فضل دین اب حاجی مولانا فضل دین خان کہلوانے لگے۔ داڑھی بھی اچھی اور نفیس طریقے سے مزید بڑھا لی تھی،تعویذ تاگا تو پہلے بھی کر لیتے تھے۔ لیکن مکہ سے آنے کے بعد باقاعدہ مرید بنانا شروع کر دیے۔ پیسوں اور رپووں کی اللہ کے فضل سے کمی نہیں تھی۔ اِس لیے کسی سے کچھ نذر نیاز نہیں لیتے تھے۔ زبردستی کوئی دے دیتا تو رکھ لیتے اور اُس کے عوض سرکاری کلرکوں یا افسروں سے اُس مرید کا کام کروا دیتے۔ بلکہ یہ نیاز بھی تھوڑی بہت خود رکھ کر،تاکہ مرید کا دل نہ ٹوٹے،باقی اُنہی سرکاری افسروں کو دے دیتے کہ اُنہیں خود اُس کی ضرورت بھی نہیں تھی۔ محکمہ مال والے چونکہ سب لوگ مولا نا حاجی فضل دین سے واقف تھے۔ اُس کی عزت کرتے تھے اور اِن پر اُن کو اعتماد بھی بہت زیادہ تھا۔ اِس لیے آہستہ آہستہ سب لوگوں کو پتا چلتا گیا،اگر کسی نے لاہور کے محکمہ مال سے کام نکلوانا ہے،تو وہ حاجی صاحب سے رابطہ کر کے،اُن کا مرید ہو جائے۔ اِس دور میں اُن کی عزت بہت زیادہ بڑھ گئی اور زبردستی کی پیش کی ہوئیں نیازیں اتنی زیادہ ہو گئیں کہ اُن کا بڑا حصہ سرکاری افسروں اور کلرکوں کو بانٹ کر بھی ایک کثیر رقم فضل دین کو بچ جاتی۔ جس سے وہ مسجدوں، مدرسوں اور کئی خیراتی اداروں کو بھی دے دیتا۔ پھر بھی اُس کے گھر کے تمام اخراجات اُسی آمدن سے پورے ہونے لگے اور جائداد کی کمائی پوری کی پوری بچنے لگی۔ مولوی صاحب پر اللہ کے اِسی فضل کی وجہ سے اُن کی بیٹیوں کے بڑے بڑے گھروں سے رشتے آگئے،جو امیر کبیر خاندانی ہونے کے ساتھ شریف،ایماندار اور پابند شرع و صوم و صلواۃ بھی تھے۔ اِن خاندانوں میں رشتے داریوں کی وجہ سے حاجی مولانا فضل دین کا خاندان ایک دم بہت وسیع ہو گیا اور وہ اُن سب لوگوں کے درمیان نہایت معزز اور پُر وقار بزرگ کی حیثیت اختیار کر گئے۔ حتیٰ کہ انیس سو اسی کی ایک صبح اکسٹھ برس کی عمر میں مولانا حاجی فضل دین دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ اِس عرصے میں اُن کا بیٹا نواز الحق سول سروس میں آ چکا تھا۔ بلکہ تحصیل دار کے عہدے پر کام بھی کر رہا تھا۔ جنازے میں ہزاروں ہی لوگوں نے شرکت کی۔ حتیٰ کہ جنازگاہ میں کھڑے ہونے کو بھی جگہ نہ ملی۔ جنازے میں زیادہ تر اُس کے بیٹے نواز الحق صاحب کے جاننے والے تھے۔ یا اُس کی بیٹیوں کے خاندانوں کے جاننے والے اور کولیگ یا ماتحت تھے۔

(50)

ولیم کو امید تو نہیں تھی کہ پاکستانی گورنمنٹ سول سروس میں اُس کی خدمات قبول کر لے گی مگر اُس نے سوچا درخواست دینے میں کیا حرج ہے؟اگر گورنمنٹ اُس کی درخواست قبول کر کے اُسے ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے وسطی پنجاب میں نوکری دے دیتی ہے،تو ہر چیز ٹھیک ہو سکتی ہے۔ وہ کیتھی اور بچوں کو واپس بلا لے گا۔ پھر دونوں مل کر بیٹے اور بیٹی کے ساتھ نئے سرے سے زندگی کا آغاز کر یں گے اور اپنے اُوپر باتیں بنانے والوں کو آنکھیں دکھانے کے قابل ہو جائے گا۔ جنہوں نے انگلستان جا کر پب چلالیے،دوکانیں کھول کر بنیا گیری کرنے لگے۔ حتیٰ کہ ٹیکسیاں تک چلانی شروع کر دیں۔

