نیلی فلموں کا طلسم کدہ

نیلی فلموں کا طلسم کدہ

انتباہ: اس تحریر کے مندرجات صرف بالغ افراد کے لیے ہیں، بعض قارئین کے لیے اس کے مندرجات قابل اعتراض ہو سکتے ہیں۔ اس تحریر کا مقصد پورن کے حوالے سے پائے جانے والے عمومی تصورات کو ذاتی تجربات کی روشنی میں ایک معقول بحث کا موضوع بنانا ہے۔

حالانکہ لفظ فحش بہت گھسا پٹا لفظ ہے اور اس کے بارے میں سنتے ہی یہ خیال آتا ہے کہ ہم کسی بے حیا یا بدکردار شخص یا واقعے کے بارے میں بات کرنے والے ہیں۔ مگر اب یہ ایک رائج اصطلاح بھی ہے اور اس کے معنی سماجی سطح پر یہ ہوسکتے ہیں کہ وہ بات یا عمل جو لوگوں کے سامنے کرنا برا یا معیوب سمجھا جائے اسے فحش کہا جاسکتا ہے، خاص طور جنسی حوالے سے۔ اچھا بدکرداری کا مسئلہ تھوڑا عجیب ہے۔ قتل کرنا بری بات ہے، جھوٹ بولنا بھی، کسی کو ٹھگنا، لوٹنا، چوری کرنا یا پھر کرپشن کرنا۔ لیکن ان سب کے ساتھ آپ کبھی بدکرداری یا بے حیائی کا لفظ اس طرح نہیں سنیں گے جس طرح جنسی معاملات و واقعات کے ساتھ اسے استعمال کیا جاتا ہے۔ مثلاً مجھے یقین ہے کہ ہم نے ایسی خبریں شاید کبھی نہیں شائع کی ہوں گی کہ 'ایک بدکرار قاتل کو یا ایک بے حیا چور کو کل رات گرفتار کرلیا گیا ہے' یا پھر ایسی کہ 'ایک بدکردار سرمایہ دار یا بے حیا قومی لیڈر کو عدالت کی جانب سے نوٹس ملا ہے'۔ جبکہ ان دونوں الفاظ کا استعمال ویلنٹائن میں کسی لڑکے یا لڑکی کے ایک دوسرے کو پھول دینے کے تعلق سے کھل کر کیا جاتا ہے، آج بھی ہندوستان کے بیشتر گاووں میں نقاب یا اوڑھنی سرکنے، غیر مردوں کے سامنے جاکر بیٹھنے، عورت کے اونچی آواز میں بول دینے یا مرد کے کسی عورت سے اظہار محبت کر دینے کو مکمل طور پر بے حیائی اور بدکرداری کے خانے میں ڈالا جاتا ہے۔ کردار کی برائی یا حیا کی غیر موجودگی جن باتوں سے طے ہوتی ہے، وہ ہمارے معاشروں میں کہیں کم اور کہیں زیادہ اسی قسم کے اصولوں کے مطابق ہوتی ہے۔

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی یا بہت غیر معمولی قسم کی نہیں ہے کہ بالغ فلم، فحش فلم یا پھر بلیو فلم کی ابتدا کا زمانہ انیسویں صدی کے اواخر میں موشن پکچر کے آغاز کے کچھ عرصے بعد کا ہی تھا۔
یہ بات کوئی ڈھکی چھپی یا بہت غیر معمولی قسم کی نہیں ہے کہ بالغ فلم، فحش فلم یا پھر بلیو فلم کی ابتدا کا زمانہ انیسویں صدی کے اواخر میں موشن پکچر کے آغاز کے کچھ عرصے بعد کا ہی تھا۔ اس کے بعد سے لے کر اب تک لاتعداد فلمیں ایسی بن چکی ہیں، جنہیں دیکھ کر دنیا بھر کے ناظرین اپنی جنسی اشتہا کو مٹاتے ہیں اور لطف حاصل کرتے ہیں۔ آپ یوٹیوب پر کسی بھی فحش فلم حتیٰ کہ عام سے کیمرے سے بنائے ہوئے کسی بوسے کی چھوٹی سی کلپ اٹھا کر دیکھ لیجیے، ہزاروں کی تعداد میں اس کے ویوز مل جائیں گے۔ دوسری ویڈیوز کے مقابلے میں یہ ویوز اتنے زیادہ ہوتے ہیں کہ ان پر ایک نظر پڑتے ہی اندازہ ہوجاتے ہیں کہ ان گلیاروں میں آپ کے پھوپھا جان، چچا جان، خالو یا ماموں سب سیر کر چکے ہیں۔بہت سے لوگ ایسی ویڈیوز پر اپنے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ڈس لائک کے بٹن کو کلک کرتے ہیں۔ یہ ایسی ہی بات ہوئی ، جیسی کہ آپ کسی کے ساتھ بھرپور جنسی عمل کا لطف لے کر کہہ دیں کہ وہ کوئی اچھی چیز نہیں۔

