وقت کا نوحہ

وقت کا نوحہ

میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے
صحن میں دُھواں پھیلتا جا رہا ہے
گھروں کی چلمنوں سے اُس پار
باہر بیٹھی ہَوا رو رہی ہے
نظام سقّہ پیاس کی اوک کے سامنے
سبیل لگائے ہوئے العطش بانٹتا ہے

زمانہ پیاس کے نوحے پر
ماتمی دف بجا رہا ہے
ڈبلیو ٹی او اناج کی گٹھریوں پہ بیٹھی
بھوکوں کو امن کے حروف سے بھری
پلیٹ دے رہی ہے
یو این او کی آنکھ کے کناروں کی جنبشوں سے دنیا
کپکپا رہی ہے

ماں؟؟؟
مامتا کو ہنسی آ رہی ہے
دودھ کی جگہ چھاتیوں میں
نظریے اور فلسفے گھولے جا رہے ہیں
وقت کی ڈور پر جھولتے بچوں سے
جھولنے کے اوقات چھینے جا رہے ہیں
بارود، بم، میزائل اور دھماکے
دھرتی کی کوکھ میں دھکیلے جا رہے ہیں

Image: Banksy

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

ڈھن ڈھنا ڈھیں

جھاڑ دو یہ جھوٹا قلم
اجاڑ دو یہ کچا کاغذ
بانٹ دو میرے سارے لفظ
بے اولاد دماغوں کے اندر

اگرگولی کی رفتار سے تیز بھاگ سکتا

حفیظ تبسم: میں کچھ دن اور زندہ رہ سکتا تھا
اگر۔۔۔۔
میرے ہاتھ میں پھول نہ ہوتے

رات کے لیے ایک نظم

نصیر احمد ناصر: اے رات!
اے ذائقوں اور نیندوں سے بھری ہوئی رات!
میں تیرے انتم کنارے پر
سورج لیے کھڑا ہوں
مجھے اذنِ باریابی دے
مجھ میں طلوع ہو