نولکھی کوٹھی - بتیسویں قسط

نولکھی کوٹھی - بتیسویں قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

نولکھی کوٹھی کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(54)

اوکاڑہ تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کے آتے ہی کمپلیکس میں تبدیلیاں رونما ہو نے لگیں۔ یہ شہر منٹگمری کی سب سے بڑی تحصیل تھی،جو ایک طرف ہیڈ سلیمان کی تک پھیلی تھی،تودوسری طرف اِس کا رقبہ قادر آباد تک تھا۔ جبکہ شمال میں دریائے راوی تک چلی جاتی تھی۔ جتنا زیادہ اِس کا رقبہ تھا،اُسی قدر آبادی اور زرعی لحاظ سے پنجاب کی تمام تحصیلوں کی نسبت خو شحال بھی تھا۔ ہر طرف بہتی نہریں اور چلتے پانیوں میں لہلہاتی فصلیں بہار آباد کا منظر پیش کرتی تھیں۔ شہر کی حالت بھی اس کے مضافات کی طرح اپنی مثال آپ تھی۔ پورا شہر ایک منصوبہ بندی کے تحت تشکیل دیا گیا تھا۔ ایسا نہیں کہ جس نے جہاں چاہا اپنا جھونپڑا کھڑا کر لیا بلکہ بڑی اور کھلی سڑکیں بچھا کر اُن کے درمیان ترتیب کے ساتھ بلاک بنائے گئے تھے۔ شہر کے درمیان ایک بڑا گول چوک تھا۔ جس کے چاروں طرف پیپلوں کے درخت لگا کر سائے کا انتظام کیا گیا۔ اِسی طرح پورے شہر میں بھی سڑکوں کے دونوں جانب ہزاروں درخت،پیپل،برگد،نیم،شیشم اور جامنوں کے لگائے تھے۔ اِن کے علاوہ کمپنی باغ،پہلوانوں کا باغ،سائیں گھوڑے شاہ کا تکیہ،اور تلج ہائی سکول کے باغات بھی اپنی مثال آپ تھے۔ اِن باغات اور پارکوں کے علاوہ شہر کے درمیان،شمال اور مضافات میں بہنے والی نہریں اور نہروں کے کناروں پر بے شمار درختوں نے اِس کے حسن کو مزید دوچند کر دیا تھا۔ شہر کی سڑکوں پر اِتنا سایہ تھا کہ اُن میں سے ایک سڑک کا نام ہی ٹھنڈی سڑک رکھ دیا گیا۔ اِسی طرح تحصیل کمپلیکس بھی درختوں کی چھاؤں میں ایسے ڈھانپاجا چکا تھا کہ دھوپ کا نام و نشان نہیں تھا۔ بلکہ لوگوں کو سردی میں بہت تنگی ہوتی تھی۔ سردیوں کے دنوں میں آنے والے سائلین کو دھوپ میں بیٹھنے کو جگہ نہ ملتی۔ اگرچہ اِس شہر کی بہت سی چیزیں پاکستان بننے کے بعد برباد ہو چکی تھیں اور شہر کی آب و تاب ویسی نہ رہی تھی،جیسی برٹش دور میں تھی۔ پھر بھی ہاتھی لٹے گا بھی تو کہاں تک۔ کالج،کئی سکول،ہاسپیٹلز،ڈاکخانے،تار گھر،بلدیہ کمیٹی،پریس کلب،ہوٹلز اور دیگر سرکاری اور غیر سرکاری بہت سے دفتر اب بھی انگریزی دور کی طرح فعال تھے۔ البتہ نہروں،سڑکوں اور پارکوں کے بہت سے درخت کٹ چکے تھے۔ اس کے باوجود بڑے پیمانے پر اب بھی موجود تھے۔ شہر کی اِنہی خوبیوں کی بنا پر کئی افسروں کی بڑی حد تک خواہش رہتی کہ اُس کا تبادلہ اِس شہر میں ہو جائے اور اب یہ قرعہ مسٹر نواز الحق کے نام نکل آیا تھا۔
نواز الحق صاحب پینتیس سال کا ایک نوجوان،پتلے خدو خال کا اسسٹنٹ کمشنر تھا،جو اول اول نائب تحصیل دار بھرتی ہوا لیکن بہت جلد تحصیل دار،پھر وہاں سے اسسٹنٹ کمشنر بن گیا۔ جس کی شاید خود تو خواہش اوکاڑہ میں تعیناتی کی نہیں تھی لیکن یہ اُن افسروں میں تھا،جنہیں جہاں بھیج دیا جائے،وہ اپنی نوکری کو بلند زینوں تک لے جانے کے لیے وقت کو سمیٹ لیتے ہیں۔ ملک کے ننانوے فی صد افسروں کی یہی کیفیت تھی۔ اُنہیں اِس سے کوئی غرض نہیں ہوتی،کہاں جا کر کیا کام کرنا ضروری ہیں؟یا فلاں علاقے میں کون سے کام ترجیحاتی بنیادوں پر کرنے چاہییں؟ یا کام کرنا بھی چاہیے کہ نہیں؟ وہ تو صرف یہ جانتے ہیں کہ یہاں کون سے ذرائع ہو سکتے ہیں،جن کو استعمال کرنے سے اُس کی اپنی ترقی ہو۔ نوازالحق صاحب ویسے بھی اب ان کاموں کے سلسلے میں ایک مکمل افسر تھے۔ یہی نہیں،چلنے اور بیٹھنے اُٹھنے میں طمطراق افسروں کا ہی تھا بلکہ اُن سے بھی قدم بھر آگے تھے۔ مشکل ہی سے کسی کے ساتھ سلام کو ہاتھ آگے بڑھاتے۔