فحش فلموں سے میرا سامنا بہت چھوٹی عمر میں ہوا تھا۔ میں شاید چھٹی یا پانچویں جماعت میں پڑھتا ہوں گا۔ ایک دن اپنے گھر کی چھت پر کھڑا تھا کہ سامنےوالے گھر سے میرے دو چچا زاد بھائی مجھے آواز دے کر بلا رہے تھے۔میں فوراً ان کے ہاں پہنچا۔ وہ مجھے چوری چھپے ایک کمرے میں لے گئے، وہاں پہلے سے میرے دو پھوپھی زاد بھائیوں کے علاوہ دو سگے بھائی بھی موجود تھے، اب انہوں نے مجھ سے کہا کہ دیکھو ہم تمہیں ایک چیز دکھاتے ہیں، بتاو تمہیں یہ کیسی لگتی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے میرے ہاتھ میں ایک 'کی چین' تھما دی۔ اس کی چین میں ایک عریاں مرد اور ایک عریاں عورت لٹکے ہوئے جھول رہے تھے، مرد کا عضو تناسل بالکل سخت تھا، ایک دم سیدھا اور کرخت۔ میرےایک چچا زاد بھائی نے کہا کہ اب دیکھو کمال۔ اس نے مرد کو اپنی چٹکیوں میں بھرا اور کچھ پیچھے لے گیا، وہاں سے جب اس نے اسے چھوڑا تو مرد تیرتا ہوا بالکل عورت کے سینے سے جالگا اور اس کا عضو تناسل عورت کی شرم گاہ میں اترتا چلا گیا، سارے بھائی کھلکھلا کر ہنس پڑے۔ حالانکہ میں ان دنوں خاصا مذہبی تھا، مگر مجھے اس منظر کو دیکھ کر لطف آیا، وہ جو کبھی کبھی میں اکیلے میں لیٹے لیٹے پڑوس کی کسی خوبصورت آنٹی، کسی بھرے جسم کی شناسا لڑکی یا پھر اپنی کسی خوبصورت ہم جماعت کا تصور کر کے لطف لیا کرتا تھا، بدن شرارے چھوڑنے لگتا تھا، آنکھ بند ہونے لگتی تھی، سارے رونگٹے کھڑے ہو جایا کرتے تھے وہی حال میرا ہونے لگا۔ میرے بھائی جس وقت اس منظر پر ہنس رہے تھے، اس دوران بھی مجھ پر ایسی ہی کیفیت طاری ہو گئی، چھوٹی عمر تھی، نیا نیا تجربہ۔ بڑا مزہ آرہا تھا۔ میں نے اپنے تنے ہوئے عضو تناسل کو ٹانگوں میں داب لیا۔ اس کے بعد میرے بھائیوں نے مجھے میری زندگی کی پہلی فحش فلم دکھائی۔ یہ ایک ہندوستانی بلیو فلم تھی، ان دنوں اس کے کیسٹ ملا کرتے تھے اور انہیں وی سی آر کی مدد سے دیکھنا ہوتا تھا، ظاہر ہے کہ یہ ساری ویڈیوز میرے چچا کے تصرف میں تھیں اور ہم انہیں چوری چھپے دیکھ رہے تھے، اس بات کا بھی اپنا ہی لطف تھا۔ کمرے کے ہلکے اندھیرے میں جب سہاگ رات کی وہ محفل جمی اور ہماری ننھی آنکھوں پر لمس کے غلاف چڑھنے لگے تو جیسے ہم دنیا کے کسی اجنبی گوشے میں چلے گئے، جہاں ہم سب جو اب تک ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے ہوئے اس بستی میں داخل ہوئے تھے، ایک دوجے سے الگ الگ ہوکر اپنی اپنی راہوں پر چل پڑے، سسکیوں کی بھینی بھینی خوشبوئیں، انگلیوں کی شبنمیں، لمس کی بارشیں، یہ سب ایک ساتھ برسنے لگیں اور ہر کوئی اس میں ڈوبتا چلا گیا۔