درخواست دینے کے بعد ولیم ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا نہیں رہا تھا۔ اُس نے اُن نوابوں سے لے کر دیسی افسروں تک سب کو اپنی سفارش کے لیے رابطہ کر لیا،جن کو ولیم نے یا اُس کے باپ نے کسی طرح کا کچھ فائدہ پہنچایا تھا۔ اُنہوں نے ولیم کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ ہر حالت میں اُسے پاکستان کی سول سروس میں جگہ دلوائیں گے۔ چنانچہ کسی قسم کی فکر نہ کرے۔ اُن افسروں میں کئی ولیم کی کوٹھی پر بلا ناغہ آنے جانے بھی لگے تھے۔ اِس دوران منہ سے مانگ مانگ کر ولیم کی کئی قیمتی چیزیں ہتھیا لیں۔ ان لوگوں کے وعدوں کی وجہ سے ولیم کئی دنوں تک یہی سوچتا رہا،اُس کی درخواست پر غور کیا جا رہا ہے،جیسا کہ چیف سیکرٹری آفس میں کام کرنے والے ایک کمشنر نے اُسے بتایا تھا۔ چنانچہ وہ اِس سلسلے میں خیالی پلاؤ پکاتا رہا۔ دراصل ولیم نے گورنمنٹ پاکستان کو درخوا ست اِسی خیال کے پیش ِنظر گزاری تھی کہ وہ کچھ دنوں تک کسی امید کو قائم رکھ سکے تا کہ اُسے ایک دم بے دست و پا ہونے کا دھچکا نہ لگے۔ پھر اگر درخواست رد بھی ہوتی،تو اتنے دنوں میں وہ اپنی طبیعت بحال کر چکا ہو گا اور زیادہ دکھ نہیں ہو گا۔ پھر اُسے ذہن کے کسی گوشے میں اُمید بندھ جاتی۔ کیونکہ درخواست دینے کے ساتھ ہی اُس نے حکومت پر یہ واضح کر دیا تھا،وہ خود کو پاکستان کا شہری تصور کرتا ہے۔ لہذا جس طرح وکٹوریہ دور کے مقامی لوگوں کی نوکریاں آزادی کے بعد بحال ہیں،ویسے ہی اُسے بھی بر قرار رکھا جائے۔ اُس کا انگلستان جانے کا کوئی ارادہ نہیں۔ درخواست ولیم نے چیف سیکرٹری پنجاب کو دی تھی۔ جسے پنجاب کی بیورو کریسی کی قسمت کے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار تھا۔ چیف سیکرٹری نے بالآخر اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے ولیم کی قسمت کا فیصلہ کر دیا اور یہ فیصلہ ولیم کے چیف سیکرٹری کے حضور درخواست دینے کے تین ماہ بعد ہوا۔

