نولکھی کوٹھی - بیسویں قسط

نولکھی کوٹھی - بیسویں قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(36)

معاملات تیزی کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہے تھے۔ جن کی نہج کے بارے میں نہ غلام حیدر کو پتا تھا اور نہ ہی ملک بہزاد جانتا تھا کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔ البتہ غلام حیدر کی نواب افتخار حسین سے تار پر ہونے والی بات اور نواب افتخار کے والد نواب سر شاہنوازسے ملاقات کے بعد کام کافی آسان ہو گیا تھا۔ بلکہ اتنا آسان کہ اب غلام حیدر کو خود پر غصہ آ رہا تھا کہ اُسے پہلے ہی یہ بات کیوں نہ سوجھی،اور وہ ممدوٹ ولا زمیں جا کر سر شاہنواز سے کیوں نہ ملا؟ جو غلام حیدر کو اپنے بیٹے نواب افتخار کا دوست ہونے کے ناتے اچھی طرح نہ صرف جانتا تھا بلکہ کہہ بھی چکا تھا،بیٹا افتخار لندن جا رہا ہے تو یہ نہ ہو،تم اپنے چچا کو ملنے ہی نہ آؤ۔ گاہے گاہے آتے رہنا۔ اگر مجھ تک کام ہو تو بلا جھجھک کہہ دینا۔ مگر غلام حیدر کو آپا دھاپی میں یہ خیال ہی نہ آیا کہ سر شاہنواز سے مل کر اُسے اپنی ساری کتھا سنا دے۔ بہر حال دیر آید درست آید۔ نواب صاحب نے تھوڑی بہت ردوکد کے بعد غلام حیدر کی بات مشروطی طور پر مان لی،جس کا سارا منصوبہ ملک بہزاد نے تیار کیا تھا۔ اب جب کہ نواب صاحب نے تھانیدار ضمیر شاہ کو بلا کر اُسے غلام حیدر کے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے میں مدد کرنے کا حکم دے دیا تومزید دیر کرنے کی تُک نہیں تھی۔ غلام حیدر نے نواب صاحب سے ملنے کے بعد گھر آ کرتین چار دن میں اپنا سارا کام نپٹا یا اور سیدھا ملک بہزاد کے گاؤں کا رُخ کیا،۔ اُسے ساری تفصیل سے آگاہ کر کے اُس کی عملی شکل تیار کرنے کی کارروائی کی طرف متوجہ ہوا۔ ملک بہزاد غلام حیدر کی نواب صاحب کے بنگلے سے واپسی کا بے چینی سے منتظر تھا۔ اُسے خوف تھا،نواب صاحب کہیں انکار نہ کر دیں۔ لیکن جو قیمت ملک بہزاد نے غلام حیدر کو اس کام کے عوض ادا کرنے کا کہا تھا،اُس پر اُسے یقین تھا کہ نواب صاحب ضرور مان جائیں گے اور وہی ہوا۔ اب اگلی پیشی بالکل قریب تھی،جس پر سردار سودھا سنگھ کا پیش ہونا قرین قیاس تھا،تومزید دیرکام میں بھنگ ڈال سکتی تھی۔ پندرہ دن پہلے غلام حیدر کو اپنی رائفل اور دوسرا ضبط شدہ اسلحہ واپس مل چکا تھا لیکن اُ س کی ملک بہزاد کے مشورے کے مطابق ہوا بھی باہر نہیں نکالی تھی۔ لوگوں کی نظرمیں رائفل اور دوسرا اسلحہ ابھی تک گورنمنٹ کے قبضے میں تھا۔

غلام حیدر نے ملک بہزاد کو اپنے معاملات کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا،چاچا بہزاد،اماں جان کو میں نے پاکپتن کی بجائے کہیں اور بھیج دیا ہے۔ اس کے علاوہ مال کافی سارا بیچ کر بقیہ نواب صاحب کی فرید کوٹ والی حویلی میں منتقل کر دیا ہے۔ نواب صاحب پوری طرح دوستی کا حق ادا کرنے کو تیا ر ہیں۔ اِس سلسلے میں اُنہوں نے مجھے اپنی ایک جیپ بھی ڈرائیور سمیت بھیج دی ہے،جو نواب صاحب کی گرو ہرسا والی حویلی میں موجود ہے۔ اگر اُس کی ضرورت پڑی تو استعمال کر سکتے ہیں۔ اِس کے علاوہ گرو ہر سا کے تھانیدار کو بلا کر منصوبے پر عمل کروانے کا حکم بھی دے دیا ہے۔ تھانیدار نے کہا ہے،اگرمیں کارروائی کر کے دوگھنٹوں کے اندر دوبارہ تھانہ گرو ہرسا کی حوالات میں پہنچ جاوں تو پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ پھر ساری بات وہ سنبھال لے گا۔ وہ مجھے ناجائیز اسلحہ رکھنے کے عوض حوالات میں بند کر کے عین واردات کے وقت باہر نکال دے گا۔ میں اور میرے بندے کارروائی کر کے دوبارہ وہیں پہنچ جا ئیں گے۔ اِس طرح یہ کارروائی مکمل ہو جائے گی لیکن مجھے اِس میں خطرہ ہے کہ کام صرف سودھا سنگھ کا ہی ہو گا،دوسرے دونوں بچ جائیں گے۔ کیونکہ اُس کے لیے وقت نہیں ہو گا۔

ملک بہزاد نے غلام حیدر کی بات سُن کر ایک لمبی،ہوں،کی پھر حقے کی نَے ہاتھ سے رکھ کر بولا،غلام حیدر اُن دونوں کی باکل پروا نہ کر۔ ہم ایک ہی ہلے میں یہ دونوں قصے پاک کر دیں گے بلکہ یہ اور بھی اچھا ہوا نواب صاحب نے اپنی جیپ عنایت کر دی جس سے کوسوں کا پینڈا چھپاکوں میں نکل جائے گا لیکن ایک بات یاد رکھنا جیپ تجھے پھنسا بھی سکتی ہے۔ اس لیے اُس کا استعمال اُس وقت ہی کرنا جب کوئی چارانہ رہے۔ اس کے علاوہ ایک اور بات کہ تُو کبھی بھی اپنے آپ کو حوالات میں بند نہ کروانا۔ نہ کام کرنے کے بعد تھانے کا رخ کرنا۔ اگر تھانیدار پر انگریز سرکار کا دباؤ بڑھا تو تھانیدار یہ وزن نہیں اُٹھا سکے گا۔ پھر تجھے ریشمی رسے میں سر دینا پڑے گا۔ ہاں اپنے بندو ں کو اِس پیشی سے کم از کم دو دن پہلے گرو ہرسا تھانے میں بند کروا دینا۔ اُنہیں عین وقت پر تھانے سے نکلوانا اور کاروائی کرتے وقت اپنی پشت پر رکھنا۔ مَیں نے دریا پار چک ڈھبی سے اپنے بھانجے امانت خاں وٹو کو بلا لیا ہے۔ اُس کے پاس اپنی رائفل بھی ہے۔ وہ اس معاملے میں تیرا صحیح جوڑ ثابت ہو گا۔ کاروائی مکمل کر کے تُواور امانت خاں وٹو ہر صورت فرار ہو جانا اورتیرے بندے اس کے بعد آرام سے اُسی تھانے میں جا بیٹھیں۔ اس طرح سودھا سنگھ کا صفایا کرنے کے بعد چک میگھا جانے کا اور پھر وہاں سے کسی بھی طرف فرار ہونے کا تیرے پاس بہت وقت ہو گا۔ جیسا کہ نواب صاحب نے حامی بھری ہے وہ تجھے پناہ دے سکتا ہے۔ یہی بات اُس سے پکی کر کہ تُو کاروائی کرنے کے بعدحوالات میں نہیں جائے گا۔ خود کو حوالات میں بند کروا لینا ایسے ہی ہے کہ اپنے ہاتھ پہلے ہی کاٹ کے دے دینا۔ اگر کسی انگریز افسر کو شک بھی پڑ گیا تو تھانیدار کی تو صرف نوکری جائے گی یا تھوڑی بہت سزا ہو جائے گی لیکن تیری گردن لازمی کنویں کے تختے پر کسی جائے گی۔ قانونی طور پر تھانے میں حاضری ہو نے کی وجہ سے تیرے بندوں پرشک کم ہو گا۔ اگر وہ شک کی بنا پر پکڑے بھی گئے تو بمشکل دو یا تین سال کی سزا ہو گی۔ کیونکہ سودھا سنگھ کے وارث ہر حالت میں تجھے ہی نامزد ملزم قرار دیں گے۔ امانت خاں وٹو تیری اُمید پر پورا اُترے گا،اُسے یہاں کوئی پہچانتا بھی نہیں،وہ کام کر کے واپس چلا جائے گا۔ انشاء اللہ کل تک یہاں پہنچ جائے گا اور پرسوں ہم مل کر سب پروگرام مکمل کر لیں گے۔ سودھا سنگھ اس دفعہ جیسے بھی اور جدھر سے بھی جائے گا،اُس کی ایک ایک لمحے کی خبر ہمیں ملے گی۔ میں نے ایک بندہ وہاں،خاص،اسی کام پر لگا دیا ہے۔ اور وہ ہے اُن کے گاؤں کا لوہار نندا،جو جگبیر کا بڑا یار ہے۔ کل وہ ایک خبر دے گیا ہے۔ ہم اُسی کے مطابق اگلا پروگرام بنائیں گے لیکن،ملک بہزاد وضاحت کرتے ہوئے بولا،اِس کام میں اگر کوئی گڑ بڑ ہوئی تو اُس کے لیے بھی تیار رہو۔ ضروری نہیں ہر کام منصوبے کے عین مطابق ہی ہو۔

