نولکھی کوٹھی - اکیسویں قسط

نولکھی کوٹھی - اکیسویں قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(38)

جھنڈووالا میں سردار سودھا سنگھ سمیت ایک دم دس لاشیں پہنچیں تو اندھا کر دینے والا حبس چھا گیا۔ لاشیں دو گَڈوں پر لادی ہوئی تھیں۔ گولیوں سے چھلنی اور خون سے لت پت گو یا مَسلی جا چکی تھیں۔ لاشوں سے مسلسل رِستے ہوئے خون کی وجہ سے گَڈوں کی حالت بھی لاشوں سے بد تر تھی اورگَڈوں کے اُوپر جُڑے ہوئے تختوں کے فرش سے لے کر لکڑی کے پہیوں تک خون میں نہا چکے تھے۔ بہت ساخون تختوں پر جم کر سیاہ ہو چکا تھا۔ لاشیں اگرچہ تازہ تھیں اور قتل ہوئے مشکل سے ہی پانچ یا چھ گھنٹے ہوئے تھے لیکن شدید گرمی کی وجہ سے اُن کی حالت بہت ہی خوفناک اور بدبو پیدا کر دینے والی تھی۔ اُن کو دیکھنا تو الگ بات،قریب جانا بھی اذیت ناک تھا۔ لاشیں پولیس کی نگرانی میں جھنڈووالا پہنچی تھیں،اِس لیے پولیس کی بھی کافی نفر ی وہاں موجود تھی لیکن وہ اب لا تعلق سی ایک طرف کھڑی تھی،جیسے اُنہیں اس بات سے صرف اتنی غرض ہو کہ جتنی جلدی ہو سکے ان کا کریا کرم ہو جائے اور اس بدبو،پسینے،اور شور شرابے سے جان چھوٹے۔ جھنڈووالا کے مرد تو ایک طرف بینت کور سمیت وہاں کی تمام عورتیں لاشوں کے اُوپر گری پڑی تھیں اور ایسے ایسے بین اُٹھا رہی تھیں کہ خدا پناہ۔ سر کے بال بکھیر کر اوراُن میں راکھ ڈال کر اپنے آپ کودوہتھڑ پیٹ رہی تھیں،جیسے چڑیلیں بن گئی ہوں۔ بیہوش ہو کر کبھی نیچے گرتیں کبھی اُوپر اُٹھ کر گڈے پر چڑھنے کی کوشش کرتیں۔ کسی کو جرات نہ تھی،اُن کے قریب جا کر دلاسا ہی دے۔ سب سے بُری حالت بینت کور کی تھی۔ لوگوں کی بھی زیادہ تر ہمدردیاں سردار سودھا سنگھ اور بینت کور ہی کے ساتھ تھیں۔ لاشیں کافی دیر اسی طرح گڈوں پر پڑی رہیں۔ مردوں اور عورتوں نے جی بھر کر ماتم اور رونا پیٹنا مچایا۔ مرنے والوں کے ا قربا غش کھا کھا کر گرتے تھے جبکہ لوگ بھاگ بھاگ کر اُن کے منہ میں پانی ڈالتے تھے۔ پانی پلانے والے کم تھے اور رونے پیٹنے والے زیادہ کیونکہ پوری دس لاشیں تھیں۔ وہ بھی ساری کی ساری جھنڈووالا کی۔ یہ سب قتل ہونے والے پورے گاؤں کے کسی نہ کسی طرح قریبی رشتہ دار تھے۔ جو آدمی بھی لاشوں کو دیکھتا اور اُن کی بُری حالت پر نظر کرتا تو کلیجہ پھٹ کے رہ جاتا۔ وہیں لاشوں سے لپٹنے کی کوشش کرتا۔ تھوڑی دیر پہلے صبح کے وقت اچھے بھلے شینہہ جوان اور سوہنے سنکھنے تھے اور اب گڈوں پر اس طرح لیٹے تھے جیسے کبھی دھرتی پر چلے پھرے ہی نہ ہوں۔ پولیس نے دیر تک اُنہیں یونہی اُن کے حال پر چھوڑے رکھا اور الگ بیٹھی رہی لیکن جب رونے دھونے اور پیٹ پٹہیے کے عذاب کودو گھنٹے گزر گئے تو اُنہوں نے مداخلت کر کے لاشیں گڈوں سے اُتارنا شروع کر دیں۔ بینت کور اور دو تین خواتین ویسے بھی روتے پیٹتے غش کھا کر اپنے حواس سے بیگانہ ہو چکی تھیں۔ مردوں کو پیچھے کرنا کوئی مشکل نہیں تھا۔ ایک ایک کر کے تمام لاشیں گڈوں سے اُتار کر سودھا سنگھ کی حویلی میں لائی گئیں اور اُنہیں چارپائیوں پر لٹا دیا گیا۔ سودھا سنگھ کو اُسی چار پائی پر لٹایا گیا جو اُس نے خاص اپنے لیے بنوائی تھی اور اُس پر کسی دوسرے کو بیٹھنے کی اجازت نہ تھی۔ جب تک لاشیں اُتاری گئیں،بینت کور کو دوبارہ ہوش آچکا تھا۔ وہ بھاگ کر پھر لاش سے لپٹ گئی۔ سودھا سنگھ کی شکل خوفناک حد تک مسخ ہوچکی تھی اور دیکھنے سے کراہت محسوس ہوتی لیکن بینت کور اُسے اُسی طرح چوم رہی تھی جیسے اُس میں خوبصورتی کے شعلے دہک رہے ہوں۔ پورا دو تین سو بندہ حویلی میں جمع ہو تھا۔ اُن کے علاوہ ارد گرد گاؤں کے لوگ بھی اس ہیبت ناک خبر کو سن کر وہاں آگئے۔ اِس طرح جھنڈو والا میں لوگوں کی تعداد ایک ہزار کے لگ بھگ پہنچ گئی۔ زیادہ تر لوگ لاشوں سے دور حویلی کے باہر ہی مختلف ٹولیوں میں ادھر اُدھر بیٹھے اور کھڑے،اِس واقعے پر طرح طرح کے تبصرے بکھیر رہے تھے۔ اُنہیں اِس سانحے پر دُکھ سے زیادہ تعجب اور غلام حیدر کی جرات پر حیرانی تھی۔ اُن میں سے کچھ ایسے بھی تھے جن کو لاشیں دیکھنے سے دلچسپی نہیں تھی،نہ ہی وہ چاہتے تھے،اُن کا نام گواہی کے طور پر استعمال ہو۔ فقط تماشا دیکھنے میں اُن کی طبیعت کو ایک قسم کا سکون ملتا تھا۔ جھنڈووالا میں اب سکھ،مسلمان سب ہی جمع ہو چکے تھے۔ مسلمان بظاہر مرنے والوں کے لیے چہروں کو سنجیدہ بنا کر پھر رہے تھے لیکن دل ہی دل میں اُن کا ایمان انہیں غلام حیدر کو داد دینے پر اُکسا رہا تھا۔ وہ جی میں بغلیں بجا رہے تھے اور غلام حیدر کی بہادری پر اُن کے سینے فخر سے پھولے ہوئے تھے۔ بعض چپکے چپکے آپس میں اِس بات کر اظہار بھی کر رہے تھے کہ بھائی مُنڈے نے اپنے اُوپر نیودرا نہیں رکھا۔ بدلے کا حساب پورا پورا کھول کے چکایا ہے۔ غلام حیدر آخر شیر حیدر کا بیٹا تھا۔ یہی کچھ ہونا تھا۔ لوہے کی گولیاں مار مار کے بچاروں کے حلیے ہی بگاڑ دیے ہیں۔ کسی نے سچ کہا ہے ظلم کی انتہا بُری ہوتی ہے۔ پھر بھی جیسا بھی تھا،میاں سودھا سنگھ تھا اچھا آدمی۔ اپنی رعایا پر بچارا بڑا مہربان تھا۔ غلام حیدر کو حوصلے سے کام لینا چاہیے تھا۔ معاف کر دیتا تو زیادہ اچھا تھا،پرغصہ بُری چیز ہے،بھائی ہوا بُرا۔ بچارے سودھا سنگھ کو کیا پتا تھا،اُس کے دن گنے جا چکے ہیں؟ چلو مولا بھلی کرے،اب بچاروں کی لاشیں خراب ہو رہی ہیں۔ جتنی جلدی ہو سکے،ان کی ہوا کوآگ دے دینی چاہیے۔ غرض یہ کہ مسلمان،جو اِس وقت جھنڈووالا میں کھڑے تھے،وہ بظاہر تو ہمدردی کے کلمات کہہ رہے تھے لیکن دل میں ایک مسلمان کی بہادری پر خوش ہو رہے تھے۔ اُدھر سکھوں کی حالت واقعی قابلِ رحم تھی،وہ یا تو کچھ بول نہیں رہے تھے اور زبانوں پر مہر یں لگی ہوئی تھیں یا وہ رو رہے تھے،بولیں تو کیا؟ کہ ایک مُسلے نے دس سرداروں کی ایک وقت میں چتا کی راکھ اُڑا دی۔