یہ نومبر کی ایک شام تھی۔ جس نے آغازنومبر کی شاموں کے سکوت میں کبھی دل کے اُداس اور خموش گیتوں کو محسوس کیا ہو۔ وہ خوب سمجھ سکتا ہے،اِس وقت ولیم کی کیا کیفیت تھی۔ ہلکی ہلکی سردی میں خوش گوار موسم،اُداس اور ٹھہری ہوئی کیفیتوں کی کہانی سنا رہا تھا اور شام کے دُھندلکے میں سارے دن کے تھکے ہارے پرندے ڈاریں باندھ باندھ کر اوکاڑہ کے جنوب میں واقع پپلی پہاڑ کے جنگلوں کی طرف جا رہے تھے۔ ولیم نے جب کیتھی اور بچوں کو رخصت کیا تھا،اُس وقت جذبات کا اِتنا بہاؤ تھا،کہ زیادہ پروا نہیں کی تھی۔ لیکن اب جبکہ اُسے بچوں کے ساتھ انگلستان گئے چھ ماہ ہو چکے تھے تو ولیم کو اُداس کر دینے والے باغوں میں گھرے سبزوں کے موسم رہ رہ کر کیتھی اور بچوں کی یاد دلا رہے تھے۔ ولیم نے کبھی نہیں سوچا تھا،اوکاڑہ کے علاوہ اُس کا گھر کہیں اور بھی ہے۔ نہ ہی آج اُس کے دماغ میں اوکاڑہ کے لیے اجنبیت پیدا تھی۔ بلکہ اُس کے خیال میں اُسے اُن انگریزوں پر تاسف تھا،جو اپنے گھروں کو چھوڑ کر دور انگلستان کی غیر زمین پر جا بسے تھے۔ جہاں کی اب نہ تو مٹی اُنہیں پہچانتی تھی اور نہ موسم اُن کے اپنے رہے تھے۔ لیکن اِتنا ضرور تھا کہ اب وہ اپنے انگریز دوستوں اور بیوی بچوں کے بغیر ایسا خلا محسوس کر رہا تھا،جو کسی کے دل میں اپنوں کے بچھڑ جانے سے محسوس ہوتا ہے،جب وہ کہیں پردیس میں چلے جائیں۔ ولیم نے سوچا،اگر وہ یہاں ہوتے تو کس قدر لطف سے زندگی بسر کرتے،یہاں نہ پیسوں کی کمی ہوتی،نہ انہیں کمانے کی فکر ہوتی۔ وہ دن رات باغوں میں گھومتے،رنگا رنگ کے پھلوں کا رس پیتے،نہروں کے کناروں پر بھاگتے اور چہلیں کرتے۔ کاش کیتھی کو سمجھ آ جاتی اور وہ یہاں سے نہ جاتی۔ مگر اب وہ کیا کر سکتا تھا،سوائے اِس کے کہ جلدی سے اُس کے حق میں فیصلہ آ جائے۔ ولیم ہاتھ میں چھڑی تھامے اور کنٹوپ سر پر جمائے اِنہی سوچوں میں گُم ساکت کھڑے درختوں کی خوشبوئیں لیتا اِدھر اُدھر ٹہل رہا تھا۔ مزارع اپنے کام میں مگن ولیم کی گنگناہٹ سن رہے تھے۔ یہی مزارع،جو اِس تنہائی میں ولیم کو بہت عزیز تھے۔ اِس طرح،جیسے اب وہ اُس کی زندگی کا حصہ ہوں۔ وہ اُن سے حساب کتاب میں بھی سختی نہیں کرتاتھا اور کئی ایسی باتیں نظر انداز کر جاتا،جو اُس کی ذات کو معاشی نقصان سے دو چار کرسکتی تھیں۔ اسی اُداس حالت میں اپنے کھیتوں،درختوں اور پرندوں کی اُڑانوں کو دیکھتے ہوئے ٹہل رہاتھا کہ اُس کے منشی نے آکراُس کے ہاتھ میں ایک لیٹر دے دیا اور کہا اُن کے نام یہ خط پنجاب سیکریٹریٹ سے آیا ہے۔ ولیم نے خط لے کر اُسے کھولا کہ اپنی قسمت کے فیصلے کو پڑھ سکے،جو لکھا تو انگریزی میں تھی۔ لیکن اُس پر دستخط دیسی حکمران کے تھے۔ خط پڑھتے ہی ولیم ساکت کھڑا رہ گیا۔ چیف سیکرٹری کی طرف سے ولیم کو دو ٹوک لکھا گیا تھا کہ فی الحال آپ پاکستان کے شہری نہیں ہیں۔ اِس لیے آپ کو بطور ڈپٹی کمشنر خدمات سونپنا کسی طرح ممکن نہیں۔ اِس کے لیے سر دست غور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ اول آپ کو چاہیے تھا،پاکستان کی شہریت حاصل کرنے کے لیے گورنمنٹ کو درخواست دیتے۔ آپ کو خود یہ فیصلہ کرنے کا اختیار نہیں کہ آپ نے انگلستان کے بجائے پاکستان میں رہنے کو ترجیح دی ہے اور یہاں کی شہریت اختیار کر چکے ہیں۔ یہ اختیار صرف گورنمنٹ آف پاکستان کا ہے۔ لہذا اِس بارے میں آپ متعلقہ محکمے کو درخواست دیں۔ یہ فیصلہ ہمارا ایمیگریشن ڈیپارٹمنٹ کرے گا۔ دوئم یہ کہ جب آپ یہاں کے شہری ثابت نہیں ہوتے تو ڈپٹی کمشنر کے عہدے پر برقرار رکھنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

