نولکھی کوٹھی - ساتویں قسط

نولکھی کوٹھی - ساتویں قسط
علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(12)

شاہ پور جلال آباد کے شمال میں دس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ اس گاؤں کی آبادی تین سو کے لگ بھگ تھی۔ ساری آبادی مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ پورا گاؤں شیر حیدر کی ملکیت تھا اس لیے جوں کا توں غلام حیدر کی طرف منتقل ہو گیا۔ دراصل یہی وہ گاؤں تھا جو اُن کی آبائی جاگیر تھی۔ جو دھا پور شیر حیدر کو بیوی کی طرف سے ملا تھا اور جلال آباد کے مضافات میں جو دوہزار ایکڑ ز مین تھی، وہ یا تو آلاٹی تھی یا پھر خریدی ہوئی تھی۔ غلام حیدر کا آبائی گھر بھی شاہ پور میں تھا۔ گھر کیا تھا، چھوٹی اینٹوں سے بنی قلعے جیسی حویلی تھی جس کا بیرونی دروازہ گویا ہاتھیوں کے لیے بنایا گیا تھا۔ دروازے کے سامنے دائیں بائیں ڈیوڑھیاں تھیں۔ اُن کی چھتوں پر ٹاہلی کی سیاہ لکڑی کے موٹے شہتیر اور ٹاہلی ہی کے آنکڑے تھے۔ صحن میں تین چار نیم کے درخت اتنے بڑے تھے کہ پورے صحن اور حویلی کی چھتوں کے اُوپرتک اُن کی شاخیں پھیلی ہوئی تھیں۔ گرمیوں میں ان کا سایہ جس قدر راحت بخش تھا، سردیوں میں اتنا ہی تکلیف دہ ہو جاتا، جو ارد گرد کے گھروں میں بھی جا نکلتا۔غلام حیدر نے اُن کی شاخیں کبھی کٹوائی نہیں تھیں۔ کچھ حویلی کے کمروں اور دیواروں کا رعب اور کچھ اِن نیم کے پیڑوں کی جلالت اور بزرگی نے اِسے شاندار ہیئت سے نوازا تھا جو دیکھنے والے کو مرعوب کر دیتی۔ حقیقت میں یہ گاؤں ارد گرد کے تمام گاؤں سے زیادہ خوشحال تھا۔اسی گاؤں میں ایک پرائمری کے درجے تک اسکول بھی تھا۔ اسکول کی عمارت تین ہی کمروں پر مشتمل تھی لیکن اس عمارت اور سکول کی بیرونی دیوار سے بھی انگریزی وقار جھلکتا تھا۔تمام عمارت اور دیوار پختہ سُرخ اینٹوں سے بنی تھی۔

