نولکھی کوٹھی - انیسویں قسط

نولکھی کوٹھی -  انیسویں قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(34)

پچھلی دو پیشیوں پر سردار سودھا سنگھ نے نہ جا کر سخت غلطی کی تھی۔ جس کے نتائج نہایت غلط برآمد ہو رہے تھے اور عدالت نے واضح کر دیا تھا کہ آئندہ سردار صاحب عدالت میں حاضر نہ ہوئے تو اُن کے خلاف عدالت سخت کارروائی کے حکم جاری کر دے گی۔ جس میں کسی طرح بھی رو رعایت نہیں رکھی جائے گی۔ اگر سردار سودھا سنگھ واقعی بیمار ہے اورحاضر نہیں ہوسکتا،تو اُس کے معائنے کے لیے باقاعدہ عدالت ایک ڈاکڑبھیج دیتی ہے۔ وہ رپورٹ کرے گا۔ اس کے بعد اُس کا میڈیکل سر ٹیفیکیٹ قبول کیا جائے گا۔ کیونکہ عدالت اُس کی بیماری کے متعلق جاننا چاہتی ہے۔ عدالت کے پاس اتنا وقت نہیں کہ وہ مقدمے کوزیادہ عرصہ روکے رکھے۔ اُدھر عبدل گجر اور شریف بودلہ عدالت میں حاضر ہو کر اپنے اُوپر لگائے گئے الزامات کا دفاع کامیابی سے کر رہے تھے۔ اُن کے علاوہ وکیلوں نے بھی سردار سودھا سنگھ کو تسلی دی کہ گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ غلام حیدر کا کیس بہت کمزور ہے۔ ا ُس نے ایف آئی آر میں آپ کا نام دے کر سخت غلطی کی ہے۔ وہ کسی بھی طرح ثابت نہیں کر سکے گاکہ آپ حملے میں با قاعد ہ ساتھ تھے اور چراغ دین آپ ہی کے ہاتھوں سے قتل ہوا ہے۔ لہذا چار چھ تاریخوں میں ہی آپ باعزت بری ہو جائیں گے۔ لیکن عدالت میں حاضر نہ ہونے کا مقصد ہے،آپ پر لگائے گئے الزامات سچ ہیں۔ دوسر ی طرف مہاراجہ پٹیالا تو صرف اتنا ہی کر سکتا تھا،اُس نے آپ کے عدالت میں حاضر ہوئے بغیر ہی عبوری ضمانت کے بعد پکی ضمانت بھی کروا دی،لیکن اب کیس تو بہر حال آپ کو لڑنا ہی پڑے گا۔ جس کے لیے مہاراجہ کچھ نہیں کر سکتا۔ پھر یہ بھی ہے کہ آپ عدالت جائیں گے تو بری ہوں گے۔ گھر بیٹھے تو سزا کی ہی توقع کی جاسکتی ہے۔ رہی بات غلام حیدر کی،تو اُس میں اتنا زور نہیں کہ ڈانگ سوٹے کی لڑائی لڑ سکے۔ اُس کی رائفل پچھلے تین ماہ سے پولیس نے ضبط کی ہوئی ہے۔ ویسے بھی رائفلیں چلاناپڑھاکووں کا کام تھوڑا ہی ہے؟اس کے لیے جگرے والے لڑاکو چاہییں۔ اگر اُس کے گٹوں میں پانی ہوتا تو وہ آج سے چار مہینے پہلے ہی کچھ کر دیتا۔ مان لیا ملک بہزاد اُس کا ساتھ دے رہا رہے مگر بوڑھا شیر تو سردار جی بھیڑ سے بھی سستا ہو تا ہے۔ اُس کے لڑنے مرنے کے دن اب گئے۔ ویسے بھی پرائی آگ میں کون جلتا ہے۔ اِس لیے اُس سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ وہ قانونی نکتے بتانے کے سوا اب کچھ نہیں کرسکتا۔ البتہ سنا ہے،نواب افتخار ممدوٹ غلام حیدرکے ساتھ اُدھر لاہور کے ملک میں پڑھتا رہا ہے اور دونوں متر ہیں۔ مگر مہاراجہ کی طاقت کے سامنے اُس کی کیا حیثیت ہے؟ جب عبدل گجر اور شریف بودلے کا کچھ نہیں کر سکا۔ وہ اپنے بندوں کے ساتھ دیدہ دلیری سے کوٹ کچہری میں آتے جاتے ہیں تو پھر آپ تو سردار سودھا سنگھ ہیں۔ جس کے سائے سے پوری تحصیل کانپتی ہے۔

