نولکھی کوٹھی - چھٹی قسط

نولکھی کوٹھی - چھٹی قسط

علی اکبر ناطق کا خاندان 1947کے فسادات میں فیروز پور سے ہجرت کر کے وسطی پنجاب کے شہر اوکاڑہ کے نواحی گاؤں 32ٹو ایل میں آباد ہوا۔ یہیں علی اکبر ناطق 1977 میں پیدا ہوئے اور اسی گاؤں میں موجود ہائی سکول میں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ انگریز دور میں یہ مثالی گاؤں تھا۔ایف اے کا امتحان گورنمنٹ کالج اوکاڑ ا سے پاس کیا۔اُس کے بعدمعاشی حالات کی خرابی اور کسمپرسی کی وجہ سے بی اے اور ایم اے کے امتحانات پرائیویٹ طور پر بہاؤالدین زکریا یونیورسٹی ملتان سے پاس کیے۔ ناطق نے تعلیم کے ساتھ مزدوری کا سلسلہ جاری رکھا اور بطور میسن پندرہ سال تک کام کیا۔ اسی دوران اُن کا اردو نثر، شاعری، تاریخ اور سماج کا مطالعہ بھی جاری رہا۔ 1998 میں کچھ عرصے کے لیے مزدوری کے سلسلے میں سعودی عرب اور مڈل ایسٹ بھی رہے۔ اِس سفر میں اُنھوں نے بہت کچھ سیکھا۔ اسی دوران ایک افسانہ (معمار کے ہاتھ) لکھا، جو بہت مقبول ہوا اور اُس کا محمد حنیف نے انگریزی ترجمہ کیا، جو امریکہ کے مشہور ادبی میگزین گرانٹا میں شائع ہوا۔ ناطق 2007 میں اسلام آباد آ گئے، یہاں اِن کی ملاقات افتخار عارف سے ہوئی، جو اُن دنوں اکادمی ادبیات کے چیئر مین تھے، انھوں نے ناطق کو اکادمی میں ایک چھوٹی سی ملازمت دے دی، جو افتخار عارف کے اکادمی چھوڑ جانے کے بعد ختم ہو گئی۔ پھر تین سال کے لیے مقتدرہ قومی زبان میں رہے اور اُس کے بعد فیڈرل ڈائریکٹوریٹ ایجوکیشن میں چلے گئے۔ اب ایک نجی یونیورسٹی میں اُردو پڑھاتے ہیں۔
ناطق ادبی طور پر 2009میں اُس وقت اچانک دنیا کے سامنے آیا، جب کراچی کے مؤقر ادبی رسالے،”دنیا زاد “نے اُن کی ایک دم دس نظمیں شائع کیں اور ادبی رسالے”آج”نے پانچ افسانے چھاپے۔ ناطق کی تخلیقات نے اچھوتے اور نئے پن کی وجہ سے لوگوں کو فوراً اپنی طرف متوجہ کر لیا۔ 2010 میں اُن کا پہلا شعری مجموعہ “بے یقین بستیوں میں “ آج،کراچی سے چھپا اور یو بی ایل ایوارڈ کے لیے نامزد بھی ہوا۔ 2012میں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ “قائم دین “ چھپا،جسے آکسفورڈ یونیورسٹی پریس نے شائع کیا اور اِسے بھی یو بی ایل ایوارڈ ملا، 2013میں ان کا دوسرا شعری مجموعہ “ یاقوت کے ورق “آج کراچی سے چھپا۔ یہ تمام کتابیں انگلش اور جرمن میں ترجمہ ہو چکی ہیں اور پینگوئن انڈیا شائع کرچکا ہے۔ علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" نے ادبی حلقوں میں ہلچل مچائی ہے، پینگوئن انڈیا اسے انگلش میں چھاپ رہا ہے، ہم لالٹین قارئین کے لئے یہی ناول سلسلہ وار شائع کر رہے ہیں۔

علی اکبر ناطق کے ناول "نولکھی کوٹھی" کی مزید اقساط پرھنے کے لیے کلک کیجیے۔

(11)

