نولکھی کوٹھی - اٹھائیسویں قسط

نولکھی کوٹھی - اٹھائیسویں قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(48)

دھوپ اور گرمی کی وجہ سے پورا فیروز پور جہنم کی دیگ ہوگیا تھا۔ ہر چیز کر راکھ ہو رہی تھی۔ اگر کسی نے گرمی اور دھوپ کے بارے میں اندازہ لگانے میں غلطی کی ہو اور اُسے یقین نہ آرہا ہو کہ گرمی کا دوسرا نام وہ ذلت ہے،جس کے بعد سوچنے سمجھنے کی تمام قوتیں سلب ہو جاتی ہیں،تو اُسے لا کر فیروز پور کے جیٹھ ہاڑ میں ڈبو دینا چاہیے۔ لیکن اب کے معاملہ دوسرا تھا۔ لوگ اِس عقل سوز گرمی اور دھوپ کو بھول کر کسی اور دھیان میں لگے ہوئے تھے۔ ایک خاموشی،دبی دبی خاموشی،جس میں حواس باختہ کر دینے والا خوف اور بجھا بجھا ڈر تمام لوگوں پر چھایا ہو ا تھا۔ پوری آبادی میں نہائت خموشی اور لاشعوری تقسیم کا عمل جاری تھا۔ لوگ دیکھتے ہی دیکھتے دو حصوں میں بٹنے لگے تھے۔ آپس کی اِس لاشعوری تقسیم میں اُن کی زبانوں پر ہر وقت ست سری اکال یا اللہ اکبر کی تکرار پہلے سے کئی گنا ہو گئی۔ وہ نہیں جانتے تھے،بغیر وقفے کے اِن مذہبی نعروں سے کیا حاصل کر رہے ہیں،لیکن اپنے کلمہ گو بھائی کو دیکھ کر ہر فرد نے اُن نعروں کو ادا کرنا اور اُن کاجواب دینا اپنے اوپر لازم کر لیا تھا۔ گویا دونوں گروہوں نے اپنے اپنے دیوتا میدان میں لا کھڑے کیے،جو ایک عرصہ تک غیر متحرک رہے تھے اور اب اُن کی طاقت کا مظاہرہ کسی وقت بھی ہو سکتا تھا۔ مگر ایک بات ابھی تک نہ جانے کیوں راز میں تھی کہ اِس میدان کو تیار کرنے والے ظاہراً نظر نہ آ رہے تھے۔ آخر وہ سب سے بڑا دیوتا کہاں تھا؟ جو دونوں بڑی طاقتوں کو خموشی سے بھڑا دینا چاہتا تھا لیکن اُس کی آگ کو وقت سے پہلے بالکل خموش رکھ رہا تھا۔ نہ اُس کی لکڑیاں دکھائی دیتی تھیں اور نہ اُس کے بندوبست میں لگے ہوئے چہروں کی کچھ خبر تھی۔ بس ہر ایک چیز اِس طر ح اپنے ہی آپ منظم اور اپنی اپنی صفوں میں درست ہو رہی تھی،جیسے پانی کا بہاؤ سوکھے ہوئے پاٹ میں پڑے تنکوں کو اِدھر اور اُدھر دونوں کنارے کے حوالے کرتا ہوا،آپ اکیلا سمندر کی جانب چلا جائے۔ اگرچہ یہ قضیہ سارے ہند وستان میں ایک ہی طرح سے چل رہا تھا لیکن تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور خاص فیروزپور میں معاملات اِس طرح پُر اسرار تھے کہ اِس بارے میں کوئی بھی دماغ کوشش کے باوجود اِن حالات کا پتا چلانے میں ناکام تھا۔ ہر شے میں نحوست اور بے وقعتی اور بد نیتی یو ں دبے قدموں چلی آئی تھی کہ اُس کے متعلق کوئی دعوہ نہیں کر سکتا تھا کہ اُس نے بدلتے ہوئے آسمان اور زمین کا مشاہدہ کر لیا ہے۔ ہاں ایک بات جو سب جانتے تھے اور ہر فرد اُس کے بارے میں وثوق سے اپنی آنکھ کا اعتبار پیدا کر سکتا تھا،وہ یہاں کے لوہاروں کی تپتی ہوئی بھٹیاں تھیں،جن میں اِتنا ایندھن جھونکا جا چکاتھا کہ اب سر کنڈوں کے تنکوں تک کی نوبت آ گئی تھی۔ لوہار وں کی دوکانیں،جن کی چھتیں،کھپریل،ٹوٹے پھوٹے بانسوں اور سخت جنتر کے سستے آنکڑوں سے بنی تھیں،بھٹی سے اُٹھنے والے دھویں اور آگ کی لپکوں نے،جو اُن کی واحد خوراک تھیں،پورے پورے علاقوں کو جلا دینے کا ارادہ کر لیا تھا۔ یہی وہ جگہیں تھیں،جن کا مالک کوئی سکھ لوہار تھا اور کوئی مسلمان۔ مگر لوہے کو سُرخ کرنے کی مہارت دونوں میں ایک ہی جیسی تھی۔ دونوں کے پاس آرہن،چھینی،ہتھوڑا اور چمٹا بھی ایک ہی طرح سے کام کرتا تھا۔ لوہے پر اُن دونوں کی ضربوں کی دھمک بھی ایک جیسی پڑتی تھی۔ حتیٰ کہ دونوں کے لوہا کوٹتے ہوئے بغلوں کا پسینہ اور پسینے کی بدبوسے ایک ہی طرح سے کراہت پید ہوتی تھی۔ اِس کے باوجود دونوں میں ایک ایسا ناقابل بیان فرق موجود تھا،جس کی وضاحت وہ خود بھی نہیں کر سکتے تھے۔ اُس فرق سے وہ اِتنے وفادار تھے،جیسے اُس کے ساتھ زندگی کا لمس بندھا ہوتا ہے۔ اِن لو ہاروں کو کئی دنوں سے تلواریں،چھویاں،برچھیاں اور سنگینیں بنانے سے ایک لمحے کی بھی فرصت نہیں ملی تھی اور بھٹیوں کی چھتیں،جن پر پہلے ہی دھوپ،گرمی،دھویں اور اُڑتے ہوئے بگولوں سے گرد اور مٹی کی دبیز تہیں چڑھی ہوئی تھیں،آگ کے تپاؤ میں کٹھالی کی طرح پک کر سیاہ اور چکی تھیں۔ یہ اچانک نہیں ہوا تھا۔ نہ یہ سب تیاری سات سمندر پار اُن سفید لوگوں کے لیے تھی،جنہوں نے لال قلعہ سے لے کر جلیانوالا باغ تک،دونوں جگہ اپنے نقشے درست کیے تھے۔ نہ اُن لوگوں کے لیے،جو دیسی ہونے کے باوجود اُن کے درمیان نہ تھے،نہ اُن کی طرح کھاتے پیتے تھے اور نہ ہی اُن کی طرح بولتے تھے۔ یہ سب کچھ وہ اپنے لیے ہی کر رہے تھے۔ بلکہ یہ بھی وثوق سے نہیں کہا جا سکتا تھا کہ یہ تیاری تھی بھی کہ نہیں۔ ہاں کچھ ہی دنوں بعد اتنی سمجھ اور آنے لگی تھی کہ یہ خموش نحوست اُس وقت شروع ہوئی،جب کسی نے اُسی ملک میں ایک مزیدملک بنانے کا نعرہ لگایا تھا۔ یہ ملک کیا تھا؟کہاں بننا تھا؟ اور اس میں کن لوگوں نے رہنا تھا؟یہ ابھی طے نہیں ہوا تھا،مگر یہ طے تھا کہ اِس کی بنیادوں میں گاڑھے اور پتلے،سبھی قسم کے خون کا گارا او رکٹے ہوئے سروں کی اینٹیں استعمال ہونا تھیں،جس میں تیز دھار لوہے کا بہت زیادہ کام تھا۔ اور یہ بھی طے تھا کہ جس کے پاس جتنا زیادہ اور جتنا تیز لوہا ہو گا،وہی اپنی عمارت بلندتعمیر کرے گا۔ اس میں ست سری اکال اور اللہ اکبر کو بھی کردار ادا کرنا تھا۔ لیکن اُن کا عمل دخل صرف لوہے کے استعمال کے وقت تھا۔

چھ سات مہینے تو یہی حالت رہی لیکن اب کچھ دنوں سے اِس منحوس اور اُکتا دینے والی خموشی کا سکوت ٹوٹنے لگا تھا۔ سان پر چڑھی ہوئی بر چھیاں ڈانگوں پر چڑھنے لگیں۔ اَن کہی ٹولیاں تر تیب پانے لگیں اور اَن سُنی کہانیاں سُنی جانے لگیں۔ پُر امن گاؤں میں راتوں کو پہرے جمنے لگے۔ جوانوں نے مونچھوں کو تاؤ دینے شروع کر دیے لیکن کیوں؟ یہ ابھی بھی کسی کو پتا نہیں تھا۔ بس کہانیاں تھیں،کہ فلاں سکھڑے نے فلاں مسلے کو برچھی مار دی یا فلاں مُسلے نے فلاں سکھ کو تلوار سے کاٹ کر اُس کی انتڑیاں نکال دیں۔ مگر یہ سب دیکھا کسی نے نہیں تھا،سُن ضرور رہے تھے۔ یہ کہاں ہو رہا تھا؟یہ بھی کسی کو معلوم نہیں تھا۔ ہاں اِتنا اور ہوا،چوہدریوں نے اپنے مزارعے بدل لیے اور مزارعوں نے چوہدری۔ مسلمان مسلمانوں کے ہاں چلے گئے اور سکھ سکھوں کے ہاں۔ پُرانے محلے داروں نے اپنے محلے اور گلیاں تک بدل لیں۔ گھر وں کے پُر سکون آنگنوں میں سونے والے کوٹھوں جا چڑھے اور ساری ساری رات جاگ کر پہرے داریوں میں لگ گئے۔ ڈھاریوں میں مال کی رکھوالی کرنے والے مال مویشی ہی گاؤں لے آئے۔ مزید دن گزرے تو سونے والے اچانک ڈر کرہڑ بڑا اُٹھتے اوراُٹھ اُٹھ کر بھاگنے لگے۔ پھر خبر ملتی کہ کچھ بھی نہ تھا۔ پھر کچھ دنوں بعد کچھ ہونے بھی لگا۔ واہریں اُٹھ کھڑی ہوئیں۔ کبھی دائیں طرف سے بلوے کی خبر آتی،کبھی بائیں طرف سے۔ تھوڑی دیر میں واویلا اُٹھتا کہ سکھوں نے حملہ کر دیا۔ لوگ اللہ اکبر اور یا علی کے نعرے مارتے اپنی ڈانگیں اور برچھیاں لے کر چند لمحوں میں جمع ہو جاتے۔ وہ بر چھیاں،جو اُنہوں نے رات اپنے سرہانوں کے ساتھ رکھی تھیں۔ لیکن پتا چلتا،خبر جھوٹی تھی۔ دو ہفتے بعد یہ کھیل بھی ختم ہوا اور خبریں سچی ہونے لگیں۔ اِس لیے کہ نیا ملک بننے میں اب کوئی کسر نہیں رہ گئی تھی،بلکہ وہ بن چکا تھا۔ لیکن وہاں نہیں،جہاں فیروز پور تھا۔ بلکہ ستلج کے اُس پار منٹگمری کی طرف۔ اچانک اُنہیں پتا چلا،یہ اُن کا وطن نہیں ہے۔ کیوں نہیں ہے؟اِس کا ابھی جواب نہیں تھا۔ وہ یہاں سے نکل کر کس مکان،کس دیہات یا کس شہر میں جائیں گے؟یہ سب نہ اُنہیں پوچھنے کی طاقت تھی اور نہ ہی اُنہیں کسی ایسے شخص کا پتا تھا،جو یہ سب کچھ اُن بتا سکتا ہو۔ ڈھاریاں،بستیاں،قصبے اور فیروز پور کے چھوٹے چھوٹے شہر وں کی آبادیاں،جن کی تعداد کم سے کم چار یا پانچ ہزار تھی،سب کے سب لوہے کے ہتھیاروں سے بھر گئے۔

