واپسی

واپسی

تحریر: محمد عباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح کی روشنی کافی پھیل چکی تھی جب میری آنکھ کھلی۔ گرمی کی وجہ سے رات نیند ہی اتنی دیر سے آئی تھی کہ صبح جلدی جاگنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا تھا۔ آنکھ کھلنے پرمیں نے ارد گرد دیکھا۔ دور دور تک بس باجرے کی فصل ہی نظر آرہی تھی۔ کہیں گھٹنوں تک اور کہیں اس سے ذرا زیادہ۔گائوں کی ساری آبادی دور نظر آرہی تھی ۔ اتنے وسیع پھیلے ہوئے باجرے کے درمیان ، اس ویران ڈیرے پر خود کو دیکھ کر ایسا لگا جیسے میں ٹارزن ہوں ، جنگل میں ہی پیدا ہو اہوں اور جنگل میں ہی مروں گا۔لیکن ، ایسی اپنی قسمت کہاں ۔ میں تو بہت ہی معمولی آدمی ہوں۔ مجھے تو خود کما کر کھانا ہے۔ خیر ، یہ پندرہ بیس دن مشکل ہیں، ڈیرے کی یہ چاردیواری مکمل ہونے سے پہلے ہی میرے پا س اتنے پیسے ہو جائیں گے کہ کراچی نکل سکوں، وہاں پہنچ گیا تو پھر کام بھی بہت اور کام بھی آسان۔ زندگی آرام سے گزر جائے گی۔ جس طرح وہاں گئے ہوئے دوستوں کی گزر رہی تھی۔

میں نے نیچے بچھی اپنی قمیض اٹھائی اور ٹیوب ویل کی ہودی کی طرف چلا گیا۔ ہاتھ منہ دھوتے وقت ہاتھ کے دھسکے ہوئے چھالے دیکھ کر ایک بار تو آنکھوں میں پانی آ گیا۔ کیسے ملائم ہاتھ تھے میرے۔ چار ہی دن میں تباہ ہو گئے۔ اب تو کوئی چیز مٹھی کی گرفت میں لینے کے قابل ہی نہ رہا تھا۔ پتا نہیں کب جنگو لوگوں کی طرح میرے بھی ہاتھوں پر چنڈھیاں بنیں گی اور میرے ہاتھ بھی پتھر ہو جائیں گے۔ ابھی تو درد ہی برداشت کرنا تھا۔ منہ ہاتھ دھو کر میں نے پہلے اپنی قمیض دھوئی، اور جب وہ دھل گئی تو اسے پہن کے شلوار کو دھونے لگا۔
اس وقت جنگو وہاں آ پہنچا۔ کم بخت گھر سے پیٹ بھر کے آیا ہے ۔ اب دو چار جملے ضرور کسے گا۔

’’ہاں جی، کپڑے دھوئے جا رہے ہیں۔‘‘
’‘جی ، اور کیا۔ ایک ہی تو جوڑا ہے۔ روز نہ دھوؤں تو پہنوں کیسے؟‘‘
وہ ٹیوب ویل والے کمرے سے مستریوں کے اوزار نکالنے چلا گیا۔واپسی پہ اوزاروں کا تھیلا زمین پہ پٹختے ہوئے بولا’’ویسے مجھ سے تمہاری یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ اچھے بھلے گھر کے۔۔۔۔‘‘

’’نہ تو وہ اچھا گھر ہے،اور نہ ہی بھلا۔۔۔۔۔۔۔ تم بس کام کی تیاری کرو۔ مستری بھی آتے ہی ہوں گے۔‘‘

وہ پرائمری سکول تک میرے ساتھ پڑھتا رہا تھا۔ مانیٹر کی حیثیت سے میں نے کئی بار اسے ماسٹروں کی مار سے بچایا تھا۔ اس لیے وہ میرا ایک طرح سے احسان مند تھا، اور اسی لیے میرے سامنے اونچا نہیں بولتا تھا۔

’’پھر بھی آج چار دن ہوگئے تمہیں۔ صرف دن کو یہاں سے ملنے والے کھانے پر گزارہ کر رہے ہو۔ سوتے بھی ادھر کھلی زمین پر ہو۔ تمہارے جیسے لڑکے کو ایسے دیکھ کے دکھ تو ہوتا ہے۔ ‘‘

