وبا

وبا
حملے کی خبر کے فوراً بعد سرکار نے اعلان کیا کہ جنازوں کی ضرورت ہے تاکہ دشمن کو جواب دیا جا سکے، ہم نے اپنے گھروں سے رسیاں، صلیبیں اور خنجر چندے میں دیے۔ ہم نے مطالبہ کیا کہ دشمن لاشوں کی ضرورت ہے کیوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کی لاشیں اب بہت زیادہ دلچسپ نہیں لگتیں اس لیے ضروری ہے کہ دشمن کے لاشے مہیا کی جائیں تاکہ منہ کا ذائقہ بدلا جا سکے۔ اس مطالبہ کی وبا بہت تیزی سے پھیلی، آن کی آن میں چوراہوں کو پھانسی گھاٹوں میں بدلا گیا اور دشمن کو پھانسی دینے کے لیے قطاروں میں قیدخانوں سے گھسیٹ کر لایا گیا۔ بارود کے زور پر دھماکے سے اڑائے گئے کھنڈروں کو عبادت گاہوں میں تبدیل کیا گیا اور خون بہانے کی قدیم رسم کی تیاری کی گئی۔ نعرے بلند کیے گئے اور کہا گیا کہ قاتلوں کوڈھونڈا جائے، چوں کہ ان کے چہروں سے انہیں پہچاننا بہت آسان تھا وہ شکل اور حلیہ سے سب میں ممتاز دکھائی دیتے تھے اس لیے باآسانی انہیں پہچان لیا گیا ۔ انہیں پہچانا گیا، ہانکا گیا اور چوراہوں پر لٹکایا گیا۔ ان کے بہائے ہوئے خون میں ہمارا بہایا ہوا خون شامل ہوا اور ہم نے فتح کا جشن منایا۔
ہم نے مطالبہ کیا کہ دشمن لاشوں کی ضرورت ہے کیوں کہ ہمیں اپنے لوگوں کی لاشیں اب بہت زیادہ دلچسپ نہیں لگتیں اس لیے ضروری ہے کہ دشمن کے لاشے مہیا کی جائیں تاکہ منہ کا ذائقہ بدلا جا سکے۔
ہمیں بتایا گیا کہ دشمن جب حملہ آور ہوتا تھا تو وہ خدا کی بڑائی کے نعرے بلند کرتے حملہ آور ہوتا تھا، ہم نے خبروں میں پڑھا کہ وہ ہمارے خدا کو نہیں مانتے مکروہ ہیں اور غلیظ ہیں، یہ بھی بتایا گیا کہ وہ ہمیں مارنے کے بعد ہمارے لاشے گھسیٹتے ہیں اور نعرے بلند کرتے ہیں۔ ہم سنتے آئے تھے کہ ان کے منہ کو ہمارے خون کا چسکا لگ چکا ہے اس لیے وہ اب اسی انجام کے قابل ہیں کہ ان کا خون بہایا جائے۔ ہم نے بارہا دشمن کو خون بہاتے، لاشیں گراتے دیکھا تھا اور ہمیں خوف تھا کہ ایک نہ ایک روز وہ ہم میں سے ہر ایک کو دھمکائیں گے،مار ڈالیں گے، خون چوسیں گے اور ہمارے لاشے گلے میں لٹکا کر ایک دوسرے کے سامنے فخر کیا کریں گے۔
ہمیں ڈر تھا کیوں کہ ہم انہیں جانتے نہیں تھے اور ہم میں سے اکثر ان کا نام لینے سے ڈرتے تھے۔ ہم کونوں کھدروں میں چھپ کر بھی محفوظ نہیں تھے۔ ہماری چیخیں معدوم ہورہی تھیں اور ہمیں ہر بندوق سے ڈر لگنے لگا تھا اگرچہ وہ ہمارے اپنے ہاتھ میں ہوتی تب بھی ۔ مگر دشمن دندنا رہا تھا، وہ اپنے چہرے ڈھانپ کر جب جہاں چاہتا ہمیں بندوق کی نوک پر روک لیتا تھا، ہمارے ذہن ٹٹولتا، ہماری جیبیں سونگھتا اور ہماری جلد الٹا کر دیکھتا تھا اور اگر کہیں روشنی کی ذرا سی بھی کرن دکھائی دیتی، کوئی جگنو زندہ یا مردہ جلتا بجھتا نظر آجا تا یا خوشبو کا کوئی جھونکا ان کے نتھنوں کو چھو جاتا توان کی آوازیں غضب ناک ہو جاتیں، ان کی باچھوں سے رال ٹپکنے لگتی، وہ غرانے لگتے، وہ ہمیں دھوئیں میں لپیٹ دیتے اورہمیں آگ میں جھونک دیتے اور ہماری موت کو مشتہر کرتے۔