دیوار کے ساتھ ساتھ پاپلر اور سنبل کے بے شمار درخت بھی تھے، جن کی شاخوں اور چھاؤں کے گھیراؤ میں ساری عمارت چھپ گئی تھی۔مگر مولویوں کی کرم فرمائی سے بچوں کی تعداد بیس سے نہ بڑھ سکی۔ وہ بھی زیادہ تر ادھر اُدھر سے کچھ چو ہڑوں اور کراڑوں کے بچے تھے۔ گاؤں کے ایک دو بچے ہی پڑھنے آتے۔ گاؤں میں پیپلوں اور ٹاہلیوں کی بھرمار تھی۔ کئی مکان پکے تھے لیکن اکثر آبادی کچے گھروں میں مقیم تھی۔ مگر تھے وہ بھی صاف ستھرے۔ الغرض جودھا پور کی نسبت شاہ پور ایک خوشحال گاؤں تھا۔ لوگوں کے پاس مال مویشی بے انت تھا۔ شیر حیدر جب تک زندہ رہا، اس کی ساری توجہ اپنے آبائی گاؤں شاہ پور پر رہی۔ اُس نے خصوصی ہدایت کی تھی کہ گاؤں صاف ستھرا اور کوڑا کرکٹ سے پاک رہنا چاہیے جس پر پورا عمل کیا گیا۔ وہ اُسے ایک ماڈل گاؤں بنانا چاہتا تھا تا کہ آس پاس کے چوہدریوں پر اُس کی مزید دھاک بیٹھ جائے۔ اسی سلسلے میں اُس نے ایک دفعہ کسی سے کہہ کہلا کر اسسٹنٹ کلکٹر جلال آباد کو بھی وہاں مدعو کیا تھا،جو گاؤں کی صفائی دیکھ کر بہت خوش ہوا، شیر حیدر کے انتظام کی بہت تعریف کی اور ایک سکول کا اعلان کر گیالیکن اسے ماڈل گاؤں کا درجہ حاصل نہ ہو سکا تھا۔ خیر انہی وجوہات سے گاؤں میں مال مویشی رکھنے کی ممانعت ہو گئی۔ ان کے لیے شیر حیدر نے یہ انتظام کیا کہ گاؤں کے ساتھ ہی ایک پانچ ایکڑ کا احاطہ تعمیر کروا کے اُس کے گرد کچی دیوار کرا دی۔ تمام لوگ، جن کے پاس مال تھا، اُنھیں حکم دیا کہ وہ ڈھور ڈنگر وہیں باندھا کریں۔ اُس وقت سے پورے گاؤں کے مویشی وہیں بندھتے اور اُن کی حفاظت کے لیے ہر گھر کا ایک فرد رات کو وہاں ٹھہرتا۔ چوری چکاری کا ڈر اس لیے نہیں تھا کہ شیر حیدر کادبدبہ بہت تھا۔ غلام حیدر اپنے باپ کی وفات کے بعد ابھی تک شاہ پور نہیں جا سکا تھا۔ اُسے چراغ دین کے قتل اور دوسرے معاملات سے فرصت ہی نہ مل سکی۔البتہ شاہ پور کے اکثر مزارع جلال آباد آ کرتعزیت ضرور کر چکے تھے۔ غلام حیدر شاہ پور جانا تو چاہتا تھا لیکن وہ مونگی اور چراغ کے قتل میں ہی الجھ کررہ گیا اور اتنا وقت نہ مل سکا کہ شاہ پور کا ایک چکر لگا لے۔ سردار سودھا سنگھ پر تین سو دوکا پرچہ تو کٹ چکا تھا مگر اُس کی گرفتاری آسان بات نہ تھی۔اُس کے خیال میں اسسٹنٹ کمشنر اور تحصیل کے متعلقہ عملے نے اس مسئلے کو کچھ خاص اہمیت نہ دی تھی اورولیم کے ساتھ پہلی نا خوشگوارملاقات دوسری ملاقات میں رکاوٹ تھی۔ لہٰذا اُسے ملاقات کا وسیلہ نکال کر اِس معاملے کو اُس ڈپٹی کمشنر فیروز پور کے علم میں لانا تھا۔جس کے لیے اُس نے رات سونے سے پہلے چاچے رفیق کو سمجھا دیاتھا کہ وہ تیس جوانوں کو تیار رکھے تاکہ صبح کی نماز کے فوراً بعد فیروز پور روانہ ہو جائیں۔ غلام حیدر کو فکر یہ تھی کہ رعایا اپنے آپ کو بے بس اور لاوارث سمجھنا نہ شروع کر دے۔ وہ جانتا تھا کہ اُس کا باپ شیر حیدر جس طرح زمینوں اور رعایا کے معاملات کو سلجھاتا آیا اور پیدا ہونے والی دشمنیوں سے نبٹتا آیا تھا، اگر وہ اُس وقار کو برقرار نہ رکھ سکا تو یقیناًاُس کا اپنا مستقبل اور ذاتی ملکیت بھی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