پھر وہ دن جلد آگئے،جب لال آندھیوں،جھکڑوں،بگولوں کے اُٹھتے ہوئے طوفانوں اور خشک زمینوں سے د ھوپ کے اُڑتے ہوئے غباروں کے ساتھ دکن کی طرف سے سیاہ بادلوں کے پرے چڑھ آئے۔ یہ عذاب اکیلا نہ تھابلکہ دوسری طرف سے کرپانوں،گنڈاسوں،تلواروں اور چھویوں کے مینہ برسنے لگے۔ بیٹھے بیٹھے جانے کس غیب سے اشارہ ملا کہ لوہے کی تیز دھاریں ریشمی جسموں کی رگیں کاٹنے لگیں۔ واہگرو کی جَے،ست سری اکا ل اور اللہ اکبر کا آوازہ بلند چوراہوں،راہوں،نہر کی پٹڑیوں اور ہر اُس جگہ پر گونجنے لگا،جہاں کوئی بے دست و پا نظر آیا۔ انگریزی نظام کی تمام کڑیاں ایک ہی ہلے میں کٹ کر گر گئیں۔ پولیس معطل اور نظام ثقہ کا سکہ رائج ہو گیا۔

ہو سکتا تھا جلال آباد اور مکھسر میں حالات ویسے ہی مست چال چلتے رہتے اور کسی کو باور نہ ہوتا،کیا ہو رہا ہے۔ اُن کی تلواروں،کرپانوں اوربرچھیوں کو پڑے پڑے ساون کے پانی سے زنگ لگنا شروع ہو جاتا کہ ہریانہ،لدھیانہ اور دہلی سے لُٹے پٹے قافلے نمودار ہونے لگے۔ ۔ گڈے ہی گڈے،چھکڑے ہی چھکڑے،انسان،گدھے،بیل،بکریاں،اُونٹ،گائیں اور بھینسیں اور چیتھڑوں میں لپٹے،ننگے،سفید لٹھوں میں،ننگے پاؤں،ننگے سر،پگڑیاں باندھے،پیدل،سوار،گدھوں پر،گھوڑوں پر،بیمار ایک دوسرے کے کاندھوں پر،کفن کی ٹاکیوں میں لپٹے مُردے،ہزاروں انسانوں،لاکھوں انسانوں کے قافلے اور قافلوں کے تعاقب میں بھی قافلے۔ ڈانگوں والے،برچھیوں والے،داڑھیوں والے،مڑاسے مارے ہوئے،ننگے سر،اسوار،گھوڑوں پر۔ گویا انسانوں کی کھمبیا ں نکل آئیں تھیں،جن کی نہ کوئی پکار تھی،نہ پُرسش تھی اور نہ احساس تھا۔ بس نعرے تھے،بلوے تھے اور خون کے لمبے سلسلے،ہزاروں سال لمبے۔

غلام حیدر کو تشویش تو پہلے ہی بہت تھی لیکن جھنڈو والا کی خبر نے اُسے تڑپا کر رکھ دیا۔ ہوا یہ،آج صبح جب حویلی کے بیرونی صحن میں آیا تو اُسے ایک اجنبی نظر آیا،جسے اُس نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ غلام حیدر چار پائی پر بیٹھ چکا تو اُس نے اُٹھ کر سلام کیا۔ غلام حیدر نے دیکھا،وہ لنگڑا کے چل رہاتھا۔ بہر حال اُس کے سلام کا جواب دیا اور پوچھا،وہ کون ہے؟

رفیق پاؤلی نے اُس شخص کے بولنے سے پہلے ہی کہا،چودھری غلام حیدر،یہ رشید عُرف چھدو ہے۔ جھنڈو والا سے آیا ہے۔ کہتا ہے،وہ بہت اہم خبر لایا ہے،جسے سوائے تمھارے کسی کو نہیں بتانا چاہتا۔

غلام حیدر نے کہا،چار پائی دور اُس کونے میں رکھ دو۔

جب غلام حیدر چھدو کو لے کر اکیلا بیٹھ گیا تو اُس نے جلدی سے بولنا شروع کر دیا،چودھری صاحب،میں خاص سودھا سنگھ کا ملازم تھا۔ اُس کے قتل کے بعد بھی اُسی کا نمک کھا رہا ہوں لیکن اِس وقت ایسی مجبوری آ پڑی ہے کہ تیری طرف آنا ضروری ہو گیا تھا۔ آخر مسلمان ہوں۔ اپنے آپ کو روک نہیں سکا۔ بات یہ ہے کہ جودھا پور کے مسلمان اِس وقت بہت خطرے میں ہیں۔ آج شام سے پہلے اُن سب کو سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ نے قتل کرنے کا ارادہ کر لیا ہے اور اِس کے لیے پوری تیاری ہو چکی ہے۔ جتنی جلدی ہوسکے،اپنے بندوں کو اسلحہ دے کر بھیج،تاکہ اُن کو نکال لائیں۔ خدا نخواستہ دیر ہو گئی تو سب کچھ تلپٹ ہو جائے گا۔ چھدو کی بات سُن کر غلام حیدر سُن ہو گیا۔ اُس کے دماغ میں جو خطرے کی گھنٹی بج رہی تھی،آخر وہی کچھ ہوا تھا۔ سوچتے سوچتے اُس کا ذہن نچڑ کے رہ گیا،مگر سمجھ میں کچھ نہ آ رہا تھا۔ غلام حیدر کی رعایا تو ایک طرف،خود وہ نہیں جانتا تھا کہ حالات اِتنی تیزی سے بدلیں گے۔ پورے علاقے میں،جہاں اُس کی چند ہی دن پہلے ہیبت تھی اور اُس کا نام سُن کر سکھوں کو پسینے چھوٹ جاتے تھے،وہیں ہر شے اُس کے اثر سے اچانک اِس طرح نکل گئی،جیسے وہ ابھی پیدا ہی نہ ہوا ہو۔ کہاں تو ایک سال پہلے آدھے فیروز پور میں اُس نے الیکشن میں وہ کردار ادا کیا تھا،جس کی توقع نواب افتخار بھی نہیں کر رہا تھا۔ کانگرس اور یونینسٹ کو ووٹ ہی نہیں پڑنے دیے۔ اب اُسے اپنے اور اپنے بندوں کے جان و مال کے بھی لالے پڑ گئے تھے۔ آخر اُس نے ایک فیصلہ کر لیا پھر مطمئن ہو کر وہیں آ گیا،جہاں بہت سے آدمی جمع تھے۔

بادل اِتنے کالے اور گہرے تھے کہ اُن کے نہ برسنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ ہوا بالکل بند تھی،جس کی وجہ سے حبس صبح کے وقت ہی اتنا بڑھ گیا تھا کہ محسوس ہونے لگا،ابھی بارش ہو جائے گی۔ یہ بارش ہو جاتی تو ساون کی پہلی بارش تھی۔ دن کافی چڑھ آیا تھا۔ غلام حیدر کے بندے حقہ پینے میں مصروف تھے۔ اُسے پاس آتے دیکھ کر سب اُٹھنے لگے تو غلام حیدرنے اشارے سے سب کو بیٹھ جانے کے لیے کہا،پھر رفیق پاؤلی سے مخاطب ہوا،چاچا رفیق،جلدی سے ہمارے تمام بندوں کو جمع کر لو اور جو باہر نکلے ہوئے ہیں،اُن کو بھی بلا لو۔

رفیق پاؤلی نے غلام حیدر کو اِتنا گھبرائے ہوئے دیکھا تو وہ خود بھی پریشان ہو گیا۔ بولا،غلام حیدر خیر ہے،اتنی پریشانی کس لیے ہے؟ آدمی تو سارے ہی اِدھر ہیں۔

ہاں خیر ہی ہے،غلام حیدر نے تحمل سے جواب دیتے ہوئے کہا،تم سب میری ایک بات غور سے سُن لو۔ اب کوئی بندہ میرے پوچھے بغیر کہیں نہیں جائے گا۔ ایک بات طے ہے کہ فساد ہونے والا ہے۔ اِتنا بڑا فساد،جس کے آگے چراغ دین اور سودھا سنگھ کے قتل کچھ حیثیت نہیں رکھتے۔ سب کچھ تلپٹ ہونے والا ہے۔ اِس فساد میں کون کہاں جائے گا،اِس کی کسی کو خبر نہیں۔ اِس لیے کوشش کرو،ایک دوسرے سے الگ نہ ہو۔ کچھ دن پہلے میں نے جو محسوس کیا تھا۔ اُس کے پیش نظر اسلحہ تو ضرورت سے زیادہ جمع کر لیا تھا،لیکن اب سکھوں کے حوصلے بہت بڑھ گئے ہیں۔ اِس لیے مزید بندوبست کرنے کی ضرورت ہے۔ مجھے لگ رہا ہے،جتنا کچھ احتیاطاً کیا گیا تھا،وہ اِس بند کے آگے تنکوں کا گھونسلا ہے۔ یہ بھی اچھی طرح سے جان لو کہ اب ہمیں بھی ستلج پار چلنا ہو گا۔
اور یہ گھر؟جانی چھینبا بولا،

یہ گھر،زندگی رہی تو واپس آ جائیں گے،غلام حیدر نے جانی کی بات کاٹتے ہوئے کہا،لیکن اِس وقت یہ حالات نہیں کہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے ہم لٹتے ہوؤں کا تماشا دیکھتے رہیں۔ پھر خودبھی زنخوں کے ہاتھوں مر جائیں۔ مَیں نے دس دن پہلے فرید کوٹ کے نواب صاحب سے دس ریفلیں اور گولیاں منگوا لی تھیں۔ اُنہیں ملا کے اب ہمارے پاس چودہ رائفلیں اور چار سو کار توس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ میری پکی رائفل بھی ہے،جس کی مرے پاس پچاس گولیاں باقی ہیں۔ چاچا رفیق،سب بندوں سے کہہ دو،جن کے پاس کچھ نہیں ہے،وہ کچھ نہ کچھ ضرور اپنی بغل میں دبالیں۔ ہماری عورتوں کے پاس بھی چھُری کانٹا موجود ہونا چاہیے۔

یہ بات کہہ کر غلام حیدر کچھ دیرکے لیے چپ ہو گیا،جیسے کچھ سوچ رہا ہو۔ پھر رفیق پاؤلی سے کہا،چاچا رفیق،تم ایسا کرو،جانی اور الطاف کو لے کر بیس مزید بندوں کے ساتھ بمع اسلحہ جودھا پور چلے جاؤ او ر جودھا پور والوں کو اپنی نگرانی میں جلال آباد لے آؤ۔ اِس وقت وہ سب سے زیادہ خطرے میں ہیں۔ دو بندے شاہ پور بھیج کر اُن کو خبر کر دو کہ جتنی جلدی ہو سکے،اپنا سامان باندھ کر بنگلہ فاضلکا کی طرف روانہ ہو جائیں اور وہیں بیٹھ کر ہمارا انتظار کریں۔ جب تک ہم نہ آ جائیں،آگے نہیں بڑھنا۔ وہاں سے اکٹھے ہیڈ پار کریں گے۔ یہ کام جلدی کرو،دیر اب نقصان کی طرف لے جائے گی۔