تھانہ گرو ہر سا کی پولیس حادثے کے فوراً بعد ہی وہاں پہنچ گئی تھی حتیٰ کہ جھنڈووالا کے لوگوں سے بھی پہلے۔ تھانیدار ضمیر شاہ نے وقوعے کی تمام رپورٹ درج کرکے گواہوں کے بیانات قلم بند کرلیے۔ جس کے مطابق سودھا سنگھ اور اُس کے بندوں پر حملہ کرنے والے صرف دو ہی آدمی تھے،جن کے پاس پکی رائفلیں تھیں اور وہ گھوڑوں پر سوار تھے۔ مگر اُن کے چہروں پر منڈاسا ہونے کی وجہ سے وہ پہچانے نہیں جاسکے۔ البتہ سودھا سنگھ کے بھاگے ہوئے بندوں کے مطابق،اُن دو کے علاوہ اور بھی کافی سارے آدمی تھے،جن کے پاس ڈانگیں اور برچھیاں تھیں اور وہ بھی گھوڑوں پر سوار تھے۔ اُنہیں یہ بھی شبہ تھا،کہ رائفلوں والے جو دو آمی تھے۔ اُن میں سے ایک غلام حیدر تھا،مگر اُن کی یہ بات پولیس کی سمجھ سے باہر تھی۔ اگر سودھاسنگھ کے اُن گواہوں کے بیانات کو مان لیا جائے،تو مسلۂ یہ پیدا ہوتا ہے کہ کسی بھی مرنے والے اور زخمی ہونے والے یا بھاگنے والے پر تیز دھار لوہے کا ایک بھی زخم موجود نہیں تھا۔ نہ ہی اُن لوگوں کا نام نشان وہاں موجود تھا،جن کے پاس ڈانگیں یا برچھیاں تھیں۔ یااُن میں سے کیوں کوئی بھی آدمی سودھا سنگھ کے ہاتھوں زخمی نہیں ہوا۔ یہ تمام باتیں جزیات کے ساتھ تھانیدار ضمیر شاہ نے اپنے نقشے اور پہلی انکوائیری میں درج کر لیں۔ باقی پورے کیس کی بنیاد اِسی پہلی انکوائیری پر تھی۔ عصر تک تھانیدار نے واقعے کے شاہدین،جگہ کا نقشہ اور وقوعے کی رپورٹ تیار کر کے لاشیں چھوٹے تھانیدار دیوان سنگھ اور حوالدار چندن لعل سمیت چھ سپاہیوں کی نگرانی میں جھنڈووالا کی طرف روانہ کر دیں اور خود ڈی ایس پی لوئیس صاحب کو رپورٹ کرنے کے لیے جلال آباد روانہ ہو گیا۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گھوڑے دلکی چال چل رہے تھے۔ غلام حیدر براستہ سلیمانکی حویلی لکھا پہنچا،تو رات کا ایک پہر گزر چکا تھا۔ گرمیوں کی راتیں مختصر اور نہایت گرم ہونے کی وجہ سے لوگ اتنی جلدی چارپائیوں پر کم ہی جاتے ہیں۔ غلام حیدر کے اس پورے علاقے میں کئی رشتے دار اور دوست پھیلے ہوئے تھے۔ لیکن وہ کہیں بھی قیام نہیں کرنا چاہتا تھا۔ وہ جانتا تھا،واقعے کے فوری بعد مشرقی اور وسطی پنجاب کے تمام تھانوں میں اُس کے متعلق اطلاع کر دی گئی ہو گی۔ اِس لیے وہ کوئی بھی خطرہ فی الحال مول نہیں لینا چاہتا تھااور کسی بھی ایسی جگہ نہیں رکنا چاہتا تھا،جہاں اُس کی رشتہ داری یا دوستی کا لوگوں کو کچھ پتا تھا۔ غلام حیدر نے چلتے چلتے امانت خاں سے کہا،میاں امانت،تم نے جو آج میرے لیے کیا ہے،اُس کی قیمت تو میں کسی بھی طرح ادا نہیں کر سکتا لیکن میں چاہتا ہوں،اِس دوستی کے عوض تم سے کچھ نہ کچھ ضرور سلوک کرو ں۔ مجھے نہیں پتا،کتنا عرصہ اب مسافرت میں گزارنا پڑے لیکن میرا وعدہ ہے،اِس غربت کے بعد میں تمھیں اپنا سگا بھائی بنا کر رکھوں گا۔ مگر اس وقت میرا خیال ہے،ہمیں اکٹھے نہیں رہنا چاہیے اور الگ الگ ہو جائیں۔ یہ کہ کر غلام حیدر نے اپنی کمر سے بندھی ہوئی ایک بھاری تھیلی کھولی اور چلتے چلتے ہی اُسے امانت خاں کی طرف بڑھا دیا اور کہا،اِس میں ایک پاؤ سونا ہے۔ یہ میری طرف سے تحفہ سمجھو اور اِسی وقت سیدھے اپنے علاقے میں چلے جاؤ۔

امانت خاں نے تھیلی غلام حیدر سے پکڑ لی اور کہا،چوہدری غلام حیدر،میں تیرے ساتھ اِن پیسوں کے لالچ میں نہیں آیا تھا لیکن یہ سونا مَیں ضرور اپنے پاس رکھوں گا،اُس وقت تک جب تم دوبارہ نہیں ملتے۔ یہ سونا میرے پاس تمھاری امانت ہے۔ اگر مشکل پڑی اور اِن کی ضرورت ہوئی تو اپنی امانت مجھ سے آ کر لے لینا۔ ملک بہزاد،میرا ماماہے اور اُس کے مجھ پر ہزاروں احسان ہیں۔ مَیں یہ کام پیسوں کے لیے نہیں کرتا،۔ اِس کے بعد دونوں گلے ملے اور دونوں نے اپنے گھوڑوں کی باگیں مخالف سمت میں موڑ دیں۔ غلام حیدر نے اپنا گھوڑا نواب سرفراز کی حویلی کی طرف دوڑا دیا،جہاں کچھ دن آرام کرنے کے بعد منصوبے کے مطابق اُسے نواب افتخار کے ماموں کے پاس کشمیر جا کر پتا نہیں کتنے برس تک روپوش ہونا تھا۔ تاکہ وقت کا انتظار کیا جا سکے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

گرمی کی وجہ سے لاشوں کو زیادہ دیر تک نہیں رکھا جا سکتا تھا۔ ویسے بھی تمام قانونی کارروائی مکمل کی جا چکی تھی۔ اِس لیے پولیس چاہتی تھی کہ لاشوں کو اپنی نگرانی میں ٹھکانے لگا دے تاکہ لاشیں خراب ہو کر بدبو نہ مارنے لگ جائیں۔ اب رات کے آٹھ بج چکے تھے۔ اِس سخت گرمی میں اِتنا وقت بہت زیادہ تھا۔ ورنہ مزید کوفت پھیل جاتی۔ خون،بد بو اور لوگوں کا ہجوم اس میں مزید اضافہ کر رہا تھا۔ لوگوں نے ایک ہی وقت میں اتنی لاشیں پہلے کبھی نہیں دیکھی تھیں،نہ اِس طرح کا قہر پہلے نازل ہوا تھا۔ اِس لیے ہر کوئی دور دور سے بھاگا ہوا آیا اور یہاں جمع ہو گیا تھا۔ سردارسودھا سنگھ کے رشتے داروں کے بھی سینکڑوں لوگ تھے،جو لاشوں کو دیکھ کر جذباتی ہو رہے تھے۔ اِس ساری آنے والی خرابی کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اپنا کردار شروع کر دیا اور فیصلہ کیا کہ اب چتاؤں کو آگ دینے اور راکھ بنانے میں دیر نہ کی جائے۔ چنانچہ رات آٹھ بجے کے قریب سردار سودھا سنگھ،دما سنگھ،جگبیر،پیت سنگھ،بیدا سنگھ،ہرے سنگھ،کڑے مان،لہنگا سئیواور دوسرے متروں کی لاشوں کو شمشان گھاٹ میں لے جا کے آگ اور لکڑیوں کے حوالے کر دیا گیا۔ سردار سودھا سنگھ کا تین سالہ بیٹا سرداو جیوا سنگھ،جسے ابھی تک کچھ پتا نہیں چلا تھا کہ کون سی قیامت اُس کے سر سے گزر چکی ہے،کے ہاتھ میں جلتی ہوئی لام دے دی گئی تاکہ وہ سردار سودھا سنگھ کے گولیوں سے چھلنی بدن کو دکھا دے،جو سوکھی لکڑیوں کے درمیان بے خبر پڑا تھا۔

