نہ دیکھو آسماں کو

نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو
شاعر: ڈاکٹر تنویر عباسی
ترجمہ: قاسم کیھر

نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو
فرشتے نہیں اترنے
نبی نہ آئے گا اب کوئی
یہ دکھ جو ہم پر ہے نازل ہوا
اس کا کوئی آ کے عیسی مسیحا نہ بنے گا
ہم اپنے خود ہی مسیحا
خود ہی پیمبر ہیں
ہم خود ہی اپنے قافلے کے رہنما
اپنے آپ ہی اپنا نروان ہیں
ہم خود ہی اپنی شب کی دشت کے راہی
ہم خود ہی اپنی صبح کے اجالوں کے پیمبر
اور خود ہی اپنے رہبر بنیں گے!
نہ دیکھو آسماں کو
نہ دیکھو آسماں کو!!

Related Articles

لاہور کا چھوٹا منافق اور منٹو نام کا سٹہ

میں جانتا ہوں شہروں کی نیندیں اجڑنا عالمی المیہ ہے
مگر بھاڑ میں جاۓ لندن اور نیو یارک کی لال آنکھیں
وہاں کی اینٹوں کی نظموں کا غزلوں میں ڈھلنے کا غم
وہاں کے رہنے والوں کو ہو تو ہو
مجھے نہیں ہے

کلموہی

نسرین انجم بھٹی: بابا! منہ دیکھنے سے پہلے مجھے کلموہی نہ کہہ
ورنہ میں کہاوت بن جاؤں گی
اورتو مجھے کبھی نہیں پاسکے گا

اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی

عذرا عباس: اب میں پوسٹ بکس میں کوئی خط نہیں ڈالوں گی
جب جب اس کو خط لکھا
جس تک اپنے دل کاحال بتانا تھا
خط کھویا گیا