یہ حکم دے کر غلام حیدر جلدی سے واپس اندرونی صحن کی طرف چلا گیا۔ اِدھر رفیق پاؤلی نے ہوا کی تیزی سے اُس کی بات پر عمل شروع کر دیا۔ امیر سبحانی اور شیدے کو شاہ پور کی طرف بھیج کر آپ دس بجے سے پہلے ہی جودھا پور روانہ ہو گیا۔ رفیق پاؤلی کا جودھا پور کی طرف روانہ ہونا تھاکہ بادلوں نے گرجتے ہوئے برسنا شروع کر دیا۔ بارش ایسی شدید تھی کہ خدا کی پناہ۔ سیر سیر بھر کے تریڑے گرنے لگے۔ مگر رفیق پاؤلی نے اپنا سفر جاری رکھا کیونکہ معاملہ اب واقعی ہاتھ سے جاتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ اُس کا خیال تھا،بارشوں کی وجہ سے دیر کی گئی تو خون کی بارشیں شروع ہو جائیں گی۔ حالات کے مطابق یہاں سے اب جتنی جلدی ہوسکے،نکلنا ضروری ہو گیا تھا تاکہ اکٹھے سفر کیا جائے اور بغیرجانی اور مالی نقصان کے ستلج پا کر لیا جائے۔

اِدھر تو غلام حیدر یہ فیصلے کر رہا تھا،اُدھر جھنڈو والا میں الگ اپنے فیصلے ہو رہے تھے کہ جودھا پور وا لوں سے کیا سلوک کیا جائے؟سردار سودھا سنگھ کا بیٹا موہن سنگھ ابھی چھوٹا تھا۔ اِس لیے فیصلہ کرنے کا حق سردار سودھا سنگھ کے بھتیجے سردار شمشیر سنگھ کو دے دیا گیا۔ اُس نے کافی دنوں کی سوچ بچار کے بعد فیصلہ کیا کہ پورے جودھا پور میں کسی مرد کو زندہ نہ چھوڑا جا ئے۔ عورتوں کو آپس میں بانٹ لیا جائے اور بچوں کو نوکر بنا کر اُن سے بیگار لی جایا کرے،کہ اِن مُسلوں کی یہی سزا ہے۔ دوسری طرف جودھا پور میں یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ موت نے اُن پر نازل ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ اُنہوں نے بھی فی بندے کے حساب سے جو چیز لوہے کی ہاتھ آئی،اُسے سنبھال لیا۔ تمام عورتوں اور بچوں کو غلام حیدر کے جودھا پور والے مکان میں جمع کر دیا۔ اپنا اپنا سامان گٹھڑیوں میں باندھ کر ضروری چیزیں لے لیں اور باقی اندر رکھ کر مکانوں کو تالے لگا دیے کہ جب ٹھنڈ ٹھنڈار ہو گا تو اپنے گھروں میں دوبارہ آ بسیں گے۔ عورتوں نے یہ سوچ کر گھروں کے جندروں کی چابیاں اپنے گھگھروں کے ازاربندوں سے باندھ لیں۔ بھلا ایسے بھی کبھی ہوا،کسی کو کوئی زبر دستی اپنے گھروں سے نکال دے۔ آخر یہ دنگا فساد ایک دن تو ختم ہونا ہی تھا،جو نہ جانے کس شطونگڑے نے شروع کیا تھا اور بیٹھے بٹھا ئے گھروں سے بے گھر کر دیا۔ رحمت علی نے سب لوگوں کو حوصلہ دیا اور کہا،ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔ اب ہم مل کر ہی مریں گے اور مل کر جیئں گے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے سکھڑے زبردستی گاؤں کو آ گ لگا ئیں؟ وہ اچھی طرح جانتے ہیں،یہ گاؤں اُسی غلام حیدر کا ہے جس کی بندوق سے سکھڑے اِس طرح بھاگتے ہیں جس طرح شیطان اعوذ بااللہ سے۔

جودھا پور میں کل مل ملا کے پچاسی مرد تھے،جنہوں نے اپنی جانوں پر کھیل جانے کے لیے پوری تیاری کر لی اور غلام حیدر کے مکان کو مورچہ بنا کر آنے والی آفت کا انتظار کرنے لگے۔ اِدھر ساون بھی اپنی جولانی پر تھا۔ سہ پہر چار بجے بادلوں کے کالے سایوں کے ساتھ موت کے زرد سائے بھی جودھا پورپر منڈلانے لگے۔ شمشیر سنگھ دو سوبندے لے کر،جو کرپانوں،چھویوں اور گنڈاسوں سے لیس تھے،جودھا پور کی طرف روانہ ہو گیا۔ اِس دفعہ اُس نے صرف کرپانوں پر بھروسا کرنے کی بجائے رائفلیں بھی ساتھ لے لیں،جن کی تعداد پانچ تھی۔ سردار سودھا سنگھ کے قتل کے بعد وہ صرف ڈانگ سوٹے پر بھروسا نہیں کر سکتے تھے۔ شمشیر سنگھ جانتا تھا،حالات جتنے بھی سکھوں کے حق میں ہوں،مُسلے بہر حال ایسے بچھو تھے جو کسی نئے طریقے سے بھی ڈنک مار سکتے تھے۔ ایسا نہیں ہو سکتا تھا کہ غلام حیدر نے اُن کے لیے کوئی انتظام نہ کیا ہو۔ شام چار بجے شمشیر سنگھ کے جتھے نے جودھا پور پہنچ کر پورے گاؤں کا محا صرہ کر لیا۔ اِدھر رحمت علی نے پہلے ہی اُن کے انتظام کے لیے سب کچھ سمیٹ کر غلام حیدر کے مکان پر جمع کر لیا تھا اور لڑنے کے لیے ہر طرح سے تیار وہا ں بیٹھے تھے۔ عورتیں اِس کے لیے ہرگز تیار نہیں تھیں۔ وہ کسی بھی طرح سے نہیں چاہتی تھیں،فساد ہو۔ اُن کے سننے میں ایسی بُری بُری خبریں پہنچتی تھیں،جن کو برتنے کا اُن میں یارا نہیں تھا۔ اُن عورتوں میں سے کچھ مسلسل نماز میں تھیں،۔ کچھ دعا اور درود کے ورد میں مصروف ایک انہونے خوف میں مبتلا تھیں۔ اُنہیں مرنے سے زیادہ اِس بات سے دہشت ہو رہی تھی کہ خدا نخواستہ اُن پر حملہ ہو گیا اور مرد لڑتے لڑتے مارے گئے تووہ لمبی داڑھیوں اور بد بو دار بغلوں والے نا پاک سکھڑوں کے ہاتھ ا ٓجائیں گی۔ وہ جو اُن سے سلوک کریں گے،اُس کا تصور ہی کپکپا دینے والا تھا۔ تمام بچے سہمے ہوئے اپنی ماؤں اور بہنوں کے ساتھ لپٹے ہوئے تھے۔ منہ اندھیرا ہورہا تھا۔ اِس عالم میں جوں جوں سکھوں کے حملے کی خبریں ملتیں،دہلا دینے والے ہول پڑتے اور شام کے سائے بھوتوں کی طرح جودھا پور میں چلتے پھرتے نظر آتے۔ اچانک بادل زور سے گرجنے لگے۔ ہوا کا زور بڑھا تو عورتوں نے چاروں قل اور آیہ کرسی کی تلاوتیں شروع کر دیں۔ پانچ بجے شام گھوڑوں کی ٹاپوں اور پیدل سکھوں کے قدموں کی دڑ دڑ شروع ہوئی تو عورتوں کے وظیفوں اور دعا ؤں کی گنگناہٹ اتنی تیز ہو گئی،جیسے شہد کی مکھیوں کے چھتے بکھررہے ہوں۔ رحمت علی کی ہدایات پر مردوں نے دو رائفلوں کے ساتھ پوری طرح حملے کا جواب دینے کے لیے اپنے نشانے سیدھے کر لیے۔ و ہ یہ تو جانتے تھے،اِتنے سکھوں کی یلغار کے سامنے مٹھی بھر لوگوں کا کیا بنے گا۔ مگرشایدیہی دن تھا،جب سب کے ایمان کا یقین ایک جیسا ہو گیا تھا،اور وہ مولا علی کو دل میں اور با آواز بلند بھی پکار رہے تھے۔