اِن تمام نکتوں کو دیکھتے ہوئے سردار سودھا سنگھ نے بالآخر اِس پیشی پر جانے کا فیصلہ کر ہی لیا اور اِس کا انتظام سردار صاحب نے ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دے دیا۔ سردار ہرے سنگھ سودھا سنگھ کا خاص مِتر رنگا کے بعد لڑائی بھڑائی کے علاوہ عدالت کچہری سے بھی پوری طرح واقف تھا اور دس برچھیوں والے بندوں کا اکیلا مقابلہ کرنے میں ہر طرح سے طاق۔ ایک بنیے کی ٹانگیں توڑنے کے سلسلے میں کچھ عرصہ کے لیے جیل جانا پڑا۔ چراغ دین کاقتل اور شاہ پور پر حملہ کے دنوں میں یہ منٹگمری جیل میں تھا۔ ہرے سنگھ جیل سے نکلا تو سردار سودھا سنگھ میں نئے سرے سے جان پیدا ہو گئی۔ کیونکہ رنگا کے مارے جانے کی وجہ سے سودھا سنگھ کی طاقت آدھی رہ گئی تھی۔ اِس بار پیشی پر جانے کے لیے تیار ہوجانااصل میں سردار ہرے سنگھ ہی کی و جہ سے بھی تھا لیکن ابھی یہ طے نہیں ہو پایا تھا کہ فیروز پور جانے کے لیے کون سی سواری اختیار کی جائے۔ سردار سودھا سنگھ نے سب متروں کو جمع کر کے صلاح کے لیے بلا لیا،جس میں فوجا سیؤ نے آنے سے انکار کر دیا۔ اُس کی اب ویسے بھی کسی کو پروا نہیں تھی کہ پچھلے ایک دو واقعات کی وجہ سے وہ سردار سودھا سنگھ کی نظروں سے گِر چکا تھا۔ اب بھی اگر اُسے بلایا تھا تو مروتاً اور اگر وہ نہیں آیا تھا تو اچھا ہی ہوا کیونکہ ہر بار کوئی نہ کوئی بُزدلی کا مشورہ دیتا۔ بیدا سنگھ،رتا سنگھ،پیت سنگھ،جگبیر،ہرے سنگھ اورسودھا سنگھ کا سگا بھتیجا شمشیر سنگھ الغر ض فوجا سیؤ کو چھوڑ کر باقی سب ہی لوگ حویلی میں موجود تھے اور تین دن بعد والی پیشی پر جانے کے لیے غور ہونے لگا۔ بیدا سنگھ نے کرپان کا پٹا دائیں پہلو کی طرف موڑتے ہوئے،اُس کا کڑا سیدھا کیا اور کہا،سردار صاحب،یہ بات سچ ہے کہ غلام حیدر ایک نا تجربہ کار منڈاہے پَر مُسلے کاکوئی اعتبار نئیں۔ اپنی حفاظت کرنا گرو جی نے لازم قرار دیا ہے۔ اس لیے فیروز پور عدالت میں حاضری دینے کا پرو گرام اِس طرح بناؤ کہ دشمن دانتوں سے انگلی نہ نکال سکے۔ اِس کے ساتھ یہ بھی طے کر لوکہ فیروزپور میں رہنے اور وہاں سے واپسی کا کیا پروگرام ہونا چاہیے کہ دشمن کسی طرح کا وار نہ کر سکے۔ بیدا سنگھ اِتنی ہی بات کر کے بیٹھ گیا۔ اُس کے بعد جگبیر سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور اپنی بڑی بڑی مونچھوں کے درمیان سے بولا،سردار سودھا سنگھ،سب سے بڑا خطرہ غلام حیدر کی طرف سے نہیں عدالت سے ہے۔ مُسلے میں اِتنی جان نہیں آپ پر ہاتھ اُٹھائے۔ ہم تیس بندے ڈانگوں اور برچھیوں سے لد کر نکلیں گے تو غلام حیدر کے بندوں کے پد نکل جائیں گے۔ گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس ہر طرح سے اسلحہ ساتھ بنھ لو اور واہگرو کو یاد کر کے چل پڑو۔ یہ کہ کر جگبیر سنگھ بھی بیٹھ گیا پھر دو تین متروں نے مزید اپنی صلا ح دی۔ جب سب لوگ مشورہ دے چکے تو آخر ہرے سنگھ بولا،سردار جی میری صلاح ہے کہ ہم فیروز پور چار تاریخ کو پیشی پر جانے کی بجائے پرسوں ہی نکل جاتے ہیں اور ریل کے ذریعے ہی جاتے ہیں۔ منڈی گرو ہرسا سے دوبجے گاڑی نکلتی ہے۔ ہم اگر جھنڈووالا سے صبح دس بجے نکلیں تو آرام سے ساڑھے بارہ بجے اسٹیشن پر پہنچ جائیں گے۔ وہاں سے سیدھا صادق والا کے راستے سے فیروز پور جا پہنچیں۔ یہ رستہ محفوظ بھی ہے اور غلام حیدر کی جونہہ سے بھی دور پڑتا ہے۔ اگرچہ لمبا کاٹ کے آنا پڑتا ہے مگر ہے یہی رستہ مناسب۔ اِس راہ سے ہم پانچ بجے شام تک فیروز پور میں داخل ہو جائیں گے اور بھائی پھجا سئیوں کے ڈیرے پر جا کر آرام کریں گے۔ پھر اگلے دن سویرے ہی عدالت کی چوکی پر جا بیٹھیں گے۔ کرپانیں ہماری ڈھبوں میں ہوں گی اور ڈانگیں ہاتھوں میں۔ اگر ذرا بھی خطرہ نظر آیا تو فوراً نکال کر ڈانگوں پر چوڑیاں کس لیں گے۔ پر میرا خیال ہے،یہ نوبت نہیں آئے گی۔ کیونکہ غلام حیدر کی ریفل فرنگیوں نے اپنے قبضے میں کی ہوئی ہے،جو میری اطلاع کے مطابق ابھی تک اُسے واپس نہیں ملی اور اُس کا اصل ہتھیار ہے۔ ڈانگ سوٹا وہ چلانا نہیں جانتا۔ دوسری بات یہ ہے کہ غلام حیدر عدالت میں حملہ کرنے کی حماقت نہیں کرے گا۔ اِس صورت میں موقع پر ہی پکڑا جائے گا۔ اگر اُس نے یہ پاگل پن کر ہی دیا تو سردار جی واہگروکے صدقے سے ہم چھویاں چلانا جانتے ہیں۔ پھر مُسلوں کے ساتھ میدان کے بیچ اُسی عدالت میں جپھا ڈال دیں گے ُ۔ سرداروں کے سینے بھی مجھًوں کے جگرے لے کے پیداہوتے ہیں۔ میرا تو یہی مشورہ ہے۔ سردار جی،اِسی طرح واپسی بھی اِسی رستے سے پیشی کے اگلے دن کریں گے۔ پیشی والے دن فیروز پور ہی رہیں لیکن واپسی میں گرو ہرسا تک جانے کی بجائے پہلے ہی ورکاں خورد اسٹیشن پر اُتر جائیں۔ جہاں ہمارے بندے اسواریاں لے کے کھڑے ہوں گے۔ یہاں سے جھنڈو والا تک فاصلہ کچھ زیادہ طے کرنا پڑے گالیکن یہی مناسب ہو گا۔ باقی گرو جی شرماں رکھو۔