صبح سات بجے کے قریب غلام حیدر باہر نکلا۔ دس گھوڑے اور دو بگھیاں تیار کھڑی تھیں۔ شیرا کمبو، حمیدا ماچھی، جانی چھینبا،گاموں کبوتر والا، شادھا کھوکھر، رنگو چھینبا اور دوسرے کئی جوان برچھیوں اور چَھویوں سے لیس بیٹھے حُقوں کے سوٹے لگا رہے تھے۔ ہر ایک جوش اور جذبے سے بھرا ہوا تھا کہ وہ آج فیروز پور میں بڑے صاحب سے ملاقات کریں گے اور یہ بات پہلی بار واقع ہونے والی تھی۔ شیر حیدر کے دور میں تو کبھی تحصیلدار سے نہیں مل سکے تھے۔ تحصیل جلال آباد سے فیروز پور کی راہ ساٹھ کلو میٹر تھی جس کے لیے کم از کم آٹھ یا نو گھنٹے لگ سکتے تھے۔ ریل کے اپنے اوقات تھے۔ پھر غلام حیدر نے فیروز پور میں کئی اور لوگوں سے بھی ملنا تھا۔ اس لیے سفر گھوڑے اور بگھیوں پر ہی مناسب معلوم ہوا۔ اس کے علاوہ کھلی فضا میں دشمن کے حملے کا خوف بھی کم تھا،بہ نسبت ریل کے تنگ ڈبوں کے۔

غلام حیدر کا خیال تھا، وہ شام سے پہلے ہی فیروز پور میں پہنچ جائے گا۔ رات شیخ نجم علی کے پاس گزارے گا کہ وہ اس کے سکول فیلو ہونے کے علاوہ گہرا دوست بھی تھا۔ فیروز پور کی عدالت میں اُس کے والد شیخ مبارک علی کا اچھا خاصا رسوخ تھا،جو ڈپٹی کمشنر کے ساتھ اُس کی ملاقات کا بندوبست بھی کر سکتا تھا۔ غلام حیدر نے ریشمی لاچا اور بوسکی کی قمیض پہن رکھی تھی۔ لاچے کا لمباؤ ایک فٹ تک زمین پر گھسٹتا تھا۔سر پر لٹھے کی کھڑکی دار پگڑی تھی۔ جسے پف لگا کر یوں اکڑا دیا جیسے سانپ کا پھن لہراتا ہوا ڈسنے کو آتا ہو۔ پاؤں میں سنہری تلے کا کُھسا چرر چررکی آواز کے ساتھ قدموں کو ہلکی ٹھاپ دے رہا تھا،گویا شیر حیدر کا دوسرا جنم ہو۔ بائیں کاندھے پر لش لش کرتی پکی رائفل اس پر مستزاد تھی۔ حویلی کے باہر اور بھی بہت سے لوگ جمع تھے۔ کچھ بوڑھی عورتیں آ کر غلا م حیدر کا سر چومنے اور دعائیں دینے لگیں۔ عورتوں کے اس طرح غلام حیدر کے گرد گھیرے نے فضا کو رقت آمیز کر دیا۔ غلا م حیدر جانتا تھا کہ وہ اُس سے بہت بڑی توقعات رکھے ہوئے ہیں۔ جنھیں اس کی دلی خواہش تھی کہ وہ پورا کرے لیکن دل میں اُس خوف کی کیفیت غالب تھی جو ولیم کے ساتھ ملاقات میں پیش آ چکی تھی۔ غلام حیدر سوچ رہا تھا، اگر ڈپٹی کمشنر نے بھی اُسی بے اعتنائی کا ثبوت دیا تو اُس کا بھرم جاتا رہے گا۔پھر بھی وہ کسی صورت بیٹھے گا نہیں۔ یہ فیصلہ اس نے دل میں کر رکھا تھا مگر اس کے بعد کیا کرے گا ؟اِس امر کی بابت اُس نے بھی نہیں سوچا تھا۔ فی الحال اُسے جلد فیروز پور پہنچ کر ڈپٹی کمشنر سے ملاقات کا وسیلہ نکالنا تھا اور حکومت سے اس ناحق قتل کے سخت مواخذے کا عمل درآمد کرانا تھا۔جس نے مونگی کی فصل کو ثانوی حیثیت دے دی تھی۔

