ولدیت کا خانہ

ولدیت کا خانہ

وہی ایک قصہ تھا جو گھروں، دکانوں اورنماز کے بعد مسجد کے باہر کچھ دیر کے لیے جمع ہونے والے زیادہ تر بوڑھے لوگوں کے درمیان چل رہا تھا ؛اور ماسی جنداں اور دادی سداں کے تنوروں پر اکٹھی ہونے والی عورتوں کی زبان پرتھا۔مہنگائی، دوسروں کی غیبت، چھوٹی موٹی چوریوں،نوجوانوں کے معاشقوں،پاس پڑوس کے بیماروں، یہاں تک کہ مرجانے والوں کا ذکر اذکارسب تھم ساگیا تھا۔وہ قصہ ہی ایسا تھا۔ کسی کو یہ جاننے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی کہ اس قصے کا ابتدائی خاکہ کیسے،اور کس کے ذریعے یہاں پہنچا تھا۔ انھیں قصے سے دل چسی تھی، قصے کی تاریخ سے نہیں۔البتہ قصے کے راوی سے دل چسپی ضرور تھی کہ اس نے ایک ایسا قصہ ان تک پہنچایا تھا،جس کو جتنی بار دہرایا جاتا، اتنا ہی لطف آتا۔ہر بار اس قصے کا راوی بدل جاتا اور ہر بار اس قصے میں نئے واقعات شامل ہوجاتے تھے،اور ہر بار اسے نئے،زیادہ قابل یقین طریقے سے بیان کیا جاتا۔وہ قصہ اپنے راوی کے اندر عجب جوش بھر دیتا تھا۔وہ اس جوش کی رو میں بَہ جاتا،کچھ اس طرح جیسے اسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہو، اور اسے سمجھ نہ آرہا ہو کہ وہ اس خزانے کا کیا کرے،جس نے اسے ایک دم اہم آدمی بنادیاہے۔وہ بڑے آدمی کی طرح ہی سب کو قصہ سناتا۔ایک بات اس گاؤں کے سب لوگوں نے بھی دریافت کی تھی کہ وہ قصہ پرانا ہوتا ہی نہیں تھا۔اس میں بہ یک وقت میٹھے اور نمکین چاولوں جیسا ذائقہ تھا۔ہر روز یہ قصہ دہرایا جاتا،نئے انداز میں کئی کئی بار دہرایا جاتا،اور ہر بار پہلے سے زیادہ دل چسپ اور پہلے سے زیادہ قابل یقین لگتا تھا۔ایک دن عصر کی نماز کے بعد مسجد کے دروازے پرجمع بوڑھوں سے،چھٹی پر آئے ہوئے ماسٹر احمد نے یہ تبصرہ کیا کہ اب یہ قصہ رہ ہی نہیں گیا، ہمارے گاؤں کا ایک جیتا جاگتا فرد بن گیا ہے۔سب نے حیرت سے منھ پھاڑے ماسٹر کی طرف دیکھا،جیسے اس قصے میں ایک نیا موڑ اچانک آیا ہو، اور کوئی شخص قصے سے نکل کر،ان کے درمیان آکھڑا ہواہو۔سب نے ایک دوسرے کی طرف شک اور دل چسپی سے دیکھا۔

کوئی دو ہفتے تک قصہ دل چسپ بھی رہا،اور حیرت انگیز بھی۔اس قصے کا ایک عجب طلسمی ہالہ سب کو اپنی گرفت میں لیے رہا۔پھر آہستہ آہستہ ایک خوف نے انھیں آلیا۔انھیں یہ جاننے میں وقت لگا کہ اس قصے نے ایک طرح سے ان کی اجتماعی روح پر قبضہ کرلیا تھا۔سب کو اس قبضے کا مدھم سا احساس تھا۔ وہ سب ایک زنجیر میں بندھ گئے تھے۔ایک دوسرے کے قریب آگئے تھے۔ ڈرے ہوئے تھے۔ ایک دوسرے سے ڈرے ہوئے تھے۔ پہلی بار ایک دوسرے کے اس قدر قریب آئے تھے۔مگر زنجیر کو توڑنے کی کسی میں ہمت نہیں تھی۔