اُس پروگرام میں ہر ایک نے اپنی اپنی صلاح مزید پیش کی اور بیدا سنگھ نے ریل کے سفر سے اجتناب کرنے کا کہااور بجائے گرو ہرسا کے فرید کوٹ کی طرف سے فیروز پور جانے کا مشورہ دیا مگر یہ ناممکن تھا۔ گرمی زیادہ تھی اور جانور وں کے لیے ساٹھ ستر میل کا سفر طے کرنا ممکن نہیں تھا۔ اِس لیے ریل کے ذریعے ہی فیروزپور جانے کا پرو گرام بنا۔ البتہ بیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد تیس کر لی گئی،جو ہر قسم کی ڈانگوں اور برچھیوں سے لیس سردار سودھا سنگھ کے ساتھ ہوں۔ اُن کی کمان ہرے سنگھ کے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ ہوا۔ اِس کے بعد سب متروں کو اپنی اپنی تیاری کرنے کا کہ کرسردار سودھا سنگھ حویلی کے اندرونی حصے میں چلا گیا،جہاں بینت کور اُس کا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی۔ بینت کور سردار سودھا سنگھ کو دیکھتے ہی اُٹھ کر کھڑی ہو ئی اور بھاگ کرقریب آگئی۔ سودھا سنگھ اُس کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا لیکن بولا کچھ نہیں۔ مسکراہٹ سودھاسنگھ کے دل سے نہیں نکلی تھی۔ اُس میں ایک طرح سے اُکتاہٹ کا رنگ نمایاں تھا،جسے بینت کور محسوس کیے بغیر نہ رہ سکی۔ سردار سودھا سنگھ آگے بڑھ کر پلنگ پر پاؤں لٹکا کر بیٹھا تو بینت کور سردار صاحب کے پاؤں سے کھسًہ اُتارنے لگی۔

رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ سودھا سنگھ پر نیند کے کہیں آثار نہیں تھے۔ گرمی کی وجہ سے پلنگ کمرے کی بجائے صحن میں موجود تھے اور صحن بھی کافی کھُلا تھا۔ جس میں بینت کو ر اور سردار سودھا سنگھ کے پلنگوں کے علاوہ کوئی دوسری چارپائی نہیں تھی۔ ہوا چل رہی تھی مگر سودھا سنگھ کو اپنی سانس گھٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ بینت کو ر سردار جی کے جوتے اُتار چکی تو سودھاسنگھ کو بینت کور پر ایک دم پیار آگیا۔ سردار نے اُسے بازووں سے پکڑ کر سینے پر لٹا لیا اور اُ س کا منہ چومنے لگا۔ اِس رویے سے مغلوب ہو کر بینت کور مکمل طور پر سردار جی کے پہلو میں دبک گئی اور لیٹے ہی لیٹے سردار جی کی پگڑی اُتار کر جُوڑے کے بل کھولتے ہوئے بولی،سودھے،کیا ایسا نہیں ہو سکتا تُو پیشی پر نہ جائے؟

بینت کورنے التجا کچھ ایسے غمگین لہجے میں کی کہ سردار سودھا سنگھ کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ بولا،بنتو دل تو میرا بھی یہی کرتا ہے کہ نہ جاؤں،پر کیا کروں یہ فرنگی نہیں مانتے۔ سچ پوچھو تو اب میرا دل یہی کرتا ہے حویلی ہی سے باہر نہ نکلوں۔

بینت کور سردار جی کے جُوڑوں میں ہاتھ پھیرتے ہو ئے دوبارہ بولی،سردارا،آج تیرے آنے سے تھوڑی دیر پہلے میری کچھ دیر کے لیے آنکھ لگ گئی تھی اور میں خواب دیکھ کر ڈر گئی۔ کیا دیکھتی ہوں،تیرے جُوڑے کھُلے ہوئے ہیں اورتجھے کوئی بگھیاڑ کھینچ کے لے جا رہا ہے۔ یہ دیکھ کر میں چیخ مار کے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سودھے،اگر تو نے فیروز پور جانا ہی ہے تو مجھے ساتھ لیتا جا ور نہ نہ جا۔

سردار سودھا سنگھ کا دل بنتو کا خواب سُن کا کانپ گیا،لیکن جی کو سنبھالا دیتے ہوئے بولا،او کملیے حوصلہ رکھ،واہگرو شرماں رکھے گا،تو اُدھر کیا کرے گی؟ میرے ساتھ میرے بڑے متر ہیں۔ گامے (غلام حیدر) دی اینی تڑ نہیں کہ وہ مجھ پر حملہ کرے۔ ہرے سنگھ، جگبیر، بیدا سنگھ اور دوسرے سب مِتر میرے ساتھ ہیں نا۔

سردار جی تسُیں ناراض نہ ہو تو میں ایک بینتی کرتی ہوں،بینت کور نے اب کے سردار جی کی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
دس بنتو،سردار بولا۔

سردار جی،میں کہتی ہوں،یہ لڑائی بھڑائی اب چھوڑ ہی دے۔ دیکھ،کیکروں کے تُکلے دوبارہ گرنے والے ہو گئے،پَر اپنی اولکھ نہیں گئی۔ آرام سے بیٹھ کے بستے ہیں اور یہ جو من من روٹیاں کھانے والے تیرے متر ہیں نا،ان کو کہہ دے،اب اُن کا اور تیرا کوئی لین دین نہیں ہے اور غلام حیدر سے صلح کر لے۔ یہ مُسلے مَر جانے بڑے بُرے اور چیڑ پھاڑ کر کھا جانے والے کُتے ہوتے ہیں۔ سُنا ہے دشمنی اورلڑائی بھڑائی میں اِن کا کوئی مقابلہ نہیں۔