چاچا بہزاد اُس کے لیے میں بالکل تیار ہوں،غلام حیدر نے پورے جوش اور دلیری سے جواب دیا،نواب صاحب ایسی حالت میں بھی اُس وقت تک پناہ دیں گے،جب تک بہتر صورت پیدا نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے چاہے کئی سال ہی کیوں نہ لگ جائیں۔ اُنہوں نے یہ بھی ذمہ داری لی ہے کہ وہ میری زمین کی ضبطی بھی نہیں ہونے دیں گے۔ میرے تمام آدمی اُس کو اُسی طرح کاشت کرتے رہیں گے جیسے وہ کر رہے ہیں۔ میں نے انہیں صاف بتا دیا ہے کہ میں یہ کام کیے بغیر نہیں ٹلوں گا۔ لہذانواب صاحب کی طرف سے آپ بے فکر ہو جائیں اور اپنا پروگرام بتائیں۔ میرا تو یہی خیال ہے،اِس دفعہ بھی سودھا سنگھ فیروزپور نہیں آئے گا۔ اُسے ہماری طرف سے اب بھی ڈر موجود ہے۔ میں نے اپنی تیاری ہر طرح سے مکمل کرلی ہے۔ اب ہمارے پاس چار سانڈنیاں اور پچیس گھوڑے،ایک جیپ اوردو ریفلیں ہیں،مگرمیدان لگتا دکھائی نہیں دیتا۔

بس ٹھیک ہے غلام حیدر،ہم اِس دفعہ بھی پچھلی بار کی طرح منصوبہ بنائیں گے،ملک بہزاد نے مشورہ دیتے ہوئے کہا،مجھے سب سے زیادہ فکر نواب صاحب کی طرف سے تھی،وہ تمھارا ساتھ دیتا ہے کہ نہیں؟ اب میدان ضرور لگے گا،یہ مجھے پکا یقین ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم کارروائی کر جائیں۔ اس دن کا مجھے عرصے سے ا نتظار تھا۔

لیکن چاچا بہزاد،چوہا بِل سے باہر نکلے تو کڑَکًی میں آْئے،غلام حیدر غصے سے بولا،اتنا عرصہ ہو چکا ہے اور مَیں کچھ نہیں کر سکا۔ رعایا میرے منہ کو آ رہی ہے۔ میں جانتا ہوں،لوگ میرے منہ پر کچھ نہیں کہتے لیکن میری غیبت میں مجھے ضرور بزدل کہتے ہیں۔ مَیں اتنا عرصہ انہیں باتوں میں لگا کر لے آیا ہوں۔ اب اُن کی پکی ضمانتوں نے تو اُنہیں اور بھی شیر کر دیا ہے۔ اِدھر مَیں مرنے والوں کے وارثوں کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا۔

ملک بہزاد غلام حیدر کا شکوہ سن کر بولا،میں جانتا ہوں غلام حیدر یہ صبر کے گھونٹ تیرے لیے زہر کے اچھو ہیں لیکن مجھے پکا یقین ہے،اِس دفعہ چوہا کڑکی میں آ ہی جائے گا۔ میرے مخبر کی رپورٹ کچی نہیں ہو سکتی۔ خدا کے ہر کام میں مصلحت ہے۔ اب دیکھ،اگر تیرا اور اُس کا ٹاکرا تیری رائفل کی ضبطی اوربغیرمنصوبہ بندی کے ہو جاتا تومعاملہ خراب ہو سکتا تھا۔ ڈانگ سوٹے کی لڑائیوں میں اکثر وار اوچھے پڑتے ہیں۔ پھر مجھے تیرے بندوں پر بھی اعتبار نہیں۔ غریب آدمی کے ہاتھ چوہدریوں پر اُٹھتے ہوتے کانپ جاتے ہیں۔ سودھا سنگھ کے علاوہ تُو سارے جھنڈو والا کو قتل کر دے تو کوئی فایدہ نہیں۔ یاد رکھ،سودھا سنگھ کا قتل ہوا نہیں،اُدھر جھنڈو والا تیرے قدموں میں ہو گا اور سارے علاقے کے بدمعاش تیری ذات سے خدا کی پناہ ڈھونڈتے پھریں گے۔ رہا تجھ پر پُلس اور مقدمہ،اُس کی حالت گواہوں اور ثبوت کے بغیر وہی ہو گی،جو اِس وقت ہمارے مقدمے کی ہے۔

لیکن چاچا،اگر تُو نہ روکتا تو مَیں عبدل گجر اور شریف بودلہ کا تو کب کا گھونٹ بھر دیتا۔ کچھ تو دل کو تسلی ہوتی۔

بھتیجے میری بات سمجھ،ملک بہزاد کہنے لگا،پھر اس کے بعد کیا ہوتا؟ دیکھ،ہم جس کو بھی قتل کرتے،اُس کے بعد ہمارے پاس آزادی کا کوئی دن نہ ہوتا۔ نہ ہی دوسری کارروائی کے لیے ہمیں سکون ملتا اور نہ وقت۔ بلکہ ہم خود پولیس سے بھاگتے اور چھپتے پھرتے۔ ہمارے قابو میں سودھا سنگھ نہیں آ سکتا تھا۔ اِن دونوں حرامیوں،عبدل اور شریف کو تو ہم جاہی پہنچیں گے۔ یہ تو ہمارے لیے گھڑے کی مچھلی ہیں۔ جس کے لیے اگر وقت کم ہوا تو نواب افتخار کی جیپ بھی تمھارے کام آ سکتی ہے،جو اِن میں سے کسی کے پاس نہیں۔ مگر میرا خیال ہے اُس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ سارا کام اُس کے بغیر ہی ہو جائے گا۔ ہم سودھا سنگھ سے فارغ ہو کر سیدھا چک میگھا جا نکلیں گے۔ جہاں عبدل گجر صبح ایک پہر دن نکلے سے لے کر شام ڈیگر تک نیم کی گہری چھاؤں میں دُلے ماچھی سے ٹانگیں دبواتا ہے اور پندرہ بیس گیدڑوں کے ساتھ بیٹھا سارا دن ڈیگیں سنتا ہے۔ وہیں منجی پر بیٹھے بٹھائے سُلا دیں گے۔
اور تاریخ پر پیشی؟ غلام حیدر نے پوچھا:

ہماری پیشی اب دو جگہ پر ہو گی،ملک بہزاد نے منصوبے کی وضاحت کی،ایک گرو ہر سا اسٹیشن پر دوسری چک میگھا۔ چک میگھا عبدل گجر اور شریف بودلہ کو ہم چار تاریخ دوپہر ملیں گے لیکن پہلے سودھا سنگھ کی بار گاہ میں۔

اگر سودھا سنگھ نے واصل کے سے جا کر ریل پکڑی اور ہم گرو ہر سا ہی بیٹھے رہ گئے،تو؟ پھر ساری پلاننگ خاک میں مل جائے گی،غلام حیدر نے شُبے کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔

واصلکے اسٹیشن سے وہ دو وجہ سے نہیں چڑھے گا،ملک بہزا د نے داڑھی کو انگلیوں سے کھرچتے ہوئے اپنا فلسفہ بیان کیا،ایک تو یہ،وہ اتنا نادان نہیں کہ اپنے آپ کو خود موت کے چونبے میں جھونک دے۔ اُسے سراسر پتا ہے،واصلکے غلام حیدر کا علاقہ ہے۔ دوم اُسے اگرچہ گرو ہرسا سے ریل پر بیٹھ کر فیروزپور جانے میں لمبا چکر کاٹنا پڑے گا لیکن اُس کو جھنڈو والا سے گرو ہر سا تک بہت کم گھوڑوں پر طے کرنا پڑے گا۔ جبکہ واصلکے آتے آتے اُس کے جانوروں کی اس گرمی میں تباہی بول جائے گی اور سفر بھی محفوظ نہیں ہے۔ اِس لیے اُسے کسی کتے نے نہیں کاٹاکہ گرو ہر سا کو چھوڑ کر واصلکے کی طرف آئے۔ ہمارے مخبر کی پکی اطلاع بھی یہی ہے لہذا ہم اُسے گرو ہرسا پر ہی ملیں گے اور اگر بالفرض ایک فیصدوہ واصلکے سے گیا بھی،تو ہمارے آدمی سانڈنیوں پر مٹی تو نہیں چاٹنے کے لیے بیٹھے ہوں گے؟ وہ ہم کو آ کر فوراً بتا دیں گے،پھر جیپ پر کوئی دیر نہیں لگے گی اور وہ کوئی بڈاوے نہیں کہ غائب ہو جائیں گے۔

اِس کے بعد ملک بہزاد نے غلام حیدر کو تمام منصوبہ سمجھا دیا اور منصوبے کے ہر پائے کی چوہلیں اچھی طرح سے ٹھونک بجا کر سیدھی کر لیں۔ جس میں غلام حیدر اور ملک بہزاد کا بھانجا امانت خاں وٹومنصوبے کے مرکزی کردار نبھانے والے تھے۔ منصوبے کے دو حصے تھے۔ پہلے حصے کے مطابق کل صبح برچھیوں،کرپانوں اور چھویوں سمیت گرو ہرسا تھانے کے سامنے جا کر دو پارٹیوں نے ایک دوسرے کے ساتھ دنگا شروع کر نا تھا۔ جس میں ایک دو بندے بھی پھٹڑہونا تھے۔ اِن دو پارٹیوں میں ایک پارٹی غلام حیدر کے بندوں کی تھی اور دوسری ملک بہزاد کی۔ اِس لڑائی کے بعد تھانیدار ضمیرشاہ کا کام اُن سب کو،سا ت اکیاون،میں حوالات میں بند کرنا تھا۔ اِس کے بعد اگلا کام غلام حیدر اور میاں امانت خاں کاتھا،جو بصیرپور کا منًا پرونًا رائفل چلانے والا تھا۔ اِن دونوں کے ساتھ وقتی طور پر حوالات میں بیٹھے ہوئے سب لوگ عین وقت پر شامل ہونا تھے لیکن لڑائی میں حصہ اُنہیں نہیں لینا تھا۔ کیونکہ تمام کام رائفلوں کے ذریعے ہونا تھا۔ کارروائی کرنے کے فوراً بعد ہی اُنہیں دوبارہ آ کر حوالات میں بیٹھ جانا تھا۔ جبکہ غلام حیدر اور امانت خاں نے فرار اختیار کرنا تھی۔

(37)

جولائی کی گرمی نے آسمان کو تانبے کا کڑاہا بنا رکھا تھا۔ بادلوں کا تو کہیں مہینو ں تک بھی نام نشان نہیں تھا اور ہَوا ایسی گرم جیسے دوزخ کی بھٹی سے آگ کی لپکیں پھیلتی جارہی ہوں،جو ہٹ ہٹ کر یوں تھپیڑے مارتی تھیں کہ انسان تو کیا صحرا بوندلا جائیں۔ دور تک کوئی ذی روح اول تو نظر نہ آتا تھا،اگر کوئی تھا،تو کفن کے چار کپڑوں میں لپٹا ہوا۔ دھوپ ایسی روشن اور تیز کہ پسینہ بھی بوکھلا گیاتھا۔ جو بار بار پیدا ہوتا اور اُسی کی وجہ سے سوکھتا بھی جاتا۔ گرمی اور دھوپ کے یہی حرارے بھوتوں کی طرح گھوم گھوم کو آسمان کو چڑھ رہے تھے۔ چری اور گاچے کی فصلیں تو خیر ویسے ہی اپنی نزاکت کی وجہ سے کب کی جھلس چکی تھیں،اس گرمی میں برگد اور پیپل تک مرجھا گئے۔ الغرض جانور وں سے لے کر پرندوں اور کیڑوں مکوڑوں،سب نے گویا فیروزپور ضلع سے فرار کی راہ اختیار کر لی۔ ایالی اور چرواہوں کے علاوہ ہر ایک اپنے ہی گھر کا مہمان بن چکا تھا۔ گرمی کیا تھی خدا نے مخلوقات کو عذاب دینے کا جولائی ایک بہانہ گھڑا تھا۔

سورج طلوع ہوتے ہی اِس قدر جوش میں اُٹھتا جیسے ہر شے کو بھون کے کھا جائے گا۔ ایک پہر گزرنے کے بعد تو اُس کی جولانی آنکھیں دیکھ نہیں سکتی تھیں۔ دھوپ کی لپٹوں سے دھندلا کے رہ جاتیں۔ اِس شدید گرمی میں سردار سودھاسنگھ نے اپنے سفر میں تھوڑی سی مزید ترمیم کر لی۔ ایک تو اُس نے تمام حالات کے پیش نظر اسٹیشن گرو ہر سا پر پہنچنے کا وقت دو بجے کر لیا اور دوسرا تیس بندوں کی بجائے اُن کی تعداد پندر ہ کر دی۔ سردار سودھا سنگھ نے اپنی اِس تر میم کی اطلاع ہرے سنگھ کو رات ہی چھدو کو بھیج کر سمجھا دی تھی اور فیصلہ کر لیا گیاتھا کہ دن چڑھتے ہی اسٹیشن گرو ہر سا پہنچ کرریل کے آنے تک نتھا سنگھ کے پاس،اُس کے ڈیرے پر آرام کریں گے اور چاربجے ریل پر سوار ہو جائیں گے۔ فیروز پور ایک دن کی بجائے تین دن رہیں گے۔ پھر کسی بھی وقت وہاں سے جھنڈوو الا آپس آجائیں گے۔

۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

سردار سودھا سنگھ رات کے تیسرے پہر اُٹھ کر گردوارہ چلا گیا۔ وہاں اشنان کرنے کے بعد دیرتک گرنتھ پڑھتا رہا اور دل میں واہگرو سے وعدہ کرتا رہا کہ آج کا دن سلامت نکل جائے۔ اُس کی دشمنوں اور مقدمے سے جان چھوٹ جائے تو وہ کبھی ایسی حماقت نہیں کرے گا۔ ویسے بھی اُس کے دل میں شیر حیدر کے خلاف جو ایک کسک تھی،وہ اب دور ہو چکی تھی۔ گرنتھ پڑھنے کے بعد سودھا سنگھ نے سَنت کو چاندی کے دس روپے دیے اور باہر نکل آیا۔ واپس حویلی پہنچا تو دروازے پر ہرے سنگھ،جگبیر سنگھ اور بیدا سنگھ دوسرے بندوں کے ساتھ انتظار میں کھڑے تھے۔ سردار سودھا سنگھ کو دیکھ کر سب نے ست سری اکال کا نعرہ مارا،جس کا سودھا سنگھ نے بھی واہگرو کے نعرے سے جواب دیا اور حویلی کے زنانہ حصے میں داخل ہو گیا۔ سردار سودھاسنگھ کو دیکھ کربینت کورگرنتھ ہاتھ میں لے کر اُٹھ کھڑی ہوئی۔ سات چکر سر پر سے وارے،پھر اُسے طاق میں رکھ کر سردار صاحب کے پاس آگئی۔ سردار سودھا سنگھ نے بینت کور کے گالوں کو چومتے ہوئے کہا،بنتو چھیتی نال روٹی دے دے،سفرلمبا ہے اور دھپ دا کڑاہا تپ دا جاندا۔

بینت کو ر نے آج پہلی دفعہ کامی کو آواز نہیں دی۔ بھاگ کر خود روٹی کا سامان کرنے لگی۔ بینت کور کی اِس قدر محبت اور چاہت دیکھ کر سردار سودھا سنگھ کی آنکھوں میں بینت کور کے لیے جذبے سے بھرپور محبت غالب آگئی۔ وہ اُسے چپکے سے دیکھنے لگا۔ بینت کور اپنے ہاتھوں سے لقمے توڑ کر سردار سودھا سنگھ کو کھلانے پر مصر ہو ئی تو سودھا سنگھ منع نہ کر سکا۔ وہ اُسی کے ہاتھ سے کھانے لگا اور کہا،بنتو آج تو نے مجھے کل کا مُنڈا بنا دیا ہے۔

بینت کور سودھا سنگھ کی بات سُن کر مسکرائی اور بولی،سردار جی تسیں لوکاں واسطے وڈے سردار ہون گے۔ میرے واسطے تاں کل دے مُنڈے ای جے۔

کھانا کھانے کے بعد سردار سودھا سنگھ بینت کورکے ساتھ کم سے کم دو گھنٹے تک پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔ اُس وقت تک دن کے ساڑھے نو بج چکے تھے۔ تب سردار سودھا سنگھ اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بینت کور نے سودھا سنگھ کو اپنے ہاتھ سے پانچوں ہتھیار باندھے۔ جُوڑے لپیٹ کر پگڑی درست کی،پھر گرنتھ کو سات دفعہ سر پر سے دوبارہ پھیرے دیے۔ اُس کے بعد حویلی کے اندرونی دروازے تک رخصت کرنے آئی۔ جب تک سردار سودھا سنگھ بگھی پر قدم رکھ کے آنکھوں سے اوجھل نہیں ہو گیا،بینت کور وہیں کھڑی دیکھتی رہی اور اُس کے اوجھل ہوتے ہی اپنے سینے کو پکڑ کر دروازے پر ہی بیٹھ گئی۔ بنت کور کو اِس طرح بیٹھے دیکھ کر،شماں اور اجیت بھاگی ہوئی آئیں اور اُسے اُٹھانے لگیں۔ ساتھ ہی اونچی اونچی رونا شروع کر دیا۔ سودھا سنگھ بگھی پر بیٹھ کر جھنڈووالا کی گلیوں سے نکلا تو دس بجے کا سورج سامنے آ چکا تھا۔ گاؤں والے بعض لوگوں نے واہگرو کی سرکار میں،اُس کی رکھ کے لیے جی سے دعا کی پھر اپنے اپنے کام میں لگ گئے۔

سودھا سنگھ کی بگھی اور اُس کے متروں کے گھوڑے گرو ہر سا کی طرف دوڑنے لگے۔ سڑک کچی گرد غبار سے اِس قدر بھری تھی کہ گھوڑوں کی ایک ایک ٹاپ سے دو دو کلو گرد کا میدہ اُٹھ اُٹھ کر منہ کو آتا،جو نتھنوں سے ہوتا ہوا تلی تک چلا جاتا۔ یہ گرد اِس لیے بھی زیادہ تھی کہ ایک تو پورے چھ ماہ سے بارش کا قطرہ نہیں گرا تھا،دوسرا ہر وقت لکڑی کے پہیوں والے گڈے چلنے اور چاراڈھونے والی گدھیوں اور بیلوں کے کُھروں سے پس پس کر اتنا باریک ہو گیا کہ اُسے مٹی کا میدہ ہی کہ لیجیے۔ سڑک کے دونوں طرف سر کنڈوں کے کَت والے اُونچے جھاڑ او رکیکر کے سیاہ پیڑسردار سودھا سنگھ کی بگھی کے اُلٹی سمت بھاگتے جاتے تھے۔ دھوپ اتنی زیادہ تھی کہ اُس سے کیکروں کے سائے بھی ڈر کر کہیں روپوش ہو گئے تھے۔ خشک ٹہنیوں پر بیجٹروں کے آہلنے لٹکتے ہوئے ایسے ہلتے جیسے اُن کے اند ربھوت ہونکتے ہوں۔ کبھی کبھی سرمئی فاختہ یا بِجڑا سامنے سے ایک دم پھڑ پھڑا کر اُڑتا اور دور تک دھوپ میں غائب ہو جاتا۔ تھوڑی تھوڑی دیر بعد جھاڑیوں سے چوہے،کِرلے اور گلہریاں بھی ایک طرف سے نکل کر دوسری طرف کو بھاگ اُٹھتیں۔ جن کی پروا نہ گھوڑوں کوتھی اور نہ ہی اسواروں کو۔ سودھاسنگھ کو پٹیالے سے آئے ایک مہینہ ہوگیا تھا لیکن وہ ابھی تک جھنڈو والاسے باہر نہیں نکلا تھا۔ جس کی ایک وجہ تو دشمنی تھی لیکن اصل میں اِس بار گرمی بھی اتنی تھی کہ گھر سے باہر نکلنا بھٹی میں سر دینے کے برابر تھا۔ گرو ہر سا جھنڈووالاسے پندرہ میل تھا،جو بگھی اور گھوڑوں کے لیے زیادہ فاصلہ نہیں تھا۔ لیکن لُو کے تھپیڑوں اور دھوپ کے غبار سے جانوروں کو بخار سا چڑھ رہا تھا۔ جس کی وجہ سے اُنہیں تیز دوڑانا بھی درست نہیں تھا۔ لہذا وہ دُلکی چال چلتے گئے۔ ریل میں ابھی کافی دیر تھی۔ ادھر اُدھر خطرے والی کوئی بات نظر نہیں آرہی تھی۔ اِس لیے جانوروں کو دوڑانے کی ضرورت نہیں تھی۔ گھوڑے چلتے چلتے جب بارہ میل کے فاصلے پر دیوے کھوہ پہنچے،تو سردار سودھا سنگھ نے کہا،مترو کچھ دیر کے لیے سواریاں روک دو اور جانوروں کو پانی پلا لو۔ خود بھی آرام کر لو۔