جو لوگ پہلے ہی با خبر تھے کہ مسٹر نواز الحق تحصیل میں نئے اسسٹنٹ کمشنر کی حیثیت سے آ رہے ہیں،وہ اُسی دن سے مٹھائی کے ڈبے اور مختلف تحائف کے ساتھ اُن کے گھر پہنچ گئے تھے۔ اُن کا مقصد صرف تحائف دینا یا اپنی اے سی آر بہترلکھوانا ہی نہیں تھا،بلکہ اُنہوں نے صاحب پر یہ بات پوری طرح واضح کر دی تھی کہ اُنہیں صرف اور صرف صاحب کی عزت اور ترقی عزیز ہے،جس کے لیے وہ خود اپنا مستقبل قربان کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اِس مختصر سی ملاقات میں فرداً فرداًصاحب کو اِس بات سے آگاہ کرنا بھی نہیں بھولے تھے کہ فلاں شخص بڑامغرورہے،آپ کو سلام بھی نہیں کرنے آئے گا،فلاں چغل خور ہے،اُسے کبھی اپنے راز نہ بتایے گا۔ کیونکہ وہ بڑے افسروں کا مخبر ہے۔ فلاں شخص کو تو نزدیک بھی نہ آنے دیجیے،وہ بالکل بھی بھروسے کے قابل نہیں۔ آپ کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ بھی کر سکتا ہے۔ اُس کو منہ لگانے کی ضرورت ہی نہیں۔ بلکہ ہو سکے،تو آپ اُسے دور دراز کے قصبے میں پھینک دیں۔ کام کرنے کے لیے ہم آپ کے پاس موجود ہیں۔ اِس کے علاوہ اُنہوں نے اسسٹنٹ کمشنر کو اِس بات سے بھی باخبر کرنا ضروری سمجھا کہ فلاں فلاں جگہ کی الاٹمنٹ ابھی ہونا باقی ہے۔ آپ وہ اپنے رشتہ داروں،دوستوں اور سسرال والوں کے لیے آسانی سے الاٹ کروا سکتے ہیں۔ اور جو زمین نہر کے ساتھ چک تمبو یا کلیانہ اسٹیٹ میں پڑی ہے،اُسے آپ کو اپنے نام کروانے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ آپ تحصیل کے مالک ہیں،اِس لیے ویسے بھی یہ آپ کا اپنا حق بنتا ہے۔