سودھا سنگھ کو بینت کور کی یہ بات بُری لگی لیکن آج وہ کسی بھی طرح سے بنتو کو کڑوا بول نہیں کہنا چاہتا تھا۔ وہ غصے کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا،بنتو،ایسی بات نہ کیا کر جس سے مجھے غصہ آتا ہے۔ غلام حیدر سے صلح کرنے کا مطبل اُس سے معافی مانگنا ہے اور یہ بات سرداروں کو مِہنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ ایک بار اِس رولے سے جان چھوٹ جائے تو بنتو تیرے سر کی سونہہ دوبارہ کسے نوں تنگ نہیں کروں گا۔ یہ کہ کر سردار سودھا سنگھ نے ایک ہاتھ سے پاس ہی تپائی پر جلتی ہوئی لالٹین کی بتی مروڑ کر اندھیرا کر دیا اور دوسرے ہاتھ سے بینت کور کی شلوار کا ازار بند کھینچ دیا۔

(35)

جون کا آغاز ہو چکا تھا،سخت گرمی اور دھوپ نے تمام کام معطل کردیے تھے۔ اِس کے باوجود ولیم نے بہت سی چیزوں کو اس طرح منضبط کردیا کہ اکثر تحصیل میں شروغ کیے گئے کام چل رہے تھے۔ ولیم کے دماغ میں ایک بات بڑی شدت سے چکر کھا رہی تھی۔ مون سون کی بارشوں کا زمانہ قریب تھا،جس میں قریباً سارے پنجاب میں ہر طرف پانی کے غبارے چھوٹ پڑتے تھے اور یہ سارا پانی بے کا ر ہی چلا جاتا۔ ولیم اِس پانی سے کچھ کام لینا چاہتا تھا،جس کے لیے اُس نے ایک ترکیب سوچی تھی۔ جلال آباد کے مضافات میں وہ تمام زمین جو ابھی تک زیرِ کاشت نہیں تھی اور گورنمنٹ کے حساب میں پڑی ہوئی تھی۔ اُسے پہلے مرحلے میں جلال آباد کے کم ازکم ایک ہزار خاندان میں تقسیم کرنے کا فرمان جاری کرنا تھا،جس کے لیے صرف اُن خاندانوں کا انتخاب کرنا تھا،جو بے زمین ہوں اور کاشت کاری میں بھی تجربہ رکھتے ہوں۔ اِس منصوبے پر ولیم پچھلے تین مہینوں سے خفیہ طور پر کام کر رہا تھا اوراب جا کر اُس کی منظوری ہوئی تھی۔ وہ یہ تقسیم اپنی نگرانی میں کروانا چاہتا تھا تاکہ منصوبہ فیل نہ ہو۔ اُسے خاندانوں کے کوائف اور اُن کی صلاحیتوں کو جاننے میں گزٹ نے بڑی سہولت فراہم کی تھی لیکن مختلف اوقات میں لوگوں کو بلا کر بات چیت کرنے سے بھی کئی باتیں سمجھ میں آئی تھیں۔ اِس سلسلے میں اُس نے کسی سفارش اور رعایت کوا ستعمال نہ ہونے دینے پرارادہ کر رکھا تھا۔ اسی لیے آج اُس نے محکمہ مال کے تمام افسروں کا اجلاس طلب کیا ہواتھا اور صبح سے اُس پر عمل کرانے کے سلسلے میں صلاح مشورہ جاری تھا۔ دراصل ولیم نے اوکاڑہ چھٹی گزار کر آنے کے بعد بہت ہی گرم جوشی سے فرائض انجام دینے کی طرف دھیان دیا اور تحصیل کی معاشی ترقی کے لیے خاص کر متوجہ ہوا۔ جس میں کچھ کام کی طرف تو اُس نے آتے ہی دماغ لڑا دیا تھا۔ ان کے علاوہ ولیم کو آٹھ نو ماہ یہاں گزارنے کے بعد احساس ہو رہا تھا کہ تحصیل کی اکثر عوام ایسی ہے جن کے پاس نہ زمین ہے اور نہ ہی ایسا کاروبار،جو اُن کے دال پانی کا سہارا بن سکے۔ وہ محض بڑے زمین داروں کے باجگزار ہی بن کر رہ گئے تھے۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ کو چوری اور ڈکیتی میں بھی ملوث کر کے جرائم کا سبب بنتے تھے۔ اِن کا موں میں خاص کر ضلع فیروزپور مشہور ہو چکا تھا اور اُس میں بھی تحصیل جلال آباد سرِ فہرست تھی۔ گزٹ کی تمام رپورٹ میں یہ بات واضح تھی کہ تحصیل جلال آباد میں ایک طرح سے انگریزی قانون نافذ العمل نہیں ہے۔ ستلج کے قریبی جنگلات اِن مجرمانہ کاروائیوں کے لیے بڑی محفوظ پناہ گاہیں تھیں۔ جہاں پولیس کو کارروائی کرنے میں نہ صرف مشکل پیش آتی بلکہ اُن کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو جاتا۔ اس لیے پولیس اِن علاقوں میں جانے سے گریز کرتی۔ چور اور ٹھگ وغیرہ اکثر اسی بات سے فائدہ اُٹھاتے۔ یہی وجہ تھی کہ مال مویشی کی چوریاں معمول بن چکی تھیں۔ آئے دن گورنمنٹ کے لیے مسائل پیدا ہو جاتے اور چوری کا پیشہ نہایت ترقی کر گیا۔ بار بار کی تنبیہ اور سرزنش کے باوجود جب معاملہ بڑھتا ہی گیا تو ولیم نے خاص کر پندرہ بیس اُن زمینداروں کو دفتر میں طلب کر لیا جن کے متعلق خاص کر رپورٹیں تھیں کہ وہ رسہ گیری کرتے ہیں اور چوروں کو پناہ دیتے ہیں۔ بلکہ غریب اور بے روزگار لوگوں کو چوری اور ڈکیتی پر یہی لوگ لگاتے ہیں۔ یہ زمین دار زیادہ تر اِٹھاڑ کے علاقوں سے تعلق رکھتے تھے،جن پر ہاتھ ڈالنا پولیس کے لیے سر دردی کا باعث تھا۔ دو پہر کی گرمی میں تحصیل کمپیلیکس کے لان میں موجود برگد کے نیچے یہ زمیندار آج صبح آٹھ بجے ہی آ کر بیٹھ گئے تھے۔ ان کی سفید پگڑیوں پر پفیں لگی تھیں اور پگڑیوں کے کنارے اس طرح ہوا میں لہرا رہے تھے،جیسے سانپوں کے پھن جھول رہے ہوں۔ یہ سب چوہدری اپنے اپنے علاقے کے وائسرائے تھے لیکن برگد کے پیڑ تلے بیٹھے طویل انتظار کے باوجود ان کو کسی قسم کی اُکتاہٹ محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ انہیں نہ صرف خود بلکہ ان کے عزیزو اقربا کو بھی احساس تھا کہ یہ اُن کی زندگی کا پہلا موقع تھا جب کسی انگریز افسر نے انہیں اپنے دربار میں بلا کر ملاقات کا شرف بخشا تھا۔ اب جتنی دیر تک زندہ رہیں گے،یہ فخر اُن کے ساتھ چلے گا۔ اِس لیے انگریز بہادر کا اتنا انتظار کروانا اُن کے لیے زیادہ تکلیف کا باعث نہیں تھا۔ پھر ایک ہی تو دن کی بات تھی۔ اِن میں زیادہ تر زمیندار وٹو،بودلے،بھٹی راجپوت اور کھرل قبیلوں سے تھے اور سب کے سب مسلمان تھے۔ ویسے بھی ایک دوسرے کے واقف ہونے کی وجہ سے اِن کا آپس میں کھل کر باتیں کرنے میں کوئی چیز مانع نہیں تھی۔ یہ سب چودھری برگد کی ٹھنڈ ی چھاوں میں لکڑی کی بنچوں پر بیٹھے حقوں کی گڑگڑاہٹ سے کسیلے دھویں کی لہریں چھوڑ رہے تھے۔ اِن کے حقے نہایت شاندار اور بڑی بڑی چلموں اور پیندوں والے تھے۔ جن کی نڑیاں نوکروں نے تھامی ہوئی تھیں۔ زمین دار اپنے ساتھ یہ چرب زبان نوکر اِس لیے لائے تھے کہ حقہ پکڑنے کے ساتھ دوسروں کو اپنے مالک کے سچے جھوٹے قصے بھی نون مرچ لگا کر سنائیں۔ یہ فریضہ وہ اچھے طریقے سے ادا کر رہے تھے اور ایسی دور دور کی ہانک رہے تھے کہ خدا کی پناہ۔ ہر ایک نوکر اپنے مالک زمین دار کو دوسرے پر فوقیت دینے میں ایسی لمبی چھوڑتا کہ اگلے نوکر کے لیے مشکل پیدا کر دیتا مگر جب دوسرا بات شروع کرتا تو وہ بھی اِس مشکل کو عبور کر کے اپنی زبان دانی اور چرب زبانی کا ثبوت مہیا کر ہی دیتا۔ اِن گپوں اور زبان کے چٹخاروں میں کسی کو کچھ پتا نہ چلا کتنا وقت نکل گیا ہے۔ اِسی طرح ان کو گیارہ کا وقت ہو گیا۔ اِدھر تو یہ بیٹھے ان شغلوں میں تھے اُدھر ولیم مال افسروں کے ساتھ منصوبہ بندی میں مشغول تھا۔ میٹنگ کے دوران ہی اچانک ولیم نے اپنے منہ کا ذائقہ تبدیل کرنے کے لیے نجیب شاہ کوکمرے میں طلب کیا اور پوچھا،نجیب شاہ کیا اِٹھاڑ کے سب لوگ آ گئے ہیں؟