’’کوئی ضرورت نہیں دکھی ہونے کی۔ میں اپنی خوشی سے یہ کر رہا ہوں ۔ پھر تمہیں کیا۔ میں اپنے بل پہ جینا چاہتا ہوں ، روز روز دوسروں کے طعنے سن سن کر نہیں ۔‘‘

وہ میری طرف دیکھتا رہاپھر مستریوں کے کام کرنے کے لیے کل سے لگی گو پاڑ پر اینٹیں رکھنے لگا۔ میں نے شلوار دھوئی اور اسے نچوڑ کے تھوڑا ساہوا میں گھمایا تا کہ آٹھر جائے ۔ صابن کے بغیر صاف نہیں ہوتی تھی۔ بلکہ ہر دھلائی پر کپڑا پھنسی ہوئی مٹی ، اور پسینے کی وجہ سے مزید اکڑتا جا رہا تھا۔ کیٹی کے کپڑوں نے اب سے پہلے ایسا سلوک دیکھا کہاں تھا ۔ خیر آج جمعرات ہے، آج حساب ملنا ہے۔ صابن کی ایک ٹکی بھی لے آؤں گا۔ پھر یہ مسئلہ نہیں رہے گا۔ ایک بار پیسے مل گئے تو پھر بہت سے مسئلے حل ہو جائیں گے۔ اسی جنگو کو کچھ پیسے دوں گا کہ ان کے بدلے مجھے صبح شام اپنے گھر سے کھانا لا دیا کرے۔ ویسے تو وہ ابھی بھی لا کے دے سکتا تھا، مگر میری شرم مجھے اس کا احسان لینے سے روکتی تھی۔

’’تمہارے گھر والوں میں سے تمہیں ڈھونڈتا کوئی ادھر نہیں آیا؟‘‘ اس کا دھیان اینٹیں جوڑنے پر ہی تھا۔
’’نہیں۔ مجھے کیا۔ آ بھی جاتا کوئی تو میں نے کون سا چلے جانا تھا۔ ‘‘
’’ویسے تمہاری ماں کو معلوم ہے کہ تم ادھر ہو۔ بس تیرے باپ کے ڈر سے نہیں آئی‘‘
’’تمہیں کیسے پتا ہے؟‘‘

’’ملی تھی کل رستے میں ۔ تمہارا پوچھ رہی تھی۔ کہہ رہی تھی کہ اب تمہارا ابا بھی کافی ٹھنڈا پڑ گیا ہے ۔اگر چپ چاپ آ جاؤ تو کہے گا کچھ نہیں ۔ بس اپنی اکڑ رکھنے کے لیے خود لینے نہیں آئے گا۔‘‘

’’تو مجھ میں اکڑ کم ہے کیا۔میں تو اب اس کی شکل بھی نہیں دیکھنا چاہتا۔ اپنی بریک تو اب کراچی ہی جا کر لگے گی۔ بس ایک بار کرائے کے پیسے بنا لوں، پھر زندگی بھر گاؤں کا رخ نہیں کروں گا۔‘‘

’’اب اتنی بھی کیا ضد ہے یار ۔ آخر باپ ہے۔ تھوڑا بہت کہنے کو اس کا حق ہے۔ ‘‘
’تھوڑا بہت۔۔۔؟‘‘

میں نے گیلی شلوار پہن لی اور اٹھ کر گارا تیارکرنے کے لیے ہودی سے بالٹیاں بھر کے مٹی کی کھیلی میں پانی ڈالنے لگا۔ایسا کرنے سے گیلی شلوار پر مٹی تیزی سے دوبارہ چمٹنے لگی تھی اور مجھے کراہت سی آنے لگی تھی لیکن دل پر جبر کر کے جس طرح پچھلے چار دن سے کر رہا تھا، پانی ڈالتا رہا۔

’’تیری اماں نے بتایا کہ وہ چھوٹی۔۔۔۔‘‘
’’سونو؟‘‘
’’ہاں، وہ تمہیں بہت یاد کرتی ہے اور دن بھر روتی رہتی ہے۔ ‘‘