دیوے کھوہ کی یہ جگہ سردار دیوے سنگھ کی ملکیت تھی،جو سودھا سنگھ کے والد کا بڑا ہی گہرا متر تھا اور اب اُس پر اُس کے بیٹے سردار ٹہل سنگھ کا قبضہ تھا۔ یہاں ایک بڑے سے بوڑھ کے سائے والی ٹھنڈی جگہ تھی۔ جس کے نیچے ایک ٹھنڈے پانی کا رہٹ بھی چل رہا تھا۔ ہریاول پینے والے اور بھنگ کوٹنے والے سارا دن اِس کھوہ پر بیٹھے باتوں کے طوطے اُڑاتے اور نشے میں غین ہوئے لیٹے رہتے اور سارے جہان کی خبریں یہیں بیٹھے لیتے دیتے۔ اکثر راہی پاندھیوں کا بھی یہی ٹھکانا تھا۔ سردار سودھا سنگھ گرو ہر سا منڈی آتے جاتے یہاں آرام کر کے بوڑھ کی چھاؤں سے لطف لیا کرتا۔ یہ بات ہر کوئی جانتا تھا کہ سردار صاحب کو اِس بوڑھ سے خاص رغبت تھی۔ آج بھی سودھا سنگھ یہاں پہنچا تو اُس کا بوڑھ کو دیکھ کر جی للچا گیا۔ اُس نے اپنی عادت سے مجبور ہو کر رُکنے پر ہی اکتفا کیا۔ اگرچہ یہ قیام منصوبے میں شامل نہیں تھا اور منڈی گرو ہر سا بھی اب تین میل ہی رہ گیا تھا۔ سردار ہرے سنگھ نے سودھا سنگھ کو ایک دفعہ نہ رکنے کا ہلکا ساکہا بھی،لیکن سردار سودھا سنگھ نے کہا،ہرے سنگھ بہہ جا،کجھ دیر آرام کر لے،جانور گرمی سے بوندلا گئے ہیں۔

سردار سودھا سنگھ کو دیکھ کر ٹہل سنگھ اور دوسرے تمام لوگوں نے اُٹھ کرپرنام کیا،پھربھاگ کر مونڈھے اور چارپائیاں اکٹھی کرنے لگے تاکہ سب بیٹھ جائیں۔ سردار سودھا سنگھ نے ہر ایک کو الگ الگ پرنام کا جواب دیااورایک بڑی سی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا،لو بئی،مترو کسی نے اشنان کرناہے تو کر لو اور جانوروں کو بھی پانی وانی پلا کے تازہ دم کر لو۔ (پھر ٹہل سنگھ کی طرف منہ کر کے )او بھلیا لوکا،سب متروں کو اور مجھے لسی پلا،گرمی نے تو پورے ہڈوں سے پانی کھینچ لیا۔ اِتنا کہ کر سردار سودھا سنگھ اُسی چار پائی پر لیٹ گیا۔ اِسی اثنا میں ایک پاندھی جو وہاں بیٹھا آرام کر رہا تھا،اُٹھااور اپنی سانڈنی پر سوار ہو گیا،جو تھوڑے فاصلے پر بیٹھی جگالی میں مصروف تھی۔ ٹہل سنگھ لسی لینے کے لیے اپنی حویلی کی طرف روانہ ہو گیا اور سودھا سنگھ کے بندے گرمی کے مارے رہٹ کے ٹھنڈے پانی میں نہانے کے لیے لنگوٹ کسنے لگے۔ چند ہی لمحوں میں تیس فٹ لمبے چوڑے کھاڈے میں داخل ہو گئے۔ اِتنے میں سانڈنی سوار نظروں سے اوجھل ہو گیا،جس کی کسی نے بھی پروا نہ کی۔

برگد کا تنا کم سے کم بھی بیس فٹ قطر کا تھااور اُس کے بڑے بڑے ٹاہنوں کاپھیر قریب چار کنال میں تھا۔ بوڑھ کی شاخوں پر چوڑے پتوں کی سبز چادریں،سینکڑوں پرندوں کی سریلی آوازیں اور پھریریاں لیتی اُن کی اُڈاریاں،اُن کے بار بار ایک شا خ سے دوسری شاخ پر پھدکنے اور چہچہانے کے ساتھ رہٹ کی ٹینڈوں سے نالیوں میں بہتے شفاف اور ٹھنڈئے پانی کے تریڑے موسم کی حدت کو اتنا کم کر رہے تھے کہ سردار سودھا سنگھ کو نیند آنے لگی۔ مگر اُسے خوب پتا تھا کہ ریل کا وقت اُس کی اپنی ملکیت میں نہیں،جسے تبدیل کر کے دو گھنٹے مزید بڑھا دیا جاتا۔ پھر بھی دوبجنے میں کافی دیر تھی کیونکہ ابھی تک بارہ ہوئے تھے۔ اِس لیے کچھ دیر آرام کر لینے میں کوئی حرج بھی نہیں تھا۔ سودھا سنگھ آرام سے چارپائی پر لیٹ گیا تو ٹھنڈی چھاؤں نے اتنا سرور دیا کہ اُس نے ارادہ کیا،اب نتھا سنگھ کی حویلی میں جا کر آرام کرنے کی بجائے یہیں پر ٹکتے ہیں۔ ریل جانے میں ایک گھنٹا رہ جائے گا،تو یہیں سے اُٹھ کر بھاگ چڑھیں گے۔ کون سا اب منڈی گرو ہرسا دور رہ گیا ہے۔

تھوڑی دیر گزری تھی،ٹہل سنگھ لسی کے دو دونے بھر لایا۔ لسی کافی گاڑھی تھی،اِس لیے اُس نے اُس میں رہٹ کا ٹھنڈا پانی بھی ڈال دیا۔ پھرپیتل کے قلعی شدہ چھَنًے بھر بھر کے سب کو پلانے لگا۔ پیت سنگھ،جگبیر،بیدا سنگھ وغیرہ کو نہاتے ہوئے دیکھ کر ہرے سنگھ کا بھی دل کر رہا تھا کہ وہ بھی کپڑے اُتار کر پانی کے کھڈے میں اُتر جائے لیکن وہ لسی پی کر وہیں بیٹھ گیا۔