اب وہ اپنی کرسی پر بیٹھے تو نئی تقرریوں اور تبدیلیوں کا سلسلہ شروع ہو گیااور نواز الحق صاحب نے واقعی اُن تمام خیرخواہوں کے تحائف اور وعدوں کا پاس رکھتے ہوئے اُن کواپنے ارد گرد اکٹھا کر کے ایک حصار قائم کر لیا۔ اُن میں سب سے پیش پیش مولوی حبیب اللہ صاحب تھے،جو اُن کے بقول نواز الحق صاحب کے خاندان کے پرانے معتقد تھے۔ اُنہوں نے صاحب کو یہ تک بتا دیا تھا کہ نواز صاحب کے دادا مولانا کرامت علی خان سے اُن کے باپ اور نواز صاحب کے باپ محکمہ مال کے کارمدار مولانا جناب فضل دین خاں سے خود اُن کے قریبی مراسم رہے ہیں۔ بلکہ وہ اُن کے ہاتھ پر بیعت بھی رہا ہے۔ اِس طرح اُس کے خاندان کی پشتوں سے اُن کے اوپر نوازشات رہی ہیں اور یہ کہ حبیب اللہ کا خاندان ہمیشہ سے نواز صاحب کے خاندان کا نمک خوار رہا ہے اور اُن کی صاحب بہادری کا اول دن سے ہی گواہ اور قصیدہ خواں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ نواز صاحب نے سب سے پہلے مولوی حبیب اللہ کو اپنا پی اے بنا کر،خاص اُنہی لوگوں کی لسٹ تیار کروائی،جنہوں نے اُسے تقرری کی خبر سنتے ہی پل پل کی خبریں دیں اور بُرے بھلے سے خبردار کیا۔ یہ تما م لوگ ویسے بھی اپنے کام میں ماہر،پڑھے لکھے اور تجربہ کار تھے اور تحصیل کے کام کو چلانے میں اُس کے لیے مفید ثابت ہو سکتے تھے۔ تمام لوگوں کو اُن کی خواہش کے مطابق متعلقہ جگہوں پر تعنیات کرنے کے بعد مولوی حبیب اللہ کو سب کام سونپ دیے۔ یہ انتخاب اُن کی ذہانت کی سراسر دلیل تھا۔ مولوی حبیب اللہ ایک تو باریش اور صوم وصلوات کے پابند تھے۔ حج بھی تین تین کیے تھے اور شریعت کی حدود قیود میں رہتے ہوئے ہر کام انجام دینے کے ماہر بھی تھے۔ مجال ہے،اُن کی فائل پر کوئی اعتراض کرے یا انگلی رکھے۔ ہر چند ہر ایک بکواس کرتا تھا کہ مولوی صاحب پرلے درجے کے بے ایمان اور چاپلوس شخص ہیں۔ لیکن نواز صاحب کو اُن میں کوئی خرابی نظر نہیں آئی تھی۔ بلکہ وہ اِن کاموں سے ہٹ کر نواز صاحب کے خاندان کی دیرینہ شان و شوکت کا بھی گواہ تھا۔ یہی وجہ تھی کہ سب اُس کے کام اور تجربے سے حسد کرتے تھے۔ اور یہ بات اُسی وقت مولوی حبیب اللہ نے نواز صاحب کو بتا دی تھی۔ اگر اُن میں ایسی ویسی کوئی با ت ہوتی تو پہلے آنے والے اسسٹنٹ کمشنروں میں کوئی تو اُس کے خلاف لکھتا۔ اِس کے بر عکس ہر ایک نے اُس کی اے سی آر کو مثالی قرار دیاتھا اور وہ ایک تیسرے درجے کے کلرک سے اتنی جلدی پندھرویں سکیل میں آ گیا تھا۔ دوسری بات یہ کہ ان مولوی صاحب کے ہوتے ہوئے نواز صاحب کے پروٹوکول میں کئی گنا اضافہ ہو گیا تھا۔ یہ نہیں کہ ہر ایرا غیرا منہ اُٹھائے اُن کے کمرے میں جب چاہے،گھسا چلا آئے۔ حبیب اللہ نے عوام تو ایک طرف،تمام تحصیل افسروں کو بھی اس بات کا پابند بنا دیا تھا کہ وہ جب تک کمشنر صاحب سے ایک یا دودن پہلے وقت نہ لیں،اُس وقت تک ملاقات نہیں ہو سکتی۔ رہا سائل،تو اُس کو صاحب سے ملنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔ اُسے جو کام ہے،اُس کے لیے وہ اپنے متعلقہ افسر سے رجوع کر ے۔ اسسٹنٹ کمشنر اسسٹنت کمشنر ہو تا ہے۔ وہ کوئی پٹواری تھوڑا ہوتا ہے،جو وارابندیوں کا رجسٹر کھول کے بیٹھ جائے۔ اِن معاملات سے یہ ہوا کہ ایک تو نواز صاحب سے کام کا بوجھ کم ہو گیا۔ دوسرا اُسے اپنے نجی کام اور سیرو شکار کا وقت بھی مل گیا اور دفتر قریب قریب مولوی حبیب اللہ نے سنبھال لیا۔ لیکن ایسا نہیں کہ وہ کام اپنی مرضی سے انجام دینے لگا تھا۔ فائلوں پر دستخط لیتے وقت صاحب کو ہر فائل کے متعلق پور ی بریفنگ دیتا کہ کوئی بات صاحب سے پوشیدہ نہ رہے۔ اِس طرح چار پانچ مہینے میں ہر کام اپنے آپ ہی سیدھا ہو گیا اور کسی کو شکایت کی گنجائش نہ مل سکی۔ یہ اُس کی انتظامی صلاحیتوں کی دلیل تھی۔ اِس کے علاوہ اوکاڑہ تحصیل کے تمام بڑے زمین داروں اور قوم قبیلے کے معتبروں،جو سیاست میں بھی مقام رکھتے تھے،اُن سب سے مولوی حبیب اللہ نے صاحب کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ یہی وہ لوگ تھے،جو کسی بھی افسر کی مزید ترقی میں با وقار سیڑھی کا کام دے سکتے تھے۔ مولوی صاحب نے اِن تمام زمینداروں سے اُن کی حیثیت کے مطابق صاحب کی دوستی کروا دی تھی۔ بعض زمینداروں کو نا جائز طور پر بہت کچھ دینا پڑا لیکن یہ ایسا سودا تھا،جس میں گھاٹا کچھ نہیں تھا۔ کیونکہ خرچ تو عوام کا ہوتا ہے اور فائدہ افسر اور سیاستدان کا۔ اِس لیے نواز صاحب نے جو کچھ بھی اُن کو دیا تھا،وہ احسان کے ساتھ ساتھ نقصان کے بغیر تھا۔