صبح سات بجے غلام حیدر نے بگھی پر قدم رکھ دیا۔ ایک بگھی آگے اور تھی باقی جوان گھوڑوں پر سوار غلام حیدر کی بگھی کے پیچھے جلال آباد سے نکل کھڑے ہوئے۔اِدھر بگھیاں فیروز پور کی طرف روانہ ہوئیں،اُدھر جلال آباد میں بوڑھے گپوں کے ہانکے لگانے لگے۔

حویلی کے دالان میں حقوں کی چلمیں انگاروں سے دہک اُٹھیں اور نمکین لسی کے دور چلنے لگے۔ آدھ آدھ سیر کے پیتل کے گلاس مجمعے کے درمیان کھنک رہے تھے۔ پوہ کی سردی میں لسی پی کر صبح کے عالم میں دھوپ سیکنا اوّل تو خود ایک طرح کی ایسی عیاشی ہے جس کا جواب نہیں لیکن اگر گپ ہانکنے کو نیا موضوع مل جائے تو سونے پہ سہاگہ ہے۔ ایسے عالم میں خاص کر پنجاب کا طبقہ اپنے نقصان پر بھی مزے لے کرتبصرے کرتا ہے اور یہی حالت اِن کی تھی۔ جودھا پور میں چراغ دین کا قتل اور مونگی کا نقصان ثانوی حیثیت اختیار کر چکا تھا۔اب تجزیے اور تبصرے کا سارا مرکز غلام حیدر کی ذات تھی۔وہ بھی اس پر کہ اُس کی پہنچ کہاں تک ہے۔ کوئی غلام حیدر کے تعلقات گورنر سے پیدا کر رہا تھا۔ کسی کا خیال تھا کہ وائسرائے خود اس معاملے میں دلچسپی لے رہا ہے کیونکہ ایک دفعہ لاہور میں اُن کے خیال میں غلام حیدر سے وائسراے کی خفیہ ملاقات ہو چکی تھی۔