ولیم جھنڈو والا پہنچا تو ایک بج چکا تھا۔ دُھند چھٹ چکی تھی۔اس لیے گاؤں اور ارد گرد کا منظر صاف دکھائی دے رہا تھا۔ ویسے بھی سردی کی دھوپ جب چمک کر نکلتی ہے تو کچھ زیادہ ہی سفید ہو جاتی ہے۔ ولیم کا یہ چھوٹا سا قافلہ اُس کی ایما پر پانچ چھ منٹ تک جھنڈو والا سے ڈیڑھ سو گز پیچھے ہی رکا رہا۔ جیپ پر بیٹھے بیٹھے ولیم جائزہ لینے لگا۔ گاؤں کے ارد گرد زیادہ تر کماد، ہری ہری برسن کے کھیتوں کے بیچ دُور تک پھیلے ہوئے توریے کے زرد زرد پھول اور چری کی فصلیں تھیں۔ ایک دو جگہ گُڑ بنانے کے بیلنے لگے ہوئے تھے اور آگ پر چڑھی ہوئی گنے کی پت سے اٹھنے والی حرارت کی خوشبو ہوا میں گھل مل کر سانسوں کو مہکارہی تھی۔ کچھ سکھ گڈوں پر چارہ لاد کر گاؤں کی طرف جا رہے تھے۔ جگہ جگہ رہٹ اور کاریزیں تھیں۔جن کا شفاف پانی کھالیوں میں تیرتا ہواتوریے اور برسن کی فصلوں میں پھیلتا جا رہاتھا۔ اس کے علاوہ کھالیوں کے کناروں پر ٹاہلیوں اور پیپلوں کے سایہ دار درختوں کی قطاریں آگے پیچھے جمی ہوئی تھیں۔ فصلوں کی سرسبزی اور پانی کی طراوت آنکھوں سے ہو کر ولیم کے دل میں اُترنے لگی۔ اُسے جھنڈو والا کے مضافات دیکھ کر وسطی پنجاب کی ہریالیاں شدت سے یاد آئیں۔ گاؤں کے درمیان کھڑے گُردوارے کا منارہ دور ہی سے نظر آ رہا تھا۔ مختصر یہ کہ پورے گاؤں کا ظاہری ماحول پرامن اور اطمینان بخش تھا۔جس سے ولیم چند لمحے کے لیے متاثر ضرور ہوا۔ جودھا پور کی نسبت یہ گاؤں زیادہ خوش حال دکھائی دیتا تھا لیکن اس سب سر سبزی کو دیکھ کر ولیم نے کسی خیال کے پیشِ نظر انسپکٹر متھرا سے اچانک ایک چُبھتا ہوا سوال کر دیا۔متھرا کہیں ایسا تو نہیں، جھنڈو والا کی ہریالی اور فصلوں کی شادابی کی جڑوں میں ارد گرد کے گاؤں کا خون سینچا جاتا ہے۔

متھر داس ولیم کی طرف دیکھ کر فقط مسکرا دیا۔ غالباً متھرا جانتا تھا کہ ولیم اس کی کسی بھی بات سے اب کچھ بھی اخذ کر سکتا ہے چنانچہ خاموش رہنا ہی زیادہ بہتر تھا۔

کچھ ہی دیر میں ولیم نے محسوس کیا کہ کام کرنے والے کچھ لوگوں کی نظر اُن پر پڑ چکی ہے اور وہ اُسے اپنا کام چھوڑ کر بغور دیکھنا شروع ہو گئے ہیں۔ ولیم کو ان کی یہ عادت بری لگی۔ خاص کر ہندوستانیوں کی، چاہے وہ مسلمان ہوں یا سکھ، اُن کی اس مشترکہ عادت سے اُسے سخت نفرت تھی۔ وہ کسی بھی چیز کو عجوبے کی طرح دیکھنے کے عادی ہیں۔ پھر اس کے بارے میں انتہائی بیہودہ اور غلط مگر حتمی تاویلیں کرنے کے ماہر بھی۔ ولیم نے دلبیر کو حکم دیا کہ وہ گاڑی آگے بڑھائے۔ لہٰذا جیپ گاؤں کی طرف بڑھنے لگی۔ متھرانے ایک دوبار پیچھے نظر ڈالی۔ لوگ جوں کے توں کھڑے دیکھتے رہے حتٰی کہ جیپ جھنڈو والا میں داخل ہو گئی۔ ولیم کو یقین تھا کہ یہ لوگ اپنا کام چھوڑ کر یا جلد نپٹا کر تماشا ضرور دیکھنے آئیں گے۔

دلبیر سنگھ نے جیپ گاؤں کے عین وسط میں کھڑی کر دی۔ سو فٹ قطر کا چوک تھا۔جس کے ایک طرف وہی گوردوارہ تھا جس کا منارہ اور گھنٹا ولیم گاؤں سے باہر ہی دیکھ چکا تھا۔ بعض مکان چھوٹی اور پکی اینٹوں کے تھے مگر اکثر کچے ہی تھے۔ کچے مکانوں پر چکنی مٹی کے ساتھ نہایت صفائی سے لیپ ہوا تھا۔ چوک کے عین درمیان میں ایک شرینہہ، تین چار شیشم کے پیڑ اور ایک پیپل کا درخت تھا۔ سب کے پتے جاڑے کے سبب یا تو جھڑ چکے تھے یا ٹہنیوں پرپیلے اور خاکستری رنگوں میں تبدیل ہوئے کسی ہوا کے جھونکے کے منتظر تھے۔ عورتیں جو ادھر اُدھر آ جا رہیں تھیں،زیادہ تر لہنگے پہنے ہوئے تھیں۔ مرد چھوٹوں سے لے کر بڑوں تک قریباً ایک ہی ہیئت میں جُوڑا اور پگڑ میں نظر آئے۔ ولیم نے یہ بات بار بار سنی تھی کہ سکھ مسلمانوں کی نسبت کم متعصب ہیں لیکن ظاہری ہیئت میں اُسے سکھ زیادہ بنیاد پرست لگے۔