مرد کا جنسی عمل صرف اس کے شہوت کدے یعنی اس کی شرمگاہ میں قید ہوتا ہے جبکہ عورت اس عمل کے دوران اپنے پورے وجود کو شرمگاہ میں تبدیل کرلیتی ہے
اس دن سے لے کر آج تک ایک منظر ایسا ہے، جس نے میری گردن کو اپنی تیز، دھاردار انگلیوں سے یونہی جکڑ رکھا ہے اور جب کبھی یہ گرفت سخت ہوتی ہے، سانس لینا دوبھر ہو جاتا ہے۔ میں نے محسوس کیا کہ عورت ہر بوسے کے ساتھ ایک نئے قسم کی شکن چہرے پر لا رہی ہے، ایک عجیب سے درد اور چبھن کا احساس، اس کے چہرے پر نمودار ہو رہا ہے، اور صرف اس پورے منظر میں آواز کا ہی کردار نہیں ہے جو انسان کو ایسی جنسی آسودگی فراہم کر سکے، جتنا کہ عورت کے چہرے کے یہ اتار چڑھاو کیا کرتے ہیں۔ مرد تو بس جیسے ایک ایک لقمہ کر کے اس پوری پلیٹ کو صاف کر دینا چاہتا ہے، مگر عورت اس کو محسوس کرتی ہے، اس کے اندر سے درد اور انبساط کی ملی جلی وہ ساری کیفیات پیدا ہوتی ہیں جو انسان کو زندگی سے لطف اندوز ہونے اور ان کے بارے میں زیادہ گہرائی کے ساتھ خود کو گزارنے یا بتانے کا عمل ہمیں سکھاتی ہیں۔ مرد کا جنسی عمل صرف اس کے شہوت کدے یعنی اس کی شرمگاہ میں قید ہوتا ہے جبکہ عورت اس عمل کے دوران اپنے پورے وجود کو شرمگاہ میں تبدیل کرلیتی ہے، وہ روپ بدل بدل کر موسموں کی طرح کبھی نرم اور کبھی گرم ہوتی ہے، کبھی بجلی، کبھی ساون، کبھی گرمی، کبھی سخت اور جمی ہوئی سرد لہر کی طرح، اسے ان کیفیات سے پوری طرح لطف اندوز ہونا آتا ہے۔

فحش فلمیں دیکھنے کا ہر شخص کا اپنا تجربہ ہوتا ہو گا، لیکن میرے نزدیک یہ ایک تربیت گاہ بھی ہے۔ عورت سے سیکھنے کا عمل، سرسرانا، لپٹنا، چھوڑنا، جسم کے ایک ایک روئیں کو آزادی کے ساتھ اپنا حصہ بٹورنے کی اجازت دینا اور اس کیفیت میں پوری طرح ڈوب جانا۔ اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ آج بھی عورت کے سامنے مرد اس بازی گاہ میں بہت چھوٹا اور بونا نظر آتا ہے۔ زندگی کی ہزاروں سال کی تربیت میں آدمی نے خود کو جنگ کے لیے، نفرت کے لیے، پابندیوں کے لیے، خدا سازی اور مذہب نگاری کے لیے تیار کیا، جبکہ عورت نے سب سے پہلے اپنے ہونے کو محسوس کیا، اس نے زندگی کے شعبے میں برداشت کی نت نئی لہریں پیدا کیں اور اپنے وجود کو سکھایا کہ کہاں اسے پتھر بننا ہے اور کہاں پانی۔