سودھا سنگھ لسی پی کر دوبارہ چار پائی پر لیٹ چکا تھا بلکہ اب اُس کے خراٹے بھی شروع ہو گئے تھے۔ اُدھر سب متر کھاڈے سے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے تھے۔ اُ ن کے گنڈاسے،چھویاں اور کرپانیں چارپائیوں پر پڑی اُونگھ رہی تھیں۔ حتیٰ کہ پیپل نے اپنا تمام سایہ مغرب کی طرف سے کھینچ کر شاخوں کے نیچے کر لیا اوردوپہر ایک بجے کا طبل بجا دیا۔ ہرے سنگھ پہلے تو اس ساری کیفیت سے اُکتا رہا تھا لیکن جب اُسے بھی بیٹھے بیٹھے بہت دیرہوگئی تو اُس نے بھی چند لمحے لیٹ کر آرام کرنے کی ٹھانی۔ ہرے سنگھ سر سے پگڑی اُتار کر ابھی سیدھا ہی ہوا تھا کہ اُسے دُور سے دھوپ کی چندھیا دینے والی سفیدی میں گہرا گرد غبار اُٹھتا دکھائی دیا۔ ہرے سنگھ کے دل میں جو چھپا ہوا ڈر اور ہول تھا،وہ اب بالکل سامنے آنے لگا۔ اُس نے جلدی سے پگڑی دوبارہ سر پر رکھی،برچھی پکڑی اور اُٹھ کر سودھا سنگھ کو سختی سے جھنجھوڑ ا۔ سودھا سنگھ اُٹھ کر آنکھیں ملنے لگا مگر اُسے ابھی تک کچھ سجھائی نہ دیا۔ ہرے سنگھ نے نہانے والوں کو بھی اضطراب انگیز آواز میں پکارا،جسے سُن کر سب ایک مرتبہ دہل گئے۔ کچھ نہا کر پہلے ہی نکل چکے تھے۔ جو نہا رہے تھے وہ ہرے سنگھ کی آواز سُن کر پٹکے باندھے کھاڈے سے باہرچھلانگیں مارنے لگے لیکن اب دیر ہو چکی تھی۔ سچ پوچھیں تو سردار ہرے سنگھ کے سوا کوئی بھی اِس اچانک موقع کے لیے تیار نہ تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ سنبھلتے،چوہدری غلام حیدر اُن کے سر پر آن پہنچا اور چند قدم کے فاصلے پر رک کر چنگھاڑتے ہوئے ایک بلند آہنگ نعرہ مارا اور گولیوں سے بھری ہوئی ولائتی رائفل سیدھی کر لی،جس کا گھوڑا پہلے ہی چڑھا ہوا تھا۔ غلام حیدر کے علاوہ امانت خاں کے ہاتھوں میں بھی رائفل تھی۔ باقی سب کے ہاتھوں میں برچھیاں اورڈانگوں پر چڑھی ہوئی چھویاں چمک رہی تھیں۔ جن کی تعداد پینتیس کے قریب تھی۔ وہ سب بھی نعرے مارنے لگے اور ہتھیار کس کے دس بندوں نے آناً فاناًبرگد کے پیڑ کو چاروں طرف سے گھیر لیا تاکہ کوئی بھاگنے نہ پائے۔ دوسرے پچیس آدمی ہر طرح سے مسلح غلام حیدر کی پشت پر جم گئے۔