امیر سبحانی نے تو اس سلسلے میں ایک نہایت ہی عجیب خبر نکالی۔ اُس نے ملک نظام کے کان کے نزدیک منہ کر کے کہا، ملک جی یہ بات باہر نہیں نکلنی چاہیے۔ اپنے غلام حیدر کا وائسرائے کی بیٹی سے یارانہ ہے۔ وہ اپنے شیر غلام حیدر کے ساتھ شادی کرنا چاہتی ہے لیکن غلام حیدر اُسے ابھی تک ٹال رہا ہے۔ اس معاملے میں غلام حیدر کا دل جیتنے کے لیے اُس نے خود ڈپٹی کمشنر فیروز پور کو تار بھیجی ہے کہ میں اس کیس میں پورا انصاف چاہتی ہوں۔ اصل میں ڈپٹی کمشنر نے غلام حید ر کو فیروز پور بلایا ہے لیکن غلام حیدر بڑا چالاک ہے۔ اُس نے یہ بات کسی کو نہیں بتائی حتیٰ کہ اپنے فیقے کو بھی۔ دیکھنا یہ بات سچ نہ نکلے تو میری داڑھی مونڈ دینا بیچ اس مجمعے کے۔ یہ کہہ کر امیر سبحانی تسلی سے دوبارہ حقہ گڑگڑانے لگالیکن ملک نظام اس انکشاف پر ایک دفعہ اُچھل گیا۔ وہ سوچنے لگا، واقعی غلام حیدر اس چھوٹی عمر میں کتنا چالاک ہے۔ یہ سوچ کر جی میں خوش ہونے لگا کہ اب سکھوں کی موت آئی کہ آئی۔ مگر یہ ایسی خبر تھی جس کا شیدے کو پتا چلنا بہت ضروری تھا۔ وہ اس کی تہہ تک پہنچ کر آنے والے وقت کا صحیح نتیجہ نکال سکتا تھا۔ شیدا کونے والی چار پائی پر بیٹھا حالات کی گتھیاں سلجھا رہا تھا۔ جس کی بات ارد گرد بیٹھے لوگ بڑے غور سے سن رہے تھے۔ ملک نظام نے آواز دے کر اُسے اپنے پاس بلایا اور ساری کہانی سامنے رکھ دی۔ شیدے نے بات نہایت توجہ سے سنی اور کہا،دیکھ نظام بھائی، یہ بات اپنے درمیان ہی رکھنا۔اس لیے کہ اِس میں گورنمنٹ کی بے عزتی ہے اور سرکار طیش میں بھی آ سکتی ہے۔کیونکہ دھی بہن کی عزت ہر ایک کو پیاری ہوتی ہے۔البتہ اتنا ضرور ہے کہ اب سودھا سنگھ کی موت یقینی ہے۔ میں نے تو پہلے ہی کہا تھا کہ سکھوں نے شیر کی دُم پہ پاؤں رکھ دیا ہے۔ اب دیکھنا انھیں کیسا بھگتان دینا پڑے گا۔ اس کے بعد شیدا دوبارہ اُٹھ کر اپنی چارپائی پر جا بیٹھا۔ سب کو پتہ تھا نظام دین نے کوئی بات رشید سے کی ہے۔ اس لیے وہ سب اس کی ٹوہ لینے لگے۔ کافی دیر تک وہ بات کو دبائے بیٹھا رہا لیکن اس شرط پر اُس نے یہ راز کھول دیا کہ خبردار بات حویلی سے باہر نہ جائے۔

یہاں تو یہ کچھ چل رہا تھا، اتنے میں نظام دین کو چوکیدار نے آکر بتایا کہ جودھا پور سے رحمت علی بلوچ آیا ہے کچھ خاص خبریں لے کر۔ یہ سُن کر تمام لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے۔ سلام دعا کے بعد اُسے درمیان کی چار پائی پر بیٹھ کر لسی کے دو گلاس دیے۔ مجیدے نے حقہ سامنے رکھ دیا، جسے دوچار دفعہ رحمت علی نے گڑ گڑایا اور مجمعے کی بے صبری کا امتحان لیے بغیر بولا،، بیلیو مَیں غلام حیدر کو ایک بڑی ضروری خبر دینا چاہتا ہوں، اُسے خبر دو کہ رحمت علی جودھا پور سے آیا ہے۔

نظام دین نے رحمت علی کی بات سُن کر کہا،پر غلام حیدر تو بھائی رحمت آج صبح ہی فیروز پور بڑے صاحب سے ملنے کے لیے نکل گیا ہے۔اب شاید اسے دو دن لگ جائیں واپس آنے میں۔جو بھی خبر ہے،ہمیں بتا دو۔ ہم غلام حیدر کو بتا دیں گے۔اگر خفیہ بات ہے تو غلام حیدر کا انتظار کر لو۔

رحمت علی نظام کی بات سن کر بجھ سا گیا۔ اس کا سارا جوش جذبہ اسی میں تھا کہ جودھا پور انگریز بہادر کے آنے کی خبر غلام حیدر کو بتائی جائے لیکن اب کیا ہو سکتا تھا۔اُسے اتنے دن یہاں رکنا گوارابھی نہیں تھا،ناچار یہ خبر نظام ہی کو سنانا پڑی اور اپنی چادر کا پلو درست کر کے کاندھے پر ڈالتے ہوئے بولا،، بھائی نظام خبر یہ ہے کہ کل انگریز بہادر جودھا پور میں آیا تھا۔اُس نے کہا کہ اُسے اُوپر سے حکم آیا ہے کہ وہ خود جا کر موقع پر دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کرے۔