شمشیر سنگھ اور اُس کا جتھا جودھا پور میں داخل ہوا تووہ حیران رہ گئے۔ سارے گاؤں میں کوئی فرد بھی اُنہیں کسی گلی میں چلتا پھرتا نظر نہ آ یا۔ گویا کوئی دیو پھر گیا ہو۔ مکانوں کو تالے لگے ہوئے تھے۔ بادلوں کے سیاہ پھریروں میں صرف درختوں کی شاخیں اور پتے تھے،جو لہرا لہرا کر اپنے ہونے کی گواہی دے رہے تھے۔ اِس ویرانی میں اُن کا ہلنا بھی گاؤں کی وحشت میں اضافہ کر رہا تھا۔ چند منٹوں کے لیے تو شمشیر سنگھ پریشان ہو گیا۔ لیکن جلد ہی اُسے پتا چل گیاکہ مُسلوں نے غلام حیدر کے بڑے احاطے میں پناہ لے رکھی ہے۔ گاؤں چھوٹا ہونے کی وجہ سے اُنہیں ڈھونڈنے میں زیادہ تگ و دو نہ کرنا پڑی۔ اُس نے سوچا،یہ اور بھی اچھا ہے،سارے ایک ہی جگہ پر قابو آ گئے ہیں۔ اُسی وقت اُس نے مکان پر حملے کا حکم دے دیا۔ اِس سے پہلے کہ شمشیر سنگھ کا جتھا حملہ آور ہوتا،رحمت علی نے فیصلہ کیا کہ سکھوں پر گولی چلا دی جائے۔ رحمت علی اور جودھا پور کے مر دمکان کی چھت پر ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے اُن کی دسترس سے باہر تھے۔ بلکہ جب تک گولیاں ختم نہ ہو جاتیں سکھوں کا مکان میں داخل ہونا مشکل تھا۔ چنانچہ اِدھر شمشیر سنگھ کے لوگ حویلی کی طرف بڑھے،اُدھر ایک دم کوٹھے کے اُوپر تنی بندوقوں سے تین فائر نکل کرسیدھے سکھوں کے ہجوم میں گھس گئے۔ فائر کارتوسوں سے کیے گئے تھے،اِس لیے چھَرًے اِس طرح زور سے بکھرے،جیسے مینہ کے چھنٹے برس پڑے ہوں۔ بادل زور سے برس اور گرج رہے تھے۔ اِس قدر تیز بارش میں حملہ آوروں کا دھیان پہلے ہی بٹا ہوا تھا کہ ِان فائروں سے وہ اور زیادہ بوکھلا گئے۔ لیکن اب وہ بھاگنے کے لیے نہیں آئے تھے۔ اُن کے دو بندے گر گئے جس کی وجہ سے غصہ دو چند ہو گیا اور وہ اندھا دُھن مکان کے دروازے کی طرف دوڑ پڑے۔ کچھ نے چھت کی طرف گولیاں برسانی شروع کردیں۔ بہت سے سکھوں نے مل کر حویلی کے بڑے دروازے کو دھکا دیا تو وہ منٹوں میں زمین بوس ہو گیا۔ اُس کے ساتھ ہی تمام سکھڑے مکان کے صحن میں بھر گئے،جن پر کوٹھے کی چھت سے ایک اور فائر وں کی بوچھاڑ پڑی۔ اِس بوچھاڑ سے کئی سکھ مزید زخمی ہو کر گر پڑے۔ لیکن وہ مسلسل واہگرو اور ست سری اکال کے نعرے لگاتے ہوئے اور تلواریں،برچھیاں لہراتے ہوئے آ گے ہی چلے آ رہے تھے اور کوٹھے پر بھی فائر کرتے جاتے۔ اِس فائرنگ سے حمیداکمبو،دلاور عرف دُلا اور شرفو اللہ کو پیارے ہو گئے لیکن سوائے اِس کے،کوئی رستہ نہیں تھا کہ لڑ مریں۔ چنانچہ وہ بھی چھت پر بیٹھے فائر پر فائر کرنے لگے۔ اِس مسلسل فائرنگ اور بارش کی وجہ سے شمشیر سنگھ کا جتھا کچھ دیر کے لیے کمروں کے دروازوں کی طرف بڑھنے سے رُک گیا،جہاں عورتیں چھُریاں اور دات تھامے اور خالی ہاتھ،بچے ماؤں کے پہلووں سے چمٹے سہمے ہوئے بیٹھے تھے۔ باہر کے شور شرابے اور مار دھاڑ میں ڈر اتنا غالب آ گیا کہ کچھ عورتیں دعاؤں کو چھوڑ کر رونا شروع ہو گئیں۔ اِسی باہر کے پٹاخوں اور نعروں کی اُونچی آوازوں سے گھبرا کر بچے مسلسل رو رہے تھے۔ رحمت علی نے محسوس کیا کہ سکھ کچھ ہی دیر میں کمروں کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو جائیں گے اور سب کچھ برباد ہو جائے گا،تو اُس نے،جن لوگوں کے پاس رائفلیں تھیں،اُنہیں کہا کہ وہ چھت پر ہی رہیں اور سکھوں پر اُس وقت تک فائر کرتے جائیں جب تک کارتوس موجود ہیں یا جب تک ہم زندہ ہیں۔ باقی سب نیچے چھلانگیں مار کر دالان میں جمع سکھوں پر حملہ کر دو۔ ویسے بھی کئی سکھ صحن میں کھڑے ہوئے نیم کے بڑے درخت پر چڑھ چکے تھے۔ جس کی شاخیں مکانوں کی چھتوں سے بھی بلند تھیں۔ یہ سکھ یہاں سے چڑھ کر کوٹھوں پر بیٹھے لوگوں پر فائرنگ کرنے لگے۔ جس کی وجہ سے بندوں کا نقصان بڑھ گیا۔ اِن حالات کے پیش نظر آمنے سامنے سے بھی فائرنگ شروع ہو گئی۔ رحمت علی کی بات سُن کر سب نے آؤ دیکھا نہ تاؤ،نیچے چھلانگیں مار دیں۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے دوبدو لڑائی شروع ہو گئی۔ چھویاں،ڈانگیں،کرپانیں اور بر چھیاں اِس طرح برسنے لگیں جیسے ساون کی بارش برس رہی تھی اور پانی کے ساتھ خون کے پرنالے بھی بہنا شروع ہو گئے۔ سکھ تعداد میں بہت زیادہ تھے۔ اِس لیے نقصان مسلمانوں کا زیادہ ہو رہا تھا۔ لیکن ایسا بھی نہیں کہ سکھ مکمل طور پر محفوظ تھے۔ اگر دو بندے مسلمانوں کے گرتے تو ایک سکھوں کا بھی گر جاتا۔ کچھ ہی دیر میں لڑائی نے اتنی شدت اختیار کر لی کہ کسی کو کسی کا ہوش نہ تھا۔ بس غلام حیدر کے مکان کا تین کنال کھلا صحن تھا،بارش کا شور تھا،خون اور پانی کے تریڑے تھے۔ یا پھریا علی مدد اور واہگرو کے نعروں کی گونج تھی۔ جن میں بچوں اور عورتوں کے رونے کی آواز دب کر رہ گئی تھی۔ جودھا پور والے اِس بے جگری سے لڑ رہے تھے کہ شمشیر سنگھ حیران رہ گیا۔ مکان چاروں طرف سے گھرا ہوا تھا۔ مرنے والے اور لڑنے والوں کے پاس اب نہ تو قائد اعظم تھا،نہ نواب افتخار اور نہ ہی گاندھی اور نہرو موجود تھے۔ وہ سب لیڈراپنے گھروں میں محفوظ،اِس بات سے بھی بے خبر تھے کہ ہندوستان کے صوبے پنجاب کے ضلع فیروزپور کی تحصیل جلال آباد کے تھانے مکھسر کے ایک گاؤں جودھا پور میں اِس وقت خون اور پانی کی جنگ ہو رہی ہے۔ اُنہیں نہیں پتا تھا کہ ُاس کے نتیجے میں،جو مارے جارہے ہیں،اُن کا مقدمہ کس عدالت میں چلایا جاسکتا ہے؟یا اگر وہ جانور ہیں اور اُن کا خون بہا نہیں تو یہ اُنہیں پہلے کیوں نہ بتایا گیا۔ جہاں تک یا د پڑتا ہے،اُن کے کانوں نے تو کسی آزادی وغیرہ کا نام سنا تھا۔ اُن بڑے لیڈروں نے تو جودھا پور،شاہ پور اور جھنڈو والا کے نام بھی نہیں سُنے تھے،جو ہوائی جہازوں کے ذریعے سرحدیں پار کر رہے تھے،بمع سازو سامان اور اہل و عیال۔ ان بڑے بڑوں کو تو چھوڑیے،خود اِن جودھاپور اور جھنڈووالا کے لڑ کر مرنے والوں کو بھی نہیں پتا تھا،وہ کیوں لڑ اور مر رہے ہیں؟کیونکہ اِس لڑائی میں نہ گاندھی شامل تھا اور نہ محمد علی جناح،لیکن لڑائی جاری تھی اور لاشیں گر رہی تھیں،بارش ہو رہی تھی۔

اِسی دوران رفیق پاؤلی گاؤں میں اپنے بندوں کے ساتھ داخل ہو گیا اور جودھا پور پر اِتنے سارے حملہ آور سکھوں کو دیکھ کر گھبرا گیا۔ وہ جلد ہی ساری صوت حال کو سمجھ گیا تھا اور جی میں اِس بات پر خدا کا شکر کیا کہ غلام حیدر کے سامنے سرخ رو ہونے کے لیے عین موقعے پر پہنچ گیا تھا۔ رفیق پاؤلی نے فوراً اپنے آپ کو سنبھا لا اور اپنے بندوں کو سکھوں پر فائر کھولنے کا کہہ دیا۔ جس کے بعد ایک دم یا علی کے نعروں کے ساتھ سکھوں پر پانچ مزید رائفلوں سے گولیاں برسنا شروع ہو گئیں۔ شمشیرسنگھ اور اُس کے ساتھی اِس اچانک حملے سے گھبرا گئے۔ مگر جلد ہی اُس نے اپنے بندوں کو قابومیں کر کے رفیق پاؤلی پر بھی حملے کے لیے آگے کر دیا۔ رفیق پاؤلی کے آنے سے جودھا پوریوں کے حوصلے کئی گنا بڑھ گئے۔ اُس کی وجہ سے مکان کے اندر اور باہر،دونوں جگہ گھمسان کا رن پڑ گیا۔ رفیق پاؤلی اور اُس کے بندے کھلی جگہ پر تھے۔ اِس لیے اندر کی لڑائی سے باہر کی لڑائی زیادہ تیز ہو گئی۔ اُدھر اندر والے بھی کئی لوگ بھاگ کر باہر آنے لگے۔ اُنہیں محسوس ہوا،غلام حیدر اپنے بندوں کے ساتھ مدد کو آگیا ہے۔ اِس افراتفری میں یہ ہوا کہ چند ہی لمحوں میں حویلی کا صحن سکھوں سے خالی ہو گیا اور باہر لڑائی کا زور پیدا ہو گیا۔ اب چھت پر بیٹھے ہوئے بندوق والوں کو کُھل کر فائر کرنے کا موقع مل گیا۔ لیکن کارتوس کم ہو گئے تھے۔ مگر اُس کا اندازہ خدا کا شکر ہے،شمشیر سنگھ کو نہیں تھا۔ باہر چونکہ لڑائی کا زور بہت بڑھ گیا تھا اور سب کا رخ رفیق پاؤلی اور اُ س کے بندوں کی طرف تھا،اِس لیے شمشیر سنگھ کی گولیوں اور کرپانوں کا تماشا بھی اُدھر ہی ہونے لگا۔ اُدھر جودھا پور والے،جو حویلی کے اندر لڑ رہے تھے،وہ بھی باہر نکل آئے۔ عورتیں اور بچے پھر کچھ دیر کے لیے محفوظ ہو گئے۔ لڑائی کا یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا۔ جس میں ابھی تک کسی کو نہیں معلوم تھا کہ کتنے مسلمان مر گئے ہیں اور کتنے سکھ؟البتہ اِتنا ہو ا کہ رفیق پاؤلی کے آنے کی وجہ سے جودھا پور والوں کے حوصلے اور قوت میں اضافہ ہو گیا۔ اِس لیے وہ پہلے سے زیادہ بہادری سے لڑ نے لگے۔ اُن کے اِس طرح لڑنے سے سکھوں کے حوصلے اُٹھ سے گئے۔ وہ جس عظیم فتح کا گمان لے کے جھنڈو والا سے آئے تھے،اُس پر کچھ اوس پڑ تی نظر آ رہی تھی۔ نقصان ہر چند مسلمانوں کا ہی زیادہ تھا لیکن شمشیر سنگھ اور اُس کے متروں کو حملہ کرنے سے پہلے یہ توقع نہیں تھی کہ معاملہ اتنی مزاحمت اختیار کر جائے گا۔ اِدھر نہ جانے کہاں سے کاہنا سیؤ نے تاک کر ایک گولی ماری کہ سیدھی آکر رفیق پاؤلی کے دل پر لگی اور وہ وہیں ڈھیر ہو گیا۔ اِس گولی کا لگنا تھا،مسلمانوں نے نعرہ بازی بلند کر دی۔ اُنہوں نے محسوس کیا کہ مر تو جانا ہے،کیوں نہ زیادہ سے زیادہ سکھوں کو لے کر مریں۔ یہ سوچ کر مسلمان اِس طرح سکھوں پر ٹوٹ پڑے جیسے سروں پر بارش کے تریڑے گر رہے تھے۔ اِس گھمسان کی وجہ سے لاشوں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی اور بیسیوں بندے ادھر اُدھر بکھر گئے۔ گویا پانی پت کی لڑائی جاری ہو۔ بارش کے پانی کا زور،کیچڑ اور اُس میں زخمی ہو کرگرنے والوں کا خون،زخمیوں کی چیخیں اور ڈانگوں کے کھڑاک نے وہ ہنگامہ برپا کیا کہ کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی۔ شمشیر سنگھ کو یہ دیکھ کر اپنی فتح کے آثار قریب نظر آنے لگے۔ وہ مزید زور زور سے ست سری اکال کے نعرے دہرانے لگا۔ اِس کی وجہ سے اپنے آپ سے بے خبر ہو گیا اور آگے پیچھے کی ہوش نہ رہی۔ اُسی وقت چھت پر سے ایک گولی شمشیر سنگھ کے ماتھے پر آکر لگی اور وہ گھوڑے سے سیدھا زمین آ پڑا۔ یہ دیکھ سکھوں کے حوصلے پست ہو گئے۔ اُنہوں نے بھاگنا شروع کر دیا۔ مسلمانوں نے اُس سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے اپنی یلغار بڑھا دی اور بھاگتے ہووں کو مارنے لگے۔ یہی وہ وقت تھا،جب سکھوں نے جیتی ہوئی لڑائی کو شکست سمجھ لیا۔ پھر دیکھتے ہی دیکھتے پورا گاؤں اُن سے خالی ہو گیا۔ البتہ جاتے ہوئے اُنہوں نے شمشیر سنگھ کی لاش ضرور اُٹھا لی۔ باقی جو سکھ مر گئے تھے،اُن کو وہیں چھوڑ دیا۔ جس کی وجہ سے جودھا پور والوں میں مزید خوشی دوڑ گئی اور وہ اُن کا تعاقب کرتے ہوئے ایک دو ایکڑ تک پیچھے بھاگے،پھر لوٹ آئے۔ لڑائی قریباً ایک گھنٹہ تک جاری رہی تھی۔ اِس لیے شام کے سائے برستے ہوئے بادلوں کے ساتھ مل کر گہرا اندھیرا کرنے لگے۔ لاشوں کا حساب شروع کیا تو جودھا پور کے چالیس بندے مر چکے تھے اور سولہ سکھ بھی وہیں ڈھیر ہوئے پڑے تھے۔ زخمیوں کی تعداد الگ تھی۔ اِس کے علاوہ رفیق پاؤلی اور اُس کے ساتھ آئے بیس میں سے پانچ بندے مزید مارے جا چکے تھے۔