نجیب شاہ نے جواب دیا،سر وہ تو صبح آٹھ بجے سے سرکار کے دفتر میں حاضری کے لیے برگد کی چھاؤں میں بیٹھے ہیں۔ اگر حکم ہو تو میں اُن کو حاضر کر دوں؟

نہیں اندر بلانے کی ضرورت نہیں۔ ہم اُن سے وہیں جا کر بات کر لیتے ہیں۔ اس کے بعد ولیم اُٹھ کر کمرے سے باہر نکلا اور کمپلیکس کے لان میں اُسی طرف چل پڑا جہاں یہ سب بیٹھے تھے۔ اُس کے پیچھے نجیب شاہ اور چار پانچ پولیس سنتری بھی تھے۔

انگریز سرکار کو اپنی طرف آتے دیکھ کر سب اپنی بنچوں سے اُٹھ کر کھڑے ہو گئے لیکن ولیم نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے بیٹھے رہنے کے لیے کہا اور خود وہیں کھڑا ہو گیا۔ سب بیٹھ گئے تو ولیم نے ایک ایک سے اُس کا نام اور علاقہ پوچھا اور وہ جواب دیتے گئے۔ چند لمحے اسی تعارف میں گزرنے کے بعد ولیم نے اُن کی طرف ایک بھرپور نظر ماری اور بولا،حضرات شاید تم کو یہ نہیں بتایا گیاکہ تمھیں یہاں کس لیے زحمت دی گئی ہے اور گورنمنٹ تم لوگوں سے کیا چاہتی ہے؟ میں تم کو زیادہ دیر اِس جگہ بے زاری اور تجسس کی حالت میں نہیں رکھنا چاہتا۔ نہ ہی مَیں ایسی فرصت کی حالت میں ہوں کہ تم سے لمبی چوڑی گفتگو کے لیے وقت نکال سکوں۔ تم سب لوگ اپنے کانوں سے پگڑیوں کے کونے اُٹھا کر میری بات سُن لو۔ مَیں جلال آباد میں امن و امان اور خوش حالی چاہتا ہوں۔ مجھے تم سب کی کارگزاریوں کی مکمل رپوٹ ہے،جو حوصلہ افزا نہیں۔ تم جانتے ہو،تمھارے علاقوں میں چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں عروج پر ہیں۔ جو عوام اور گورنمنٹ کے لیے مستقل پریشانی کا باعث ہے۔ گورنمنٹ آپ کی رسہ گیریوں سے خوش نہیں ہے اور چاہتی ہے آپ اُس کا ساتھ دیں (اس کے بعد ولیم مزید آگے ہوا اور اپنا ہیٹ سر سے اُتار کر سخت لہجے میں بولا ) اگر آئندہ مجھے پتا چلا کہ مویشی چوروں پر تمھاری شفقت ابھی تک موجود ہے تو میں تمھاری گردنیں اِنہی پگڑیوں سے باندھ دوں گا،جن کو پان دینے پر اتنا خرچہ آتا ہے جتنا تمھارے سال بھر کے آٹے پر۔ یہ کہ کر ولیم واپس مُڑا اور اپنے کمرے کی طرف چل پڑا۔ نہ تو اُس نے کسی کی بات سنی اور نہ مزید کچھ کہا۔ انگریز افسر کو اِس طرح آتے اور جاتے دیکھ کر تمام زمینداروں اور چوہدریوں کے سر گھوم گئے۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ملاقات اتنی مختصر اور تلخ ہو گی۔ اب وہ ایک دوسرے سے نظریں بھی ملانے کے قابل نہیں رہے تھے۔ ادھر ولیم اُن کو سرزنش کرنے کے بعد ایک پل میں یہ جا وہ جا۔ دفتر کی راہداریوں سے ہوتا ہوا کمرے میں غائب ہو گیا۔ اُس کے پیچھے دفتر کا دوسرا عملہ بھی غائب ہو چکا تھا۔ اِدھر ِاٹھاڑ کے زمیندار اپنا سا منہ لے کر لکڑی کے بنچوں سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور کپڑے جھاڑ کا آہستہ آہستہ باہر کی طرف نکلنے لگے،جہاں اُن کے گھو ڑے بندھے تھے۔ اب اُنہوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بھی کوئی بات نہیں کی اور آرام سے نکل گئے۔ اُن کو اپنے آپ پر تو غصہ آہی رہا تھا مگر اپنے سے زیادہ اُن نوکروں پر تھا جو اس رسوائی پر خوامخواہ موقع کے گواہ بن گئے تھے۔ مگر اب کیا ہو سکتا تھا،سوائے اِس کے،کہ اُن نوکروں کو ایک دوسرے سے جدا ہو کر تنبیہ کرتے کہ علاقے میں جا کر اِس بات کو مشتہر نہ کریں۔ بلکہ ہو سکے تو اُن کی انگریز بہادر کے ساتھ آبرومندانہ گفتگو کے جھوٹے واقعات سنائیں۔ مگر ہر ایک یہ بھی جانتا تھا کہ اُس کے متعلق دوسرا اپنے علاقے میں جا کر سارا پول کھول دے گا۔

اِس میں کوئی شک نہیں کہ ولیم کی طبیعت میں شاعرانہ قباحتیں موجود تھیں لیکن یہی وہ قباحتیں تھیں جو بعض اوقات کام کے سلسلے میں مفید ثابت ہوتی تھیں۔ اُن کی وجہ سے وہ اپنی مرضی سے کیے گئے کاموں میں زیادہ پائدار ثابت ہوتا تھا۔ اِسی کے تحت اُس نے جلال آباد کو ایک طرح سے برطانیہ کا ایک قصبہ بنانے کی کوششیں شروع کر دیں۔ جس کے لیے اُس کے ذہن میں عجیب عجیب ترکیبیں ایجاد ہونے لگیں۔ اِس سلسلے میں ولیم نے اپنی طرف سے کچھ دفتری حکم نامے جاری کیے۔ مثلاً ہر ایک پر لازم کر دیا گیاکہ وہ اپنے گھروں کے صحنوں اور بازاروں اور جلال آباد کے مضافات میں شہتوت کے پودے لگائے۔ اِس کے علاوہ کمپلیکس سے ایک کلو میٹر دورپچیس ایکڑ رقبہ کی جگہ کا انتخاب کیا گیا،جہاں شہتوت کے پودوں کی کاشت کا بندوبست کیا جاناتھا تاکہ جلال آباد تحصیل میں ریشم کے کیڑوں کا کاروبار چلایا جا سکے۔ اِس کی تر کیب ولیم کے ذہن میں اُس وقت آئی جب اُسے فاضل کا بنگلہ جاتے ہوئے ایک جگہ پر بہت سے شہتوت کے درخت دکھائی دیے۔ اِس مقصد کے لیے ولیم نے بدر دین کی ڈیوٹی لگا دی اور فنڈ مختص کر دیا،جو اِس سے پہلے بھی نجی سطح پر یہی کام کرتا تھا۔ علاوہ ازیں جلال آباد کی گلیوں اور بازاروں کی نئی سکیم تیار کر کے اُن کی تعمیر کا حکم جاری کیا گیا اور بلدیہ کو شہر کی توسیع کے لیے ایک نیا منصوبہ بنانے کا حکم جاری کیا۔ اِس سلسلے میں تحصیل کے بڑے زمین داروں سے رابطہ کر کے اُنہیں شہر میں اپنے گھر تعمیر کرنے کی طرف متوجہ کیا اور تاجرپیشہ لوگوں کو،جو زیادہ تر ہندو تھے،اِس بات پر اُکسایا کہ وہ اپنا سرمایہ یا پیسہ کپڑے،قالین بافی یا زرعی پیداوار کی خریدو فروخت پر لگائیں۔ جس کے لیے گور نمنٹ اُنہیں آسانیاں فراہم کرے گی۔ اگرچہ ولیم نے جانسن صاحب کی ہدایات کے مطابق اپنے رویے میں احتیاط کو بہت دخل دینا شروع کر دیا تھالیکن جن کاموں کو وہ کسی طرح سے شروع کر بیٹھا تھا،اُن کی انجام دہی کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں۔ خاص کر تعلیم اور نہری نظام کے سلسلے میں کسی قسم کی رو رعایت سے کام نہ لیا۔ جو کام اُس نے انتہائی پھرتی سے مکمل کروا دیے اور کسی کو اُن کاموں پر اعتراض بھی نہیں ہو سکتا تھا،اُن میں سب سے پہلے ولیم نے تحصیل کمپلیکس میں دو تین رہٹ لگوا کر پانی کا انتظام کروا کے کمپلیکس کی راہداریوں اور ارد گرد دور تک ہزاروں ہی درخت لگوا دیے،جو پھل دار بھی تھے اور اور سایہ دار بھی۔ سایہ دار درختوں میں ولیم کو برگد،پیپل اور نیم کے درخت بہت پسند تھے۔ اس لیے اُنہی کے پودے ہر طرٖف فروری کے مہینے میں ہی لگوا ئے تاکہ بہار اور پھر مون سون کے موسموں میں اُن کی نمو کا عمل جاری رہے۔ اِس کے علاوہ تمام مالی اور نہری پٹواریوں سے زمینوں کے گوشوارے منگوا کر مال افسروں کے ذریعے زمین داروں تک ہدایات پہنچا دی گئیں کہ اگر اُنہوں نے دیے گئے ٹارگٹ کے تحت اپنی زمینوں میں فصل کی کاشت اور شجرکاری نہ کی تو اُن کو جرمانے اور زمینوں کی ضبطی کی سزا دی جائے گی۔ اِن احکام کا خاطر خواہ نتیجہ جلد ہی سامنے آنے لگا۔