ولیم خط پڑھ کر کچھ دیر کے لیے پریشان کھڑا رہا۔ خط کا پورا انداز واضح،دو ٹوک اور برٹش بیوروکریسی کی عین بہ عین نقل تھا۔ گویا چیف سیکریٹری نے اُنہی کا تیر اُس کی طرف پلٹا دیا تھا۔ ولیم کی نظر میں ایک دم اپنی افسری کے کئی واقعات یاد آنے لگے۔ جس میں وہ بھی دیسی لوگوں کی درخواستوں پر کچھ اِسی قسم کے دو ٹوک احکامات صادر کرتا تھا اور دوبارہ نظر ثانی کرنے کی زحمت بھی نہیں کرتا تھا۔ اب اُسے محسوس ہوا دوٹوک فیصلے دینے میں درخواست گزار کا کلیجہ کیسے پھٹتا ہے۔ ولیم خط پڑھتے ہی،جس کا اُسے اِس طرح کا اندازہ ہی نہیں تھا،سٹپٹا گیا اور اُن سب لوگوں کے بارے میں سوچنے لگا،جنہوں نے اُسے لمبے لمبے وعدے دیے تھے۔ اور اُن کے عوض ولیم سے کئی قسم کا مال بھی لوٹ لے گئے تھے۔ اُسے یقین تھا،یہ لوگ اُس کو ایڈجسٹ کر ادیں گے۔ مگر چیف سیکرٹری پنجاب کے اِس جواب سے ظاہر تھا کہ یا تو کسی نے اُس سے کہنے کی زحمت نہیں کی۔ اگر کسی نے کہا بھی تھا،تو اُس کے خلاف۔ وہ یہی کچھ کافی دیر کھڑا سوچتا رہا اور اپنے آپ کو کوستا رہا۔ ولیم کو اِس وقت درخواست کے رد ہونے کا غم نہیں تھا۔ بلکہ اُس سبکی کا غصہ تھا،جو اِس طرح کی توہین میں اُس پر نازل ہوئی تھی۔ ولیم نے سب مزارعوں کو وہیں پر چھوڑا اور جلدی سے کوٹھی میں داخل ہو کر اپنے بیڈ روم میں چلا گیا۔ بیڈ پر لیٹ کر گزرے موسموں کی یادوں میں کھو گیا اور ہر واقعے کے یاد آنے کے بعد موجودہ حکمرانوں پر لعنت کرتا،جن کے پاس اکڑ تو آ گئی تھی لیکن انتظامی معاملات سے مکمل طور پر کٹے ہوئے تھے۔ وہ بیڈ پر لیٹ کر ایک نئی کوشش کے متعلق سوچنے لگا،جس کی فکر چیف سیکرٹری نے اُس کے پیٹے ڈال دی تھی۔ اُس کے بعد کافی دن اِسی غور و فکر میں گزار دیے کہ آیا وہ اپنی شہریت کی درخواست پاکستان ایمیگریشن ڈیپارٹمنٹ کو دے یا نہ دے۔ ۔ اگر درخواست دینے کے بعد بھی یہی حشر ہوا تو اُس کو اِس فارم،کوٹھی اور تمام جائداد سے بے دخل کر دیا جائے گا۔ ولیم نے سوچا،وہ کسی وکیل سے رجوع کرے۔ مگر پھر اِس خیال سے کانپ کر رہ گیا کہ یہ وکیل لوگ بھی تو دیسی ہیں۔ اگر اُن کے جی میں کچھ لالچ پیدا ہوا تو معاملہ،جو کل خراب ہونا ہے،وہ آج ہی ہو جائے گا۔ اس لیے بہتر یہی ہے،حالات کو جوُں کا توں پڑارہنے دیا جائے اور اِس بات کا کسی سے بھی ذ کر نہ کیا جائے اور کمشنری پر لعنت بھیج کر پوری توجہ اپنی جائداد،فارم اور کھیتوں پر دی جائے۔ کیونکہ فی الحال تو کسی کو اُس کی جائداد اور رقبے سے کوئی غرض نہیں تھی۔ اُس کے تمام کاغذات اُس کے پاس بھی تھے۔ اگر کبھی کسی کو خیال آ بھی گیا تو اُس وقت تک وہ اپنی زندگی کو پورا کر چکا ہو گا۔ اس لیے اپنی اِس فرصت کو غنیمت جان کر مزے سے فارم کی اور زمینوں کی نگرانی کرے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

نولکھی کوٹھی - بتیسویں قسط

علی اکبر ناطق: شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔

نولکھی کوٹھی - تئیسویں قسط

علی اکبر ناطق: ولیم کو لاہور میں ایک سال تین ماہ گزر چکے تھے۔ اِن پندرہ مہینوں میں سوائے جم خانہ جانے کے،اِدھر اُدھر کی گھٹیا اور بے کار فائلوں پر دستخط جمانے اور کلرکوں کے بیہودہ چہروں کے دیکھنے کے علاوہ کوئی کام نہ تھا۔

نولکھی کوٹھی – تیسری قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر بگھی سے اترا توجوانوں کا پورا دستہ اس کی پشت پر کھڑا ہو گیا۔ آگے بڑھا تو ایک پر اسرار رعب اس کے ساتھ تھا۔ بوسکی کاکرتہ، اون کی چادراور کاندھے پر ولایتی رائفل،اس سے بڑھ کر ریشمی لاچا جس کے کنارے دُور تک زمین پر گھسٹتے آتے تھے۔