کل کی بات ہے۔ دوپہر کا وقت تھا۔ بارہ ایک کا ٹائم تھا۔ چک مراد کی ایک لڑکی کو سائیں شریف کے پاس لایا گیا۔وہ بارہ سال سے بیمار تھی۔ اس کی بیماری کسی نے سنی نہ دیکھی۔اسے بخار آتااور ہچکی لگ جاتی۔ دس دس دن ہچکی لگی رہتی۔ نہ کچھ کھا پی سکتی، نہ سو سکتی۔کوئی دوا اثر نہیں کرتی تھی۔سائیں شیشم کے درخت تلے دری بچھا کر بیٹھے تھے۔ وہاں کوئی خلقت تھی۔ایسا لگتا تھا کہ گڑ کے بھورے کے گرد چیونٹیاں جمع ہوگئی ہوں۔مگر کوئی کھسر پھسرتک نہیں تھی۔ایک پتھرجیسی چپ تھی،اور انتظار تھا۔کافی دیر تک سائیں نے آنکھیں بند رکھیں۔پھر اچانک کھولیں۔ عورت کو دیکھا۔ فوراً آنکھیں بند کرلیں۔ سر کو جھٹکا دیا۔ جیسے آدمی کو کرنٹ لگتا ہے۔ سب مخلوق ڈر گئی۔ یااللہ خیر۔ سب کو منھ سے ہولے سے نکلا۔ساری خلقت کی آنکھیں سائیں کی طرف اٹھی تھیں۔ انتظار تھا کہ کیا فرماتے ہیں۔ بالآخر انتظار تمام ہوا۔ ارشاد ہوا۔ چٹا، گنجا،کیکر۔

جانتے ہو،اس کا مطلب کیاتھا؟شام کے وقت ہوٹل پر جمع لوگوں کی طرف خاصے مرعوب کن انداز میں دیکھتے ہوئے،یعقوب نے پوچھا۔
تمھیں معلوم ہے،سائیں شریف کا مطلب کیا تھا؟ گاؤں کے حکیم کی دکان پر بیٹھے لوگوں سے غلام محمد نے پوچھا۔

پتہ ہے، سائیں نے کیا بتایا؟ تنور پر آنے والی عورتوں سے فاطمہ نے کہا۔

چٹا، گنجا،کیکر سے سائیں کا مطبل کیا تھا؟ سار دن جانور کی طرح کام کرنے والی نوراں نے اپنے گھرپڑے نکھٹو شوہر سے پوچھا۔
ان سب میں یعقوب ہی مستند راوی تھا،کیوں کہ وہ سائیں شریف کی مجلس میں موجود تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ ایک دم بتادے کہ ان تین لفظوں کا کیا مطلب تھا۔ اسے لگا تھا کہ اس کے پاس خزانہ ہے۔اس خزانے پر صرف اس کا اختیار ہے۔اس اختیار نے اس میں طاقت بھر دی ہے،اوریہ طاقت عجب طرح کی ہے۔اس طاقت کا اسے قطعاً تجربہ نہیں تھا۔ وہ اس طاقت سے کچھ کچھ ڈرا ہوا تھا۔وہ اس طاقت کے نئے پن سے ڈراہوا تھا۔اس ڈر کے دوران میں اسے محسوس ہوا کہ اس کے پاس خزانہ نہیں، ایک راز ہے۔نہیں خزانہ بھی تو ایک راز ہے۔ڈر کے ساتھ وہ ایک طرح کی لذت بھی محسوس کررہا تھا۔وہ ڈر اور لذت کے تعلق سے واقف نہیں تھا،مگر دونوں کو ایک ساتھ محسوس کیے جارہا تھا۔