اوکاڑہ تحصیل کمپلیکس لائلپور روڈ پر واقع تھا،جس کے ارد گرد سرکاری افسروں کے مکانات،کلرکوں کے کوارٹر اور ججوں کی چھوٹے لان والی کوٹھیاں تھیں۔ اسسٹنٹ کمشنر کی کوٹھی بھی کافی اچھی تھی لیکن ججز کی کوٹھیاں اُن سے بہر حال بہتر تھیں۔ یہ تمام عمارتیں انگریزی دور کی اور نہایت آرام دہ تھیں۔ جن کے ارد گرد برگد،پیپل،شیشم اور دوسری قسم کے بے شمار درخت اِس طرح سایہ کیے رہتے کہ گرمی کے دنوں میں دھوپ کی ایک رمق بھی اُن پر نہیں پڑتی تھی۔ ڈسٹرکٹ کمپلیکس کے عین سامنے ستلج ہائی سکول اور اُس کے ساتھ ہی ایک وسیع و عریض تھان کے سلسلے سے بندھا ہوا اصطبل تھا،جو انگریزی دور کی طرح آباد تو نہ تھا،لیکن ابھی بھی اُس میں کئی عمدہ نسل کے گھوڑے اور خچر موجود تھے،جو افسروں کے بھی کام آتے۔ یہ اِس لیے بھی خالی ہو چلا تھا کہ ڈپٹی کمشنر اور اسسٹنٹ کمشنرز،جو گھوڑوں کے شوقین ہوتے،وہ اصطبل کے عملے سے مل ملا کر کسی اچھے سے گھوڑے کو ناکارہ لکھوا کر سستے داموں مول لے لیتے۔ اِسی طرح گوگیرہ میں موجوداوکاڑہ مویشی فارم میں عمدہ قسم کی گائیں اور بھینسیں بھی انتہائی سستی ہتھیا نے لگے تھے،جو انگریزی دور میں انگریز ڈپٹی کمشنر بھی آسانی سے حاصل نہیں کر سکتا تھا۔ البتہ نہروں پر جگہ جگہ ڈاک بنگلوں کو ناکارہ سمجھ کر موسموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ شائد اُن کی ضلعی یا تحصیل انتظامیہ کو ضرورت نہیں تھی،کیونکہ نہری افسروں کو شہروں سے باہر نکل کر رہنا گوارا نہیں تھا۔ اسسٹنٹ کمشنرصاحب کی کوٹھی بھی ٹھنڈی سڑک پر آفیسر کالونی میں سب سے نمایاں تھیَ جہاں اب زیادہ تر بڑے زمینداروں کا آنا جاناتھا۔ اُنہی کے ساتھ وہ اکثر سیر کو نکل جاتے۔ اِن سیاستدانوں میں نواز صاحب کے ایک دوست شمس الحق گیلانی تھے۔ یہ شاہ صاحب حجرہ شاہ مقیم کے ایک رئیس خاندان کے فرد تھے۔ یہ وہ خاندان تھا،جس کا ملک کی سیاست میں بڑا اہم کردارتھا اور علاقے میں اُن کی طاقت کا لوہا سب مانتے تھے۔ بڑی زمینداری کے علاوہ اِن کے لاکھوں مرید پورے ملک میں پھیلے ہوئے تھے،جو پیر صاحب کے ایک اشا رے پر کٹ مرنے کو تیار رہتے۔ نواز صاحب اِن کی بہت عزت کرتے تھے اور اُنہوں نے ہدایت کی تھی کہ وہ جہاں کہیں بھی ہوں،شمس صاحب کا کوئی بھی پیغام آئے تو اُنہیں ضرور خبردار کیا جائے۔ ویسے بھی اِن نزاکتوں کو مولوی حبیب اللہ خوب سمجھتا تھا۔ بلکہ اِن چیزوں کے بارے میں اُسے نواز صاحب سے بھی زیادہ درک تھا۔