اِدھر سردار سودھا سنگھ کی لاش کا کریاکرم ہونے لگا،اُدھر لوئیس صاحب پولیس کو لے کر اپنی کارروائی کرنے کے لیے جلال آباد میں چوہدری غلام حیدر کی حویلی پر چڑھ دوڑا۔ چالیس سنتریوں اور تھانیداروں سمیت گھوڑوں نے پوری حویلی کو گھیرے میں لے کر اُس کا اپریشن شروع کر دیا۔ مگر وہاں دو ملازموں کے علاوہ کوئی موجود نہ تھا،جو حویلی کا دروازہ بند کرنے اور کھولنے کے لیے موجود تھے۔ لوئیس نے دونوں ملازم حراست میں لے کر کونے کونے کی تلاشی شروع کر دی۔ لیکن وہاں کچھ ہوتا تو ملتا۔ رات بارہ بجے تک لالٹینوں کی روشنی میں تلاشی جاری رہی۔ مگر ناکامی کے سوا کچھ ہاتھ نہ آیا۔ بالآخر لوئیس صاحب نے وہاں دو سنتری متعین کر کے اور دونوں ملازموں کو،جنہیں خود بھی کسی بات کا پتا نہیں تھا،اُنہیں اٹھا کر اپنے دفتر لے آیااور باقی کارروائی اگلے دن پر ڈال دی۔

لوئیس صاحب کے لیے معاملہ بہت گھمبیر ہو چکا تھا۔ اُسے یہ توقع ہرگز نہیں تھی کہ غلام حیدر اتنا بڑا قدم اُٹھا لے گا اور اِس میں اپنے نفع نقصان کو بالائے طاق رکھ دے گا۔ اِدھر اُسے ولیم صاحب سے انتہائی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جسے اُس نے مطمئن رہنے کا سرٹیفیکیٹ عطا کر دیا تھا۔ اب مجرم موجود نہیں تھا،جسے گرفتار کر لیا جاتا۔ جبکہ اُس کے تمام آدمی تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں ناجائزاسلحہ کے جرم میں بند پڑے تھے۔ اُن کا موقعہ واردات پر موجود ہونا ثابت نہیں ہو رہا تھا۔ پورا تھانہ گواہی دے رہا تھا کہ ِانہیں دو دن پہلے ناجائز اسلحے اور ایک دوسرے گروہ کے ساتھ دنگا کرنے کے جرم میں گرفتار کر کے فیروز پور عدالت میں پیش کرنے کے لیے چالان تیار کیا جا چکا ہے اور واقعہ کے عین روز اُنہیں پولیس کی حراست میں عدالت لے جایا جا رہا تھا کہ سردار سودھا سنگھ،شریف بودلہ،عبدل گجر اور دوسرے کئی آدمیوں کا قتل ہو گیا۔ لوئیس صاحب کو یہ بات ہضم نہیں ہورہی تھی۔ ضمیر شاہ کی انکوائری رپورٹ کے مطابق ایک یا دو بندے کس طرح اِتنے قتل اِس قدر قلیل وقت میں کر سکتے ہیں؟ مگروہ اُن بندوں کو وہاں کیسے ثابت کرے؟ جن کی خبر سردار سودھا سنگھ کے بھاگنے والے بندے دے چکے تھے۔ دوسری طرف سردار دیوے کھوہ کے مالک کے بیان کے مطابق بھی دو بندے تھے،جن کو وہ نہیں پہچانتا تھا۔ اُس نے بس اتنا دیکھا تھا کہ اُنہی دونوں نے ریفلوں سے فائرنگ کر کے اِن سب کو قتل کیا تھا اور اُن کے چہرے کپڑوں سے ڈھکے ہوئے تھے۔ اِس لیے پہچانے نہیں گئے۔ اِس بات کی تصدیق اِس سے بھی ہوتی تھی کہ عبدل گجر اور شریف بودلے کے قتل کے گواہوں نے بھی دو بندوں ہی کی تصدیق کی تھی۔ لوئیس صاحب جانتا تھا،کہیں دال میں کالا ضرور ہے۔ لیکن اتنی جلدی پتہ لگانا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی تھا۔ مگر اُسے پوری تحقیق کرنے کے لیے وقت بھی ملتا ہے کہ نہیں؟ اب اِس کا خطرہ موجود تھا۔ کیونکہ ولیم اب کسی بھی طرح کا رسک لینے کے لیے تیار نہیں ہوگا اور اُس کے خلاف کاروائی کر دے گا۔

تفتیش کو تیسرا دن تھا۔ کوئی سرا ہاتھ نہیں لگ رہا تھا۔ اُدھر ولیم شادی میں مصروف تھا۔ اور اِس وقت اُسے اِن کاموں میں اُلجھانا نامناسب ہی نہیں،اصولوں کے بھی خلاف تھا۔ اگرچہ لوئیس صاحب نے فیروزپور جا کر ساری بات ضلع پولیس افسر کے سامنے رکھ دی تھی اور اپنی پوزیشن واضح کر دی تھی۔ لیکن معاملہ اُلجھتا ہی جا رہا تھا۔ البتہ غلام حیدر کی پوری زمین اور جائداد قبضہ میں لے لی گئی اور تمام لوگوں کو خبردار کر دیا کہ جو اِس معاملے میں ملوث ہے،وہ خود کو گرفتاری کے لیے پیش کر دے ورنہ گورنمنٹ انتہائی سخت ایکشن لے گی۔ لیکن اِس کی نوبت نہیں آئی۔ کیونکہ اِس ہولناک واقعہ کی اطلاع جب ولیم صاحب کو پہنچی تو اُنہوں نے ڈپٹی کمشنرصاحب کو صاف لکھ دیا کہ یہ پولیس افسراُسے نہیں چاہیے۔ یوں ولیم کے تقاضے پر ڈی ایس پی جلال آباد مسٹر لوئیس صاحب کو دس دن کے اندر ہی تبدیل کر کے لدھیانے بھیج دیا گیا اور اُن کی جگہ لاہور سے تحصیل پولیس آفیسر مسٹر جان میلکم کو جلال آباد تعینات کر دیا گیا۔ جس کی سفارش کچھ دن پہلے سر شاہنواز نواب ممدوٹ نے بھی کی تھی۔ جان میلکم کے آنے کے بعد کیس کی تحقیق نئے سرے سے شروع ہو گئی۔ اُنہوں نے چند دنوں میں سودھا سنگھ کے قتل کے متعلق اپنی پچاس صفحات کی رپورٹ تیار کرلی۔ اُس کا خلاصہ کچھ یوں تھا۔