یعقوب نے پہلی دفعہ دریافت کیاکہ کوئی ایسا خزانہ اور راز بھی ہوسکتا ہے،جس کا تعلق لفظ کے مطلب سے ہو۔ سائیں لفظ بولتا تھا اورایک گہری خاموشی میں چلا جاتا تھا۔ پاس ہی اس کا ایک خاص مرید بیٹھا ہوتا جو سائیں کے لفطوں کا مطلب بتاتا تھا۔مجلس میں تو سب لوگ مرید کی بات تسلیم کرلیتے تھے،مگر بعد میں کچھ کچھ شک کرنے لگتے تھے۔لیکن یہی شک،گاؤں میں دہرائے جانے والے قصوں کی بنیاد تھا۔کچھ خود سر نوجوان کھلے لفظوں میں یہ تک کہہ دیا کرتے تھے کہ شک کی ذمہ داری خود سائیں پر ہے۔آخر وہ پورا جملہ کیوں نہیں فرماتا تھا۔

یعقوب نے کافی دیر سے منتظر لوگوں پربالآخر یہ راز کھول دیا کہ سائیں کے خاص مرید نے چٹا، گنجا،کیکر کا مطلب یہ بتایا تھاکہ چٹے دن کو ایک گنجے آدمی نے کیکر کے درخت کے نیچے اس لڑکی سے زیادتی کی تھی۔ آدمی اور کیکر سے تعلق تو سب کی سمجھ میں آتاتھا، مگر ’زیادتی ‘ کہاں سے ٹپک پڑی تھی؟مرید کا کہنا تھا کہ سائیں کو ہر آدمی کے گرد ایک ہالہ نظرآتا ہے،جس میں وہ سب لوگ، جگہیں، واقعات دکھائی دیتے ہیں، جن سے آدمی کا تعلق رہا ہے۔ مرید سے بھی کسی کو اختلاف کی جرأت نہیں تھی۔حقیقت یہ تھی کہ جس چیز نے لوگوں کو حیرت میں ڈالا تھا،اور خوف زدہ کیا تھا، یہی ہالے کا نظر آنا تھا۔ شاید لوگوں کو یقین نہ آتا۔ لیکن ایک دن ایسا واقعہ ہو اکہ سب کو یقین آگیا۔ اس روزسائیں نے اپنی مجلس میں بیٹھے گاؤں کے مولوی صاحب کی طرف دیکھا اور ایک دم کَہ ڈالا: کالی، نکاح۔ مرید نے وضاحت کی کہ مولوی صاحب نے ایک کالے رنگ کی عورت سے نکاح کیاہے۔ مولوی صاحب نے بھی اقرار کرلیا کہ انھوں نے چند ہفتے پہلے دوسرا نکاح کیا ہے۔ اس سے اگلے دن گاؤں کے لائن مین شرافت کو دیکھ کر سائیں نے کہا : دو، بیس، ایک۔ کسی کے پلے نہیں پڑا۔ سائیں کے مرید خاص نے بتایا کہ اس شخص کے دو باپ ہیں،ایک وہ جس نے جنم دیا،اور ایک وہ جس نے اسے پالا، اوربیس سال پہلے پالا،اور وہ ایک ہے ماں باپ کا۔ شرافت کو اس کے چچا نے پالا تھا،جب شرافت کے ماں باپ بیس سال پہلے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے۔ سائیں کی کرامت پر لوگوں کا یقین اپنی آخری حد کو پہنچ گیا،اور وہ ڈر گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب لوگ وہاں جانے سے کترانے لگے تھے۔ وہ اپنے ہالے سے ڈرنے لگے تھے،نہیں اس ہالے کے پہچانے جانے سے ڈرنے لگے تھے۔جس بات کو قدرت نے راز رکھا ہے،سائیں اس کو سب کے سامنے لے آتے ہیں، وہ قدرت کے کاموں میں دخل دیتے ہیں۔ اب لوگ سائیں کے حوالے سے نئی تاویلیں کرنے لگے تھے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ شام کے قریب سائیں کی مجلس میں پہنچا۔ کم لوگ رہ گئے تھے۔ وہ ذرا دور ہوکر بیٹھ گیا۔ وہ چاہتا تھا،جب سب چلے جائیں تو سائیں کے سامنے جائے،اور اس کے دل کا حال جانیں،اور اسے اذیت سے نجات دلائیں۔سائیں نے سر کو ایک جھٹکا دیتے ہوئے کہا: مولا۔خاص مرید سمجھ گیا کہ سائیں اب خلوت چاہتے ہیں۔’ سب لوگ چلے جائیں۔سائیں کی عبادت کا ٹیم ہوگیا ہے‘۔اس نے ملتجی نظروں سے خاص مرید کی طرف دیکھا،جسے لوگ شاہ صاحب کہنے لگے تھے۔ شاہ صاحب نے اسے قریب آنے کا اشارہ کیا۔’ہاں کیہ گل اے‘(کہو کیا بات ہے)۔شاہ صاحب نے سرگوشی کے انداز میں کہا۔اس نے شاہ صاحب کی مٹھی اپنی مٹھی میں لی،اور رقت سے کہا۔’ اکیلے میں بات کرناچاہتاہوں ‘۔شاہ صاحب نے سب کو جانے کا کَہ دیا۔‘ہاں ہنھ دس‘ (اب بتاؤ)۔اس کی آنکھوں میں نمی تھی۔اس نے ایک نظر سائیں کے چہرے پرڈالی۔ گیسوؤں میں آدھا چہرہ چھپا ہواتھا۔ آنکھیں بند تھیں۔لمبوتری ناک جیسے سجدے کی حالت میں تھی۔

میں کیسے کہوں۔ دماغ پھٹ رہاہے۔ پندرہ سالوں سے ہر دن لگتا ہے،دماغ پھٹ جائے گا۔ میں جی نہیں رہا۔ مرنہیں رہا۔پندہ سالوں سے لگتا ہے کوئی میری گردن پر چڑھا بیٹھا ہے۔میرا دم گھٹ رہا ہے۔

قصہ لمبا نہ کر، مطلب کی بات کر۔

ہاں حضور۔ مجھے مافی دے دو۔ میں گناں گار ہوں۔سائیں مجھے بس اتنا بتادیں۔ اکرو، کس کا بیٹا ہے۔ اسے جنا میری زنانی نے ہے،مگر وہ میرا نہیں۔ اس کی شکل صورت میرے سے،یا میرے خاندان کے کسی بندے سے نہیں ملتی۔ وہ رنگ کا کالاہے۔ قد چھوٹا ہے۔ ناک پتلی ہے۔ یہ میری ناک دیکھوپکوڑے جیسی ہے۔ میرے بھائی،والد سب کی ناکیں ایسی ہیں،لیکن اکر و،مادر چود کی ناک۔۔۔۔ سائیں مجھے بتاؤ۔۔۔۔۔وہ کس کے تخم سے جنا ہے۔وہ میرے گھر میں، کس خنزیر کی اولادہے۔جس وقت میں نے اس کی شکل دیکھی تھی، اس وقت سے میرا جینا حرام ہے۔

پریشان نہ ہو۔سائیں تجھے ضرور بتائیں گے۔ پر یہ بتا تو کرے گا کیا؟
میں اس کے باپ کو قتل کروں گا۔
ٹھیک ہے۔ پر اکرو۔۔یہی بتایا نہ اپنے بیٹے کا نام۔۔۔۔۔
نہیں وہ میرا بیٹا نہیں۔بس اس کا ان پانی میرے گھر لکھا تھا۔پر اب میں۔۔۔۔
اکرو کا کیا کرے گا۔
اسے بھی مارڈالوں گا۔
اب تک مارا کیوں نہیں

وہ چپ ہوگیا۔ اس کے منھ سے پہلی مرتبہ اکرم کو مارنے کے ارادے کا اظہار ہوا تھا۔وہ حیران ہوا کہ اسے آج تک اسے مارنے کا خیال کیوں نہیں آیا۔وہ اسے آج تک پیار نہیں کرسکا،مگر اسے مارڈالنے کی خواہش بھی نہیں ہوئی۔