ہرے سنگھ،جو سودھا سنگھ کے باقی بندوں کی نسبت لڑنے کے لیے بالکل تیار تھا۔ اِس سے پہلے کہ وہ آگے بڑھ کر وار کرتا،امانت خاں وٹونے پہلے سیدھا اُسی پر فائر کھو ل دیا۔ گولی ہرے سنگھ کے سینے میں لگی اور وہ لڑکھڑا گیا۔ اِس کے باوجود اُس نے آگے بڑھ کر انتہائی بہادری کے ساتھ واہگرو کا نعرہ مارااور امانت خاں کے اُوپر برچھی کا ایک بھرپور وار کیا،جو امانت خاں کے گھوڑے پر بیٹھے ہونے کی وجہ سے دائیں ٹانگ پر لگا اور اُس کی ٹانگ شدید زخمی ہو گئی۔ پھر اِس سے پہلے کہ ہرے سنگھ دوسرا وار کرتا،امانت خاں رائفل میں کار توس دوبارہ بھر چکا تھا،اُس نے رائفل کی نال ہرے سنگھ کے سینے پر رکھ کر دوسرا فائر کر دیا۔ اِس فائر کے لگتے ہی ہرے سنگھ کی آنکھیں بے نور ہوگئیں اور وہ ایک ہی دم لڑکھڑا کر نیچے گر گیا۔ اِسی اثنا میں غلام حیدر بھی اپنی میگزین سودھا سنگھ کے بندوں پر خالی کر چکا تھا۔ اچانک اِن بلاؤں کو دیکھ کر سودھا سنگھ کے بندوں نے ہتھیار تو سنبھال لیے تھے مگروہ جم کر مقابلہ کرنے سے قاصر تھے اور سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ چوہدری غلام حیدر اور امانت خاں کی رائفلوں کا اپنی ڈانگوں کے ساتھ کیسے مقابلہ کریں؟ دوسری طرف غلام حیدر کے ڈانگوں اور برچھیوں والے ساتھی بھی اِن سے دگنی تعداد میں وہاں کھڑے تھے۔ اِس لیے بجائے اِس کے کہ آگے بڑھ کر حملے کا جواب دیتے،گولیوں سے بچنے کے لیے ادھر اُدھر اوٹوں کا سہارا لینے لگے۔ لیکن غلام حیدر نے اُن کو اس طرح گھیر لیا کہ ہر طرف سے اُن کی پشتیں خالی ہو گئیں۔ اِس سوڑ کو دیکھتے ہوئے آخر جگبیر اور پیت سنگھ نے واہگرو کا نعرہ مار ااور شیر کی طرح دھاڑتے ہوئے ہجوم میں داخل ہو گئے۔ مگر اُن کو بھی اپنے جوہر دکھانے کی مہلت نہیں ملی۔ گولیوں نے اُنہیں بھی ہرے سنگھ کی طرح اوٹ سے نکلتے ہی زمین بوس کر دیا۔ غلام حیدر کی رائفل ولایتی ہونے کی وجہ سے اُس کی میگزین میں چھ گولیاں موجود تھیں،جنہیں وہ ایک ایک کر کے لگاتار چلا رہا تھا۔ ایک میگزین ختم ہو جاتی تو وہ اُسے اُتار کر اپنے پیچھے کھڑے جانی چھینبے کی طرف بڑھا دیتا اور بھری ہوئی میگزین اُس سے پکڑ لیتا۔ جانی اگلی میگزین خالی ہونے تک پہلی میگزین میں گولیاں بھر دیتا۔ اِس افراتفری میں سودھا سنگھ کو سنبھلنا تو ایک طرف چارپائی سے بھی اُٹھنے کا موقع نہ مل سکا۔ چارپائی پر بیٹھے ہی غلام حیدر اور امانت خاں کے فائروں اور اپنے بندوں کو گرتے دیکھتا رہا۔ سودھا سنگھ کی چارپائی کو غلام حیدر کے بندے گھیر چکے تھے اور اُس کو اُٹھنے کی نوبت نہیں دی۔ فائر سودھاسنگھ کے کئی بندوں کو لگے،جس کی وجہ سے وہ نیچے گر گر کر لوٹنیاں لینے لگے۔ فائر بہت نزدیک سے کیے گئے تھے۔ اِس لیے بہت موئثر ہوئے۔ جب تک غلام حیدر کی رائفل سے گولیاں نکلتی رہتیں،امانت خاں اپنے بندوں کی اوٹ میں جا کر بندوق میں نیا کارتوس بھر لیتا اور گھوڑا دوڑا سودھا سنگھ کے بندوں میں سے کسی ایک کو تاک کر نشانہ مارتا۔ سودھا سنگھ کے بندے بھاگنے لگے تو غلام حیدر نے بھی اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور پیچھے بھاگ کر اُن پر فائر کرنے لگا۔ نعروں کی گونج اور گولیوں کی آگ میں اِتنا شور بلند ہوا کہ انسان تو کیا،برگد کی شاخوں میں پھدکنے والے پرندے بھی ایک ہی دم اُڑ کردھوپ کی پناہ میں چلے گئے اور دہکتی سفید فضا میں اُڑنے اور شور مچانے لگے۔ اِن پے بہ پے دو رائفلوں کے فائروں میں سودھا سنگھ کے بندے ایک طرف،خود غلام حیدر کے بندوں کو بھی ڈانگ برچھی کے جوہر دکھانے کا موقع نہ مل سکا۔ اِتنا ضرور ہوا غلام حیدر کے بندے دُگنے ہونے کی وجہ سے سودھا سنگھ کے لوگوں کو آگے بڑھنے کی ذرا بھی جرات نہ ہوئی۔ اِس مار دھاڑ میں سودھا سنگھ کے جگرے والے آدمی ہرے سنگھ،جگبیر،بیدا سنگھ اور پیت سنگھ تو پہلے ہی گر چکے تھے۔ باقی کوبھی غلام حیدر اورامانت خاں آگے بڑھ کر اور اُنہیں گھیر گھیر کا فائر مار رہے تھے۔ سودھا سنگھ چارپائی پر صدمے سے گرا ہوا تھااور اُسے جانی چھینبے نے جُوڑوں سے پکڑ رکھا تھا۔ آپا دھاپی اتنی بڑھی،کسی کو کسی کا ہوش نہ رہا اور سودھا سنگھ کے دس بندے وہیں ڈھیر ہوگئے۔ دو بندے بھنگ پینے والے بھی اسی فائرنگ میں چل بسے۔ باقی کے پانچ چھ بندے گھوڑوں پر چڑھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ غلام حیدر نے اُن کا پیچھا کرنا مناسب نہ سمجھا اور واپس بوڑھ کے نیچے سردارسودھا سنگھ کی چارپائی کے پاس آگیا۔ سودھا سنگھ کا جُوڑا کھل چکا تھا اور چہرہ زرد ہو رہا تھا۔ لیکن ابھی ہوش حواس ضایع نہیں ہوئے تھے۔ غلام حیدر نے سودھا سنگھ کو جُوڑوں سے پکڑ کر سیدھا کیا اور کہا،سودھے مجھے پہچان،مَیں ہوں شیر حیدر کا بیٹا غلام حیدر،جس کی ملاقات کا تجھے بڑا شوق تھا اور جس کے بندوں کو تو نے ناجائزمار دیا۔ تجھے اپنے ہرے سنگھ،جگبیرے اور دمے پر بڑا مان تھا۔ وہ دیکھ مَیں نے اُن کی چھاتیاں کھول دی ہیں۔ کہاں گئے اُن کی دیگی لوہے والی بر چھیاں اور گنڈاسے؟اب تُو سمجھ لے،غلام حیدر نے اسی برگد کے نیچے تجھے سزائے موت سنا دی ہے۔ اب چل تو بھی اِنہی کے پا س۔ مگر تیرا اور اُن کا ٹھکانا ایک جگہ پر نہیں ہو گا۔ سودھا سنگھ نے آنکھیں اُوپر کر کے غلام حیدر کی طرف دیکھا،جو موت کا فرشتہ بن کر اُس کے سامنے کھڑا تھا۔ غلام حیدر کا لمبے بَر والا لال رنگ کا لاچا،سفید کُرتہ اور سنہری تلے والا کھُسہ،سودھا سنگھ کی آنکھوں میں تیر بن کر لگا۔ غلام حیدر کی آنکھیں سُرخ انگارا تھیں اور اُن میں خون چڑھا ہوا تھا۔ ایک ہاتھ میں رائفل،جس کی نال سے بارود کی بُو دھواں بن کر نکل رہی تھی اور سودھا سنگھ کی ناک کو چڑھ رہی تھی۔ سودھا سنگھ نے غلام حیدر کو آج سے بارہ تیرہ سال پہلے جب وہ یہی دس سال کا ہو گا،اپنے باپ شیر حیدر کے ساتھ تحصیل مکھسرمیں ایک پنچایت میں دیکھا تھا۔ اُس وقت تو یہ لڑکیوں کی طرح چٹا گورا،ایک بچونگڑا سا لگتا تھا،مگر اب کتنا بڑا قاتل ہو گیا تھا۔ سودھا سنگھ نے اِسی حالت میں سوچا،بنتو سچ کہتی تھی،یہ مُسلے بڑے بگھیاڑ ہوتے ہیں۔ اِن کے بچے بھی بگھیاڑ ہوتے ہیں،آخر یہ غلام حیدر مجھے کھا ہی گیا۔ جب سودھا سنگھ کوبچنے کا گمان نہ رہا،تو اُسے پھر بنتو یاد آئی،اُس نے آنکھیں بند کر لیں اور بینت کور کو دو ہتھڑزور زور سے پیٹتے اور بین کر تے دیکھنے لگا۔ اِسی اثنا میں اُس نے دوبارہ غلام حیدر کی آواز سنی،سودھے،یہ نہ کہنا،مَیں تیری ہی موت بن کر آیا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد عبدل گجر اور شریف بودلہ بھی تیرے ساتھ آ ملیں گے۔ مَیں نے فیصلہ کر لیا تھا،اِس دفعہ کی پیشیاں فیروز پور کی عدالت کی بجائے تحصیل جلال آباد میں ہی لگا دی جائیں۔ میرے پاس بار بار فیروز پور جا کر تا ریخیں بھگتنے کا وقت نہیں۔ اِس لیے میں نے یہیں عدالت لگا کر فیصلہ کر دیا۔ سودھا سنگھ نے غلام حیدر کی بات سنی،تو ایک دم تڑک کر بولا،غلام حیدر،کوئی گل نئیں،سودھا سنگھ مردہے،زنانی نہیں کہ تیرے آگے بینتی کر ے گا،مار دے گولی۔ پَر گولی سینے پر مارنا اور یاد رکھنا،کسی مرد کو مارا تھا۔ غلام حیدر نے سردار سودھا سنگھ کے دل پر رائفل کی نال رکھ کرگھوڑا دبا دیا۔ غلام حیدر نے میگزین ایک دفعہ پھر بھر لی تھی۔ اِس لیے وہ پوری کی پوری سودھا سنگھ پر خالی کر دی۔ اِس فائر کے چلنے کے ساتھ ہی خون کے تیز فوارے نے پوری چار پائی لال کر دی۔

سودھا سنگھ کو مارنے کے بعد غلام حیدر نے کچھ دیر تک تمام لاشوں کا جائزہ لیا۔ پھر اپنے گھوڑے پر بیٹھ گیا اور سب ساتھیوں سے کہا،بھائیو،امانت خاں کے علاوہ تم سب سیدھے تھانے گرو ہر سا جا کر حوالات میں بیٹھ جاؤ اور یہ برچھیاں اور ڈانگیں وہیں تھانے میں جمع کرا دو اور سمجھ لو،تم ہمارے ساتھ آئے ہی نہیں(پھرامانت خاں کی طرف منہ کر کے )مَیں اور امانت،اللہ نے چاہا تو جلد ہی چک میگھا پہنچتے ہیں۔ پھرگھوڑے کو ایڑ لگا دی۔ غلام حیدر کے تمام بندوں نے تڑپتی ہوئی لاشوں کو وہیں چھوڑا،جن میں اب کوئی بھی زندہ نہیں رہا تھا،اور سیدھے تھانہ گرو ہر سا کی طرف سانڈنیوں اور گھوڑوں پر چڑھ کرچل پڑے۔

ایک گھنٹے بعد جب چک میگھا ایک میل رہ گیا تو غلام حیدر نے کہا،میاں امانت،تھوڑی دیر کے لیے گھوڑوں کو آرام دے لیں تاکہ تازہ دم ہو جائیں۔ آگے ہمیں اِس قہر کی گر می میں مسلسل بھاگنا پڑے گا۔ دونوں شرینہہ کے سائے میں ا پنے گھوڑوں کو ٹھہرا کر نیچے اُترے۔ گھوڑوں کوشرینہہ کے نیچے کھڑے ہوئے نلکے سے پانی پلا یا،خود پیا،پھر گھوڑوں کو سانس دلانے لگے۔ غلام حیدر نے،کہاامانت خاں گھبرانا نہیں،اپنی رائفل کی نال کو اچھی طرح صاف کر لے۔ مجھے پکا یقین ہے،ابھی سودھا سنگھ کے مرنے کی خبر چک میگھا نہیں پہنچی۔ البتہ تھانہ گرو ہر سا اِس خبر سے گونج گیا ہو گا۔