آج نواز صاحب اپنے دفتر میں آ کر بیٹھے ہی تھے کہ حبیب اللہ نے اطلاع دی،شمس صاحب تشریف لائے ہیں۔ نواز صاحب نے اُنہیں فوراً اندر بلا یااور دفتر سے منسلک ملاقات کے کمرے میں بیٹھ گئے۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی گپ شپ کے بعد شمس الحق گیلانی نے اپنے مطلب کی طرف آتے ہوئے بات کا آغاز کیا،نواز صاحب آپ ہمارے لیے ایک کام کر دیں تو بڑی مہربانی ہو گی۔

شاہ صاحب اگر مَیں آپ کے کسی کام آنے کا ہوا تو یہ میری خوش نصیبی کی بات ہے۔ آپ ہی تو ہماری دنیا اور آخرت ہیں۔ کام بتا یے؟

شمس صاحب نے اپنا سگریٹ ایش ٹرے کے کونے میں پھنسایا اور دیوار پر لگی سامنے قائد اعظم کی تصویر پر نظریں جماتے ہوئے بولے،نواز صاحب،پاکستان میں حکومت یا تو فوج کی ہے یا سرکاری افسروں کی۔ اِس لیے کام تو آپ کر سکتے ہیں،پھر یہ کوئی ناجائز کام بھی نہیں ہے۔

شمس صاحب آپ بجھارتیں کیوں بھجواتے ہیں۔ میری دسترس سے باہر بھی ہوا تو آپ کی خاطر کر کے ہی دم لیں گے۔ چاہے مجھے چیف سیکرٹر ی صاحب کے پاؤں پکڑنے پڑے۔
کمشنر صاحب،آپ کے اِس بڑی نہر کے دوسری طرف ایک نو لکھی کوٹھی خالی پڑی ہے،جس کے ساتھ کچھ زمین بھی ہے۔ اِس اسٹیٹ کی اکثر زمین تو فوجیوں کو الاٹ ہو چکی ہے۔ لیکن کوٹھی ابھی تک کسی کو الاٹ نہیں ہوئی۔ آپ کسی طرح سے اُسے میرے نام کروا دیں۔ جو خرچہ ہوا،مَیں دینے کو تیا ر ہوں۔