لیکن اب میں مارڈالوں گا۔

ٹھیک ہے۔تمھارا مال ہے۔۔۔۔میرا مطلب ہے،تمھارے پاس وہ جی ہے، جیسے تمھارا جی کرے۔
سائیں نے ایک دفعہ پھر سر کو جھٹکا دیتے ہوئے کہا۔ مولا۔ شاہ صاحب نے اسے چلے جانے کو کہا۔کل آنا،سائیں آج نہیں بتائیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن پورے گاؤں میں اکرم کی ولدیت کا قصہ گردش کررہا تھا،قصہ کیا تھا، بگولہ تھا جس کی لپیٹ میں پوراگاؤں تھا۔کسی کی چادر، کسی کا برقع، کسی کے قمیص کا دامن اس بگولے سے اترا جارہا تھا۔تنور سے لے کر مسجد تک،حکیم کی دکان سے حجام کی دکان تک، ہر جگہ ہرگھر میں یہ سوال نما قصہ تھا کہ اکرم، شیخ اسمٰعیل کا بیٹا نہیں تو کس کا ہے؟ کون کس کا ہے، کون کس کا یار ہےکون کیا کرتا رہا ہے۔ بگولے سے گاؤں کی کتاب کے ورق پھٹے جارہے تھے اور ادھر ادھر اڑے جارہے تھے۔ہائے کیا زمانہ آگیا ہے،اب قیامت آئے کہ آئے۔عورتیں حرام کے بچے پیدا کرکے اروڑی پر نہیں پھینکتیں،گھر میں پالتی ہیں۔تمھیں یاد ہوگا، جب سیلاب آیا تھا تو نہر میں ایک ایک دو دوروز کے کتنے بچوں کی لاشیں ملی تھیں۔سب حرام کے تھے۔پر ان کی ماؤں کی لاشیں بھی تو تھیں۔ایک عورت تو مری پڑی تھی،مگر اس کا پیٹ سانس لے رہا تھا۔دائی صاباں کہتی تھی،اس کے پیٹ میں زندہ بچہ ہے،پر کون حرامی بچے پالتاہے۔ نی،تمھیں بھول گیاہے کہ کرم مسور کا بیٹا جو پولس میں ہے، وہ شمو مراثن کا ہے،جسے کرم نے ایک کھولے سے اٹھایا تھا۔نہیں وہ صاحباں بھروانی کا ہے،جسے شمو مراثن کھولے میں پھینک گئی تھی۔جس کا بھی ہے،وہ نیک بچاہے۔سب کو سلام کرتا ہے۔ توبہ ہے۔اس نے تو ایک حرام کے بچے کو اپنا بیٹا بنالیا،پر شیخ اسمٰعیل اپنے سگے بیٹے کو حرام کابتاتاہے۔اللہ قیامت کیوں نہیں آتی۔ اتنے سال اسے خیال نہیں آیا۔ اس کی بیوی دیکھنے میں تو شریف لگتی ہے۔پر عورت ذات کا کیا بھروسا۔ جب اس کی شادی نہیں ہوئی تھی تو برقع پہن کر اسی سڑک سے گزر کر شہر جاتی تھی۔ شریف عورتیں اکیلی شہر نہیں جاتیں۔ خد اکا خوف کرو، اس کی نوکری تھی۔ شادی کے بعد شیخ اسمٰعیل نے نوکری چھڑوائی تھی۔ماسٹر پہلے دن سے شکی مزاج تھا۔ ہوسکتاہے وہ اس کے کسی چکر وکرسے واقف ہو،ورنہ کون نہیں چاہتا کہ گھر میں چار پیسے آتے رہیں۔ بھائی صاحب،یہ چودھویں صدی ہے۔نہیں جناب پندرھویں صدی ہے۔ہاں ہاں جو بھی ہے،ان ٹیچروں کے سب سے زیادہ یار ہوتے ہیں۔انھیں آزادی بھی تو ہوتی ہے۔ گھر میں اتوار کے دن بھی کہتی ہیں کہ ای ڈی او کے دفتر جانا ہے۔اور اپنے یاروں سے ملنے جاتی ہیں۔ دو مہینے پہلے ٹیچر صائمہ نے سول ہسپتال سے ابارشن کروایا تھا،مجھے خود اسلم ڈرائیورنے بتایا جس کی وین میں سب ٹیچریں سکول جاتی ہیں۔کیا ضروری ہے کہ وہ ہسپتا ل ابارشن کروانے گئی ہو؟ میں نے تو اسے اس کی چال سے پہچان لیا تھا کہ وہ پیٹ سے ہے۔ یاریہ تما م ٹیچریں برقعے کیوں پہنتی ہیں بھولے بادشاہوتمھیں نہیں معلوم،وہ نہیں چاہتیں کہ پہچانی جائیں۔ شیخ اسمٰعیل کے واقعے سے ان ٹیچروں کا کیا تعلق؟ بس ان کے ذکر سے لذت ملتی ہے۔ تمھاری ایک کزن بھی تو ٹیچر ہے۔ اس کانام نہ لو۔ وہ میری بھابھی بننے والی ہے۔ سنا ہے،سب سے زیادہ ابارشن مراثنوں اور مصلنوں کے ہوتے ہیں۔ یارسب کے ہوتے ہیں۔ زمینداروں کی عورتوں کے گناہ بھی یہ بیچاریاں اپنے سرلے لیتی ہیں۔ اکرم دیکھنے میں کتنا شریف اور پڑھاکو لگتاہے۔ اس نے کبھی کرکٹ تک نہیں کھیلی۔ سناہے حرام کے تخم قہاری ہوتے ہیں،لیکن یہ تو کبھی گلیوں میں چلتا پھرتا بھی نظر نہیں آیا۔ اگر قہاری لڑکے حرام کے ہوتے ہیں تو تمھارا بھائی تو پکا حرامی ہے۔ ماں سے پتا کرو،کس کے ساتھ سوئی تھی۔ تڑاخ۔ یار تم تو جذباتی ہوگئے۔ ہر ماں کسی نہ کسی کے پاس تو سوتی ہے۔ نہیں ماں،صرف بچے پیدا کرتی ہے اور پالتی ہے۔ یار یہ سمجھ نہیں آتی۔اگر بچہ حرامی ہوتا ہے تو عورت اور مرد کیا ہوتے ہیں ہم نے دونوں کو معاف کردیا،پر بچے کو نہیں۔ لیکن سنا ہے شیخ اسمٰیعل دونوں کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔سائیں اور شاہ صاحب آگ لگا کر رہیں گے۔ کتنے امن سے رہ رہے تھے۔ حالاں کہ پتا تھا کہ کون آدھی رات کیاکرتا ہے اور کہاں جاتاہے۔کچھ باتیں چھپی رہنی چاہییں۔ خدا نے آخر رات کس لیے بنائی ہے۔ سائیں رات کو دن بنانے لگاہے۔ لوگو،خدا کے کاموں میں دخل نہ دو۔لیکن اس کا کیا قصور ہے۔ کیا وہ کسی کو بلا بھیجتا ہے؟ سب اپنی خوشی سے جاتے ہیں۔ تم چھپی باتوں کو جاننا بھی چاہتے ہو،اور ڈرتے بھی ہو۔ یار معلوم کرو، سائیں آیا کہاں سے ہے؟ یہ شاہ صاحب کون ہیں سناہے، شہامند زمیندار کے پاس آئے تھے، اسی نے انھیں بوہڑ تلے بیٹھنے کی اجازت دی۔کیا پتا شہامند کو کچھ حصہ ملتاہو۔ تمھیں یاد ہے، شہامند کے کینڈیڈیٹ کو ہمارے ٹھٹھے کے ووٹ نہیں ملے تھے۔ کیا وہ اتنا گھٹیا ہوسکتا ہے۔ آہستہ بولو،یہ زمیندار بہت ہی گھٹیا ہوتے ہیں۔ یادہے، اسی نے جانو ماچھی کے چھوہر (لڑکے)پر کتے چھوڑدیے تھے۔ غریب کا قصوریہ تھا کہ وہ تیز تیز سائیکل چلا رہا تھا کہ آگے شہامند آگیا تھا، جس پر کچھ گھٹا پڑ گیا تھا۔ چوری کا الزام لگا کر اپنا بولی کتا اس پر چھوڑ دیا تھا۔یار آج کل تو اس کی ویڈیو بنا کر کسی ٹی وی والے کو دے دینی چاہیے۔ شاباش اے،پھر اس غریب کی خیر نہیں۔ شیخ اسمٰعیل اور شہامند کی لڑائی بھی تو ہوئی تھی۔ ووٹوں کی وجہ سے۔شہامند سے کس کی لڑائی نہیں ہوئی۔ لیکن بھائی،یہ سائیں وائیں سمجھ میں نہیں آتا۔ اگر اس نے یسو پنجو ہار کبوتر ڈولی جیسی زبان میں کچھ کہہ دیا اور شاہ صاحب نے اس کا مطلب یہ بتادیا کہ اس ٹھٹھے کے سارے مرد حرامی ہیں تو کیا ہوگا۔ ہوگا کیا،مزا آجائے گا۔حرامی مرد تو زبردست چیز ہے۔ بھڑوا مرد برا ہوتا ہے۔ہاں ہاں تمھیں تجربہ جو ہے۔بکواس مت کر۔میں نے سنا ہے کہ حرامی کو کسی بات کا ڈر نہیں ہوتا۔سب بڑوں کو،پیسے والوں کو،تھانیدارکو،تحصیل دار،ایم پی اے،ایم این اے،وزیر کو بلاوجہ تو حرامی نہیں کہتے۔ حرامی ہونا تو بڑے آدمی کا رینک ہے۔ تمھار امطلب ہے، اکرم بڑا ٓدمی بنے گا۔ ہاں،بالکل اگر واقعی حرامی ہے۔ شریف ہوا تو زہر کھالے گا۔ دفعہ کرو،ان باتوں کو ہمیں کیا لینا دینا۔ دیکھو اس بار بھی بال خراب کاٹے تو اس قینچی سے۔۔۔۔نہیں بھائی پریشان نہ ہو۔۔۔میں پانچ سال کراچی یہی کام کرتا رہا ہوں۔اب اللہ کے واسطے، وہاں کے قصے نہ سنانا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کل شام شیخ اسمٰعیل کوامید بندھی تھی کہ پندرہ سالوں سے وہ جس سوال کی آگ میں خاموشی سے جل رہا ہے، اسے اس کا جواب مل جائے گا۔ گھر پہنچ کر اس نے اکرم کو کھاناکھاتے دیکھا تو پہلا خیال یہ آیا کہ بچّو،اب نوالے گن لو۔اگلے ہی لمحے اس نے خود کوایک نامعلوم آدمی کا گلا گھونٹتے ہوئے دیکھا،اور دل کو مدتوں بعد مطمئن محسوس کیا۔ لیکن اگلا دن اس کے لیے ایک نئی مصیبت لایا۔اسے لگا کسی نے اس کا سینہ چیر ڈالا ہے۔۔۔۔نہیں۔۔ اسے محسوس ہوا کسی نے اس کا ستر چوراہے کے بیچ کھینچ ڈالاہے۔کسی نے کہا تو پاگل ہوگیا ہے۔کسی نے کہا،ماسٹر بے غیرت ہے۔پندرہ سالوں بعد آج اسے پتا چلا ہے۔ کسی نے کہا ماسٹر خدا تمھیں صبر دے،جو بھی ہے، بچے کا کیا جرم؟ چاچے رمضو نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا،پتر میں تیر ا دکھ سمجھتا ہوں۔ پر شکل پر مت جا۔شکلیں دھوکا دیتی ہیں۔ آدمی دھوکا دیتا ہے۔ ہاں چاچا۔عورتیں بھی دھوکا دیتی ہیں۔ پر ماسٹر پتر، عورت مرد کے ساتھ مل کر دھوکا دیتی ہے۔نہیں چاچا، ایک مرد کے ساتھ مل کر دوسرے مرد کو دھوکا دیتی ہے۔تو یوں کہہ نا۔مرد عورت دونوں دھوکا دیتے ہیں۔ ٹھیک کہا،مجھے سائیں۔۔۔۔نہیں۔۔۔شاہ صاحب نے دھوکا دیا ہے۔ کیا کہا؟ نہیں چاچا کچھ نہیں۔