ہم سرگوشیاں کیا کرتے تھے کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ کوئی کوئلے نگل کرآگ کیسے اگل سکتا ہے؟ کوئی پیڑ کاٹ کر پنجرے کیسے بنا سکتا ہے؟کوئی دریا میں خون ملا کر دلدلیں کیسے پھیلا سکتا ہے؟ کوئی برتنوں کو تلواروں میں کیسے ڈھال سکتا ہے؟ کوئی خدا کے سوا موت کیسے بانٹ سکتا ہے؟ ہم پوچھا کرتے تھے کہ کوئی خوب نوچ کر وہ آسیب کیسے تیار کرسکتا ہے جو خود کو دھماکے سے اڑا سکتے ہیں؟ ہم نے حیرت کا اظہار کیا کہ یہ کیسے ہو سکتا ہےکہ کوئی ہمارے پر کاٹے اور ہماری گردنوں پر سوار ہو کر ہماری بستیوں کی رونق قبض کر لے؟کیا کوئی منطق، عقل اور شعور کے گلے میں پٹے ڈال کر محض اندھے عقیدے کو سجدے کر سکتا ہے؟ کیا یہ ممکن ہے کہ کتابوں میں لکھا ہوا ہو کہ پرندوں کے اڑنے اور بچوں کے ہنسنے پر پابندی لگا دو؟ کیا کیا آسمانوں سے ایسا حکم بھی آ سکتا ہے کہ حسن کو گہنا دو اور گیتوں کا گلا گھونٹ دو؟ کیا ان کے کلمے میں جو خدا ہے وہ زندگی کی بجائے موت کا خدا ہے؟ ہمیں یقین نہیں تھا کہ قتل کرنے والوں کے چہرے مقتولوں جیسے ہی ہوتے ہیں اور ان کے خون کا رنگ سرخ ہوتا ہے۔ ہم نہیں مانتے تھے کہ وہ ہم جیسے ہیں۔
ہم سرگوشیاں کیا کرتے تھے کہ کوئی ایسا کیسے کر سکتا ہے؟ کوئی کوئلے نگل کرآگ کیسے اگل سکتا ہے؟ کوئی پیڑ کاٹ کر پنجرے کیسے بنا سکتا ہے؟کوئی دریا میں خون ملا کر دلدلیں کیسے پھیلا سکتا ہے؟
مگر اس روز سب بدل گیا۔حملے کی خبر آئی اور ہم سب اپنے اپنے کونے کھدروں سے نکل آئے، ہم نے اپنے سہمے ہوئے چہرے الٹ دیے، اپنی خشک آنکھوں کوآگ لگا دی ہماری آوازوں کے گیدڑ اور کتے چنگھاڑنے اور بھونکنے لگے تو ہم نے ان کی رسیاں ڈھیلی کر دیں، انہوں نے ہر بحث ہر مکالمے کو کاٹا اور کاٹ کر باولا کر دیا۔ہم نے آپنے ہاتھوں کی دھاریں آبدار کیں اور ان کی نوکیں زہر میں بھجا کر ہر دیوار اور ہر چہرے کو نوچ ڈالا۔ ہم نے اپنے تلووں میں نعلیں گڑیں اور شہروں میں گشت کی۔ ہم نے دشمن کو ہر ناکے ہر چوکی پر روکا، ان کے ذہن ٹٹولے، ان کی جیبیں سونگھیں، ان کی جلد کو الٹا کر دیکھااور اگر کہیں اندھیرے کی ہلکی سی پرچھائی بھی دکھائی دی، کوئی مکڑی زندہ یا مردہ جال اگلتی نظر آئی یا بدبو کا کوئی لپکا ہمارے نتھنوں کو چھو بھی گیا تو ہماری آوازیں غضب ناک ہو گئیں، ہماری باچھوں سے رال ٹپکنے لگی، ہم غرائے اور انہیں دھوئیں میں لپیٹ کر آگ میں جھونک دیا اور ان کی موت کو مشتہر کیا۔