مسلمانوں کی اکثریت نہ تو داڑھی رکھتی تھی اور نہ ہی نماز کی طرف توجہ دیتی تھی۔ اِن کے مقابلے میں سکھ داڑھی اور بالوں سے بھرے رہتے۔ گاؤں کی گلیاں تنگ ضرور تھیں مگر مکانوں کے احاطے کُھلے کُھلے تھے۔ چاہے وہ پکے تھے یا کچے۔احاطوں میں شیشم اور کیکر کی لکڑی کے بڑے بڑے پھاٹک تھے۔ دیواریں قد آور نہ تھیں اس لیے احاطوں کے اندر تک نظر جاتی۔ اکثر احاطوں میں مال مویشی بندھا تھا جنھیں دیکھ کر لکڑی کے بڑے پھاٹکوں کی سمجھ آ جاتی تاکہ گڈ اور مویشی آسانی سے گزر جائیں۔

ہر گھر میں نیم، بیری، شیشم، شرینہہ یا اسی طرح کوئی نہ کوئی سایہ دار درخت ضرور تھا۔ گلیاں جو تھوڑی دیر پہلے قریب قریب خالی تھیں، ولیم کے گاؤں میں داخل ہونے سے کچھ ہی دیر بعد سکھوں کو اپنے گھروں سے باہر کھینچنے لگیں۔ اُن کے لیے گاؤں میں کسی گورے کی آمد طوفان سے کم نہیں تھی۔ لوگ گھروں سے باہر نکل تو آئے تھے مگر جودھا پور کی نسبت اِن کے ہاں خوف کی کیفیت زیادہ تھی۔ ہر ایک جانتا تھا کہ مونگی کی تباہی اور قتل تو بہرحال جھنڈو والا نے ہی کیا ہے۔ ولیم دیکھ رہا تھا،لوگ آپس میں کچھ کھُسر پھُسر کر رہے ہیں۔خوف کے باوجود ولیم کے ارد گرد کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ اُن میں سے ایک شخص سے متھرا داس نے پوچھا،او بُڈھے،سردار سودھا سنگھ کا کچھ پتا ہے؟

اس شخص نے جس کی داڑھی ناف تک آتی تھی اور ہاتھ میں سیر بھر کا لوہے کاکڑا تھا، ہاتھ جوڑکر پرنام کیا اور کہا، صاحب جی وہ سامنے سودھا سنگھ کی حویلی ہی تو ہے۔پھر ایک طرف ہاتھ کا اشارہ کر کے،لو جی وہ سردارصاحب خود ہی آ رہے ہیں۔ ولیم نے سامنے دیکھا، سو فٹ کے فاصلے پر سردار سودھا سنگھ آ رہا تھا۔ اُس کے آگے پیچھے آٹھ دس جوان کرپانیں اور برچھیاں لیے ہوئے تھے۔ سردار کا جسمانی ڈیل ڈول، مونچھوں کا تاؤ، داڑھی کا لمباؤ اور ہاتھ میں پندرہ تولے سونے کا کڑا دیکھ کر ولیم کو ایک دفعہ کپکپاہٹ سی آ گئی۔ مگر ہر حکمران کے اندر چونکہ ایک غیر مرئی طاقت کا حوصلہ موجود ہوتا ہے۔ اس لیے ولیم نے اپنی کیفیت پر جلد ہی قابو پا لیا اور چہرے پر کسی بھی احساس سے عاری نقش واضح کر لیے۔ اتنے میں سردار سودھا سنگھ نے نزدیک ہو کرہاتھ جوڑے اور پرنام کیا۔ ولیم نے اس کا جواب انتہائی سرد مہری سے ویلکم کہہ کر دیا۔ اس کے بعد متھرا سے مخاطب ہو کر کہا، متھرا ہم کچھ دیر سودھا سنگھ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ اِن سے کہو، بیٹھنے کا انتظام کرے۔ ولیم نے سودھا سنگھ کو براہ راست مخاطب نہیں کیا تھا اور گفتگو کا انداز بھی دو ٹوک تھا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ صاحب کمشنر بہادر کے موڈ ٹھیک نہیں تھے۔

سودھا سنگھ سے بالواسطہ مخاطب ہونا اور بے پروائی سے پرنام کا جواب دینا ایسی گستاخی تھی جس نے اُس کی طبیعت کو نہایت منغض کیا۔ اُس نے سوچا سب قسمت کے کھیل ہیں،ورنہ اس گوری چمڑے کے چھ فٹ بالکے کی کیا حیثیت تھی۔ ابھی زمین میں کِلّے کی طرح گاڑ کر ساتھ ڈاچی باندھ دیتا۔یا پھر چھدّو سے کہتا کہ اِسے ذرا جھانبڑ پھیر اور بیلنے پر بیلوں کی جگہ اِس فرنگی کو جوت دیتا۔ مگر اب کیا کیا جا سکتاتھا آخر سرکار انگریز تھی۔ چنانچہ غصے کے باوجود سودھا سنگھ نے چہرے پر خوشگوار سی کیفیت پیدا کرتے ہوئے کہا، سرکار کا جھنڈو والا میں قدم رکھنا ہمارے بھاگ ہیں۔ صاحب بہادر کو برا نہ لگے تومیری حویلی حاضر ہے،وہیں بیٹھ کے بات کر لیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی سردا ر جی کے چہرے پر ہلکے پسینے کے قطرے نمودار ہو گئے۔ ولیم نے قدم بڑھائے تو متھرا فوراً باہر کی طرف ہو کر تعظیم سے چلنے لگا۔ دونوں سنتری بندوقیں لیے ولیم کے پیچھے ہو گئے۔ ولیم تھوڑا سا آگے بڑھا تو دلبیر سنگھ نے جیپ اسٹارٹ کر کے آہستہ آہستہ حویلی کی طرف بڑھا دی۔

