نیر مسعود ؛ ایک مہربان شخص، ایک مبہم ادیب

نیر مسعود ؛ ایک مہربان شخص، ایک مبہم ادیب

تحریر: آصف فرخی
انگریزی سے ترجمہ: رفاقت حیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تاریخ اور کہانی کہنے سے تعلق رکھنے والی دیویاں پریشاں خیالی میں مبتلا ہیں۔فکشن کا ایک عہداپنے اختتام کو پہنچا۔ادبی علم و فضل اورتحقیق کی بنیاد پر کی جانے والی تاریخ نویسی زیادہ تنگ دست لگ رہے ہیں۔ایک شہر اور اس کی پوری تہذیب، جو نفاست اور کھرے پن کے ساتھ، علامتی و تمثیلی قالب میں ڈھل کرادب کی تاریخ میں پھر سے لوٹ آئی۔جیسے ہی نیر مسعودلافانی لوگوں کی صف میں اپنی جگہ پر براجمان ہونے کے لیے دنیا سے رخصت ہوئے، تونہ صرف اردو ادب نے اپنی نفیس ترین اور سب سے باثروت آواز،بلکہ پوری کی پوری لکھنوی تہذیب بھی کھو دی،جس نے دنیا کے متعلق اپنے نکتہِ نگاہ سے آگاہ کیا تھااور جسے وہ اپنی تحریروں کے ذریعے علامتی و تمثیلی قالب عطا کرنے آئے تھے،اب وہ مردہ اور ازکار رفتہ ہوچکی ہے۔ان جیسے لوگ دوبارہ پیدا نہیں ہوتے اور ان کے گزر جانے سے پورا عہد، مگشدہ زمانے میں منقلب ہوجاتا ہے۔

تربیت سے عالم اور ادبی مورخ بننے کے باوجود، وہ پیدائشی کہانی کہنے والے تھے۔پہلے سےہی اردو اور فارسی کے جُز رس محقق اور ممتاز عالم کی حیثیت سے شہرت مستحکم کرنے کے بعدانہوں نے فکشن پر اپنی توجہ مرکوز کرکے ادبی دنیا کو حیران کردیا۔ اسی لیےان کی اولین کہانیوں کے ساتھ نوآموزوں والی خوش بختی یا کسی حادثے حتی کہ کسی واقعے جیسا معاملہ فوراً ہوا ہوگیا، جب وہ مستقل مزاجی کے ساتھ مزید کہانیاں لکھتے چلے گئے۔حیرت میں پڑنے والی بات درحقیت یہ نہ تھی کہ حقائق سے ہمہ وقت گتم گتھارہنے کی ساکھ رکھنے والے ایک سرکردہ عالم فکشن کی جانب آگئے تھے بلکہ حقیقی حیرت ان کہانیوں پر ہوتی تھی، جو وہ لکھ رہے تھے۔اردو ادب میں کسی دوسرے سے مماثلت نہ رکھنے والی،شان دار مہارت سے کہی گئی یہ کہانیاں،محسوس ہوتا ہےکہ خوابوں کے کسی عنصر کی مدد سے بُنی گئی ہیں، جیسےمکڑی کے جال کے نازک اور مہین تار، جنہیں غیر حقیقی پن سے بنایا گیا ہو مگر وہ اس کے باوجود پوری طرح حقیقی ہوں۔یہ سب مبہم، بیضوی،باطنی اور چکمہ دینے والی تھیں۔کوئی بھی انہیں پوری طرح سمجھنے یا جذب کرنے کا دعوی نہیں کرسکتا تھا، مگر اس کے ساتھ ان کا سِحر پرزور کشش کا حامل تھا مگر کوئی اس اختراع پسندی سے انکا ر بھی نہیں کرسکتا تھا، جو ان کی تحریروں کا خاصہ تھی۔