امانت خاں بڑی بڑی مونچھوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ہنس پڑا اور کہنے لگا،چوہدری غلام حیدر،گھبرانا نامردوں کے حصے میں لکھا گیا ہے۔ مَیں تو پیدا ہوا ہوں تو اِنہی چکروں میں پڑگیا تھا۔ یہ میری پہلی لڑائی نہیں ہے۔ دوسری بات یہ کہ اگرمنڈی گرو ہرسا میں خبر پہنچ گئی تو مجھے پکا یقین ہے،فرنگیوں کی جیپیں ہمارے کُھرے میں ہوں گی۔ لیکن خطر ے امانت کی زندگی کا حصہ ہیں۔ اِتنا کہہ کر امانت خاں اُٹھ کر گھوڑے کو کھولنے لگا۔ غلام حیدر نے بھی اپنے گھوڑے کی لگام شرینہہ کے تنے سے کھول لی۔ اُس کے بعد دونوں چھلانگیں مار کر پر چڑھ گئے او ر رائفلیں کاندھوں پر رکھ کر چک میگھا کی طرف چل پڑے۔

چک میگھا تین سو نفر کی آبادی کا چھوٹا سا گاؤ ں تھا۔ جس میں زیادہ بڑے زمیندار نہیں تھے۔ لوگوں کے پاس پچاس پچاس یا سو سو ایکڑ کے قریب رقبہ تھا۔ اُس میں وہ گندم اور چاراکاشت کرتے۔ اِس کے علاوہ ایک دو سیؤ بیریوں کے باغ بھی تھے۔ چک میگھا کے مغرب کی طرف سے ایک نہر حکومت نے کافی پہلے نکال دی تھی،جو قصور کے مقام سے دریاے ستلج سے نکال کر فیروز پور کو کاٹتی ہوئی بنگلہ فاضلکاتک چلی جاتی۔ چک میگھا کی زمینوں کو اِسی نہر کا پانی سیراب کرتا اور لوگ قدرے خوش حال تھے۔ گاؤں کے چھوٹے چھوٹے زمین داروں میں عبدل گجر اور شریف بودلہ ہی کچھ بڑے تھے،جن کی زمین ڈھائی تین تین سو کے لگ بھگ تھی۔ یہ زمین غلام حیدر کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی تھی لیکن اِن دونوں میں خود سری اِنہیں کسی نہ کسی دشمنی میں ضرور اُلجھائے رکھتی اور گاؤں میں بھی اُن کا فساد اپنے سے چھوٹے زمینداروں کے ساتھ چلتا رہتا۔ ا کثر کو یہ دونوں مل کر دبائے رکھتے۔ ڈیرہ کافی کھلا تھا۔ جس کے اندر نیم کے دو پیڑ انتہائی گہرا سایہ کیے ہوئے تھے۔ اس سائے میں پانچ چھ چارپایؤ ں پر کچھ لوگ بیٹھے اِدھر اُدھر کی ہانک رہے تھے،جن میں عبدل گجر اور شریف بودلہ صاف نظر آ رہے تھے۔ گھوڑوں کے رُکتے ہی لوگوں میں ایک ہڑبونگ مچ گیا۔ وہ اِدھر اُدھر بھاگنے لگے لیکن ڈیرے سے باہر نکل کر بھاگنے کی جرات کسی کوبھی نہیں ہو رہی تھی کیونکہ دروازے پر غلام حیدر اورامانت خاں رائفلیں لیے کھڑے تھے۔ غلام حیدر نے عبدل گجر کو مخاطب کر کے کہا،او حرامی تیار ہو جا،غلام حیدر نیودرا ڈالنے آگیا ہے۔ یہ بھی جان لے،تیرے باپ سودھاسنگھ کو اُس کے گرو جی کے حوالے کر آیا ہوں لیکن افسوس کہ تو اُس کی چتا کی آگ نہ سیک سکے گا،وہ بچارا بھی تیرے سیاپے اور تیری چارپائی کو کندھا دینے جوگا نہیں رہا۔

موت کو اتنا سامنے دیکھ کر عبدل اور شریف کے ایک بار اوسان تو خطا ہو گئے لیکن اُنہوں نے پھر بھی ہمت کر کے اپنے بندوں کو کہا،دُلے کیا دیکھتے ہو؟پکڑو اِس کو اور ڈانگوں سے کچل دو۔ عبدل کی آواز سُن کر کچھ لوگ فوراً اُٹھ کھڑے ہوئے لیکن اتنا وقت کہاں تھا،دونوں نے فائر کھول دیا اور لگاتار گولیاں برسانے لگے۔ جس سے تین چار بندے گر گئے۔ کافی سارے چارپائیوں کے نیچے گھس گئے۔ اِسی اثنا میں موقع پا کر عبدل گجر بھاگنے لگا،اِتنے میں غلام حیدراور امانت خاں رائفل میں دوبارہ گولیاں بھر چکے تھے۔ اُنہوں نے دوبارہ تاک تاک کے فائر کرنے شروع کر دیے،جو عبدل گجر اور شریف بودلے کے جسموں کو چھیدتے ہوئے نکل گئے اور ڈیرے کا ویہڑا منٹو ں میں لہولہان ہو گیا۔ ہر طرف لاشیں اور خون ہی خون پھیل گیا۔ نیم کے درختوں سے پرندے اُڑ اُڑ کر شاخوں کو چھوڑنے لگے۔ باقی لوگ یا تو بھاگ گئے یا چارپائیوں کے نیچے گھسے ہوئے تھے اور کسی کی جرات نہیں تھی کہ سامنے آجائے۔ اِس کے بعد غلام حیدر اور امانت خاں گھوڑے آگے بڑھا کر لاشوں کے قریب آئے اور دوبارہ عبدل اور شریف پر ایک دو دو فائر کیے پھر واپس چل دیے۔ باہر نکلتے ہی دونوں نے گھوڑوں کو ایڑیاں لگا دیں۔ اِدھر چک میگھا میں ہر طرف چیخ چنگھاڑا اور ماتم شروع ہو گئے۔ عبدل گجر اور شریف بودلے کے ساتھ تین اور لاشیں بھی اُوندھے منہ زمین پر پڑی ہوئی تھیں۔ یہ سب اتنی جلدی ہوا،جیسے لوگوں پر ایک خواب کا سماں گزرا ہو۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

نولکھی کوٹھی - سولہویں قسط

علی اکبر ناطق: غلام حیدر کی حویلی میں بیٹھے سب لوگ اپنی اپنی قیاس آرائیوں میں لگے انگریزی سرکار اور جھنڈو والا کی خبریں نون مرچ لگا کر اورایک دوسرے کو سنا کر آنے والے وقت کے متعلق فیصلے صادر کر رہے تھے۔

نولکھی کوٹھی - آخری قسط

علی اکبر ناطق: بہت سی چیزیں انسان کے اختیار میں نہیں ہوتیں۔ تم حالت نزع میں پڑے انسان کو نہیں کہہ سکتے کہ وہ مرنے سے انکار کر دے۔

نولکھی کوٹھی - چھبیسویں قسط

علی اکبر ناطق: ملک بہزاد جان گیا تھا،غلام حیدر کو نواب نے کوئی پیسے نہیں دیے مگراُس نے پیسوں کی تھیلی پکڑ لی کیونکہ اب اُسے بھی پیسوں کی ضرورت تھی،پھر روز روز مفت میں تو کام نہیں ہو سکتے تھے۔