حکم کے مطابق ایک دو زمینداروں کی جب زمین واقعی ضبط کر لی گئی تو دوسروں نے ہدایات پر پورا پورا عمل کرنے کی طرف توجہ دی۔ ولیم نے بذات خود کئی جگہ کا دورہ کر کے حالات کا جایزہ لیا،جس پر تحصیل کے تمام عملے کو کان ہو گئے۔ ایک اور بات جو ولیم کے کہے ہوئے کام کو پورا کرنے کے لیے مفیدہو رہی تھی،وہ اُس کی یادداشت تھی۔ ولیم ایک دفعہ جو کام کہ دیتا پھر اُسے بھولتا نہیں تھااور گاہے گاہے اُس کے متعلق پوچھتا رہتا۔ محکمہ تعلیم کے بارے میں مولوی کرامت کی خدمات پر بھی ولیم کی تلسی داس سے بات ہو چکی تھی۔ مسلمان بچوں کی تعداد بڑھانے میں مولوی کرامت نے معجزانہ طور پر کردار ادا کیا تھا۔ اُس نے صرف دو ماہ کے اندر سو بچوں میں اضافہ کر دیا۔ مولوی کی اس کامیابی پر ولیم نے تلسی داس کو مولوی کرامت کا خاص خیال رکھنے کا بھی کہا اور ہدایت کی کہ اُسے ایک رہائشی مکان تحصیل کمپلیکس میں الاٹ کر دیا جائے اور اسی طرح کے چار مولو ی مزید بطور منشی رکھ کر اُن سے بھی یہی کام لیا جائے۔ لڑکوں کے لیے نئے اسکولوں کے قیام،بچیوں کے لیے بھی کچھ اسکول کھولنا اور نئے منشیوں کی بھرتی کے علاوہ بنگلہ نہر کے بارے میں جو کیس تیار کر کے ولیم نے اسٹبلشمنٹ کو بھجوائے تھے،اُن پر بھی اپروول آ چکی تھی اور اُن پر کام کروانے میں ولیم کاکسی بھی قسم کی نرمی کرنے کا ارادہ نہیں تھا۔ اسی وجہ سے اُن پر انتہائی تیزی سے کام شروع ہو چکا تھا۔ ڈپٹی کمشنر ہیلے بھی ولیم سے اس بارے میں مکمل تعاون کر رہا تھا جس کے متعلق پہلے پہل ولیم کو بعض اندیشے تھے لیکن اب وہ اندیشے بھی ختم ہو چکے تھے۔ البتہ امن و امان کے حوالے سے اپنے آپ کو ثانوی حیثیت میں رکھ کر یہ کام لوئیس صاحب کے حوالے ہی رکھا اور کبھی زیادہ پوچھ گچھ کی ضرورت محسوس نہ کی۔ لوئیس صاحب غلام حیدر اور سودھا سنگھ کے بارے میں ضروری معلومات ولیم صاحب تک پہنچاتا رہا جس میں غلام حیدر سے اسلحہ کی ضبطی سے لے کر سردار سودھا سنگھ کی ضمانت کے متعلق تمام خبریں شامل تھیں۔ ولیم کو ہر چند سودھا سنگھ کی پکی ضمانت ہو جانا کافی گراں گزرا لیکن اب وہ عدالتی نظام میں مہاراجاؤں کی دخل اندازیوں کا کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اِس لیے ولیم نے لوئیس کی زبانی یہ خبر سُن کر فقط سر ہلا دیا اور کہا،لوئیس،اب تمھاری ذمہ داری ہے کہ اِس طرح کے ناخوشگوار واقعے دوبارہ اس تحصیل میں جنم نہیں لینے چاہیئں۔

لوئیس نے ولیم کو اطمنان دلاتے ہوئے کہا،سر آپ آئندہ سکون رکھیں۔ اس کے ساتھ ہی لوئیس نے ولیم کے سامنے ایک فائل رکھ کر بتا دیا کہ عدالت نے غلام حیدر سے ضبط کیا گیا اسلحہ اُسے واپس کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے جس پر اُن کے دستخط ہونا ضروری ہیں۔ ویسے بھی قانون کے مطابق اسلحے کی ضبطی کو تین مہینے ہوچکے تھے اور غلام حیدر کے ذاتی ریکارڈ کے حوالے سے بھی یہ رپورٹ اطمنان بخش تھی۔ ولیم نے اُس فائل پر دستخط کر کے غلام حیدر کی رائفل لوٹانے کی اجازت دے دی۔