’’وہ تو جھلی ہے بالکل۔۔۔۔ کچھ بھی ہو ، روپڑے گی۔ خوشی ہو تو بھی۔۔۔۔۔۔ ‘‘ میں نے ایک نظر دور گاؤں کی سب سے پہلی عمارت پر دیکھا۔ گورنمنٹ گرلزمڈل سکول۔ آج تین مہینے کی چھٹیوں کے بعد سکول کھلنے تھے۔ آج وہ سکول آئے گی۔’ہو سکتا ہے اس وقت تک وہ ،دوسری منزل پر جماعت پنجم کے کمرے میں آ بھی گئی ہو؟ کیا خبر کھڑکی سے میری طرف ہی دیکھ رہی ہو؟‘ میں نے ہاتھوں کا چھجا بنا کر ادھر اس کے کمرہ جماعت کی کھڑکی کی طرف دیکھنے کی کوشش کی مگر اتنی دور سے صرف قمیضوں کا نیلا رنگ ہی نظر آ رہا تھا اور کچھ نہیں۔ ’کیا پتا رو رہی ہو۔ ‘ میں نے ادھر سے نظریں ہٹا لیں۔ آنکھیں پنیا جانے پر اب خاک دکھنا تھا۔

پانی ڈال چکنے کے بعد میں اپنے ہاتھوں کے پھٹے ہوئے چھالوں کو دیکھ رہا تھا کہ جنگو سمجھ گیا۔ ’’کسی نہیں چلے گی تجھ سے۔ تو صرف تغاریاں اٹھا اٹھا کے دیتے رہنا۔ میں گارا بناتا ہوں۔ اینٹیں دینے پر آج دوسرے لوگوں کو لگا لیں گے۔ ‘‘

اس کے گارا بنانے تک باقی مزدور اور دونوں مستری بھی آ گئے تھے۔ کام شروع ہو گیا۔

میں نے گارے کی چکنی مٹی سے قمیض بچانے کے لیے اور کچھ گرمی کا احساس کم کرنے کے لیے قمیض اتار کر ساتھ ہی ایک درخت پر لٹکا دی تھی اور اب ننگے دھڑ تغاریاں اٹھا رہا تھا۔ ایسا کرنے سے دھوپ بدن کو زیادہ جلاتی تھی لیکن بھادوں کے اس حبس کا احساس کم ہو جاتا تھا جس سے جان نکل رہی تھی۔ میری دی ہوئی تغاریوں سے نکلنے والا گارا اینٹوں تلے چھپتا رہا اور ردے پہ ردا چڑھتا گیا۔ بھوک کی شدت سے میرے پیٹ میں کچھ ایسی جلن ہو رہی تھی کہ پیاس سے منہ اکڑ جانے کے باوجود پانی پینے کو دل نہیں کر رہا تھا۔ مگر پیٹ کو تسلی دیے ہوئے تھادوپہر کو مالکوں کی طرف سے ملنے والا فشٹ کلاس کھانا۔ آج کل میں دوپہر کو سات سات روٹیاں کھا جاتا تھا اور پھر بھی لگتا کہ کم کھا رہا ہوں۔ خیر آج آخری دن ہے۔ کل سے کھانا جنگو کے ذمے ہو گا۔ ہاتھوں کے چھالے جو ہر بار تغاری اٹھانے پر ٹیس دیتے تھے، مٹی کے تھوبوں تلے دبائے میں گارا مستریوں تک پہنچاتا رہا۔

دوپہر کھانے کا وقت ہونے تک گو کاکام ختم ہو گیا تھا اور اب اگلے حصے پر گو بنانی تھی۔ کھانا پہنچنے تک ہم سب مزدوروں نے اگلی جگہ گو بنا دی تھی ارادہ یہی تھا کہ کھانا کھانے کے بعدہی اگلی گو پر کام شروع ہو گا۔

کھانا جب آیا ، تب تک میں بھوک سے فوت ہونے کے قریب پہنچ گیا تھا۔ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کے ہم کھانا کھانے لگے۔ ان سب کی نسبت میرے کھانے کی رفتار دگنی تھی۔ مستری دیکھ دیکھ حیران ہوتے تھے ۔پھر ایک مستری سے رہا نہ گیا اور بول پڑا۔