اپنی بنیاد میں تکمیلیت پسند، نیر مسعود کبھی بھی زرخیز لکھنے والے نہیں ہو سکتے تھے۔ان کی زندگی کا ماحصل پینتیس کہانیوں تک محدود ہے، جو چار مجموعوں میں شایع ہوئیں۔انہوں نے مجھے ایک مرتبہ بتایا کہ انہوں نے لڑکپن میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کردی تھیں لیکن اس سے پہلے انہوں نے تحقیق کے ذریعے اپنا نام مستحکم کیا۔ان کی اولین کہانیاں پہلے شب خون میں شایع ہوئیں، جدید رجحانات کا حامل ادبی جریدہ،جسے شمس الرحمن فاروقی مرتب کرتے تھے،ایک ایسے ادبی آئیکون جو خود فکشن نگار کی حیثیت سے دیر سے سامنے آئے۔بہت سے لوگ اس بات پر یقین کرنے کے لیے تیار بیٹھےتھے کہ یہ ترجموں کے سوا کچھ اور نہیں ہو سکتیں۔یہ پراسرار مقامات پر رونما ہوتیں اور خالص اور صاف ستھرے انداز میں لکھی ہوتیں، ایسے با محاورہ اظہارات سے یکسر پاک، جنہیں اردو کے لکھنے والے فخر یہ استعمال کرتے چلے آرہےتھے، جو بعض اوقات برداشت سے باہر ہوجاتا تھا۔ان کا پہلا مجموعہ ‘‘ سیمیا’’ 1984میں منظرِ عام پر آیا۔اس کتاب نے قارئین کو بہت دھوکہ دیا اور محمد سلیم الرحمن نے،جو ایک زیرک ذہن رکھنے والے نقاد ہیں، انہیں ایک خاص دھندلے پن کے ساتھ اندرونی ساختہ اور ہر طرح کی تشریح کی ہم آہنگی سے مقابلہ کرنے والی کہانیاں قرار دیا۔ان کا اسلوب 1990میں چھپنے والی عطرِ کافور میں زیاد ہ کامل محسوس ہوتا ہے۔انتظار حسین انہیں اپنے زمانے کا سب سے اہم ادیب قرار دیتے ہیں۔

اس کے بعد وہ کہانی آئی،جس نے نیر مسعود کو، خود کو بھی حیران کردیا۔یہ تھی ‘‘ طاؤس چمن کی مینا’’ جو 1997 میں چھپنے والے مجموعے کے سرورق کی کہانی تھی۔اس نے گزشتہ کہانیوں سے رخصتی کو ظاہر کیا، جیسا کہ اس کامحل وقوع جو آخری حکم ران واجد علی شاہ کے دور کے ثروت مندلکھنو کے طور پر قابلِ شناخت تھا۔کہانی کہنے والا تاریخی محقق کے طور پر بے حدمنجھا ہوا ہے،اسی لیےرسمی طور پر اس مکمل کہانی میں شاہی پنجرے سے بولتی ہوئی مینا کی چوری اور اس کے ایک لڑکی کے ساتھ رہنے اور اس کا نام یاد کرکے دہرانے کی وجہ سے اس بے باک جرم کو دریافت کرنےکی جانب رہنمائی کرنے کی تمام جزئیات زندہ محسوس ہونے لگتی ہیں۔قدیم اور اب گُم شدہ ہوجانے والے گنجفہ کے کھیل نے انہیں اپنے آخری مجموعے کے لیے عنوان مہیا کیا،جو 2008میں شایع ہوا۔ان کی چند کہانیاںشایع ہونے سے رہ گئیں۔نیر مسعود کی ان کے مترجم محمد عمر میمن نے بھرپور انداز میں خدمت کی، جنہوں نے آہستگی اور باریک بینی کے ساتھ ان کی تمام کہانیوں کا ترجمہ کیا،جو ابتدا میں مختلف مجموعوں میں شایع ہوئیں،پھر اس کے بعد مجموعی کہانیوں کی صورت 2015 میں شایع ہوئیں،ایک ایسا مجموعہ جسے عزیز رکھا جائے اور بار بار اس کا مطالعہ کیا جائے۔ تب سے اب تک ان کی کہانیوں کا فرانسیسی، ہسپانوی اور فنِش زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے۔نیر مسعود کا بے عیب اظہار اب دنیا سے گفتگو کر رہا ہے۔