سودھا سنگھ اور شیر حیدر کے درمیان دیرینہ دشمنی چلی آرہی تھی،جودونوں طرف سے ایک دوسرے کے معمولی نقصان کرنے پرمنحصر تھی۔ یہاں تک کہ شیر حیدرفوت ہو گیا۔ اُس کا بیٹا غلام حیدر تعلیم کے سلسلے میں اکثر لاہور میں رہتا تھا اور اُس کے وہاں کافی بااثر دوست تھے،جن میں کچھ انگریز بھی تھے اور کچھ نواب حضرات۔ اِن لوگوں میں اُٹھنے بیٹھنے کی وجہ سے اُس کے اندر ایک قسم کی خود سری پیداہو گئی۔ جس کو ہوا اُس وقت ملی جب سودھا سنگھ نے شیر حیدر کے مرنے کے بعد فور اُس کی زمینوں پر حملہ کر کے ایک بندہ قتل کر دیا اور بیس ایکڑ مونگی کی فصل تباہ کر دی۔ اِس حملے کے بعد پولیس کی سُستی نے سودھاسنگھ کی مزید ہمت بندھائی۔ اُس نے شیر حیدر کے مزید دو دشمنوں عبدل گجر اور شریف بودلہ کے ساتھ مل کر ایک اور حملہ شاہ پور پر کر دیا،جو غلام حیدر کاآبائی گاؤں تھا۔ اِس میں غلام حیدر کے مزید تین بندے مارے گئے اور بہت سی بھینسیں لوٹ کر لے گئے۔ اسی بنا پرغلام حیدر نے جوابی حملے کا منصوبہ تیار کیا،جو انتہائی کامیاب رہا۔ لیکن اُس میں غلام حیدر نے اپنے بندوں کو استعمال نہیں کیا بلکہ ایک اور آدمی کا سہارا لیا،جس کا ابھی تک کوئی نام ونشان نہیں ملا۔ اُس کا پتا صرف غلام حیدر سے چل سکتا ہے لیکن وہ تا حال فرار ہے۔ پولیس اُسے گرفتار کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اُمید کی جاتی ہے جلدگرفتارکرلیاجائے گا۔ لیکن بعض اطلاعات کے مطابق وہ ایران نکل گیا ہے۔

(39)

مولوی کرامت پچھلے دو ڈھائی مہینوں سے اپنی گدھی پر گاؤں گاؤں اور بستی بستی پھرتا رہا۔ اِس سفر اور سفر میں مختلف لوگوں سے ملاقات میں مولوی کرامت کو بات چیت کرنے اور کام کرنے میں بہت تجربہ حاصل ہو گیا۔ اُس کی گدھی ایسی سواری تھی،جسے بغیر کسی خرچے کے جہاں چاہتا،لے کر نکل جاتا۔ راستے میں کسی نہ کسی کھیت سے اُس کے لیے مفت میں چارا بھی حاصل کر لیتا۔ کبھی تین تین دن واپس نہ پلٹتا،جہاں رات پڑتی سو جاتا اور لوگوں کو تعلیم کے فوائد سمجھانے اور اپنے بچوں کو سکول میں داخل کرنے کے متعلق ایسی ایسی دلیلیں پیش کرتا کہ وہ فوراً تیار ہو جاتے۔ حتیٰ کہ اب ان بچوں کی تعداد ہندو اور سکھوں کے بچوں کے نزدیک پہنچنے لگی تھی۔ مولوی کرامت نے سوچ لیا تھا،اگراُسے کچھ عرصہ اسی طرح کام کرنے دیا جائے تو وہ یہ تعداد آیندہ سال تک اِن سب سے زیادہ کر دے گا۔ اس کام میں مولوی کرامت کو سہولت بھی بہت تھی۔ نہ کوئی ڈیوٹی کا مقررہ وقت تھا اور نہ کسی کی پابندی تھی۔ کام کے سلسلے میں بات یہاں تک پہنچ گئی کہ جلال آباد سے دس دس میل دور سے بھی لڑکے سکول آنے کے لیے تیار ہو گئے۔

آج مولوی کرامت نے سکول میں حاضری دینا تھی۔ ایک ہفتے میں مولوی کرامت جتنے بچوں کو سکول میں داخل کرواتا تھا،ہفتے کے آخری دن اُنہیں سکول میں لا کر پکا اندراج کروا دیتا۔ اُس کے بعد وہ پڑھنا شروع کر دیتے۔ آج مولوی کرامت کے بستی جنڈوکا کے سولہ بچے ساتھ لے کر آیا تھا،جن کی عمر آٹھ سال سے لے کر بارہ سال تک تھی۔ مولوی کرامت انہیں نائب ہیڈ منشی کے حوالے کر کے،جب ہیڈ منشی کو سلام کرنے اُن کے کمرے میں پہنچا،تو وہ کمرے میں موجود نہیں تھا۔ البتہ اُس کے بابو نے مولوی کرامت کو اطلاع دی کہ اُسے تعلیم افسرتُلسی داس اپنے دفتر میں یاد فرماتے ہیں۔ مولوی کرامت اُسی گدھی پر سوار ہو کرڈرتے ڈرتے تحصیل ایجوکیشن افسر کے دفترپہنچا کہ نجانے حاکموں نے اُسے کیوں بلایا ہے؟ اللہ جانے وہ اُس کی خدمت سے خوش ہوئے ہیں کہ ناراض۔ اوراب نوکری برقرار رہ سکے گی کہ نہیں؟ پچھلے تین مہینے کی تنخواہ مولوی صاحب کو مل چکی تھی،جسے وہ جودھا پور میں اپنی بیوی شریفاں کے حوالے کر آیا تھا۔ بلکہ اب جلال آباد میں گھر کے لیے اپنی جگہ بھی مول لینے کی سوچ رہا تھا۔ وہ پہلا مہینہ غلام حیدر کی حویلی میں عزت سے رہ رہا تھا لیکن وہاں انتہائی خوف میں مبتلا تھا۔ بڑی بڑی مونچھوں اور سُرخ انگارہ آنکھوں والے گبرو جوانوں سے حویلی بھری رہتی تھی،جن کو دیکھنے ہی سے اوسان خطا ہو جاتے۔ اس کے ساتھ،ہر طرف ڈانگوں،برچھیوں اور تلواروں کا معاملہ تھا اور لڑائی بھڑائی کی باتیں،جن سے مولوی کرامت کوسوں دور بھاگتا۔ وہ سوچتا تھا،جانے کس وقت حملہ ہو جائے اور وہ اپنے ثالے کی طرح مفت میں مارا جائے۔ اس کے علاوہ نہ کسی کو نماز روزے سے غرض تھی اور نہ اس بات سے کہ اُن کے درمیان ایک مولوی رہ رہا ہے۔ چنانچہ وہ پہلی تنخواہ ملنے کے فوراً بعد وہاں سے اُٹھ کر چار روہے کرایہ کے ایک کمرے میں اُٹھ آیا تھااور شکر خدا کا یہ جگہ اُس نے سودھا سنگھ کے قتل سے پہلے ہی تبدیل کر لی تھی ورنہ مفت میں مارا جاتا۔ اب ایک مصیبت جو سب سے اہم تھی،مولوی کرامت اپنی بیوی شریفاں کے بغیر آج تک کہیں ایک رات بھی نہیں رہا تھااور اب اُسے پورے تین مہینے ہو گئے تھے۔ مولوی نے سوچا تھا،اُس کی تین مہینوں کی تنخواہ اور جو قصور سے آتے ہوئے کچھ پیسے جمع ہوگئے تھے،اُن سب کو ملا کر جلال آباد کے اندر نہ سہی،شہر کے مضاف میں تو پانچ چھ مرلے کی جگہ مل ہی سکتی ہے۔ جہاں باقی روپوں کا ایک دو کمرے کا مکان بن جاتا۔ اُس کے لیے مولوی کرامت نے سوچ رکھا تھا،کچھ پیسے وہ رحمت بی بی سے لے گا۔ لیکن اب اس کھتری افسر نے اُسے کیوں بلایاتھا؟اگر اُس نے نوکری ختم کردی تو سارا معاملہ ہی چوپٹ ہو جائے گا۔ اُدھر راڑے والوں نے بھی کوئی نہ کوئی مولوی رکھ لیا ہو گا۔ ہاتھ سے مسجد بھی جائے گی،حالانکہ وہ کام تو اپنی بساط سے زیادہ ہی کر رہا تھا۔ اُس کے لیے اُسے دوسرے ملاؤں اور مسلمانوں سے غدار،کرسٹان اور کس کس قسم کے طعنے سننے پڑتے ہیں۔ مولوی کرامت نے سوچا،کیا ہی اچھا ہو،اگر گورنمنٹ اُسے آرام سے تنخواہ دیے جائے اور وہ کام کیے جائے۔ لیکن یہ بیچ میں جو بابو لوگ ہیں،یہ بہت چالاک ہوتے ہیں۔ بُری بُری باتیں کر کے افسروں کا دماغ خراب کر ہی دیتے ہیں اور یہ افسر بھی کتنے معصوم ہوتے ہیں،جو بابووں کی ایسی ویسی باتوں میں آکر غریبوں کی نوکری چھین لیتے ہیں۔ اس سے تو اچھا ہے،پہلے نوکری ہی نہ دیں۔ مولوی کر امت کسی انجانے خوف میں یہ سوچتا جاتا تھا اور چلا جاتا تھا۔