’’اتنے اونچے گھر کے اکیلے مالک ہو کے کیوں اس کام میں پڑ گئے ہو؟‘‘
’‘بس میری مرضی۔‘‘
’’مرضی تو تمہاری ہے، لیکن تمہیں معلوم ہے اس کا کیا انجام نکلے گا۔‘‘
’‘کیا ہو گا؟‘‘
’’ساری زندگی مزدروری کرتے رہو گے۔ نہ خود پیٹ بھر کھا سکوگے اور نہ ہی اپنی اولاد کو کھلا سکو گے۔‘‘
’’میرے بازوؤں میں اتنی طاقت ہے کہ دس بندوں کو کھلا لوں گا۔‘‘

’’یہ طاقت تو ابھی ہے نا۔ ماں باپ نے کھلایا بہت ہے ۔کوئی مشقت کا کام نہیں کیا۔ مزدوری کرتے رہے تو ایک ہی سال میں چہرے کی ہڈیاں نکل آئیں گی۔ بازوؤں کے ڈوہلے لٹک جائیں گے۔ اس شوربہ گارے کی طرح۔گھر والوں کی مان کے ساری زندگی سکھی رہو گے۔ ورنہ ان دھوپوں اور پوہ کے کہرے میں سارا دن گدھے کی طرح کام کرنا پڑے گا۔ دس سال میں بوڑھے ہو جاؤ گے۔‘‘

میں پوری رفتار سے کھاتا اس کی بک بک سنتا رہا۔ اگر ایک دن میرے باپ کی باتیں سن لے تو اس کی کمائی سے کھانے پر بھوکا مر جانے کو ترجیح دے۔ ایسے کھلاتا ہے جیسے احسان کرتا ہے۔ خود اس لالچ میں بیٹھا ہے کہ میں جب پڑھ لکھ جاؤں گا تواسے کما کر دوں گا۔ میرا چھتر اُسے کما کر دیتا ہے۔

کھانا ختم ہونے کے بعد جو ریسٹ کا وقت تھا، وہ میرے بارے میں ہی بحث کرتے رہے۔ ان سب کا نقطہ نظر یہی تھا کہ مجھے واپس گھر چلے جانا چاہیے۔ ورنہ میری حالت دیکھ کر انہیں ترس آتا ہے اور پھر میرے مستقبل کا سوچ کر انہیں دکھ ہوتا ہے کہ میں جو پڑھ لکھ کے ڈاکٹر بن سکتا ہوں(ہونہہ، جیسے ایف اے کرنے والا بھی ڈاکٹر بن سکتا ہے)مجھے اپنے باپ کا کہنا مان لینا چاہیے اور گھر چلے جانا چاہیے۔ وغیرہ وغیرہ۔ کچھ دیر کے بعد تو میں نے کان ان کی طرف سے ہٹا لیے اور پھر گرلز سکول کی طرف دیکھنے لگا۔ ٹائم دیکھا تو اندازہ ہو گیا کہ اب انہیں چھٹی ہونے میں ایک ہی گھنٹا رہ گیا ہے کیا پتا وہ اب کھڑکی سے منہ نکالے میری طرف دیکھ رہی ہو۔’میری سونو۔ اب تو ساری زندگی میرا چہرہ نہیں دیکھ سکے گی۔ ہاں ابا مر گیا تب میں گھر آ جاؤں گا۔ دعا کر جلدی مر جائے۔ تب تک کے لیے میری غلطی مجھے معاف کرنا۔ میں تجھے دیکھنے اس گھر میں نہیں آ سکتا، وہاں وہ شخص بھی ہے۔‘‘

ریسٹ کے بعد انہوں نے میرے موضوع کو چھوڑا اور اپنے کام کو اٹھ گئے۔ میں اسی طرح مٹی اور پسینے میں لتھڑا انہیں تغاریوں پر تغاری پہنچاتا رہا اور وہ اینٹیں تھوپتے چلے گئے۔ ابھی چوتھا ردا شروع ہو اتھا کہ مستری نے مجھے گو پر بلا لیا۔

’’ادھر آ ذرا۔‘‘

میں اوپر گیا تو اس نے گائوں کی طرف سے آنے والی ایک پگڈنڈی کی طرف اشارہ کیا۔ دور باجرے کے دو کھیتوں کے درمیان کی اونچی منڈیر پر ایک بچی کھڑی ہماری طرف اشارہ کر رہی تھی۔ اتنی دور سے چہرہ نظر نہیں آرہا تھا ، بس سکول کی وردی ہی نظر آ رہی تھی۔ لیکن پھر بھی میں اسے پہچان گیا۔ اسے وہیں ٹھہرنے کا اشارہ کر کے ، پہلے ٹیوب ویل کی ہودی میں چھلانگ لگا کر بدن پر سوکھ کر چمٹا ہوا گارا اتارا اور پھر دوڑتا ہوا اس کی طرف گیا۔