ہماری اخلاقیات اور ہمارے سماجی اصول بہت خراب اور منافق قسم کے لوگوں نے طے کیے ہیں۔ پچھلے سال ایک پورن ویب سائٹ پر جب دنیا بھر میں دیکھی جانے والی فحش فلموں کا عام سروے کیا گیا تو اس میں ہندوستان چھٹے نمبر پر تھا، جبکہ پاکستان پہلے پر اور ایران پانچویں، سعودی عرب ساتویں اور مصر دوسرے نمبر پر۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ مشرق کے بیشتر ممالک میں نہ صرف فحش فلمیں دیکھی جاتی ہیں بلکہ وافر تعداد میں پسند بھی کی جاتی ہیں۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے جب ہندوستان میں حکومت نے ان فحش فلموں پر مشتمل ویب سائٹس پر پابندی لگانے کا حکم نامہ جاری کیا تو عوامی غصے کی شدید لہر اسے جھیلنی پڑی اور بہت مختصر عرصے میں یہ فیصلہ حکومت کو واپس لینا پڑا۔ حکومت ہند کا جواز یہ تھا کہ پورن فلموں کی وجہ سے لوگوں میں ایک قسم کی اخلاقی گراوٹ پیدا ہوتی ہے اور اس سے بہت سے زنا بالجبر کے حادثات رونما ہوتے ہیں۔ انٹرنیٹ پر اس حوالے سے بہت طویل بحثیں ہوئیں، سوال و جواب لکھے گئے، مشہور شخصیات نے بھی اسے انٹرنیٹ کی آزادی یا انسان کی انفرادی آزادی کے خلاف ایک سازش سے تعبیر کیا۔

فحش فلم آپ کو تسکین ذہن کا سامان فراہم کراتی ہے۔ اس کا مقصد آپ کو اکسانا نہیں ہے۔
سوال یہ ہے کہ فحش فلموں کا کیا واقعی اس قسم کے سنگین حادثات میں کوئی کردار ہے۔ بالکل نہیں۔ وجہ یہ ہے کہ سماجی سطح پر ابھی تک فحش فلم کو جس قدردانی اور قبولیت کا درجہ ملنا چاہیے تھا وہ نہیں ملا۔ اگر ایسا ہوتا تو ہم اظہار محبت کو ایک گناہ نہ سمجھتے اور ہمارے اندر سے غیرت کے نام پر اپنے رشتہ داروں، بہنوں اور بیٹیوں کو قتل کرنے کا رواج بھی ختم ہو سکتا تھا۔ فحش فلم آپ کو تسکین ذہن کا سامان فراہم کراتی ہے۔ اس کا مقصد آپ کو اکسانا نہیں ہے۔ یہ طے شدہ بات ہے کہ اگر فلم دیکھ کر لوگ واقعی مشتعل ہوجاتے تو جس تعداد میں فحش فلم دیکھی جاتی ہے، اس کی شماریات بتاتی ہیں کہ اگر ایسا ہوتا تو بھیڑ بے قابو ہوچکی ہوتی، لوگ پاگل ہوکر گھروں میں اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ ہی زنا کرنے لگ جاتے۔ اس کے برعکس فحش فلم، انٹرنیٹ اور تھری جی، فور جی کے زمانے میں ایسے بہت سے بے روزگار وں کی بھی جنسی تسکین کا باعث ہے جو دھوپوں میں ایڑیاں چٹخاتے سڑکوں پر گھومتے ہیں اور ان کا بھی جو دفتروں میں دن کاٹ کر راتیں کسی پسندیدہ شخص کے ساتھ گزارنے سے محروم ہیں۔

زنا اگر ہو رہے ہیں تو یہ قصور حکومت کا ہے، سماج کا ہے۔ جو لوگوں کو اپنی جنسی تسکین کے لیے کوئی خاص جگہ یا موقع فراہم نہیں کرنے دیتی اور صرف بے ضابطہ اور بے وقوفانہ قسم کے اخلاقی اصولوں کو قائم کرکے ایسے مراکز قائم ہونے سے باز رکھنا چاہتی ہے، جہاں مردوں اور عورتوں اور تمام جنسی شناختوں کے حامل انسانوں کی جنسی تسکین کے سامان موجود ہوں اور انہیں ایک بہتر اور کسٹمائزڈ طریقے سے زخموں سے چور، تھکی ہوئی، ذلیل اور اندھیرے میں ڈوبی ہوئی روحوں کے درد کا مداوا کرنے کے لیے چلایا جاسکے۔ جس کی نگرانی کے لیے باقاعدہ ایک وزارت قائم کی جائے اور اسے باضابطہ طور پر معاشی ترقی کے اصولوں کے تحت، ڈاکٹرز اور ہر جنس کے سیکس ورکرز اور رضاکاروں کے اشتراک سے چلایا جا سکے۔ جہاں نوکری کی ایک عمر ہو، اپنی مرضی سے نوکری چھوڑنے، پیشہ بدلنے کا اختیار ہو، جن کی سماجی حیثیت کو بھی باضابطہ طور پر قبول کیا جائے، لوگوں کے جنسی معاملات کی مکمل رازداری رکھی جائے، جہاں آنے کی کچھ شرائط قائم کر دی جائیں اور وہاں سماج کے ہر طبقے سے تعلق رکھنے والا شخص کچھ میڈیکل کی جانچوں کے بعد اپنی جیب کا خیال رکھتے ہوئے جا سکے، دلال یا کمیشن کھانے والوں کا کوئی کرداری نہ ہو ۔ میں مانتا ہوں کہ اس کے بعد بھی ذہنی طور پر بالکل جانور قسم کے لوگوں کے ذریعے زنا جیسے جرائم ہوتے رہیں گے لیکن اس کے ذریعے حکومت خود پر معاشی ترقی کا ایک دروازہ کھول سکتی ہے، بہت سے بے روزگار لوگوں کو روزگار مل سکتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ سماج کی سب سے بڑی فرسٹریشن کے دور ہونے کا ایک آسان اور مثبت راستہ نکل سکتا ہے۔ یا کیوں نہ ہم بھی جنسی عمل کے ساتھ جڑے بے بنیاد ٹیبوز سے چھٹکارا حاصل کر کے اس نہایت فطری عمل کو اپنے معمولاتِ زندگی کا ایک حصہ سمجھ لیں؟