ولیم نے کیتھی کو جانسن صاحب کے حکم کے مطابق اُسی دن ہی تار بھجوا دیا تھا،جس کے جواب میں کیتھی نے جولائی کے مہینے میں ہندوستان آنے کی خوشخبری سنا ئی تھی۔ ویسے بھی ولیم سے شادی کرنا کیتھی کے لیے کسی پرنس کا ہاتھ آجانے سے کم نہ تھا۔ جس کا خواب انگلستان کی اکثر لڑکیاں وہاں دیکھتی رہ جاتیں۔ ہندوستانی سول سروس میں کسی انگریز کے ساتھ بیاہ کرنا ایسے ہی تھا جیسے شاہی خاندان کی بہو بن جانا ہو۔ اِس لیے انگلستان میں رہنے والی نو عمر لڑکیاں اِس تاک میں رہتیں کہ کسی طرح سی ایس ایس کرنے والے لڑکے کو پھانس لیا جا ئے۔ ایک دفعہ ایسا لڑکا ہاتھ میں آجاتا تو اُس کی زندگی سنور جاتی۔ پھر وہ ہندوستان پہنچ کر ایک دم میم بن جاتی اور واپس اپنی سہیلیوں کو یہاں کے واقعات اور عیش و عشرت کی زندگی کے عجب عجب قصے لکھ کر بھیجتیں،جن کو پڑھ کر اُن کے کلیجوں میں سیخیں لگتیں۔ چنانچہ کیتھی کسی طرح اِس موقعے کو ضایع نہیں کر سکتی تھی۔ اُس نے فوراً ہی لکھ بھیجا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ولیم کے پاس ہندوستان آ رہی ہے۔ کیتھی کے ٹکٹ کا انتظام ہوائی کمپنی ہی کے ذریعے کر دیا گیا تھا۔ اب وہ بیس جولائی یعنی دس دن بعددہلی پہنچ رہی تھی۔ ولیم کا اُسے وہاں سے خود جا کر وصول کرنے کا ارادہ تھا۔ جس کے لیے اُس نے اپنے قریبی دوست جان لیور کو پیغام بھیج دیا کہ وہ اگلے پیر کو دہلی آرہا ہے۔ یہ سفر اُس نے ریل پر ہی کرنے کا ارادہ کیا تاکہ کیتھی کو لے کر سیدھا لاہور چلا جائے،جہاں تمام رسوم کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مال روڈ کے کیتھڈرل چرچ میں نکاح پڑھ لے۔ اُس کے بعد دوستوں کو غیر رسمی دعوت پر بلا کر معاملہ جلد نپٹا دے۔ اِس سلسلے میں ولیم نے ایک ماہ کی چھٹیوں سمیت چند مزید انتظامات کر لیے کہ اپنی نولکھی کوٹھی کی کافی آرائش کروا دی،جو پہلے بھی کسی طرح کم نہیں تھی۔ اِس بات کا بھی خیال رکھا کہ اگر اُسے چھٹیوں کے بعد جلال آباد منتقل ہوناپڑے تو اُس لحاظ سے بنگلے کی بھی درستی کر دی جائے۔ جس پر کام جاری تھا۔ اِس کے علاوہ ولیم نے اوکاڑہ میں چرچ روڈ پر ایک کرسٹان مشنری سکول کی بنیاد رکھنے کا بھی منصوبہ بنا لیا اور اُس کا انتظام اپنے دوست ڈینی کے ہاتھ میں دے دیا۔ اِس کو چلانے کے لیے رقم کا بندوبست بھی دونوں دوستوں نے مل کر کرنا تھا لیکن سرِدست کیتھی سے شادی کرنا سب سے اہم معاملہ تھا اور اُس کا موقع انتہائی قریب تھا جس کا خیال ہی ولیم کو سرشار کر دینے کے لیے کافی تھا۔ غرض یہ کہ پچھلے دس دن کے دوران ولیم نے اپنے ماتحت تمام تحصیل کی سطح کے انتظامی شعبوں کا فرداً فرداً جائزہ لیا اور اُن پرمختلف ہدایات جاری کیں۔ جس کی تفصیلی رپورٹ اُسے چھٹی کے دوران بھی پہنچانے کا پابند بنایا تا کہ کام تعطل کا شکار نہ ہوں۔ اِس طرح اپنا کام نپٹا کر اور ہر طرح سے دفتری امور سے مطمئن ہو کر ولیم پانچ بجے اپنے کمرے سے نکلا۔ شام کا وقت قریب آگیا تھا لیکن گرمی میں ابھی بھی اتنی شدت تھی کہ جلد جھلس جانے کا اندیشہ ہو رہا تھا۔ ولیم کو لگا ابھی لو لگ جائے گی لیکن آج اُسے اس طرح کی گرمی کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔ کیتھی کا خیال ہی اُس کی طبیعت میں بہار پیدا کر دینے کے لیے کافی تھا۔ ولیم آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے بنگلے پر آیا اور دہلی کے لیے اپنے ملازموں کو ہدایات دیں۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

نولکھی کوٹھی - سولہویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔

نولکھی کوٹھی - تیرہویں قسط

علی اکبر ناطق: تھانہ، عدالت یادنگے فساد کا کہیں معاملہ پیش آجاتا تو ملک بہزاد کی خدمات مفت میں حاصل ہوجاتیں۔ ایسے ایسے مشورے دیتا کہ مخالف کو ضرور خبر لگ جاتی کہ مدعی کی پشت پر ملک بہزاد کا ہاتھ ہے۔

نولکھی کوٹھی - اٹھارہویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