سچ بات تو یہ تھی،مولوی کرامت کو صرٖ ف اب تحصیل کے سب سے بڑے فرنگی افسر ولیم صاحب سے ہی ملنا اچھا لگتا تھا۔ کتنا نیک دل افسر ہے،جس نے بغیر سفارش کے،اُسے اتنی بڑی نوکری دے دی لیکن نجانے وہ ایک دفعہ اُسے نوکری دے کر بھول کیوں گیا تھا؟دوبارہ کبھی بلایا ہی نہیں اور نہ کوئی حساب کتاب لیا۔ مولوی کرامت جانتا تھا،دوسرے منشی اور تعلیم کا تحصیل افسر اُس کے کام سے جلتے تھے اور کسی بھی وقت اُسے نوکری سے نکلواسکتے تھے۔ اِسی اندیشے کے تحت اُس نے پہلے بھی ایک دو دفعہ بڑے صاحب سے ملاقات کرنے کی کوشش کی لیکن اُسے صاحب کے کمرے میں داخل ہی نہیں ہونے دیا گیا تھا۔ بلکہ ایک مرتبہ جب صاحب اپنے دفتر سے نکل کر بنگلے کی طرف جا رہا تھا اور وہ صاحب کو اپنا چہرہ دکھانے کے لیے دو پہر سے دفترکی راہ داری کے باہر کھڑا تھا۔ اُس وقت بھی نہ صاحب نے اُس پر توجہ دی تھی اور نہ ہی کسی نے اُسے آگے ہونے کے لیے رستہ دیا تھا۔ سارے بابوؤں اور پولیس والوں نے رستہ ہی روک لیا۔ پھر بھی اُسے صاحب کی نیک دلی پر پورا یقین تھا لیکن تعلیم افسر تو ایک کھتری ہی تھا،جو شکل ہی سے مسلمانوں کا دشمن نظر آتا تھا۔

یہ سب سوچتا ہوا مولوی کرامت تُلسی داس کے کمرے کے باہر پہنچا تو تھر تھر کانپ رہا تھا۔ وہ باہر ایک بنچ پر ہی بیٹھ گیا،یہاں تک کہ اپنے آنے کا اندر پیغام بھی نہ بھیجا۔ نہ ہی کسی نے مولوی کرامت سے پوچھا،کہ وہ کس لیے آیا ہے؟ مولوی کرامت کو بیٹھے بیٹھے کافی دیر ہو گئی۔ دوپہر کے کھانے کا وقت ہوگیا تو ایک بابو نے بالآخر مولوی سے پوچھ ہی لیا کہ وہ کون ہے اور کس لیے آیا ہے؟ اُس کے جواب نے مولوی کرامت نے وہ رقعہ نکال کر بابو کو تھما دیا،جو اُسے صبح سکول میں حاضری کے وقت نائب ہیڈ منشی ہری چند نے دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ خط تعلیم افسر کے دفتر سے آیا ہے اور آپ کو حاضر ہونے کو کہا ہے۔ بابو نے رقعہ دیکھ کر اپنی عینک،جو ایک میلی ڈوری سے باندھ کر گلے سے لٹکائی ہوئی تھی،اُٹھا کر آنکھوں پر لگائی اور رقعہ پڑھنے لگا۔ رقعہ پڑھ کر ایک نظر اُس نے مولوی کرامت کو دیکھا اور بولا،مولوی صاحب،کچھ دیر یہیں بیٹھو۔ وہ رقعہ لے کر تُلسی داس کے کمرے میں داخل ہو گیا۔ مولوی کرامت دوبارہ اُسی بنچ پر بیٹھ گیا۔ اس گرمی کے موسم میں صبح سے دوپہر تک مولوی کرامت کا بھوکا پیا سا بیٹھنا ایک عذاب سے کم نہ تھا۔ لیکن حکم حاکم مرگ مفاجات والا معاملہ تھا۔ ابھی مولوی کرامت سوچ رہا تھا،خدا جانے کب اِس ہندو کھتری کے ہاں پیشی ہو گی کہ اُسی بابو کی آواز مولوی کرامت کے کان میں پڑی،مولوی صاحب،اندر چلو صاحب نے بلایا ہے۔ مولوی کرامت اُٹھا اور جلدی سے سورہ الناس پڑھتا ہوا کمرے میں داخل ہو گیا۔ سورہ پڑھ کر دل ہی دل میں میز کی دوسری طرف بیٹھے تلسی داس کے اُوپر پھونک مار دی۔ مولوی کو دیکھتے ہی تُلسی داس ہلکے سے مسکرایا اور ایک کُرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا،آؤ مولوی کرامت بیٹھو۔

مولوی کرامت جھجکتے ہوئے کُرسی پر بیٹھ گیا اور ٹک ٹک تُلسی داس کی طرف دیکھنے لگا،لیکن منہ سے کچھ نہیں بولافقط سلام کیا۔ سلام کے جواب میں تلسی داس نے رام رام کہا اور بولا،مولوی صاحب کیسا چل رہا ہے کام؟

جی سرکار کی مہربانی سے میں تو اپنی محنت کر رہا ہوں،باقی اللہ مالک ہے،مولوی کرامت بولا،سو بچوں کو سکول میں داخل کروا چکا ہوں،صرف دو مہینوں میں۔ میں تو جی مسجدوں میں جا کر اور لو گو ں کے گھر گھر جا کر بڑی محنت سے کام کر رہا ہوں۔ لوگ حجتیں بہت کرتے ہیں۔ پر مَیں بھی اُن کو حدیثیں سنا سنا کر قائل کر ہی لیتا ہوں۔

مولوی صاحب،آپ کو زیادہ مشکل تو نہیں پیش آتی اس معاملے میں؟ تُلسی داس نے مولوی کرامت کی طرف دیکھ کر اور اپنی چُندیا پر ہاتھ پھیرتے ہوئے مربیانہ سے انداز میں پوچھا۔

مہاراج،آپ کی دیا سے کچھ مشکل نہیں،مولوی نے داڑھی کھجاتے ہوئے جواب دیا،اگر سرکار تنخواہ دیتی ہے تو کام تو ایمانداری سے کرنا چاہیے۔ بس یہاں ابھی اکیلا ہوں۔ جودھا پور روز روز جایا نہیں جاتا،سوچتا ہوں کسی طرح بال بچوں کو یہا ں لے ہی آؤں پھر بے فکری سے کام کروں۔

تُلسی داس نے مولوی کرامت کی بات سن کر کہا،مولوی صاحب کمشنر صاحب کو آپ کے کام کی رپورٹ کردی گئی تھی۔ وہ آپ کے کام سے بہت خوش ہیں۔ اسی خوشی میں آپ کے لیے ایک حکم فرمایا ہے،جس کے تحت تحصیل کمپلیکس میں آپ کے رہنے کے لیے ایک گھر دے دیا جائے گا،جہاں تم اپنے بیوی بچوں کو لا سکتے ہو۔ اب تم گورنمنٹ کے پکے ملازم ہو اور بے فکری سے کام کرو۔ مکان تم کو جب تک دیا جائے گا،جب تک گورنمنٹ کے ملازم رہو گے۔ اُس میں ہر سہولت موجود ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی تم پر ایک ذمہ داری اور بھی بڑھ گئی ہے۔

وہ کیا سرکار؟مولوی کرامت خوشی سے کانپتے ہوئے بولا،مہاراج آپ جو کام بھی دیں گے, میں حاضر ہوں۔ سرکار مجھ پر اتنی مہربان ہے تو میں کیسے اُن کے کہے پر عمل نہ کروں گا۔