معاف کیجیے گا میں فحش فلموں پر بات کرتے کرتے، دور تک نکل آیا۔ فحش فلمیں کالجز یا یونیورسٹی کے نصاب میں شامل ہونی چاہیں۔ ان کا ایک خاص کورس بھی کرایا جا سکتا ہے۔ اسے ایک مقبول عام معاشی صنعت میں تبدیل کر دینے سے فائدہ یہ ہوگا کہ ہم ایک ایسے معاشرے کو جنم دے سکیں گے جو گھٹن اور کرب سے آزاد، ذہنی طور پر ایک خود مختار معاشرہ ہوگا۔ آخر جو باتیں چھپ کر بڑی تعداد میں کی جاسکتی ہیں، جن پر پابندی عائد کرنے کا انجام حکومتیں دیکھ چکی ہوں، انہیں سماجی طور پر قبول کر لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس کی وجہ سے ہمیں بہت سے جرائم، خودکشیوں اور استحصال سے چھٹکارا مل سکے، ہم نئے قسم کے اخلاقی اصول طے کر سکیں اور لوگوں کو بالغ فلموں کی مدد سے مرضی اور جبر کے درمیان کا فرق سمجھ میں آسکے۔ اس تحریر کا مقصد ہرگز یہ نہیں کہ آپ فحش فلم کو قبول کر کے اپنے مذہبی اقدار کا گلا گھونٹ دیجیے۔ لیکن جس چیز کو آپ پسند نہیں کرتے، وہ آپ کا نہایت اندرونی اور ذاتی معاملہ ہے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ بازار حسن کی سیر کا دل ہو اور مسجد بھیج دیا جائے اور عبادت کی خواہش کے وقت بستر میں ٹھونس دیا جائے۔

جو باتیں چھپ کر بڑی تعداد میں کی جاسکتی ہیں، جن پر پابندی عائد کرنے کا انجام حکومتیں دیکھ چکی ہوں، انہیں سماجی طور پر قبول کر لینے میں حرج ہی کیا ہے۔
ہمیں عام طور پر ڈرایا اور دھمکایا جاتا ہے کہ جنس کی دنیا میں داخل ہونے والوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا۔ عام طور پر آپ ایسی خبریں بھی دیکھتے یا سنتے ہوں گے کہ مشہور فلمی اداکارہ اپنے گھر میں مردہ پائی گئی، دو دن بعد اس کی لاش دروازہ توڑ کر نکالی گئی، آج کسی ماڈل نے خود کشی کرلی، کسی ٹی وی ایکٹرس نے زہر کھالیا، کسی نے پھانسی لگالی وغیرہ وغیرہ۔ یہ خبریں دراصل ایک قسم کی عیارانہ حرکتیں ہیں۔ زندگی کا کون سا ایسا شعبہ ہے، جس میں انسان خوش ہونے کے ساتھ ناخوش نہیں ہے۔ جو فلم ایکٹرس گھر میں مردہ پائی گئی، اس کی زندگی کو کتنے لوگوں نے بہت نزدیک سے دیکھا اور جانا، جس عورت یا ماڈل نے خود کشی کرلی، اس کی نفسیاتی وجہ کیا صرف گلیمر ورلڈ تھا، جنسی عمل تھا؟ عام طور پر ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کے ساتھ جذباتی وابستگی پیدا کرلیتا ہے اور یہ بہت فطری بات ہے کہ ایسا ہوجائے، دس میں سے آٹھ لوگ اس جذباتی وابستگی کی ناکامی کو قبول کر لیتے ہیں، تو دو نہیں کرپاتے اور خودکشی ہر انسان کا نہایت ذاتی فعل ہے، آپ زندہ نہیں رہنا چاہتے تو مرنا کم از کم آپ کے اختیار میں ہونا چاہیے، کیونکہ پیدا ہونا تو تھا نہیں۔ ایسے لوگ جو خودکشی کرتے ہیں، باعث احترام ہیں، کیونکہ وہ اپنی مرضی سے جیتے اور اپنی مرضی سے مرجاتے ہیں۔ ہاں اپنے ساتھ کسی اور کو لے کر مرنا ایک بدکردار اور بے حیا فعل ضرور ہو سکتا ہے۔