نواز الحق کچھ دیر خموش بیٹھا سوچتا رہا پھر بولا،پیرصاحب،اُس کوٹھی میں ایسی کون سی بات ہے؟ بہر حال وہ خالی ہے توآپ فکر نہ کریں،مَیں اُسے آپ کے نام کروا دیتا ہوں۔ مَیں نے کوئی زیادہ اُس کے متعلق تحقیق تو نہیں کی لیکن سنا ہے،بہت بڑی کوٹھی ہے۔ میرا خیال ہے،اب کافی پُرانی ہو چکی ہے۔ شاید آپ کے لیے بے کار ہو۔

نواز صاحب،وہاں ایک بڈھا انگریز رہتا ہے۔ یہ کوٹھی اُسی کے باپ دادا نے وکٹوریہ دور میں بنوائی تھی،شمس الحق نے وضاحت کی،یہ واپس نہیں گیا۔ آج بھی اپنے آْپ کو کمشنر سمجھتا ہے۔

آپ کہیں گے تو اُسے اُٹھا کر باہر پھینک دیتے ہیں اور آپ وہاں اپنا بندوبست کر لیں۔ مگر آپ لاہور کو چھوڑ کر وہاں اتنی پرانی کوٹھی میں کیوں رہیں گے؟

شمس الحق نے دوبارہ سیگریٹ سُلگایا اور بولا،نواز صاحب،آپ بھی کمال کرتے ہیں۔ ہمیں سیاست کرنی ہوتی ہے۔ وہ رہنے کے لیے تھوڑی الاٹ کروانی ہے؟وہاں ہمارے مال مویشی ہوں گے یا کچھ نوکر رہیں گے۔ کبھی کبھی ہم بھی وہاں آجایا کریں گے۔ اِس طرح علاقے میں وجود برقرار رہتا ہے۔ پھر اِن پرانی کوٹھیوں اور بنگلوں کی اپنی ایک دہشت اور اہمیت ہوتی ہے۔ آپ اِن باتوں کو چھوڑیں،ہمارا کام کریں بس۔

نواز الحق نے گرم جوشی سے اِس کام کی حامی بھرتے ہوئے انٹر کام پر حبیب اللہ کو طلب کیا۔ جب وہ کمرے میں کاغذقلم لے کر ایک طرف کھڑا ہو گیا،تو نواز صاحب نے بڑی محبت سے کہا،مولوی صاحب ستگھرہ روڈ پر ایک نولکھی کوٹھی ہے۔ آپ ذرا اُس کی تمام معلومات جمع کیجیے۔ وہ ہم نے پیر صاحب کے نام الاٹ کروانی ہے۔ شائد اِس میں ہماری آخرت کا ہی کچھ بھلا ہو جائے۔

سر،میں ابھی تمام ریکارڈ منگوا لیتا ہوں ( پیر شمس الحق صاحب کی طرف منہ کر کے حبیب اللہ انتہائی چاپلوسی سے )پیر صاحب،ویسے وہ کوٹھی آپ ہی کے لائق ہے۔ وہاں ایک بُڈھے انگریز کی وجہ سے نحوست پھیلی ہوئی ہے۔ پتا نہیں ابھی تک یہاں کیا کرتا پھر رہا ہے؟( ہنستے ہوئے ) بھلا بندہ پوچھے،تم نے یہاں سے امب لینے ہیں،جو ابھی تک اٹکے ہوئے ہو؟ اور پورے علاقے میں اپنے ناپاک قدموں سے مٹی پلید کرتے پھرتے ہو۔ سر،مجھے اُدھر ایک دو دفعہ جانے کا اتفاق ہوا ہے۔ مَیں نے وہاں جب تک رہا،نماز بھی نہیں پڑھی کہ نجانے کس جگہ اُس نے پیشاب کیا ہو۔ آپ جتنی جلدی ہو سکے،وہ کوٹھی اُس منحوس بڈھے سے خالی کروا لیں۔ ہمارے شاہ صاحب کے قدم لگنے سے وہاں مٹی تو پاک ہو گی۔