ایک کامل ہیرے کو روشنی میں لانے کے لیے، باصلاحیت زنبیل ڈرامیٹک گروپ کی جانب سےطاوس چمن کی مینا کو ڈارامائی انداز میں پڑھنے کا اہتمام کیاگیا۔جب مجھے T2F میں اسے متعارف کروانے کا اعزاز حاصل ہوا تھا۔جب اسے کرشماتی شخصیت سبین محمود کے ذریعے پیش کیا گیا تھا۔میں یہ کہے بغیر نہ رہ سکا تھا کہ مینا کو اردو زبان یا جلد کالونی بنائے جانے والے اور مکمل طور پر تباہ کر دیے جانے والےشاہانہ ہندوستان کی علامت کے طور پر اچھی طرح دیکھا جا سکتا ہے۔چند کہانیاں اپنے بیان میں اتنی واضح اورتیز دھار ہیں اور اس کے باوجودصفائی سے ایسی اشیا کی جھلک دکھانے کا اہتمام کرتی ہیں جو حدود سے باہر واقع ہیں۔

ان کے فکشن نے ان کی دیگر تصانیف کو گہنادیا ہے۔انہوں نے رجب علی بیگ سرور کی زندگی اور ان کے کام اور لکھنو کے ایک شہنائی نواز،آج تک جس کا کوئی ہم سر نہیں ہے،پر کتاب کے ذریعے اپنی پہچان بنائی۔نیر مسعود نے متعدد تنقیدی اور تاریخی مضامین بھی لکھے لیکن ان کی سب سے زیادہ غیر معمولی کتاب میر انیس کا مطالعہ ہے،جو ان کے لیے تاحیات محرک بنا رہا۔یہ ایک ادبی آپ بیتی سے کہیں زیادہ ہے،یہ مرثیے سے تعلق رکھنے والی ہر کسی چیز کا واضح اور باثروت مطالعہ ہےاوراپنی وسعت میں تقریباً انسائیکلو پیڈیا کے مساوی ہے۔ میں ان کے مضامین میں سےظافر جن کے متعلق مرثیے پر لکھا جانے والا مضمون کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔انہوں نے فکشن لکھنے والوں اور اشعارِ غالب کی تعبیر پر چند عمدہ مضامین لکھے۔وہ مترجم کی حیثیت سے بھی کم غیر معمولی نہیں تھے، انہوں نے فارسی سے چند کہانیاں اور کافکا کی کہانیوں کی ایک مختصر کتاب ہمیں دی ہے۔انہوں نے ایک ریڈیائی ڈرامہ اور کبھی کبھار بچوں کے لیے کہانیاں بھی لکھیں۔

نیر مسعود کی تمام تحریروں کی جڑیں ان کے مخصوص وقت اور مقام میں دور تک گئی ہیں۔1936میں لکھنو میں پیدا ہونے والے، وہ مسعود حسن رضوی ادیب کے ہونہال فرزند تھے، جو اپنے دور کےمشہور عالم تھے۔اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے انہوں نے پہلے اردو میں، پھر فارسی میں پی ایچ ڈی کی اور اس کے بعد لکھنو یونیورسٹی سے وابستہ ہو گئے۔طبعاً شرمیلے اور خلوت پسندہونے کی وجہ سے انہوں نے اپنے دوستوں کے حلقے میں عالم فاضل کی زندگی بسر کی۔وہ شاذونادر ہی سفر کرتے تھےاور لکھنو ان کے لیے پوری دنیا بن گیاتھا، ایک موضوع جو اپنی لامحدود وسعت تک ہر وقت ان کےمطالعے میں رہتا تھا۔