ہندوستان کی ایک اہم پورن اداکارہ سمتا سلک پر کسی نے مضمون لکھا تھا، اس میں بتایا گیا تھا کہ سمتا کا تعلق ایک دلت گھرانے سے تھا، وہ ایک ایسے فرقے سے تعلق رکھتی تھی، جس میں ایک مخصوص موقع پر چھوٹی ذات کے مرد اپنی بیویوں کو لے کر ایک رات اونچے طبقے کے نوجوانوں کے پاس چھوڑ جایا کرتے تھے، وہ جھلمل ساڑیوں میں ہوا کرتیں، انہیں ایک پیڑ سے باندھ کر یہ نوجوان رات بھر ان کو رنگوں میں بھگوتے اور ان کے بدن سے لطف حاصل کیا کرتے۔ ان کے یہاں ایک قسم کی شدھی کا عمل مانا جاتا تھا جس سے چھوٹے طبقے کی عورتیں ہمیشہ کے لیے صاف و پاک ہو جایا کرتی تھیں۔ ہنسی اس بات پر آتی ہے کہ استحصال کرنا ہو تو مذہب کبھی مرد کو چار شادیوں کی اجازت دیتا ہے کبھی کنیزیں رکھنے کی، کبھی عورت کو پیڑ سے باندھ کر کھلونے کی طرح کھیلنے کی۔ لیکن ایسے عمل کی اجازت ہرگز نہیں ہے، جس سے عورت کو کسی قسم کا معاشی استحکام حاصل ہوسکے اور خدانخواستہ اگر اس نے ایسا کوئی راستہ نکال لیا اور وہ مرد کے ساتھ ہم بستری کے عوض چار پیسے کمانے لگی تو اسے خراب القاب اور نام دیے جانے لگے۔ ان باتوں اور سازشوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ان پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

اور ان سب باتوں پر غور کرنے کے لیے فحش فلم بہت کارگر ثابت ہوسکتی ہے۔ جس طرح ہر بات کے بہت سے پہلو ہوا کرتے ہیں، فحش فلم کا صرف ایک پہلو نہیں ہے کہ وہ ہمارے لیے لطف و انبساط کا ایک سامان ہے بلکہ وہ ہماری ایک اہم تربیت گاہ بھی ثابت ہوسکتی ہے بشرطیکہ ہم سوچنے، سمجھنے اور سیکھنے کے لیے خود کو بالکل آزاد چھوڑ دیں۔

Image: Evelyn Bencicova

Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

جنگل کا قانون نہیں چاہیے

آن کیا تو تو ایک اینکر انتہائی جذباتی انداز میں سانحہ پشاور کے مقام سے دنیا کو پیغام دے رہاتھا کہ دنیا میں اگر امن قائم ہوا تو تاریخ میں یہ ضرور لکھا جائے گاکہ پاکستانی نونہالوں کا خون بھی اس میں شامل تھا۔

Peshawar: The cost of managing terror

The killing of over 130 children in Peshawar by the Tehreek-e-Taliban has sent shockwaves across the world. It is a

The Trouble with Our Borders

Just as the internal political crisis has begun to subside, another crisis in the form of tension along borders has