ولیم جیسے ہی حویلی میں داخل ہوا، اُس کی ہیبت نے ایک دفعہ پھر اُسے اپنی جکڑ میں لے لیا۔اتنے بڑے اور وسیع احاطے میں چاروں طرف سینکڑوں برآمدے اور برآمدوں میں چھوٹی اینٹوں سے بنائئے گئے سینکڑوں ستون ایک کے بعد ایک،اس طرح پھیلے تھے جیسے ستونوں کے جنگل آْباد ہوں۔ یہ تمام ستون نوے کے زاویے کی خمدار ڈاٹوں کا بار اُٹھائے ہوئے تھے۔ان ڈاٹوں کے سروں پر گول اور چُوڑی دار محرابوں والے بام پَر پھیلائے ہوئے آگے کی طرف جھکے تھے۔ برآمدوں کے اندر بیس بیس قدم ہٹ کر کمرے تھے۔جن کے دروازے اور کھڑکیاں شیشم کی سیاہ لکڑی کی اِس خوبصورتی سے تیار کی گئیں تھیں کہ کاری گروں کو داد دیے بغیر نہیں رہا جاتا تھا۔ یہ کمرے بھی اتنی ہی تعداد میں تھے جتنی تعداد میں دروازے تھے۔ انہی برآمدوں کے ایک طرف سے کافی کھلا رستہ چھوڑ کر ایک بڑا دروازہ مزید نکال دیا گیا تھا۔جو حویلی کے زنانہ حصے کا راستہ تھا اور سردار سودھا سنگھ کے گھر کا حصہ تھا۔ ولیم اس ساری ہیبت کو دیکھنے کے بعداپنی حکومت کی ہیبت کا اندازہ لگانے لگا جس نے اس پورے ملک کی تمام حویلیوں کی گردن اپنے پاؤں کے نیچے رکھ لی تھیں۔ ولیم نے فوراً ہی اِن خیالات کو سر سے جھٹک دیا اور موجودہ صورت حال کی طرف دماغ کو لے آیا۔
جب بیٹھ چکے تو سردار سودھا سنگھ نے انسپیکڑ متھر داس ا کو مخاطب کر کے پوچھا، تھانیدار جی، کلکٹر بہادر کیا لسی وسّی پیئیں گے یا کوڑے پانی کا بندوبست ہو جائے؟متھرا کافی حد تک ولیم کا مزاج سمجھ چکا تھا اس لیے فوراً منع کر دیا۔ حویلی میں بہت سے آدمی جمع ہو گئے تھے، جنھیں سردار سودھا سنگھ نے باہر جانے کا اشارہ کر دیا۔ تمام لوگ چند ایک کے سوا جو سودھا سنگھ کے صلاح مشورے کے لیے ہر وقت کے لیے حاضر باش تھے، حویلی سے باہر جا چُکے تو سودھا سنگھ نے حویلی کا بڑا دروازہ بند کروا دیا۔

سودھا سنگھ نے ولیم کو بیٹھنے کے لیے ایک بڑے موڈھے کی طرف اشارہ کر دیا۔ یہ تین فٹ چوڑاپرشکوہ موڈھا بید کی شاخوں کو ریشم سے بُنی ہوئی رسیوں سے باندھ کر بنایا گیا تھا۔ اِسے ہمیشہ سودھا سنگھ کی چارپائی کے سامنے رکھا جاتا اور وہی بندہ اس پر بیٹھ سکتا تھا،جو سودھا سنگھ کا خاص آدمی ہوتاورنہ یہ خالی پڑا رہتا۔ اِس کے دائیں طرف سامنے ہی سودھا سنگھ کی چارپائی تھی۔ یہ بھی پانچ فٹ چوڑی، سات فٹ لمبی اور اڑھائی فٹ اونچی صندل کی لکڑی کے پایوں اور بازووں سے تیار کی گئی تھی۔جسے ریشمی بان سے بُنا گیا تھااور پائنتی پر کھدّر کی موٹی دوہریں تھیں۔سرھانے دیسی کپاہ سے بھرا ہوا ریشمی تکیہ پڑا تھا۔ اُس کے ساتھ سودھا سنگھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔باقی مُوڈھے اور چارپائیاں دو رُویہ بچھے تھے،جو ایسے قیمتی تو نہ تھے جیسے چارپائی یا موڈھا مگر بُرے بھی نہ تھے۔ یعنی عام گھروں کی چارپائیوں اور مُوڑھوں کی نسبت تو اچھے خاصے مہنگے تھے۔ ولیم سامنے اُسی بڑے موڈھے پر بیٹھ گیا۔ اِس کے بعد سودھا سنگھ نے بڑی چار پائی پر ٹانگیں پسار لیں اورکرپان کمر سے کھول کر سرہانے کے ساتھ رکھ دی۔اسی طرح سودھا سنگھ کے آدمی بھی چار پائیوں پر بیٹھ گئے مگر سنتری بندوقیں لیے ویسے ہی ولیم کے دائیں بائیں کھڑے رہے۔ چند لمحے خاموشی سے گزر گئے جیسے ہوا کا دم حبس کی وجہ سے گُھٹ جاتا ہے پھر فوراً ہی ولیم نے گفتگو کا آغاز کر دیا۔ اُسی لمحے متھرا نے محسوس کیا کہ ولیم کے چہرے پر ایسارعب تھا کہ ابھی تک اُس نے اِسے ایسی حالت میں نہیں دیکھا تھا۔اب وہ محض ایک نو آموزاسسٹنٹ کمشنر نہیں لگ رہا تھا بلکہ ایک منجھا ہوا انگریز سرکار کا نمائندہ معلوم ہوتا تھا۔