بارش ابھی ہلکی ہلکی جاری تھی۔ کچی زمین ہونے کی وجہ سے کیچڑ،پانی اور کھوبے نے چلنے پھرنے میں مشکل پیدا کر دی۔ رفیق پاولی مارا جا چکا تھا،اِس لیے حالات کی ڈور جانی چھینبے اور رحمت علی نے سنبھا ل لی۔ شام کی اذان کا وقت ہو گیا تھا۔ جانی نے سب زندہ لوگوں،بچوں اور عورتوں کو اکٹھا کیا اور اُنہیں کہا،جو کچھ اُٹھا سکتے ہو،اُٹھا لواور جلدی یہاں سے نکلنے کی کرو۔ رحمت علی نے کچھ بندوں کو لے کر ایک گڑھا کھدوانا شروع کر دیا تاکہ لاشوں کو جلدی سے دفن کر دیا جائے۔ اب یہ طے تھا کہ اتنی جلدی یا کم از کم رات کے وقت سکھ دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ مگر یہ ضرور تھا کہ اگلے دن وہ دوبارہ نئی طاقت سے چڑھ آئیں گے۔ اِس لیے رات ہی جودھا پور چھوڑ دینا ضروری تھا۔ عورتیں اپنے مرنے والوں پر رونے اور بین کرنے کے ساتھ سفر کی تیاری میں مصروف ہو گئیں۔ وہ کبھی اپنے کپڑے سنبھالتیں اور کبھی بھائیوں،باپوں اور خاوندوں کے اُوپر گر گر کے دو ہتھڑ پیٹتیں اور بین کرتیں،جنہیں چند لمحوں بعد وہ خود چھوڑ جانے والی تھیں۔ اُنہیں رہ رہ کر اِن لاشوں کی تنہائی اور بے کسی کچوکے لگا رہی تھی۔ جن پر اب نہ وہ اگر بتی سلگا سکتی تھیں اور نہ اُن کی قبروں پر بیٹھ کے ماتم کر سکتی تھیں۔ اِسی عالم میں جو کپڑا لتا،اُن کے ہاتھ میں آیا،اُس کی گٹھڑی باندھ لی۔ گڑھا تیار ہو گیا توجودھا پور کے مولوی نے،جو خوش قسمتی سے بچ گیا تھا،جلدی سے اور مختصر ترین جنازہ پڑھا اور لاشوں کو دفنانے کا کہہ دیا۔ سکھوں کی لاشیں،جن سے اب وحشت ہو رہی تھی،اُنہیں ویسے ہی پڑا رہنے دیا۔ اِس دوران بارش بالکل رُک چکی تھی۔ گویا بارش ایک ایسا رجز تھی،جو اُس وقت تک جاری رہا،جب تک لاشیں گرتی رہیں۔

رات دس بجے کے قریب یہ بد نصیب قافلہ،جس کے آدھے مرد پل بھر میں لاشوں میں تبدیل ہو کر گڑھے میں جا چکے تھے،جلال آباد کی طرف چھکڑوں پر اور پیدل روانہ ہو گیا۔ عورتیں اور بچے خوش قسمتی سے بچ گئے تھے۔ قافلے کے ساتھ رفیق پاؤلی،حمیدا کمبوہ سمیت پانچ لاشیں،آٹھ زخمی،بین کرتی ہوئی عورتیں اور روتے ہوئے بچے تھے،جورات کے اندھیرے میں اپنے گھروں کو چھوڑتے ہوئے،اُن پر حسرت بھری نظر بھی نہ مار سکے اور اپنے گھروں کی دہلیزوں کو ڈر کے مارے پلٹ کر دیکھ بھی نہ سکے۔ بوڑھی عورتیں،بچے اور زخمی زیادہ تر چھکڑوں پر لادے گئے،جب کہ جوان عورتیں اور مرد پیدل چل دیے۔ بارش اِتنی شدید ہوئی تھی کہ ہر طرف جل تھل عام ہو گیا۔ سڑکیں پانی اور کیچڑ میں بدل جانے سے چھکڑوں اور گڈوں کا چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ چنانچہ اُن کو جتنا زیادہ ہلکا رکھا جا سکتا تھا،چھکڑوں میں جُتے ہوئے بیلوں کے لیے اتنا ہی بہتر تھا۔ یہ قافلہ رات بھر کراہتا ہوا چلتا رہا،جس کے پیچھے پیچھے ڈر بھی دوڑا چلا آرہا تھا،اس لیے وہ پل بھر کو کہیں آرام کرنے کے لیے ٹھہر بھی نہ سکااوردن نکلنے تک جلال آباد پہنچ گیا۔

قافلہ جس وقت جلال آباد پہنچا،صبح کے چھ بج رہے تھے۔ غلام حیدر فکر مندی سے اُن کے انتظار میں اِدھر اُدھر حویلی میں ٹہل رہا تھا۔ جیسے ہی اُس نے اِس لُٹے پُٹے قافلے کو دیکھا اور رفیق پاؤلی کی لاش پر نظر پڑی تو دل ایک جھٹکے کے ساتھ دہل گیا اور دم سینے میں اٹک سا گیا۔ غلام حیدر نے تمام لوگوں کی دلجوئی کی خاطر قافلے کو جلدی سے حویلی کے احاطے میں اُتارا اور عورتوں اور بچوں کو اندرونی صحن میں بھیج دیا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں اور بیوی موجود نہیں تھیں۔ اُنہیں غلام حیدر نے دس پندرہ دن پہلے ہی پاکپتن بھیج دیا تھا،جس کے بارے میں یقین تھا کہ وہ پاکستان میں شامل ہو جائے گا۔ اِس لیے اُنہیں دلاسا دینے کے لیے حویلی میں کوئی نہیں تھا۔ یہ عورتیں،جو اپنے تازہ مُردوں کو اپنی آنکھوں کے سامنے جودھا پور کے گڑھے میں چھوڑ آئی تھیں۔ یہ عورتیں،جنہیں لاشوں پر آرام سے بیٹھ کر رونا نصیب نہیں ہوا تھا اور نہ اُن کی قبروں اور چارپائیوں کے پایوں کو پکڑ کر بین کر سکیں تھیں۔ یہ سب غلام حیدر کی حویلی کے اندرونی صحن میں اِس طرح داخل ہو رہی تھیں،جیسے صحرائے سینا سے نکل آئی ہوں اور اب آرام سے بیٹھ کر اپنے نقصان کا تخمینہ لگا سکیں۔ رفیق پاؤلی،حمیدہ کمبوہ،دلاور،الہ داد اور شریف جلاہے کی لاشیں حویلی کے دالان میں پڑی غلام حیدر کے ساتھ وفاداری کا اعلان کر رہی تھیں۔ جبکہ وہاں کھڑے ہو ئے تمام لوگ اُن کو ایسے دیکھ رہے تھے،جیسے خراج تحسین پیش کر رہے ہوں۔ باقی اِدھر اُدھر بیٹھ کر اُن کے بارے میں باتیں کر رہے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،اب وہ اِن کا نہ تو بدلا لے سکے گا اور نہ مداوا کر سکے گا،۔ سوائے اِس کے کہ وہ اِن بچے کھچے اور اُجڑے پُجڑے لوگوں کو لے کر جتنی جلدی ہو سکے،ستلج پار کر جائے۔

ایک طرف تو غلام حیدر کے یہ مزارع اور رعایا تھی،جو اُس پر اپنا حق سمجھتے ہوئے یہاں آگئے تھے یا لائے گئے تھے۔ اِن کے علاوہ ارد گرد کے ہزاروں لوگ بھی حویلی کے آس پاس جمع ہو رہے تھے،جنہیں یا تو سکھوں کا ڈر تھا،یااُن کے پاس سفر کرنے کے لیے ضرورت کا تنکا تک نہ تھا۔ غلام حیدر کے پاس اِن لوگوں کا جمع ہو جا نا اُنہیں گویا اپنی حفاظت کا یقین دلاتا تھا۔ لوگ اتنے جمع ہو گئے تھے جن کا حویلی کے صحن میں پورا آنا مشکل ہو گیا۔ اِس لیے اُنہوں نے حویلی کے باہر ہی اپنے آسن جما لیے تھے۔ غلام حیدر جانتا تھا،ایک دو دن تک تو یہاں کوئی خطرہ نہیں تھا۔ لیکن زیادہ دیر تک وہ اِن لوگوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ اُس کا ڈر سکھوں پر ایک حد تک رہ سکتا تھا۔ اُس کے بعد معاملہ بگڑ جاتا۔ کیونکہ اطلاعیں ملنے لگی تھیں کہ دریا پار سے سکھوں کے کئی قافلے لُٹ پُٹ کر جلال آباد آرہے ہیں،جو شمالی اور جنوبی پنجاب کے مسلمانوں کے جہاد کی نظر ہو گئے ہیں۔ اب اُن کی آبادی لمحہ بہ لمحہ بڑھ رہی تھی،جنہیں دیکھ کر جلال آباد اور مضافات کے عام اور شریف سکھوں کے بھڑک اُٹھنے کا بھی اندیشہ تھا۔ وہ کسی وقت بھی غلام حیدر کے ڈر کو نظر انداز کر سکتے تھے۔ جب غلام حیدر کو جانی چھینبا جودھا پور میں ہونیوالی لڑائی کا تمام ماجرا سنا چکا تو اُس نے ایک ٹھنڈی آ ہ کھینچی۔ جس کا مطلب غالباًیہ تھا کہ اب کیا کیا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے اُٹھتے ہوئے بات فوراًکسی اور طرف پھیر دی اور بولا،جان محمد ایسا کرو،جلدی سے چاچے رفیق اور دوسرے شہیدوں کی لاشوں کا بندوبست کر کے انہیں دفناؤ،بادل پھر چڑھ آئے ہیں اور نہ جانے کب برسنا شروع ہو جائیں۔ اِس کے علاوہ ہمارے گودام میں جتنا غلہ ہے،اُس کے دروازے اِن اجنبی دیس میں جانے والے مسافروں پر کھول دو۔ بچارے جتنے دن یہاں ہیں،پیٹ بھر کر کھا لیں،پھر خدا جانے اِنہیں کبھی کھانا نصیب ہو،یا نہ ہو۔ اور جہاں یہ جا رہے ہیں،وہاں کوئی اِن کا پُر سان حال ہو گا بھی کہ نہیں۔ بادل پھر گرجنے لگے تھے اور اُن کی سیاہی کل سے بھی زیادہ گھمبیر ہو گئی تھی۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

