نہ دیکھو آسماں کو

نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو
شاعر: ڈاکٹر تنویر عباسی
ترجمہ: قاسم کیھر

نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو
فرشتے نہیں اترنے
نبی نہ آئے گا اب کوئی
یہ دکھ جو ہم پر ہے نازل ہوا
اس کا کوئی آ کے عیسی مسیحا نہ بنے گا
ہم اپنے خود ہی مسیحا
خود ہی پیمبر ہیں
ہم خود ہی اپنے قافلے کے رہنما
اپنے آپ ہی اپنا نروان ہیں
ہم خود ہی اپنی شب کی دشت کے راہی
ہم خود ہی اپنی صبح کے اجالوں کے پیمبر
اور خود ہی اپنے رہبر بنیں گے!
نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو!!
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.

Read More...

ممتاز حسین کی ایک نظم

ممتاز حسین: دریائے سندھ کی تہذیب
ٰعجاہب گھر میں رکھے ہوئے
نفاق کے پیالے میں
بخارات میں تحلیل ہو جاتی ہے

اونگھ

عشق وہ سرحدِ افلاکِ تمنا پہ کھڑا
طائرِ کوتاہ
جو پھیلائے اگر پنکھ
زمانوں میں سما جائے
مگر ڈرتا ہے

گلِ حیاء کی ڈائری کا ایک ورق

چمن میں ڈیرے ڈالے ہیں یہ کہہ کے کچھ درندوں نے کہ ہم تزئینِ گلشن کا فریضہ لے کے آئے