مولوی صاحب،اب آپ تین دن سکول میں پڑھائیں گے اور تین دن جلال آباد سے باہر جا کر دوسرے گاؤں کے لوگوں کو اس کام پر اُکسائیں گے۔ اس کام کے لیے آپ مزید چارایسے مولوی ڈھونڈیں،جن کو گورنمنٹ آپ ہی کی طرح تنخواہ دے گی،لیکن اُن کی نگرانی تم خود کرو گے اور ہمیں رپورٹ کیا کرو گے۔ اس معاملے میں تم کو اختیار ہے،جو مولوی مناسب سمجھو،انہیں گورنمنٹ میں ملازمت دلوا سکتے ہو،لیکن یہ کام جلدی ہونا چاہیے۔ ان چھ مہینوں میں ہم سکولوں کی تعداد دُگنی کر رہے ہیں۔ جس کے لیے کم ازکم مسلمان بچوں کی تعداد تین سو ہو جانی چاہیے۔ اس کے بعد تُلسی داس نے اُسی بابو کو اپنے کمرے میں بلایا اور کہا،میکا رام،یہ مولوی صاحب وہی ہیں،جن کے لیے مکان کا بندوبست کیا گیا ہے۔ آپ اُس کی کنجیاں مولوی صاحب کو دے دیں۔ اِس کے بعد تُلسی داس نے اُٹھ کر مولوی کرامت کو ہاتھ جوڑکر رام رام کہا۔ جس کا مطلب تھا کہ مولوی کرامت اب جا سکتا ہے۔

میکا رام نے کہا،آئیے مولوی صاحب اور آگے چل دیا۔ باہر نکل کر اُس نے میز کی دراز سے کچھ چابیاں نکالیں اور ایک چوکیدار کو آواز دی،جو تیس سال کا مسلمان لڑکا ہی تھا۔ اُسے کچھ سمجھاتے ہوئے کہا،میاں دُلًے،یہ کنجیاں لے جاو اور کونے والے سیتا رام کے سامنے والا گھر مولوی صاحب کو دکھا آؤ۔ اُس کے بعد مولوی صاحب سے کہا،جائیے مولوی صاحب،یہ آپ کو گھر دکھا آتا ہے۔ پھر مسکرا کر آنکھ دباتے ہوئے دوبارہ بولا،کوئی بڑی سفارش ڈھونڈی ہے مولوی جی آپ نے۔ کبھی ہما ری بھی سفارش کروا دیں۔

مولوی کو اپنے اُو پر گورنمنٹ کی اتنی نوازشات کی سمجھ نہیں آ رہی تھیں۔ اُسے بس اتنا پتا تھا،اُس نے کوئی بہت بڑا نیکی کا کام کر دیا ہے،جس کا خدا اُس کو یہ صلہ دے رہا ہے۔ وہ بھی کرسٹان اور ہندوبنیے کے ہاتھوں۔ مولوی کرامت نے سوچا،ایساتو پہلے بھی ہوا ہے،خدا اپنے بندوں کو دشمنوں کے ہاتھوں سے ہی فایدہ دلواتا ہے۔ جس کی مثال موسیٰ اور فرعون کے باب میں صاف دیکھی جا سکتی ہے۔ مکان اور ترقی حاصل ہونے کی اتنی بڑی خوشی مولوی صاحب کے قدموں کو اُڑا اُڑا رہی تھی۔ اُس کا جی چاہ رہا تھا،ابھی جودھا پور پہنچ کر یہ خبر شریفاں کو دے۔ لیکن جودھا پور جلال آباد سے پورے اَٹھارہ کوس ہونے کی وجہ سے وہاں جانے سے قاصر تھا۔ جبکہ جلال آباد میں مولوی کرامت کاکوئی رشتے دار نہیں تھا،جس کو یہ خبر سناتا۔

کچھ دیر پیدل چلنے کے بعد ایک چوڑی سی گلی کے آخری کونے پر پہنچ کر،جہاں سے آگے یہ گلی بند ہو جاتی تھی،ایک مکان کے سامنے دُلا چپڑاسی رُک گیا اور بولا،لایے مولوی صاحب،پانچ روپے مٹھا ئی کے اور یہ کنجیاں لے کر دروازہ کھول لیں۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ گھر کو دیکھا تو دنگ رہ گیا۔ اِتنا اچھا اور پکا گھر تو اُس نے خواب میں بھی نہیں دیکھا تھا لیکن پانچ روپے کا سُن کر مولوی کو غصہ آ گیا۔ مولوی کرامت نے کہا،بھائی پانچ روپے کس بات کے،؟ مجھے تو بڑے بابو صاحب نے کہا تھا کہ گھر مفت ملے گا۔
دُلًے نے عورتوں کی سی طعنہ زنی کرتے ہوئے کہا،واہ مولوی صاحب بھلا اس گھر کی قیمت پانچ روپے ہے؟ یہ پانچ روپے تو مٹھائی کی قیمت ہے۔ گھر تو آپ کو مفت ہی ملا ہے،میکا رام نے کہا تھا،مولوی صاحب سے مٹھا ئی کے پانچ روپے لیے بغیر گھر کی کنجیاں نہیں دینی۔ یہ پیسے کوئی میں نے تو نہیں رکھنے۔ آپ شکر کریں،آپ کو گھر مل رہا ہے۔ باقی بھلا کسی کو اس طرح کبھی گھر ملا ہے؟ کنجیاں تو تب ہی ملیں گی جب پانچ روپے دو گے،ورنہ اور بہت سے لوگ اس گھر کو لینے والے موجود ہیں،جو پچاس پچاس دینے کو بھی تیار ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ بڑے افسر کے پاس بڑی سفارش پہنچ جائے اور وہ یہ گھر کسی دوسرے کے نام جاری کرنے کا حکم فرما دے۔ پھر آپ منہ دیکھتے رہ جاؤ گے۔ وہ تو میں نے بھی اپنے تُلسی داس صاحب سے آپ کی سفارش کی تھی،جس کی وجہ سے یہ مکان آپ کے نام الاٹ ہو گیا۔ اگر آپ کی نہیں مرضی تو واپس چلے چلتے ہیں۔ جا کر میکا رام کو کہ دوں گا،مولوی صاحب کو آپ کی شرط منظور نہیں۔

مولوی کرامت دُلے کی بات سُن کر خاموش سا ہو گیا اور سوچنے لگا،اگر مَیں نے پیسے نہ دیے تو شاید یہ گھر نہ ملے۔ کیوں کہ جب نوکری ملی تھی تب بھی پانچ روپے مٹھا ئی کے دیے ہی تھے پھر مَیں فایدے میں ہی رہا۔ جب مَیں وہ پانچ روپے مٹھا ئی کے بھول چکا ہوں تو یہ پانچ روپے بھی دے ہی دو ں۔ کہیں بڑے صاحب کے سامنے میری بُرائی کر کے یہ بھی نہ لینے دیں۔ یہ سوچتے ہوئے مولوی صاحب نے اپنی ناف سے بندھی روپوں کی تھیلی کھولی اور گن کے پورے پانچ روپے کے سکے دُلے کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ اتنے زیادہ پیسے دیکھ کر دُلے کی آنکھیں چمک گئیں،تیر عین نشانے پر بیٹھا تھا۔ اُس نے جلدی سے چابیاں نکال کر مولوی کے ہاتھ پر رکھ دیں۔