سودھا سنگھ ہم آپ کے جھندو والا میں آئے ہیں، براستہ جودھا پور۔ کیا آپ کو ہمارا اس راستے سے بغیر اطلاع دیے آناپسند آیا؟

سودھا سنگھ جو پہلے ہی بے قراری کی کیفیت میں تھا، کو ولیم کے پہلے ہی سوال کی تیز کاٹ نے ہلا کے رکھ دیا۔ اُسے اول تو ولیم کا اس کے نام سے سردار کا لفظ ہٹا دینا ہی بُرا لگا کہ اپنے بندوں کے درمیان اس کی یہ صاف توہین تھی۔ اس پر ستم یہ کہ سوال جس چابکدستی سے کیا گیا تھا،اِس طرح کی بجھارتوں اور چالبازیوں کے سننے کی اُسے عادت نہیں تھی۔ یہ سب عمل سودھا سنگھ پر بہت گراں گزرا۔ اِس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتا، فوجا سیؤ جو سودھا سنگھ کی ہر مشکل معاملے میں مدد کر گزرتا تھا، نے سوچا، کہیں سودھا سنگھ کوئی بونگی نہ مار دے، فوراً بولا، سرکار یہ ملک آپ کا ہے۔ ہم آ پ کی رعا یا ہیں، آپ جب اور جس وقت چاہیں اپنی رعایا کی سیوا کو آ سکتے ہیں۔ اس میں ہمارے پسند اور نا پسند کی کون سی بات ہے۔

ولیم کو فوجا سیؤ کی اس طرح دخل اندازی پر شدید غصہ آیا۔ وہ جانتا تھا،اِس طرح کے لوگ بات سنبھالنے کے بہت ماہر ہوتے ہیں۔ کسی بھی معاملے کو چھپانے اور مجرم کو بچانے میں ان سے زیادہ کارآمد کوئی نہیں ہوتا۔
فوجا سیؤ کا جواب سن کر ولیم نے اپنی بیت سامنے پڑی میز پر رکھ دی اور دوبارہ بولا، لیکن اُس نے فوجا سیؤ کی طرف دیکھا بھی نہیں مخاطب سودھا سنگھ کو ہی رکھا۔

سودھا سنگھ میرے پاس اتنا وقت نہیں کہ میں جھنڈو والا کے ہر شخص سے الگ الگ پرنام لوں۔ میں یہاں بیس منٹ ٹھہروں گا۔اِس دوران صرف آپ ہی سے بات کرنا میرے لیے عزت کا باعث ہوگی۔ جب اِن کی ضرورت پڑے گی تو انھیں تحصیل بلوا لوں گا۔ (پھر فوجا سیؤ کی طرف منہ کر کے) اور میرا خیال ہے، یہ بُڈھا بخوشی آ جائے گا۔ولیم کی بڑبڑاہٹ سن کر فوجا سیؤ تو بالکل ہی بیٹھ سا گیااور اُس کی ساری پُھرتیاں ہوا ہو گئیں۔

اُدھر سودھا سنگھ کو کلکٹرکی اس بات سے آگ لگ گئی، گویا کسی کے کلیجے پر سُرخ کوئلے رکھ دیے ہوں مگر جو مجرم کے اندر ایک ڈر بیٹھ جاتا ہے اور اُس کی وجہ سے دل مسلسل خوف کی حالت میں چلا جاتا ہے اور قانون ایک ایسے کالے ناگ کی طرح دکھائی دیتاہے، جس کے آگے پیجھے ڈنک ہی ڈنک ہوں۔ یہی حالت اِس وقت سودھا سنگھ کی تھی۔ اُسے نہیں معلوم تھا اس چھوٹے سے واقعے پر انگریز کمشنر خود آ جائے گا۔ دیسی تھانیداروں کی تو یہ جرأت نہیں تھی کہ وہ اس طرح بات کریں لیکن وہ اس سے پہلے کسی انگریز افسر سے کبھی دو بدو نہیں ہوا تھا اور طاقت ور حکومت کا ڈر بھی سر پر کھڑا تھا۔ اس لیے کچھ ایسا ویسا عمل کرنے سے عاجز تھا۔اگر کوئی اور ہوتا اور یہی کچھ بولتا جو یہ ولایتی مُنڈا بول رہا تھا تو وہ جھنڈو والا کی یادیں عمر بھر نہ بھولتا۔