جودھا پور کی لڑائی کو چار دن گزر چکے تھے۔ عورتوں کے بین رک تو گئے تھے لیکن اُنہیں رہ رہ کر اپنے مُردوں کی یاد آتی تو وہ پھر رونا شروع کر دیتیں۔ پھر یہ درد جلد ہی تھم جاتااور چُپ کر جاتیں۔ یہ قافلہ اِرد گرد کے بیس پچیس گاؤں کا تھا،جس کی تعداد کم از کم چھ ہزار ہو چکی تھی اور اِس کا نقیب غلام حیدر تھا۔ غلام حیدر کی جیپ (جو نواب افتخار نے اُسے الیکشن جیتنے کے بعد تحفے کے طور پر دی تھی)،کے ارد گرد تیس پینتیس گھڑ سوار بندوقوں اور برچھیوں سے لیس چل رہے تھے۔ لیکن مصیبت یہ تھی کہ بارش تھمنے کو نہیں آتی تھی۔ کچی سڑکیں کیچڑ سے اِس قدر بھر گئیں کہ دو قدم چلنا دوبھر ہو رہا تھا۔ بعض جگہ تو دُور تک گھُٹنوں گھٹنوں پانی کے تا لاب لگ گئے اور پیدل والوں کے لیے،جو قافلے کا ستر فی صد تھے،مصیبت ہو گیا۔ اُن کا حساب،کوئی یہاں گرا کوئی وہاں گرا،والا تھا۔ لیکن غلام حیدر کسی کو بھی پیچھے چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اِدھر سکھ بارش کی طرح،نہ جانے آسمان سے برس رہے تھے کہ زمین سے اُگ رہے تھے۔ اُن سکھوں میں سے بیشتر کی حالت بھی انتہائی ابتر تھی۔ اُن کے لُٹے پُٹے اور بے دست و پا چھوٹے چھوٹے گروہ جب غلام حیدر کے قافلے کے قریب سے گزرتے تو دونوں اطراف کی آنکھیں ایک دوسرے کی کسمپرسی پر شرمندگی سے جھک جاتی اور وہ بغیر ست سری اکال،یا واہگرو کا نعرہ مارے گزر جاتے۔ غلام حیدر جانتا تھا،یہ وہی لوگ ہیں،جن کی حالت جودھا پور والوں سے کم نہیں تھی۔ اب بارش اور تیز ہوا نے اتنا زور پکڑ لیا تھا کہ اگست کا مہینہ پوہ ماگھ سے آگے نکل گیا۔ اُ س پر ستم یہ کہ نہر بنگلہ کے کنارے فسادیوں نے توڑ کرپانی سڑکوں اور کھیتوں پر بہا دیا۔ جس کی وجہ سے اِنہیں مجبوراً نہر کی پٹڑی پر چلنا پڑا۔ چلتے چلتے ایک جگہ سے قافلہ گزرا تو دیکھ کر حیران رہ گئے،نہر بنگلہ،جسے ولیم کے نہری عملے نے بنایا تھا،کی پٹڑی پر چار کلو میٹر تک لاش کے ساتھ لاش جوڑ کر اِس طرح رکھی ہوئی تھیں کہ ایک مرد کی لاش،اُس کے بعد عورت کی لاش پھر مرد کی لاش تھی۔ کسی کا گَلا کٹا تھا،کسی کے جسم کا کوئی اور عضو کٹا تھا،خون اور مٹی میں لتھڑی ہوئی اِن کئی ہزار لاشوں کا سلسلہ دور تک اِسی طرح پھیلا ہوا تھا۔ خُدا جانے،آنے والے دنوں میں اِن کا بندوبست کون کرنے والا تھا۔ اُن کو دیکھ کر قافلے کے رونگٹے کھڑے ہو گئے اور وہ سوچنے لگے،اگر غلام حیدر ساتھ نہ ہوتا،تو اُن کی بھی یہی حالت ہوتی۔ یہ سب لاشیں مسلمانوں کی تھیں،جن کے اُوپر پاؤں رکھ کراور اُن کو روند کر اِس قافلے نے چار کلو میٹر کا فاصلہ طے کیا۔ کیونکہ کھیتوں میں اور سڑکوں پر پانی اور کیچڑ نے چلنے کی سکت بالکل ختم کر دی تھی۔ لاشیں ایک دن پہلے کی تازہ ہی تھیں۔ بارش اُن گمنام شہیدوں پر برس برس کراپنی رحمتیں نچھاور کر رہی تھی۔ اِن مشکلوں کے باوجود قافلہ روز کے دس کلو میٹر طے کر رہا تھا۔ رستے میں کئی کئی شرنارتھیوں اور مقامی سکھوں کے لوٹ مار والے جتھوں سے ٹاکرا بھی ہو رہا تھا۔ لیکن غلام حیدر کے حفاظتی دستوں کو دیکھ کر اِدھر اُدھر ہو جاتا۔ البتہ دہلی،ہریانہ اور مشرقی پنجاب کے بالائی علاقوں سے آنے والے مہاجرین کو لوٹنے سے اُنہیں روکنے والا کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ اِن کے ہاتھوں سے اِس طرح لٹ لٹ کر خالی ہو رہے تھے جیسے ببول کی شاخیں اُونٹ کے منہ میں آکر پتوں سے صاف ہو جاتی ہیں اور مسلمان اِس طرح کٹ رہے تھے،جیسے دھان کی فصلیں جالندھر کی درانتیوں سے کٹتی ہیں۔ بہر حال غلام حیدر کا قافلہ گپھایااور لکھے کی سے ہوتا ہواپانچ دن میں فاضلکا بنگلہ پہنچ گیا۔ قافلہ ہیڈ سلیمانکی کی بجائے لکھے کی سے ہی دریا پار کر کے وسطی پنجاب میں داخل ہو سکتا تھا۔ لیکن ُمون سُون کی بارشوں کی وجہ سے،جو پچھلے کئی دن سے ایک پل سکون نہیں لینے دے رہی تھی،دریا کا پاٹ بڑھ کر ایک کلو میٹر ہو گیا تھا اور گہرائی بھی معمول سے کئی گنا بڑھ گئی تھی۔ بہت سے لوگوں نے،چاہے وہ سکھوں میں سے تھے یا مسلمانوں میں،براہ راست دریا کو پار کرنے کی کوشش بھی کی،لیکن اُن کی لاشیں ہی کناروں پر آئیں اور کئیوں کی تو لاشیں بھی نہیں ملیں۔ ا سِ لیے اُدھر کا راستہ مکمل بند ہو چکا تھا اور سلیمان کی ہیڈ سے پار کرنا ناگزیر تھا۔ بنگلہ میں ایک رات گزارنے کے بعد،جہاں شاہ پور والے اُن کا انتظار کر رہے تھے،سب مل کر ہیڈ سلیمانکی کو روانہ ہو گئے اور شام کے وقت ہیڈ پر پہنچ گئے۔ سلیمانکی ہیڈ پہنچ کر غلام حیدر حیران رہ گیا۔ دُور تک لوگ ہی لوگ تھے۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ غلام حیدر اتنے سارے لوگوں کو ہیڈ کے مضافات میں بیٹھے دیکھ کر پریشان ہو گیا اور یہاں پر رکے رہنے کا سبب معلوم کرنے لگا۔ کافی دیر تک تحقیق کرنے سے اُس پر جلد ہی کھل گیا کہ معاملہ کیا ہے؟ کئی لوگ پندرہ دن سے بیٹھے تھے۔ اِن میں سے وہ بھی تھے،جن پر رات کے وقت لوٹ مار کرنے والے کئی کئی بار شب خون مار چکے تھے،قتل کر چکے تھے،اسباب لوٹ کر لے جا چکے تھے اور عورتوں تک کو اُٹھا کر لے گئے تھے۔ بلکہ ایسے بھی تھے،جو ڈیڑھ دو دوسو میل سے بالکل مع اسباب سلامت آگئے تھے،مگر یہاں پر اُن کو لوٹ لیا گیا تھا۔ اِس کا سبب گورکھا فوج تھی،جو ہیڈ پر دونوں طرف کے لوگوں کو عبور کرانے پر متعین تھی۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ انتہائی بے رحمی کا سلوک کرتے ہوئے،اُن کو پچھلے پندرہ بیس دنوں سے ہیڈ پر ہی روکے بیٹھی تھی۔ جبکہ ہندؤوں اور سکھوں کو برابر ہیڈ کراس کرا رہی تھی۔ اُس کی کچھ وجہ تویہ تھی کہ ہیڈ کا پُل نہائت تنگ اور کافی لمبا تھا اور اُس کے دونوں سروں پر لاکھوں لوگ گزرنے کے لیے بیٹھے تھے،جن کے پاس مال مویشی،گڈے،چھکڑے اور دوسرا بے بہا مال اسباب بھی تھا۔ جبکہ وقت بہت کم تھا لیکن زیادہ دخل بد نیتی کا تھا۔ گور کھا فورس پاکستان مخالف تھی۔ اِس لیے اُن کا مسلمانوں کے ساتھ متعصب ہو جانا فطری تھا۔ چنانچہ وہ مسلمانوں کو مسلسل روکے کھڑی تھی اور دوسری طرف سے اپنے ہم مذہبوں کو بارڈر عبور کرا رہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ مسلمان کئی دنوں سے یہاں بیٹھے بیماری سے مر رہے تھے،بھوک سے مر رہے تھے،بارشوں سے مر رہے تھے،اور رہے سہے بدمعاشوں کی لوٹ مار،قتل و غارت اور شب خون سے مر رہے تھے۔ غلام حیدر نے پورے دو دن تک تمام چیزوں کا جائزہ لیا،چل پھر کر لوگوں کے حالات معلوم کیے،پھر دل ہی دل میں ایک فیصلہ کرنے لگا۔

بڑی سوچ بچار کے بعد اُس نے ڈیوٹی پر موجود میجر صاحب سے ملاقات کی کوششیں شروع کر دیں۔ مگر ہزار کوشش کے باوجود یہ ملاقات ممکن نہ ہو سکی۔ غلام حیدر جلال آباد کے علاقے میں کتنا ہی معروف سورما رہا ہو،اب اُس کی حیثیت یہاں پر ایک عام آدمی ہی کی تھی۔ بالکل اُن بے شمار لوگوں کی طرح،جن کی اوقات اِس وقت گورکھا فورس کے سامنے بارش میں بھیگے ہوئے،خارش زدہ کتے کی تھی۔ ایسا کتا،جس کو کراہت،اور بیماری کے ڈر سے گھر کی دہلیز کے باہر سے ہی دھتکار دیا جاتا ہے۔ غلام حیدر میجر سے ملنے کے لیے اور اپنے مسائل بتانے کے لیے آگے تک چلا گیا اور فورس کے بار بار منع کرنے پر ضد کرنے لگا تو دو تین سپاہیوں نے غلام حیدر کو گالیوں کے ساتھ دو چار دھولیں جما دیں،جنہیں ہزاروں لو گوں نے دیکھا۔ اُن لوگوں نے بھی،جنہیں امیر سبحانی کے ریکارڈ ابھی تک یاد تھے۔ اُن سب لوگوں نے اُن گالیوں کو سنا،جو غلام حیدر کے ماں باپ کو دی گئی تھیں اور اُن دھولوں کو دیکھا،جو غلام حیدر کو پڑی تھیں۔ خود امیر سبحانی نے دیکھا،جس نے یہ ریکارڈ بھرے تھے اور اب وہ ریکارڈ اِس طرح یاد تھے،جیسے اپنے ہاتھوں کی پانچ انگلیاں۔ اِس حبس پیدا کر دینے والی اور سانس روک دینے والی بے عزتی کی وجہ سے غلام حیدر کا جی چاہا،وہ اِسی وقت دریا میں چھلانگ لگا دے۔ مگر غلام حیدر نے دریا میں چھلانگ نہیں لگائی،ایک سخت فیصلہ کر لیا،۔ وہ تھا گورکھا فورس سے بھِڑ جانے کا۔
غلام حیدر نے واپس اپنے قافلے میں آکر سب دوستوں کو جمع کیا۔ جوش اور جذبات سے بھری ہوئی رُندھا دینے والی آواز میں بولنے لگا،بھائیو،مَیں تمھارا بھائی غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ماں ابھی اُس پر رونے والی موجود ہے۔ جس کا ایک بیٹا اور بیوی اُس پر بین کرنے والی ابھی بیٹھی ہے۔ یاد رکھنا،میں نے کبھی تمھارا ساتھ نہیں چھوڑا۔ نہ میں نے پیٹھ دکھائی اور تمھیں حقیر جانا۔ میں نہ تو قائد اعظم ہوں،جو اِس وقت دہلی میں بیٹھا ہے اور نہ نواب افتخار،جو لاہور نواب ولاز میں ہے۔ میں غلام حیدر ہوں،جس نے ہجرت کی۔ بارشوں میں تمھارے ساتھ،بیماری میں تمھارے ساتھ اور فساد میں تمھارے ساتھ۔ جسے رفیق پاؤلی کا دُکھ ہے،حمیدا کمبوہ کا دکھ ہے،چراغ دین کا دُکھ ہے اور اُن جودھا پور کے چالیس شہیدوں کا دکھ ہے،جو گڑھوں میں دفن ہو گئے۔ مَیں غلام حیدر ولد شیر حیدر،جس کی ذِلت آج تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ یہ ذلت مجھ غلام حیدر کی ہوئی،جسے جھنڈو والا جانتا ہے،میگھا پور جانتا ہے،پورا فیروز پور جانتا ہے۔ یہ ذلت میری نہیں،تم سب کی ہے۔ میں نہیں چاہتا،لوگ مجھ پر ہنسیں اور مزے لے کر میری رسوائی کی کہانیاں اپنی اولادوں کو سنائیں۔ میں امیر سبحانی کی زبان کو جھوٹا نہیں کر سکتا اور ذلت سے جی نہیں سکتا۔ تم میں سے جو میرے ساتھ جانا چاہتا ہے،آ جائے۔ میں آج فیصلہ کرنے والا ہوں،اپنے اور اِن حرامزادوں کے درمیان،جنہوں نے بزدلوں کی طرح مجھے ذلیل کیا ہے۔ مَیں اُن کے ساتھ دو ہاتھ کرنے کے لیے جا رہا ہوں۔ جس نے میرا ساتھ دینا ہے،آ جائے۔ ورنہ میں اکیلا ہی اِس آگ سے گزرنے کے لیے تیار ہوں۔ زندہ رہا تو تمھارے ساتھ ہیڈ پار کروں گا،مارا گیا توراستہ ضرور کھول جاؤں گا۔ یہ کہہ کر غلام حیدر نے اپنی جیپ پر پاؤں رکھ دیا۔ اُسے دیکھتے ہی جانی چھینبا،شادھا تیلی،شوکا ماچھی اور چھ مزید جوان غلام حیدر کے ساتھ چل پڑے۔ اِن سب کے پاس رائفلیں تھیں۔