حملے کی خبر آئی اور وبا پھیل گئی، وبا پھیلی تو ہم اسی صف میں کھڑے تھے جس کے خلاف ہم لڑنے کو نکلے تھے۔ہماری شکلیں، ہمارے لہجے اور ہمارے جسم ان جیسے کرخت اور کھردرے ہو چکے تھے اور ہم نے ان سے مختلف ہونے، سوچنے اور دہشت کو شکست دینے کا موقع گنوادیا تھا۔
حملے کی خبر آئی اور وبا پھیل گئی۔ وبا پھیلی اور ہمارے منہ کو خون کا چسکا لگ گیا، ہم نے باربار دشمن کا خون بہایااس سے زیادہ جتنا کہ ضروری تھا، ہم نے لاشے دیکھے اس سے زیادہ جتنے کے دفنائے جا سکتے تھے، ہم نے بارود سے عمارتیں کھنڈر کیں اس سے زیادہ کہ جتنی درکار تھیں۔ ہم نے دیکھا کہ ہم نے منطق، عقل اور شعور کے پیروں میں بیڑیاں ڈالیں اور سوالوں کو ہتھکڑیاں لگا دیں۔ہم نے دیکھا کہ ہمارے اور ان کے چہرے ایک جیسے ہیں اور خون کا رنگ سرخ ہے۔ پھانسی کے پھندے اتنے ہی تکلیف دہ ہیں جتنے بندوقوں کے دہانے، ہم نے جان لیا کہ ہماری کتابوں میں بھی پھانسیاں دینے کا جواز ہے۔ آسمانوں سے اترنے والی خاموشی کے جواب میں ہم نے جو نعرے بلند کیے ان کی گونج سے بھی کئی روحیں اندھی ہوکر اندھیرے گڑھوں میں جا گری ہیں۔ ہم جیتے اور اور جت کر ان جیسے ہو گئے، ہم نے ان کو مار کر وہی کیا جو وہ ہم سے کرانا چاہتے تھے، ہم ان کو شکست دے کر ان کے عقیدے سے ہار گئے،ان کے لہجے میں انہیں جواب دیتے ہم اپنی زبان کے سب لفظ بھلا بیٹھے۔حملہ کی خبر آئی اور وبا پھیل گئی، وبا پھیلی تو ہم اسی صف میں کھڑے تھے جس کے خلاف ہم لڑنے کو نکلے تھے۔ہماری شکلیں، ہمارے لہجے اور ہمارے جسم ان جیسے کرخت اور کھردرے ہو چکے تھے اور ہم نے ان سے مختلف ہونے، سوچنے اور دہشت کو شکست دینے کا موقع گنوادیا تھا۔
Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib

Muhammad Shoaib is the editor of news section and is responsible to communicate with the correspondents' network of Laaltain.


Related Articles

ابعادِ ثلاثہ

یکایک اس کی زندگی میں سے خلا ناپید ہو گیا۔ اسے لگا جیسے دنیا کی ساری چیزیں ایک دوسرے کے اُوپر پیوست ہو گئی ہوں۔

قتل گاہیں (ایک ٹیلی ڈاکیومنٹری)

کورس : chorus: دو مرد، دو عورتیں راوی ایک : کیمرہ رولنگCamera rolling راوی دو : کیمرہ ذوُم Camera zoom

کہانی کا سنگ میل

ڈاکٹر محمد آصف زہری: اور تکمیل تو ایک خلا کا نام ہے۔ ایک نقطہ انجام کے ساتھ ساتھ ایک نقطہ ابتداء۔ بلکہ دونوں کے درمیان ایک مختصر تریں لمحہ۔