فخرو انبساط اور لامحدود علم کے ساتھ،وہ اس شہر میں میرے اولین قدموں کی رہنمائی کے لیے نکل کھڑے ہوئے۔میرا دورہ کئی برسوں سے جاری خطوط کے تبادلے کے سبب پہلے سے طے شدہ تھا(وہ بہت بامروت خط لکھنے والے تھے)میں خوش نصیب تھا کہ مجھے اان کی شان دار خاندانی حویلی میں ان کے ساتھ ٹھہرنے کا موقع ملا، جسے ان کے والد نے تعمیر کروایا اور جسے بجا طور پر ادبستان کانام دیا گیا۔شہر سے میری روشناسی کو اس کے سواکچھ اور مکمل بھی نہیں کرسکتا تھا۔انہوں نے میرا تعارف افسانوی ‘’ٹُنڈے کے کباب’’ اور ‘‘ چوک کی بالائی’’ سے کروایا اور پھر انہوں نے مجھے کالی امراو جان، جوایک تاریخی شخصیت تھی اور جس نے ہو سکتا ہے لکھنو کی مشہور ادبی ہستی کو بھی متاثر کیا ہو، اس کا کوٹھا دکھانے کا اہتمام کیا۔

پاکستان اور انڈیا کے درمیان روابط کی دشواریوں کے باوجود انہوں نے خطوط اور کتابوں کا تبادلہ مستقل مزاجی سے جاری رکھا۔انہوں نے مجھے اپنی چند کتابیں کراچی سے شایع کرنے کی اجازت دی۔ان کی حوصلہ افزائی سے،میں نے فکشن پران کے تنقیدی مضامین اکٹھے کیے اوراس کے بعد ان کی منتخب کہانیوں کا ایک مجموعہ ترتیب دیا۔انہوں نے مجھےغالب پر اپنے مضامین کےتوسیع شدہ ایڈیشن کا مسود ہ ارسال کیا۔وہ صاحبِ فراش ہوچکے تھےاورآہستگی سے ان کی ادبی سرگرمی زوال پذیر ہورہی تھی۔ وہ کمزور دکھائی دینے لگے، میں نے جب انہیں آخری مرتبہ دیکھا تو ان کی صحت اچھی نہیں تھی۔ان کے خطوط مختصر سے مختصر تر ہوتے چلے گئے، ان کی باقاعدگی میں بھی فرق آنے لگا اور بالآخر وہ مکمل طور پربند ہو گئے۔وہ پہلے سے ہی ایک نشیبی ڈھلان پر تھے۔میں نے اسی وقت بدشگونی کو محسوس کرلیا، جب مجھے ان کی جانب سے بھیجی جانے والی کتاب، ان کے مخصوص دست خط کے بغیر وصول ہوئی۔ ان کی عالی مزاج، مہربان اور شفیق شخصیت کو میں روح تک مہذب شخص کے طور پر یاد کرنا پسندکرتا ہوں۔وہ مرشدِ معنوی تھے، جو میرے ادبی افق کووسعت دینے،لکھنے اور پڑھنے کے سلسلے میں ہمیشہ میری حوصلہ افزائی کرتے ہوئے۔ ادبی دنیا کی ایک خلیق دھیمی روشنی ُگل ہوگئی لیکن نام نیر مسعود، جب تک میں زندہ ہوں، میرے دل میں ہمیشہ جگمگاتا رہے گا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

K2 and the Invisible Footmen: A Documentary Every Pakistani Should Be Proud Of

The best part is that the film does not embroil itself in controversies but focuses on a simple and realistic portrayal of life.

امیرِ بُخارا کا عدل

ان کی توجہ دو آدمیوں کی طرف مبذول ہوئی جن میں سے ایک گنجا اور دوسرا داڑھی والا تھا۔ دونوں اپنے اپنے شامیانوں کے نیچے کھاری زمین پر لیٹے تھے ۔

جامعہ کراچی میں پہلا 'غیر سیاسی' یوم ثقافت گلگت بلتستان

گلگت بلتستان کی ثقافت سے طلبہ کو متعارف کرانے کے لیے گلگت بلتستان کی موسیقی، رقص اور پکوان تقریبات کا حصہ تھے۔