آخر سودھا سنگھ نے ہمت کر کے اپنے اوسان مجتمع کیے، مونچھوں پر ہاتھ کی انگلیاں سرکائیں اور بولا،صاحب بہادر، سردار سودھا سنگھ کو کیا پتا کہ سرکار اتنالمبا چکر کاٹ کر جلال آباد سے جھنڈو والا کیوں تشریف لائی اور ہماری عزت افزائی کی۔ واہگرو کی جَے سے سرکار کی مہمانی ہمارا فرض ہے، جو ہو سکا کریں گے۔

ویل سودھا سنگھ”ولیم دوبارہ بولا”آپ کا گاؤں دیکھ کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ کنویں چلتے ہیں، گنے اور گندم ہے، ہر طرف سبزے ہی سبزے ہیں۔ سودھا سنگھ، یہاں مکئی اور برسن بھی بہت ہے، دو چار ایکڑ مونگی بھی ہوتی تو کچھ بُرا نہیں تھا۔ اِدھر اُدھر سے لوٹنے کھسوٹنے کی حاجت نہ رہتی، خواہ مخواہ کی پریشانی اٹھانا پڑتی ہے۔

اس جملے کے ادا کرنے کے ساتھ ہی ولیم نے سودھا سنگھ سمیت دوسرے سرداروں کے چہروں پر بھی بھرپور نظر دوڑائی اور محسوس کیا کہ سب کے رنگ واضح تبدیل ہو گئے تھے۔

سودھا سنگھ اپنے آپ کو فوراً سنبھال کر بولا،صاحب بہادر آپ کی باتیں کچھ میرے اُوپر اُوپر سے گزر رہی ہیں۔ واہگرو کی جَے ہو، کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ آپ کیا کہنا چاہ رہے ہیں۔

سودھا سنگھ، ولیم نے اُسی رَو میں کہنا شروع کیا، آپ کے ہمسائے میں عجیب طرح کے کام ہوتے ہیں۔ قتل وتل تو شاید سرداروں کا معمول ہے لیکن مونگی تو ہندو کھاتے ہیں۔خاص کر بنیے، کیا میں نے غلط کہا سودھا سنگھ؟ آپ تو شاید جھٹکے کا گوشت کھاتے ہیں۔

میں سمجھا نہیں صاحب بہادر “سودھا سنگھ نے دونوں پاؤں چارپائی سے نیچے لٹکاتے ہوئے کہا،، آپ مجھ سے اس طرح کی باتیں کیوں کر رہے ہیں۔ کون سی مونگی اور کون سے قتل؟

ولیم اب اُٹھ کھڑا ہوا اور سودھا سنگھ کی چار پائی پرپائنتی کی طرف بیٹھ گیا۔ولیم کے اس عمل سے سودھا سنگھ ایک دفعہ تو لرز کر رہ گیا۔ اتنی جرأت تو جھنڈو والا میں خدا ہی کر سکتا تھا۔ سودھا سنگھ سمجھ چکا تھا کہ ولیم اُس پر ثابت کر رہا ہے کہ اب بات سیدھی سیدھی ہو گی۔

سردار صاحب،یہ بتائیے، اس وقت پنجاب میں کس کا راج ہے؟ولیم نے نہایت بے تکلفی دکھاتے ہوئے سوال کیا۔

سودھا سنگھ نے حیرت سے ولیم کی طرف دیکھا اور کہا، انگریز سرکار کا، کلکٹر صاحب، بھلا مجھے اتنا بھی نہیں پتہ؟ “ہلکا سا مسکرا کر” آج صاحب بہادرآپ عجیب طرح کی باتیں کر رہے ہیں( موڈھے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے )کمشنر صاحب یہ موڑھا میں نے آپ ہی کے لیے رکھوایا ہے۔

ولیم سودھا سنگھ کے آخری فقرے کو جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہوئے مسکرا کر بولا، چلو یہ بات تو طے ہوئی کہ رنجیت سنگھ کا راج ختم ہو چکا اور اب پنجاب پر ہمارا راج ہے۔

سودھا سنگھ آخر کار گھبرا کر ذرا تلخی سے بولا، سرکار آپ بجھارتیں بھجواتے ہیں۔

ولیم نے سودھا سنگھ کی تلخی کومزے سے محسوس کیا اور اُس کی حالت سے لُطف اُٹھاتے ہوئے دوبارہ بولا، سودھا سنگھ مَیں نے سمجھا تھا، جودھا پور جویہاں سے صرف پانچ کلو میٹر پر ہے، وہاں ایک بندہ قتل ہوجائے، بیس ایکڑ مونگی کی فصل ویران ہو جائے اور سردار سودھا سنگھ کو پتہ نہ چلے،تو ہو سکتا ہے اُسے ڈیڑھ سو میل دُور لاہور میں ابھی تک انگریزی راج قائم ہونے کی بھی خبر نہ ملی ہو۔وہ یہی سمجھے بیٹھا ہو کہ لاہور تخت ابھی تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کے وارثوں کے پاس ہے۔ اس میں سردار صاحب بجھارتوں والی کیا بات ہے؟