گھر ملنے کے دوسرے دن بعد ہی مولوی کرامت جودھا پور گیا۔ پھر تیسرے دن ہی جو کچھ مال اسباب تھا،لپیٹا،شریفاں،فضل دین،رحمت بی بی اور اُس کی یتیم بیٹی کو لے کر جلال آباد کے نئے گھر میں آن داخل ہوا۔ مولوی کرامت کی صرف تین مہینوں کی محنت نے یہ رنگ نکالا تھا کہ جلال آبادکے مرکزی اسکول میں ہی مسلمان بچوں کی تعداد پندرہ سے بڑھ کر ایک سو دس ہو گئی تھی۔ جس کا صلہ مولوی صاحب کو یہ ملا کہ اُسے اسسٹنٹ کمشنر ولیم کی منظوری سے جلال آباد تحصیل کمپلیکس میں ہی ایک تین کمروں کا کوارٹر رہنے کو مل گیا۔ جس میں اور تو اور پانی کا نلکا بھی لگا ہوا تھا اور گھر بھی پورے کا پورا پکی اینٹوں سے بنا تھا اور کرایہ اُس کا صرف تین روپے ماہانہ تنخواہ سے کٹنا تھا۔ گھر کے سامنے ایک ٹاہلی کا درخت بھی تھا۔ سب سے بڑی بات یہ تھی کہ گھر پکا ہونے کی وجہ سے مولوی کرامت کی بیوی کو روز روز بھوسے میں گُندھی ہوئی مٹی سے اُس کی دیواروں اور چھت کو لیپنا نہیں پڑنا تھا،جو کچی اینٹوں اور مٹی گارے سے بنے گھروں میں روز روز کا سیاپا تھا۔ اس طرح کے کچے گھر بارشوں کے موسم میں مصیبت بن جاتے ہیں۔ یہ پہلا رعب تھا،جو حقیقت میں مولوی کرامت شریفاں پر ڈالنے کے لائق ہوا تھا۔ شریفاں کے ساتھ اب اُس کی نند رحمت بی بی اور رحمت بی بی کی یتیم بیٹی بھی تھی۔ اِن کے علاوہ فضل دین تو موجود ہی تھا۔ رحمت بی بی سے نہ مولوی کرامت اور نہ ہی شریفاں نے کوئی بات کی تھی لیکن یہ قصہ خموشی سے طے ہو چکا تھا کہ رحمت بی بی کی بیٹی کا فضل دین سے اب نکاح ہونا لازمی قرار پا چکا ہے،جس کا بس اشارہ ہی رحمت بی بی کے لیے کافی تھا۔ اُس کے لیے اِس سے بڑھ کر اب کون سی بات تھی کہ جب چراغ دین قتل ہوا تو اُن ماں بیٹی کا دور دور تک کوئی پُرسان حال نہیں تھا۔ یہ مولوی کرامت ہی تھا،جس نے آخری وقت پر اُن کو سہارا دیا۔ یہاں تک کہ وہ اُنہیں جودھا پور کے اکیلے پن سے نکال کر تحصیل جلال آباد اپنے ساتھ لے آیا تھا۔ لہذا رحمت بی بی جس قدر بھی مولوی کرامت کی شکر گزار ہوتی،وہ کم تھا۔