حبیب اللہ کی بات سن کر دونوں ہنس پڑے۔ پھر نواز صاحب بولے،مولوی صاحب،آپ جس قدر جلد یہ کام مکمل کریں گے،ہم آپ کی خواہش اِتنی ہی جلدی پوری کر دیں گے۔ آپ ایک ہفتے کے اندر اِس کیس کی فائل تیار کر کے مجھ تک پہنچاؤ۔ ریوینیو بورڈ سے یہ فائل مَیں خودنکلوا لوں گا۔ بس آپ اس پر کام کریں۔

نواز صاحب کی بات سن کر مولوی حبیب اللہ باہر نکل گیا۔ پھر وہ دونوں باتیں کرنے لگے اور یہ ملاقات اتنی لمبی ہو گئی کہ ایک بجے کے کھانے کا وقت ہو گیا۔ اِس عرصے میں جتنے لوگوں سے نواز صاحب کی ملاقات کا وقت مقرر تھا،اُنہیں مولوی حبیب اللہ یہ کہ کر ٹالتا گیا کہ آج صاحب کی اندر بہت اہم میٹنگ چل رہی ہے۔ اِس لیے باہر انتظار کریں بلکہ بہتر یہ ہے کہ کل آ جائیں۔

ایک بجے کا کھانا اسسٹنٹ کمشنر مسٹر نواز الحق کے ساتھ کھانے کے بعد سید شمس الحق گیلانی صاحب رخصت ہونے کے لیے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ کمشنر صاحب اُنہیں گاڑی تک باہر چھوڑنے آئے۔ گاڑی چلنے لگی تو نواز صاحب نے ہنستے ہوئے پیر صاحب سے کہا،سر اِس خادم کا بھی خیال رکھا کریں۔ آخر کب تک اسسٹنٹ کمشنر ی کرتا پھروں گا۔ آپ کی سلطنت میں کم از کم مجھے ڈپٹی کمشنر تو ہونا ہی چاہیے،ایک دفعہ بس ایک درجہ اور اُوپر لے جایے۔ پھر دیکھیے نوکر کس طرح اپنے شاہ صاحب کی خدمت کرتا ہے۔

شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔ شاہ صاحب کے لیے یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی۔ اُس نے جواب میں کہا،نواز صاحب،آپ فکر نہ کریں والدین کو اپنی اولاد کی ضروریات کا بخوبی احساس ہوتا ہے۔ بس اولاد فر مانبردار ہونی چاہیے۔ اِس کے بعد گیلانی صاحب کی گاڑی آہستہ سے آگے بڑھ گئی۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

نولکھی کوٹھی-پانچویں قسط

علی اکبر ناطق: جودھا پور والوں کی نظر میں اب غلام حیدر کے ساتھ سودھا سنگھ کا نام لینا بھی غلام حیدر کی توہین تھی۔اُن کی نظر میں اب سودھا سنگھ محض ایک دیسی بدمعاش اور دو ٹکے کا غنڈہ تھا۔ جبکہ غلام حیدر کے تعلقات نئی دلی سے لے کر ملکہ تک پھیلے ہوئے تھے۔

نولکھی کوٹھی - سترہویں قسط

علی اکبر ناطق: ایشلے جو اُس وقت بھی اُلٹی سیدھی نظمیں لکھ لکھ کر سناتا تھا اب بہت بڑا شاعر بن گیا تھا۔ یہ تمام زمین اُن کی اپنی ملکیت تھی لیکن رینالہ اور ستگھرہ اسٹیٹ کے درمیان اوکاڑہ کے پاس کلیانہ اسٹیٹ کی زمین اور آموں کے باغ میں گھری ہوئی نولکھی کوٹھی سے اُنہیں خاص اُنسیت تھی۔

نولکھی کوٹھی - اکتسویں قسط

علی اکبر ناطق: سب نے دیکھا،انہی خدمت گزاریوں کی وجہ سے وہ صرف دو سال میں ہی تحصیل دار ہو گیا۔ جبکہ ساتھ والے،جو ذرا خدمت گزاری میں کم تھے،ابھی تک اُنہی بوسیدہ میزوں پر بیٹھے مکھیاں مار رہے تھے۔