سودھا سنگھ کے ماتھے پر دوبارہ پسینہ آگیا مگر جلدہی اپنے آپ کو سنبھالااور بولا”صاحب بہادر، مَیں لائل پور گیا ہوا تھا، کل آیا ہوں۔ رات پتہ چلاکہ جودھاپور میں ایک بندہ قتل ہو گیا ہے اور مونگی کو آگ لگ گئی ہے لیکن میں نے پورا سیاپا نہیں سنا۔

ولیم نے سودھا سنگھ کی طرف بھرپور طنز سے دیکھا اور کہا، سیاپا سردار جی گورنمنٹ آپ کو بتا دے گی۔ اسی لیے تو ہم آئے ہیں کہ آپ لائل پور میں تھے۔آپ کی غیر حاضری میں یہ سانحہ ہوااورآپ کو کچھ پتہ نہیں۔اب ہمارا کام ہے، اِس پورے قصے کی تفصیل بتائیں کہ آپ کی غیر موجودگی میں بدمعاشوں کا ٹولہ جودھاپور میں داخل ہوا۔ایک بندہ قتل کر دیا، مونگی کاٹ کر گڈوں اور چھکڑوں پر لاد لی اور باقی کو آگ لگا دی۔ حالانکہ یہ سب کام آپ کی موجودگی میں ہونے چاہییں تھے۔

سردارسودھا سنگھ گفتگو کے اس اُلٹ پھیر کے انداز سے بالکل واقف نہ تھا اور نہ ہی اسے یہ پتا چل رہا تھا کہ ولیم اِس طرح باتیں کیوں کر رہا ہے۔کس لیے سیدھی سیدھی واردات اس پر نہیں ڈال دیتا جبکہ ولیم سودھا سنگھ کو ذہنی طو رپر اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ جس میں وہ کامیاب ہو رہاتھا۔ اُدھر فوجاسیؤ ڈانٹ کھا کر خاموش دُور بیٹھا یہ سمجھ چکا تھا کہ سودھا سنگھ کے ہاتھ پُڑوں کے نیچے آنے ہی والے ہیں۔ اُسے پتا چل گیاتھا کہ یہ فرنگی چھوہرا واقعی ٹیڑھی کھیر ہے۔ جس کو گھمانا ممکن نہیں۔چنانچہ اُس نے خموشی ہی میں غنیمت سمجھی اور چپ چاپ بیٹھا رہا۔البتہ سودھا سنگھ نے یہ سمجھ لیا کہ اب بات کھل کر کی جائے، جو ہونا ہے وہ تو ہو ہی جائے گا۔کیونکہ سرکار کو اُس کے کرتوت کا پتہ چل گیاہے۔ ایسے ہی تویہ فرنگی چھوکرا اوکھی اوکھی باتیں نہیں کر رہا۔ لہٰذا وہ اب صاف صاف جواب دینے لگا اور کچھ دلیری سے بولا،کمشنر صاحب، غلام حیدر ابھی مُنڈا ہے۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ شیر حیدر کی مجھ سے پرخاش تھی۔پر اس کی موت کا واہگرو کی سونہہ مجھے بہت افسوس ہوا۔ لیکن یہ بات اس چھوکرے کو کون سمجھائے کہ بزرگوں پر اتنے بڑے کُوڑ ے الزام سوچ سمجھ کے لگانے چاہئیں۔ پھر بھی جو ہو سکا جودھا پور کے معاملے میں آپ کی سیواکروں گا۔ کمشنر صاحب کسی نے یہ کام کر کے شیر حیدر اور مجھ سے پرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے۔

سودھا سنگھ، ولیم نے گفتگو کا سلسلہ آگے بڑھایا” وہ کون لوگ ہو سکتے ہیں جنھوں نے شیر حیدر اور آپ سے پُرانی دشمنی کا حساب چُکایا ہے؟ کیا آپ سرکار کو اس بارے میں کچھ بتائیں گے؟

صاحب بہادر “اپنی داڑھی میں ہاتھ پھیرتے ہوئے سودھا سنگھ بولا” سرکار کو سمجھنے میں مشکل نہیں ہو گی۔ کمشنر صاحب، اکثر یہ کام خود ہی کیا جاتا ہے۔ہو سکتا ہے غلام حیدر نے اپنے بندے کو خود قتل کر دیا ہو۔ آپ اس معاملے پر بھی غور کر لیں۔