تحصیل کمپلیکس عین ریلوے اسٹیشن کے قریب تھا،جس میں مولوی صاحب اور اُس کی فیملی کو ولیم کی برکت سے رہنے کو اب ایک مکان بھی مل گیا تھا۔ کمروں میں اینٹوں کا فرش بھی لگا ہوا تھا۔ اب اُنہیں کہیں اور سے پانی ڈھونے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مولوی یا اُس کی بیوی جب چاہتے وضو کر سکتے تھے،نہا سکتے تھے اور وہی پانی پی بھی سکتے تھے۔ مولوی کرامت،فضل دین اور دونوں عورتوں نے مل کر اونٹ گاڑی سے سامان اُتارااور اُسے ترتیب سے گھر میں رکھتے گئے۔ گھر دیکھ کرشریفاں کے دیدے کھلے ہوئے تھے،جو اَب گھر کی مالکن ہونے کے ناتے ہدایات بھی دے رہی تھی کہ فلاں چیز اِدھر رکھو،فلاں چیز اُدھر رکھو۔ چیزیں کیاتھیں،تین چارپائیاں کچھ بسترے،کھانے کے چند ایک برتن،دو لکڑی کے صندوق،جن میں سلوٹوں سے بھر ے ہوئے کپڑے اور کچھ شادی کے وقت کی باقیات جمع تھیں اور بس۔ یہی کچھ دونوں گھروں کا اثاثہ تھا،جو ایک ہی گھر میں جمع ہو کر بھی اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکا تھا۔ اس گھر میں تین کمروں کے علاوہ اچھا خاصا صحن بھی تھا۔ موسم گرمیوں کا تھا۔ اِس لیے چارپائیاں رات کو صحن میں ہی بچھائی جانی تھیں۔ البتہ دن کے وقت اُنہیں کمروں میں منتقل کیا جاسکتا تھا۔ گھر میں موجود ٹاہلی کے درخت نے یہ مشکل بھی دور کر دی۔ سورج کی گرمی سے بچنے کے لیے دن کو چارپائیاں ٹاہلی کے سائے میں بچھائی جا سکتی تھیں۔ صحن کچا تھااور اُس میں گھاس پھونس اتنا اُگا تھا کہ گرد غبار بالکل نہیں تھا۔ گھاس کاٹنے کی ضرورت تھی،جو فضل دین آرام سے کر سکتا تھا۔ مولوی کرامت نے سامان اُتروا کر اونٹ گاڑی والے کو پیسے دے کر رخصت کیا۔ کچھ دیر بیٹھ کر آرام کیااور عصر کے وقت جب گرمی کا کچھ زور تھما تو دونوں عورتوں کو گھر پر چھوڑفضل دین کو لے کر جلال آباد کے بازار میں چلا آیا تاکہ کھانے پکانے کے لیے دال،چاول،آٹا اور گھی وغیرہ خرید لے۔ بازار جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے،کوئی خاص نہیں تھا۔ ٖفضل دین نے تو خیر کبھی نہیں،البتہ مولوی کرامت نے تو قصور کابازار دیکھا ہی تھا۔ وہ اِس سے کہیں بڑا تھا۔ پورے جلال آباد میں ایک ہی بازار تھا۔ کوئی دو سو گز لمبی اور بارہ گز چوڑی سڑک تھی۔ جس کے دونوں طرف کچی پکی اور لکڑی کے بڑے تختوں والی چند ایک کھلی کھلی دکانیں تھیں۔ دکانوں کے بنیروں کے اُوپر دورویہ بانس کی لکڑیاں ڈال کراُن کو رسیوں سے باندھ دیا گیا اور اُوپر کٹی پھٹی ترپالیں بچھا دی گئیں تاکہ بازار سے گزرنے والوں پر دھوپ نہ پڑے جو مئی،جون،جولائی میں اتنی بڑھ جاتی کہ ننگے سر والوں کی چیں بول جائے۔ تر پالیں دوکانداروں نے خود ہی اپنے خرچے سے ڈال کر بازار میں چھاؤں بنا رکھی تھی۔ اِس میں دوکانداروں کی یہ حکمت بھی تھی کہ زیادہ تر سودادوکان سے باہر ہی پڑا ہوتا تھا۔ ایک تو اُس پر سایہ ضروری تھا۔ دوسرا اُس سودے کو آکر دیکھنے یا خریدنے والادھوپ کی شدت سے بچ کر آرام سے سودے کو ملاحظہ کر سکتا تھا۔ اگر گاہک کو مسلسل دھوپ تنگ کر رہی ہو،تووہ جلد ہی کھسکنے کی کرتا ہے اور دوسری دوکان میں داخل ہو جاتا ہے۔ دکاندار،جس قدر زیادہ امیر ہوتا،اُس کی دکان کے اُوپر ترپال اتنی ہی اچھی ہوتی۔ مولوی کرامت نے ایک دفعہ پورے بازار کا ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک چکر لگا یا۔ فضل دین کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بازار میں کس لیے آئے تھے کیونکہ نہ تو اُس نے پچھلے دو تین مہینوں سے روٹیاں اکٹھی کی تھیں،جو بیچنا ہو اور نہ ہی فضل دین کے خیال کے مطابق مولوی کرامت کے پاس پیسے تھے،کہ ٹانگر یا کھجوریں خریدنی ہوں۔ وہ حسرت بھری نگاہوں سے دوکانوں کو دیکھتا جاتا۔ جہاں سے اکثر سکھ،ہندو اور مُسلے کچھ نہ کچھ خریداری کر رہے تھے یا بیچ رہے تھے۔ بازار میں زیادہ تر عورتیں تھی۔ بوڑھی،جوان،سبھی قسم کی۔ اِن میں سکھ اور مسلمان عورتوں کے لباس گفتگو اور چال ڈھال میں کچھ فرق نہیں تھا۔ اکثر عورتوں نے لہنگے اور کگھرے پہنے ہوئے تھے اور اُن کگھروں کے آزار بندوں کے ساتھ اُن کے گھروں کے صندوقوں اور کمروں کی چابیاں لٹکی چھن چھن بجتی جا رہی تھیں اور بازار میں اِن عورتوں کے چلنے سے ایک قسم کے ساز میں اضافہ ہو جاتا تھا۔ بازار کے آخری کونے پر جا کر جہاں اب سوائے دھوپ کے آگے کوئی شے نظر نہیں تھی،مولوی کرامت واپس پلٹا اور ایک کھتری کی دوکان پر رُک گیا۔ وہ ضرور کسی مسلمان کی دوکان پر رُکتالیکن وہاں مسلمان کی دوکان تو ایک طرف،کسی مسلمان نے چھابڑی تک نہیں لگائی تھی۔ دکانوں کے مالک اکثر ہندو تھے،۔ چھابڑیاں سکھوں نے لگا رکھی تھیں۔ چھابڑیوں میں بھی زیادہ تر چِبڑ، رینڈیاں، تربوز، تریں اور اِسی طرح کی سستی اشیا آنے کی تین کلو بکنے والی تھیں۔ پھل تو کسی کے پاس نہیں تھا۔ البتہ سڑے ہوئے دیسی آم اور کچے پکے کیڑوں والے امرودوں کی الگ بات تھی۔ جنہیں دیکھ کر مولوی کرامت نے سوچ لیا کہ جاتے ہوئے کچھ نہ کچھ اِن اَمرودوں اور کھجوروں میں سے رحمت بی بی اور شریفاں کے لیے لے جائے گا۔ قصہ مختصر اُس نے کھتری سے ایک آنے کا دیسی گھی،دو آنے کی دال اور اِسی طرح کچھ دوسری چیزیں خرید کر دو روپیہ کا پورا گٹو بھر کے فضل دین کے سر پر رکھ دیا۔ تھوڑی دُور چل کر مولوی کرامت کے دل میں خیال آیا،وہ پیچھے مُڑا اور ایک آنے کا ٹانگر،امرود اور کھجوریں بھی خرید لیں۔ اُس میں سے تھوڑا سا ٹانگر مولوی کرامت نے فضل دین کو بھی دے دیا،جسے پا کر اُس کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ گٹو سر پر اُٹھائے ٹانگر چبانے لگا اور مولوی کرامت کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔ ۔ مولوی کرامت اب سر پر کُلے دار پگڑی رکھے اور ہاتھ میں عصا تھامے بازار کے بیچوں بیچ بڑی طمطراقی سے چل رہا تھا۔ خشک چمڑے کی جُوتی میں آواز تو پیدا نہیں ہو رہی تھی لیکن اُس کی کھدر کی سفید چادر اور کُرتے کے نیچے جوتی کا ہونا ہی اِس بات کی دلیل تھی کہ اب وہ عوام سے نکل کر اَشراف میں داخل ہو رہا تھا۔ عوام میں تو اکثر کے پاس جوتی نہیں تھی یا چادر کی بجائے ڈیڑھ گز کی دھوتی ہوتی تھی اور گلے میں قمیض کے بدلے میں فقط جانگیہ ہوتا،جس کے ہاتھ بھر کے سلوکے ہوتے۔ اَصل میں مولوی کرامت کی زندگی میں یہ پہلا دن تھا،جب اُس نے بازار سے پیسوں کے ذریعے خریدار ی کی تھی۔ ورنہ اُسے کبھی اِس طرح کی شاہانہ کاروائی کا موقع نہیں ملا تھا۔ وہ ہمیشہ یہی سوچتاتھا،جو لوگ بازار سے خریداری کرتے ہیں،وہ یا تو ذیلدار ہوتے ہیں یا بابو لوگ۔ اُسے یہ تصور ہی نہیں تھا،ایک دن وہ خود منشی بن جائے گا اور جلال آباد کے بازار سے گھر کے لیے سودا سلف خریدا کرے گا۔ اور اب تو یہ موقع اُسے ہر روز یا جب چاہے مل جایا کرے گا۔ کیونکہ اب وہ بھی ایسی سرکار کا نوکرتھا جو بہت امیر تھی۔ سرکار اُسے اُس کی تنخواہ ہر ماہ اب ضرور ہی دے دیا کرے گی،جس میں وہ زیادہ پیسے بچا کر رکھ لیا کرے گا اور کچھ کا سودا سلف خرید لیا کرے گا۔ اِسی رو میں اُس کا دماغ کہیں کا کہیں جا نکلا۔ جامع مسجد جلال آباد کے پاس سے گزرتے ہوئے ایک خیال پیدا ہوا،اگراُسے منشی گیری کے ساتھ اِس مسجد میں امامت کا کام بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ ہو جائے گا۔ اِس طرح آمدنی بھی دگنی ہو جائے گی اور مسجد میں پُرانی خدمت بھی بحال ہو جائے گی۔ لیکن اِس کے لیے اُسے اِس مسجد کے پہلے امام کا کوئی بندوبست کرنا ہو گا۔ بہتر یہ ہے کہ اُسے منشی بنوا کر منڈی گرو ہر سا بھجوا دوں اور یہاں کی امامت خود لے لوں۔ مگر پہلے اچھی طرح سے یہاں کے نمازیوں کے ساتھ علیک سلیک بڑھانی ہوگی۔ جس کے لیے ضروری ہے کہ دو چار مہینوں کے لیے مفت میں کچھ لیے دیے بغیر ہی لوگوں کے مُردوں کو نہلا دیا کروں یا اُن کی قبروں پر جا کر فاتح خوانی کر آیا کروں،یا کبھی صبح اور عشا کی اذان دے دی جائے۔ پھر آہستہ آہستہ لوگ خود ہی اُس کی طرف رجوع کر لیں گے۔ جب لوگ اُس پر مکمل اعتماد کر لیں تو اِس امام کو گورنمنٹ سے نوکری دلوا کر کہیں اور بھجوا دوں گا۔ اِس طرح کسی کو محسوس بھی نہ ہو گا اور مسجد بھی ہاتھ میں آ جائے گی۔ اِس کے بعد فضل دین کی شادی رحمتے کی بیٹی ہاجرہ سے ہو جائے تو چراغ دین کے نام،جو غلام حیدر نے دس ایکڑ زمین نام کروائی ہے،وہ بھی اُنہیں مل جائے گی۔ یہ بھی ہو سکتاہے،وہ خود رحمت بی بی سے نکاح کر لے،توسارا معاملہ بالکل ہی سیدھا ہو جائے لیکن اُسے فوراً شریفاں کا غصے سے سُرخ ہوتا ہوا چہرا دکھنے لگا۔ اُس نے ایک جھر جھری لے کر یہ خیال جلد ہی دماغ سے جھٹک دیا اور بازار سے گزرتے ہوئے لوگوں کو سلام علیکم کہنے لگا۔ اب تھوڑی دیر میں مولوی صاحب کا گھر آنے والا تھا۔ اُس نے خدا کا شکر ادا کیا کہ خدا دِلوں کے بھید کسی دوسرے پر نہیں کھولتا۔ ورنہ اگر آج اُس کے رحمتے سے شادی والے خیال کو شریفاں جان جائے تو ابھی گھر میں صفِ ماتم بچھ جائے بلکہ وہ گھر میں داخل ہی نہ ہو سکے۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

نولکھی کوٹھی - چھبیسویں قسط

علی اکبر ناطق: ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔

نولکھی کوٹھی - اٹھارہویں قسط

علی اکبر ناطق: مولوی کرامت نے اپنا وار کار گر ہوتے دیکھا تو مزید اُس پر جملہ کسا،تو اور کیا؟ پھر سو باتیں ایسی ہوتی ہیں کسی غیر کو نہیں بتانی ہوتیں،جس سے خط پڑھواتے ہیں وہ اُنہیں بھی جان جاتا ہے اور گھر کی بات خواہ مخواہ باہر نکل جاتی ہے۔ پھر یہ ہندو اور چوہڑے تو ہمارے ویسے بھی دشمن ہیں۔ بھائی تعلیم بہت ضروری ہے۔

نولکھی کوٹھی - چودہویں قسط

علی اکبر ناطق: ہیلے ولیم کے اس جواب سے ہلکا سا مسکرا دیا اور دوبارہ بولا،ولیم جانتے ہو؟ مجھے اُس وقت اپنی خوشامد اچھی لگتی ہے جب کوئی میرا انگریز جونیر کرتا ہے ورنہ دیسی افسر تو بنے ہی خوشامد کے لیے ہیں۔