نظام، رشید ماچھی اور دوسرے تمام لوگ حیران ہوئے”کیا انگریز بہادر خود جودھا پور میں آیا تھا”

رحمت علی نے بلائی ہونٹ سے نیچے لٹکی ہوئی مونچھ کے سفید اور کالے بالوں سے لسی کی ٹھنڈائی کو ہاتھ سے صاف کیا پھر سب لوگوں کو گھورتے ہوئے بولا، تو کیا میں دس کوس چل کر یہاں ٹھٹھہ مذاق کرنے آیا ہوں؟ مَیں آیا ہوں کہ ساری خبر چوہدری غلا م حیدر کو دوں۔اِدھر سامنے تم بیٹھے مجھے جھوٹا بنا رہے ہو۔

ایسے معلوم ہو رہا تھا کہ غلام حیدر کو وہاں نہ پا کر رحمت علی کا سارا مزاکِرکرا ہو گیا تھا کہ اُس خبر کی داد وہ براہِ راست غلام حیدرسے نہ لے سکا۔اور اب اس کا غصہ ان پر نکال رہا تھا۔

صاحب بہادر سکھوں پہ بہت غصے میں تھا، رحمت علی دوبارہ اپنی کہانی کی طرف لوٹا، کہہ رہا تھا، میں سودھا سنگھ کو چوراہے کے بیچ پھانسی نہ دوں تو ولیم نام نہیں۔ ہماری سرکار میں یہ ظلم نہیں ہو سکتا۔

ادھر رحمت علی یہ باتیں کر رہا تھا، اُدھر امیر سبحانی آہستہ آہستہ مسکرانے لگا گویا اپنی بات کی تصدیق ہو رہی ہو۔ آخر سب لوگ امیر سبحانی کو رشک کی نظروں ے دیکھنے لگے۔ جس نے بیچ کی خبر پہلے ہی دے دی تھی اور یہ سب کچھ وائسرائے کی بیٹی کی وجہ سے ہو رہا تھا کہ انگریز بہادر دوڑے دوڑے خود ہی انصاف کے لیے تفتیشیں کر رہے تھے۔ورنہ کہاں جودھا پور اور کہاں انگریز سرکار۔اب امیر سبحانی نے ا پنی مونچھوں کو تاؤ دیا اور اُٹھ کر اکڑتا ہوا ایک طرف جا بیٹھا۔ اُسے پتا تھا اُس کی بات کی تصدیق ہو چکی ہے۔چنانچہ مزید کریدنے کے لیے لوگ اُس کے مرہون ہیں۔ بالآخر وہی ہوا۔ لوگ اُٹھ اُٹھ کر امیر سبحانی کے پاس بیٹھنے لگے اور وہیں ایک ٹولی بندھ کر کُھد بُد ہونے لگی۔ ادھر رحمت علی کو اپنی خبر کی یوں بے وقعتی پر تاؤآ گیا۔ کچھ دیر تو وہ صبر سے بیٹھا رہا لیکن اُس سے نہ رہا گیا اور بولا، وہاں کیا تماشا ہے، بھائی اب اس مسئلے پر غور کرو کہ آگے کیا کرنا ہے ؟تھوڑی دیر کے بعد رحمت علی کو بات اپنے تک رکھنے کی شرط پر سب کہانی سنا دی گئی کہ ولیم کو آخر اُوپر سے حکم کس وجہ سے ملا تھا اور اسی بنا پر آج غلام حیدر ڈپٹی کمشنر سے ملنے فیروز پور گیا تھا۔ اب آگے جو کچھ ہو گا اُس کا اندازہ خود لگا لو۔رحمت علی اس خبر کو سن کر واقعی حیران رہ گیا۔چنانچہ اس کی کوفت کچھ دور ہو گئی کہ وہ ایک نئی خبر جودھا پور لے کر جا رہا تھا۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.