“بہت اچھا سودھا سنگھ” ولیم دوبارہ بولا،آپ بہت جلد اس الزام پر اُتر آئے ہیں جو آپ کے خیال میں بغیر ثبوت کے آپ پر لگ چُکا ہے لیکن آپ یہ بھول رہے ہیں کہ اس کے ایک دن پہلے شیر حیدر فوت ہوا ہے اور اُس کا بیٹا غلام حیدر جسے میرے خیال میں اس علاقے اور آپ سے بھی کوئی تعلق نہیں تھا، لاہور سے اسی روز پہنچا ہے۔ ہو سکتا ہے اتنی بڑی اور فوری منصوبہ بندی کی اس کو ضرورت پیش آ گئی ہو لیکن آپ کا اتنی جلدی اس پر ایسا الزام لگا ناآپ کے منہ پر نہیں پڑتا کیونکہ ابھی ابھی آپ اسے ایک 'ندان منڈا' کہہ چکے ہیں۔

اس کے بعد ولیم موڈھے سے اُٹھ کر کھڑا ہو گیا اور بولا ”ویسے سردار صاحب، آج یہاں آنے کامقصد آپ سے اعترافِ جرم کروانا نہیں تھا۔ یہ کام پولیس کا ہے۔ میں تو بس آپ کے درشن کرنے آیا تھا اور یہ بتانے کہ گورنمنٹ کی ابھی اجازت نہیں ہے کہ کوئی اپنی مرضی سے حملے کر کے قتل اور لوٹ مار کرتا پھرے۔ دوسری بات سودھا سنگھ یہ ہے کہ چارپائی بھی گورنمنٹ کی ہے اور موڈھا بھی گورنمنٹ کا۔جس پر اُس کا جی چاہے بیٹھے اور جہاں جی چاہے عدالت لگا دے۔آپ رعایا ہیں، رعایا کی طرح رہیے۔ اب حکم یہ ہے کہ آپ سر کار کی اجازت کے بغیر جھنڈو والا سے باہر نہیں جائیں گے۔

یہ کہہ کر ولیم چل پڑا اور اس کے ساتھ متھرا داس بھی اٹھ کھڑا ہوا۔

سردار سودھا سنگھ اِس کھلی دھمکی کو برداشت نہ کر سکا۔وہ اٹھ کر بولا، سرکار آپ زیادتی کر رہے ہیں۔

سودھا سنگھ کی بات سن کر ولیم ایک دفعہ رُکا اور پیچھے مُڑ کر آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا”سودھا سنگھ یہی بات میں کہنا چاہتا ہوں کہ سرکار نہ زیادتی کرتی ہے نہ کرنے دیتی ہے۔ چاہے قاتل سردار سودھا سنگھ کے بندے ہی کیوں نہ ہوں اور قتل ہونے والا چراغ دین ماچھی ہی کیوں نہ ہو۔

اس کے بعد ولیم جلد ہی حویلی سے باہر نکل آیا۔ متھرا داس ولیم کی اس تیزی اور پھرتی پر حیران ہی نہ تھا، پریشان بھی تھا۔ وہ اچھی طرح جان گیا تھا کہ ولیم کے ساتھ کام کرنا کتنا مشکل ہو گا۔چنانچہ اُسے ہر طرف سے چوکنا رہنا تھا اور اس کیس میں نہ چاہتے ہوئے بھی غیر جانبدار فیصلے کرنا تھے۔ اُس نے اپنے آپ سے کچھ عہد کیے اور کیس کی تفتیش صحیح پیمانے پر کرنے کا تہیہ کرلیا۔کیونکہ ملازمت ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ وہ بھی انگریز سرکار کی ملازمت، جس کا سکہ آدھی دنیا پر چلتا تھا۔

(جاری ہے)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Ali Akbar Natiq

Ali Akbar Natiq

Ali akbar Natiq, a renowned poet, short story writer and a novelist, hails from Okara, Punjab. He is currently teaching at a private university. His books "Yaqoot k Warq", "Be Yaqeen Bastio'n Mein" and "Nau Lakhi Kothi" have been praised by readers and critics alike.


Related Articles

نولکھی کوٹھی - پہلی قسط

علی اکبر ناطق: شیر حیدر کے زیادہ حریف سکھوں میں تھے لیکن وہ بھی کُھل کر سامنے نہیں آ سکتے تھے، سوائے سودھا سنگھ کے۔

نولکھی کوٹھی - پچیسویں قسط

علی اکبر ناطق: نجاب میں ہر طرف حالات مسلم لیگ کے حق میں ہیں،جیسا کہ سب کچھ آپ کے سامنے ہے۔ لیکن مشرقی پنجاب کے کچھ علاقوں میں پوزیشن ٹھیک نظر نہیں آتی۔ اندیشہ ہے،تحصیل جلال آباد،تحصیل مکھسر اور تحصیل فیروز پور سے ہم الیکشن ہار جائیں گے،مجھے یہی پریشانی اس وقت بھی ہے۔

نولکھی کوٹھی - بتیسویں قسط

علی اکبر ناطق: شمس الحق نواز صاحب کی اِس بات پر مسکرا دیا۔ اُسے خوب علم تھا،اسسٹنٹ کمشنر نوازالحق نے اِس کام کے عوض اپنی ترقی کی سفارش کا معاوضہ طلب کیا ہے۔