’’کیوں؟ تم کیوں آئی ہو ادھر ؟ اس دھوپ میں ؟‘‘
’’ بس ، تمہیں بلانے۔ اور کسی وقت آتی تو ابا کو پتا چل جاتا۔ ‘‘
’’ مجھے بلا کر کیا کروگی؟ میں نہیں آنے والا۔‘‘
’’اوں ، بھائی ۔۔۔۔ واپس آ جاؤ نا۔‘‘
’’چھوڑو مجھے۔ تم گھر جاؤ بس۔‘‘ میں نے اس کی بانہہ پکڑ کے اسے کھینچ دھکیلا۔’’دیکھ کتنی دھوپ ہے۔ تیرا رنگ خراب ہو جائے گا۔‘‘
وہ پھسک پڑی۔’’بھائی۔ یہ دھوپ تمہیں نہیں لگتی کیا؟اپنا رنگ دیکھو کس طرح جل گیا ہے؟‘‘

وہ روتی بلکتی چلی گئی۔ میں کافی دیر وہیں کھڑا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ وہ بار بار پیچھے مڑ کے دیکھتی تھی۔ اور ایسا کرنے میں اس کی آنکھوں پر جاتے ہاتھ بتاتے تھے کہ وہ ابھی تک رو رہی ہے۔ جب وہ گاؤں کی گلیوں میں اوجھل ہو گئی تو میں واپس کام پر پلٹ آیا۔ اپنی قمیض جو درخت پر لٹکی تھی، اتار کر جھاڑی اور اپہن کے کھڑا ہو گیا۔

’’کیوں ؟ کام نہیں کرنا کیا؟‘‘
’’نہیں ، میں جا رہا ہوں گھر۔ نہیں ہوتا کام۔‘‘
’’آج شام تک تو کرجاؤ۔ پیسے لے کے جانا۔ ‘‘

’’تم اپنے پیسے اپنے پاس رکھو۔ مجھے ضرورت نہیں ہے۔ دیکھو میرا رنگ کس طرح جل گیا ہے۔ مجھے اب نہیں کام کرنا۔ ‘‘
میں ان کو حیران پریشان وہیں چھوڑ کے گھر کو چل دیا۔ جہاں اس کی روتی آنکھوں میں صرف مَیں ہی ہنسی لا سکتا تھا۔

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

دوسرا فرقہ

اس گلی کے واقعہ کی خبر چند گھنٹوں میں تمام شہر میں پھیل گئی۔ اور اس کے چچا اور دوسرے چچاؤں نے بٹن دبایا اور اس کا جو انجام ہوا اس کا ذکر لاحاصل ہے۔ اسے بولنے کا ایک بھی موقع ملا ہوتا تو ہمارا دوست ضرور جھوٹ بول کرشہر کو بچالیتا۔ لیکن یہ جان بچانے والا جھوٹ بولا نہ گیا۔

راکھ

اسد رضا:
گھر پہنچنے تک میں انہیں خیالوں میں گم تھا۔ میں بھاگ کر اپنے کمرے میں پہنچا، میز پر تھوڑی سی راکھ پڑی ہوئی تھی اوپر پنکھا پوری رفتار سے چل رہا تھا۔ میں نے سب درازوں کو دیکھ لیا۔ باسکٹ بھی انڈیل کر دیکھ لی لیکن کچھ بھی نہیں ملا۔

!سنگ سیاہ

میں اندر سے ایسا ٹوٹ چکا ہوں بلکہ ٹوٹنا کیا تھا میں نے، کہ مجھ جیسے پتھر ،مورتی بننے کے پہلے مراحل کی ضرب تک نہیں سہہ پاتے ۔۔۔ بھلا کوئی مجھے مٹی بنا دیتا کہ کسی عورت کے آنسوؤں سے نرم ہو جاتی اور کوئی کوزہ یا صراحی یا کوئی گلدان میں ڈھل جاتا، یا کسی گڑھے ، کسی قبر کا پیٹ بھر دیتا۔