غلام حیدر کو دُھولیں مارنے کے بعد گورکھا فورس کے جوان مزید اَکڑ میں آ گئے تھے۔ ہیڈ پر زیادہ سے زیادہ پچاس سپاہی اور چھ آٹھ افسر موجود تھے لیکن اسلحہ کافی تعداد میں تھا۔ سکھ،ہندو،اور دوسری قومیں۔ اُن کے گدھے،گھوڑے اور دیگر مال مویشی ہیڈ کو عبور کر کے اِدھر آ رہے تھے۔ جس کی وجہ سے ہجوم حد سے زیادہ بڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر اور اُس کے بندے جیسے ہی آگے بڑھ کر فورس کے سپاہیوں کے قریب ہوئے،اُنہوں نے جھٹ خطرے کو بھانپتے ہوئے رائفلیں تان لیں اور فوراً پیچھے ہٹ جانے کو کہا۔ یہ وقت سہ پہر کا تھا اور بارش کچھ دیر کے لیے رُکی ہوئی تھی۔ لیکن ہوا اور دریا کے پانی کا شور بہت تھا۔ جوانوں نے جیسے ہی رائفلیں سیدھی کر کے رُکنے کو کہا،غلام حیدر نے عاقبت سے بے نیازہو کرفائر کھول دیا۔ اُس کے ساتھ اُس کے بندوں نے بھی۔ دوسری طرف سے بھی گولیاں برسنی شروع ہوگئیں اور پُل پر بھگدڑ مچ گئی۔ پہلے ہی ہلے میں کئی سپاہی فائر لگنے سے گر گئے۔ غلام حیدر نے شوکے تیلی کو بھی گرتے دیکھ لیا تھا۔ گولی اُس کے سینے پر آ کرلگی تھی۔ گولیاں اتنی شدت سے برسنے لگیں کہ کسی کو یہ خیال نہ رہا،کس کو لگتی ہے اور کس کو نہیں۔ گولیوں کے ڈر سے کئی لوگ دریا میں کود کرپانی کو پیارے ہو گئے۔ غلام حیدر کا ڈرائیور جیپ کو جھٹ پٹ میں ہیڈ پر لے گیا،جہاں میجر صاحب موجود تھے۔ وہ اپنے کیبن میں بیٹھے تھے۔ لیکن کیبن زیادہ مضبوط نہ تھا۔ محض گھاس پھونس کا ایک جھونپڑا ہی تھا۔ گولیاں اب نہایت نزدیک سے اور دوُ بدُو چل رہی تھیں۔ جن کے تڑاکوں میں اتنی شدت آ گئی کہ دُور دُور تک مجمعے چھٹ گئے اور پُل چند ہی لمحوں میں اِس طرح صاف ہو گیا،جیسے جھاڑو پھر گیا ہو۔ ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک کوئی فرد نظر نہ آتا تھا۔ دھکم پیل میں زیادہ تعداد تو دریا میں ہی جا پڑی تھی۔ جس کی گہرائی کم از کم اِس پُل پر سے سو فٹ تھی۔ غلام حیدر عین پُل کے اُوپر پہنچ چکا تھا اور مسلسل گولیاں چلا رہا تھا۔ میجر صاحب کے کیبن کو گولیوں کے دھماکوں سے آگ لگ کر،گھاس پھونس کو اِس طرح جلا رہی تھی،جیسے چتا سے الاؤ اُٹھ رہے ہوں۔ یہ حالت دیکھ کر میجر کیبن سے باہر کی طرف بھاگ اُٹھا۔ اِنہی اوقات میں غلام حیدر نے تاک کر اُس پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی،جن میں سے دو گولیاں اُس کے سر میں جا لگیں اور وہ وہیں لڑھک گئے۔ گورکھا سپاہیوں نے اپنے افسر کو یوں ڈھیر ہوتے دیکھا،تو وہ بوکھلا گئے۔ اِسی بوکھلاہٹ میں اُنہوں نے اندھا دھند فائرنگ برسا دی۔ اس دو طرفہ شدید فائرنگ میں دونوں طرف کے لڑنے والے اور دوسرے لوگ بیروں کی طرح گرنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں غلام حیدر بھی گولیوں کی بارش میں اپنے ساتھیوں سمیت،وہیں ہیڈ کے پل پر خون میں لت پت ہو گیا اور بارش کی رم جھم میں کچی سڑک پر منہ کے بل گر پڑالیکن ابھی جانی چھینبا بچا ہوا تھا۔ وہ اُس سنگِ میل کے پیچھے بیٹھا تھا،جس پر لکھا تھا،دہلی چار سواٹھارہ کلو میٹر۔ وہ سنگ میل کی آڑ لے کر مسلسل کار توس چلا رہا تھا،جس کی وجہ سے بچی کھچی گورکھا فورس اِدھر اُدھر بھاگ گئی اور چوکی بالکل خالی ہو گئی،جو میجر صاحب کے مرنے کی وجہ سے پہلے ہی تتر بتر ہوچکی تھی۔ اِسی بھاگم دوڑ میں جانی چھینبے کو بھی گولی لگ گئی۔ گولی اُس کی پسلیوں میں نجانے کدھر سے کچھ لمحے پہلے آ کر لگی تھی،لیکن اُس نے زخمی حالت میں ہی سنگ میل کی آڑ سے باہر آکر مسلمان قافلوں کو پکارنا شروع کر دیا۔ لوگ،جو موت جیسی حالت میں زندگی اور اُس ہیڈ سے اُکتائے بیٹھے تھے،وہ غلام حیدر کے غم کو بھول کر دریا کی طرح ہیڈ کی طرف بڑھے اور لمبے لوہے کے پُل پر چڑھ گئے۔ یہ پُل،جو اب بالکل خالی پڑا تھا۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں تھی کہ جس نے پُل خالی کرایا ہے،وہ کون ہے؟ اور اُس کی لاش کو اُٹھانا ضروری ہے کہ نہیں۔ غلام حیدر کی رعایاکے لوگ اور عورتیں اپنی اپنی لاشوں کے گرد اکٹھا ہو کر رونے پیٹنے لگیں مگر پھر اُنہوں نے بھی جلد ہی لاشوں کو اُٹھا کر چھکڑوں پر رکھ لیا اور دریا پار کرنے والوں کے ساتھ مل گئے۔ جبکہ جیپ اُس جگہ پر تنہا کھڑی رہ گئی،جس کی ہر چیز سلامت ہونے کے با وجود اُسے کوئی دیکھ بھی نہیں رہا تھا۔ اور وہ نہیں جانتی تھی کہ اب اُس کا مالک کون ہے؟جانی چھینبے کے لگا ہوا زخم تو جان لیوا نہیں تھا لیکن اُس کا خون اِتنا بہہ گیا کہ وہ بھی چند لمحوں میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملا۔

اب ہجوم اتنا زیادہ اور بے قابو ہو چکا تھا،اگر کوئی فورس آ بھی جاتی تو وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اُن خانہ خرابوں اور بھوکوں کے سیلاب نے جب پُل کے دوسری طرف جا کر ہندؤوں اور سکھو ں کی تھوڑی سی جمیعت کو دیکھا تو اُن پر بھیڑیوں کی طرح ٹوٹ پڑے۔ پھر تو نہ کسی کی ہدایت اُنہیں بچا سکی اور نہ قرآن و رسول کے واعظ کسی کام آئے۔ اس معاملے میں سب سے پیش پیش وہ ملا لوگ تھے،جو دہلی،ہریانہ،روہتک،گڑگاؤں اور حصار سے دھکے کھاتے ہوئے یہاں پہنچے تھے۔ وہ اُس وقت تک بیٹھے اور لُٹتے رہے جب تک غلام حیدر نہ آ پہنچا اور اب جو اُنہیں موقع ملا تو مُلا نے جہاد کے فتوے شروع کر دیے اور روہتکی مجاہد بن گئے۔
الغرض مسلمان پُل پار کرتے رہے اور مجاہد بنتے رہے۔ جبکہ جلال آباد،شاہ پور اور جودھا پور والے سب کو یہیں چھوڑ کر اپنی لاشوں کے ساتھ منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گئے۔ امیر سبحانی،جو غلام حیدر کے ملازموں میں واحد آدمی بچا تھا،وہ غلام حیدر کی لاش اُس کے وارثوں کے حوالے کرنے کے لیے پاکپتن جانا چاہتا تھا۔ جہاں غلام حیدر کی ماں،بیوی اور اُس کا بیٹا انتظار میں بیٹھے تھے لیکن لاش خراب ہونے کے ڈر سے اُس نے غلام حیدر اور دوسرے ساتھیوں کی لاشیں وہیں ہیڈ پار کر کے دفن کر دیں اور خود منڈی ہیرا سنگھ کی طرف بڑھ گیا تاکہ بذریعہ ریل پاکپتن چلا جائے۔ ہیڈ عبور کرنے کے بعد مہاجرین،جن میں اب نہ غلام حیدر تھا اور نہ رفیق پاؤلی تھا،اِدھر اُدھر پناہ کے لیے بکھرنے لگے۔ ان سب مہاجرین کو اب آپ ہی آپ ایک سکون سا آ گیاتھا۔ گویا وہ اپنی قسمت پر اعتماد کر کے مطمئن ہو گئے ہوں۔ یہ ہزاروں خاندان،جنہیں شاید اب نہ کسی چھت کی ضرورت تھی،نہ پہننے کو کپڑا چاہیے تھا،نہ یہ کسی سواری کے محتاج تھے۔ ان گاؤں گاؤں اور قصبہ قصبہ چلنے والے لاکھوں زندگی اور موت کے درمیان،انسانوں اور جانوروں کے درمیان کی مخلوق کو بس کھانے کو روٹی کی ضرورت تھی۔ جو اِن کی عزت کے بدلے میں،جان کے بدلے میں یا کسی بھی چیز کے بدلے میں مل جاتی تو یہ جی سکتے تھے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ان لاکھوں خاندانوں میں بارش،بھوک اور مسلسل سفر کے دوران ہیضے اور گردن توڑ بخار کی بیماریاں پھوٹ پڑیں۔ یہ بیماریاں اتنی شدت سے پھوٹیں کہ جو کسی طرح کرپانوں کے لوہے سے بچ کر آ گئے تھے،وہ اِس قدرتی بوجھ تلے دب کر مرنے لگے اور یہ کیفیت صرف مسلمانوں کی طرف ہی نہ تھی بلکہ،
دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔

امیر سبحانی اپنے بیوی بچوں کے ساتھ اکیلے ہی چلتا جا رہاتھا۔ اُس کی جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہ تھی اور نہ دور نزدیک کوئی رشتہ دار تھا،نہ پُر سان حال۔ اُس کو یہ جلدی تھی کہ کسی طرح پاکپتن پہنچ جائے اور غلام حیدر کی ماں سے اپنی اور اپنے بچوں کی زندگی کا اسباب لے لے۔ وہ یہ اسباب غلام حیدر کی ماں کو غلام حیدر کی موت کی خبر دے کر نیاز،درود اور قل ساتے کے کھانے سے حاصل کرنا چاہتا تھا۔ غلام حیدر کی شہادت کی خبر سن کر اُس کی ماں اور بیوی بچوں کو جو صدمہ پہنچنا تھا،اُس کا اندازہ بھی اُس کو تھا،لیکن اُسے یہ بات بھی پوری طرح عیاں تھی کہ غلام حیدرکے ایصال ثواب کی نیازیں شروع ہونگی تو کم از کم سوا مہینہ تک جاری رہیں گی۔ اُس کے بعد خدا اور اسباب پیدا کر دے گا۔ اس کے علاوہ علاوہ امیر سبحانی نہ کسی پٹواری کو جانتا تھا اور نہ اس کا ربط ضبط کسی تحصیل دار یا قانون گو کے ساتھ تھا،جو اُس کو مہاجر تسلیم کر کے اُس کے نام چار ایکڑ زمین ہی لگا دے۔ اُسے تو یہ بھی خبر نہیں تھی کہ جس غیر ملک میں وہ آیا ہے،اِس میں اِس طرح کے محکمے بھی موجود ہیں؟ سکھوں اور ہندووں کو مارنے اور اُن کے مال پر قبضہ کرنے کی اُس میں ہمت نہیں تھی،جو اس علاقے میں ویسے ہی مر رہے تھے اور لٹ رہے تھے،جیسے ستلج کی دوسری طرف وہ مسلمانوں کو مرتا اور لٹتا دیکھ آیا تھا۔ گر تا پڑتا اپنے ایک بچے کو ہیضے سے مرنے کی وجہ سے رستے میں دفن کر کے بالآخر دو دن بعد امیر سبحانی منڈی ہیرا سنگھ پہنچ گیا،جہاں سے گاڑی پر بیٹھ کر وہ پاکپتن جا سکتا تھا۔

اسٹیشن پر ہزار ہا بچے،مرد،خواتین،بوڑھے،جوان،ناتوان اور ہٹے کٹے خیموں میں،بغیر خیموں کے،ادھر اُدھر گویا بکھرے پڑے تھے۔ ان میں مقامی لوگ پھر پھر کر ہندووں اور سکھوں کو ڈھونڈتے پھرتے اور اُن کا مال اساب چھینتے پھرتے تھے۔ امیر سبحانی اپنے بیوی اور بچوں کے ساتھ بیٹھا پاکپتن جانے والی گاڑی کے انتظار میں تھا،جس کے ٹائم ٹیبل کا اب کسی کو نہیں پتا تھا،نہ ہی کسی کو اُس کے دیر سے آنے کی شکایت رہ گئی تھی۔ بادل ابھی بھی گہرے چھائے ہوئے تھے اور بارش رہ رہ کر برس رہی تھی۔ منڈی ہیرا سنگھ کا اسٹیشن بالکل ویسا ہی چھوٹا سا تھا،جیسے قصبوں کے اسٹیشن ہوا کرتے ہیں۔ ایک ٹکٹ لینے دینے والوں کا کمرہ تھا،جس میں دو تین افراد کا عملہ۔ اِس کے علاوہ اسٹیشن پر سرخ اینٹوں کا فرش،جو ریل کی پٹڑی سے اِتنا ہی اُونچا تھا،جتنی اُونچی ریل کی آخری سیڑھی تھی۔ دونوں جانب کے فرش کے درمیان ایک بڑا سا نالہ بن جاتا تھا،جس میں ایک تو ریل چلتی تھی اور دوسرا بارش کا پانی،جو اُن دنوں شدت سے برس رہا تھا۔ منڈی ہیرا سنگھ کا یہ قصبہ زیادہ بڑا نہیں تھا۔ بس ڈھائی تین سو گھر تھے اور وہ بھی بکھرے ہوئے۔ یہاں درخت بھی زیادہ نہیں تھے۔ ہاں مگر جگہ جگہ بیریوں کے پیڑ نظر آ جاتے تھے۔ الغرض منڈی ہیرا سنگھ ایک پُر سکون جگہ تھی۔ مگر جب سے تقسیم اور فسادات کا عمل شروع ہوا تو یہاں مشرقی اور وسطی پنجاب کے ہزاروں خاندانوں کا جھمگٹا سا ہو گیا تھا۔ اُدھر سے اِدھر آنے والوں کا اور اِدھر سے اُدھر جانے والواں کا۔ امیر سبحانی صبح دس بجے کے قریب پہنچا تھا۔ اب اُسے یہاں بیٹھے بیٹھے شام ہو گئی تھی۔ وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا،کاش وہ ہیڈ سے سیدھا پاکپتن ہی کا رخ کر لیتا تو کل تک پہنچ ہی جاتا۔ اب نہ جانے کب گاڑی آئے اور وہ اس جگہ کے عذاب سے نکلے۔ پچھلے کئی گھنٹوں سے اسٹیشن پر ایک گاڑی براستہ قصور فیروزپور جانے والی کھڑی تھی،جو نجانے کیوں اتنی دیر سے وہاں موجود تھی۔ یہ ساری کی ساری گاڑی ہندووں اور سکھوں سے بھری ہوئی تھی۔ نہ صرف اندر سے پُر تھی بلکہ اس کی چھت پر بھی کھچاکھچ انسان تھے۔

عصر کے وقت امیر سبحانی نے اچانک ایک آدمی کو دیکھا،جو اردو اور عجیب غریب لہجے میں اسٹیشن پر کھڑے مسلمان مہاجروں اور مقامیوں کے ساتھ کچھ خطاب کر رہا تھا۔ امیر سبحانی کو یاد آیا،جب وہ غلام حیدر کے ساتھ نواب افتخار ممدوٹ کے لیے ووٹ مانگنے نکلا تھا،تو وہ بھی اسی طرح کے خطاب کرتے تھے۔ لیکن وہ تو پنجابی زبان میں صاف سمجھ آنے والا خطاب ہوتا تھا اور یہ تو کوئی فوجیوں والے لہجے کا تھا۔ وہ اُن سب لوگوں کو کہ رہا تھا،بھائیو،میرا نام محمد زمان خان ہے۔ ہم دہلی سے نکلے تھے،تو ستر افراد کا قبیلہ تھے لیکن ہمارا سارا خاندان ان کافروں اور مشرکوں نے راستے میں ہی مار دیا اور سارا سامان لوٹ لیا۔ اب میں اُن ستر افراد میں اکیلا بچا ہوں۔ میری مائیں،بہنیں اور بچے اُنہوں نے یا تو ماردیے ہیں یا اپنے گھروں میں لے گئے ہیں۔ مسلمانو !یہ مجھ اکیلے کے ساتھ نہیں ہوا۔ ہندوستان سے ہر آنے والے کی یہی کہانی ہے۔ یہ کہہ کر زمان خان رونے لگا لیکن اِس گریہ وزاری کے درمیان بھی اُس نے اپنی کہانی اُسی درد ناک لہجے میں جاری رکھی۔ جسے سن کر تمام مجمع بھی رونے لگا۔ اُن سننے والوں میں سے بعض کی آنکھیں سُرخ ہو گئیں،چھاتیوں کے بال اکڑ گئے اور گنڈاسوں اور تلواروں پر ہاتھ سخت ہوگئے۔ زمان خان نے مجمع کی یہ حالت دیکھی تو سُرخ لوہے پر ایک اور ضرب لگائی،بھائیو،اِن بے غیرتوں نے،جو ہمارے ساتھ کیا،وہ تو الگ بات ہے لیکن مجھے ایک اور اندیشہ ہے کہ یہ لوگ،جو اِس گاڑی میں بیٹھے ہندوستان جا رہے ہیں اور تم انہیں دامادو ں کی طرح بڑی عزت سے وہاں بھیج رہے ہو۔ یہ جاتے ہی اُن شرنارتھیوں کے ساتھ مل جائیں گے اور تمھارے دوسرے مسلمان بھائیوں کا صفایا کر دیں گے۔

زمان کی آواز اتنی پُر اثر،مدلل اور رُندھا دینے والی تھی کہ تمام لوگوں کو غضب آ گیا۔ کیا مہاجر اور کیا مقامی،سب ایک دم اُس ریل پر گرہجوں کی طرح جھپٹ پڑے۔ امیر سبحانی کے دیکھتے ہی دیکھتے لوگوں نے گاڑی پر ہلہ بول دیا۔ اُن سب نے زمان خان کی ہدایات پر پہلے تمام ریل کے دروازے بند کر دیے اور چھتوں پر بیٹھے ہوئے لوگوں کو نیچے اتار کر اُن سب کو نیزوں اور تلواروں کی لڑی میں پرویا۔ اُس کے بعد لوگ ریل کا ایک دروازہ کھول لیتے،اُ س میں موجود تمام سواریوں کو تہہ تیغ کر دیتے،پھر اگلے ڈبے کو کھول لیتے۔ اِس قتل و غارت میں ریل کی پٹڑی کا نالہ خون سے بہنے لگا اور دیکھتے ہی دیکھتے ماؤں کی گود میں موجود بچوں سے لے کر بڑوں تک،سب ایک گھنٹے کے اندر تلواروں کا رزق ہو گئے۔ اس عرصے میں سب لوگ اس قدر سہم گئے کہ کسی بچے تک کے رونے کی خبر نہیں آئی۔ اپنے پرائے سب قاتلوں کے سامنے بلی بن گئے۔ امیر سبحانی سارا منظر بیٹھا دیکھتا رہا۔ اُس کی ہمت نہ پڑی کہ وہ کسی کو روک لیتا۔ ابھی غارت گری رُکی ہی تھی کہ جانے کہاں سے میونسپل کمیٹی کے ٹرک آگئے۔ اُنہوں نے چند ساعتوں میں وہ لاشیں اُٹھا کر،پتا نہیں کہاں لے جا پھینکیں۔ البتہ اسٹیشن سے اُٹھا کر لے گئے۔ اِس کے بعد خدا کی قدرت،پھر وہی بارش شروع ہو گئی،جس نے اسٹیشن کو دھو کر ایسے صاف کر دیا جیسے،یہاں کچھ ہوا ہی نہیں۔ گویا قدرت بھی اِن سب کے ساتھ ساتھ اپنا فرض ادا کر رہی تھی۔ رات امیر سبحانی نے وہیں گزاری اور اگلے دن حویلی لکھا روانہ ہو گیا۔ یہاں سے اُس نے ارادہ کیا کہ پیدل ہی پاکپتن چلا جائے گا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

نولکھی کوٹھی - تیرہویں قسط

علی اکبر ناطق: تھانہ، عدالت یادنگے فساد کا کہیں معاملہ پیش آجاتا تو ملک بہزاد کی خدمات مفت میں حاصل ہوجاتیں۔ ایسے ایسے مشورے دیتا کہ مخالف کو ضرور خبر لگ جاتی کہ مدعی کی پشت پر ملک بہزاد کا ہاتھ ہے۔

نولکھی کوٹھی - سترہویں قسط

علی اکبر ناطق: ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔

نولکھی کوٹھی - آٹھویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کی جھجھک اب کچھ دور ہو چکی تھی اس لیے کھل کر تیزی سے بولا،سرکار فَرفَر پانی کی طرح لکھتا ہوں۔ آپ کا غلام مولوی کرامت یہ کام تو بڑے ڈھنگ سے کر سکتا ہے اور سرکار میری خوش خطی کی دھوم توقصور شہر تک ہے۔دو قُرآ ن میں نے اپنے ہاتھ سے لکھے ہیں۔ بہشتی والد نے نستعلیق، نسخ، خطِ کوفی، ہر طرح کی اِملا سکھا دی تھی۔