گھر میں عجب خوف ناک خاموشی طاری تھی۔اس کی بیوی نے سوجی آنکھوں سے اس کی طرف یوں دیکھا،جیسے وہ اس کی آنکھوں میں جوتوں سمیت اتر جائے گی۔دونوں بیٹے اور چھوٹی بیٹی اسے نظر نہیں آئے۔وہ خاموشی سے گھر کی چھت پر الانی (بغیر بستر کے)چارپائی پر ڈھ گیا۔ اسے یہ جاننے کی تڑپ ہوئی کہ وہ کون حرام زادہ ہے،جس نے شاہ صاحب کے ساتھ رازداری کی گل بات کو گلی گلی پہنچا دیا۔ اس نے کل شام کے واقعات یاد کرنے شروع کیے۔عصر کی نماز اداکرنے کے کوئی آدھ گھنٹہ بعد اس نے موٹر سائیکل کو کک ماری تھی۔’میں ذرا بھٹے تک جارہا ہوں ‘ کسی کو مخاطب کیے بغیر،سر پر پگڑی باندھتے ہوئے،کہا تھا،اور مغرب کی سمت جانے والی سڑک پر موٹر سائیکل ڈال دیا تھا۔دس منٹ میں وہ نواز کی بستی پہنچ گیا تھا۔اسے یاد آرہا تھا۔۔۔بستی کے عین بیچ بوہڑ کا درخت۔۔۔ سائیں کی ڈاڑھی کی طرح زمین کی طرف لٹکی شاخیں۔۔چاروں طرف گھر۔۔۔کچھ کچے،کچھ پکے۔۔۔۔۔مٹیالے سرخ رنگ کی دری۔۔۔سبز جانماز۔۔۔۔پھل فروٹ، کپڑے،مڑے تڑے روپوں کی ڈھیری۔۔۔سائیں کی زمین کو سجدہ کرتی ناک۔۔۔۔شاہ صاحب۔۔۔مٹھی۔۔۔کوئی اور نہیں تھا۔۔۔۔ہاں،ایک شخص آیا تھا، سائیں کے پاؤں کوہاتھ لگایاتھا،چلا گیا تھا۔۔۔نہیں وہ یقین سے نہیں کَہ سکتا۔۔۔وہ تو سرجھکائے، سائیں اورشاہ صاحب کے آگے دل کا حال بیان کررہا تھا۔وہ کون تھا؟ اُس کے گاؤں کا ہوتا تو وہ پہچان لیتا۔یوں بھی وہاں اب جانے کہاں کہاں سے لوگ آنے لگے تھے۔اس شخص کے لیے اس کا دل غصے سے بھر گیا۔میرے سامنے تو آئے،میں اس حرامی کو اکرو کے باپ سے پہلے اگلے جہان نہ پہنچاؤں تو میں اپنے باپ کا نہیں۔ایک خیال اچانک اس کے دھیان میں کوندا۔ میرے پاس کیا ثبوت ہے کہ میں اپنے باپ کا ہوں وہ ڈٖرگیا،مگر جلد ہی اس نے اپنے ڈر پر قابوپالیا۔ ہاں میرے پاس ثبوت ہے۔ میری ماں ایک شریف عورت تھی۔ اس کا دماغ چکرانے لگا۔ اسے پہلی دفعہ پوری وضاحت سے محسوس ہوا کہ اس کی بیوی،اس کی ماں کی طرح شریف نہیں ہے۔ایک دم اس کے ذہن میں غبار بھر گیا۔
اسے یقین تھا کہ اکرو،اس کا بیٹا نہیں۔ اس نے کبھی یہ نہیں سوچا کہ اسے کیوں یقین ہے۔ بس اکرو کا ناک نقشہ اس سے نہیں ملتا۔ پھر ایک خیال اس کے ذہن میں ابھرا۔ کیا میرا ناک نقشہ میرے اپنے باپ سے ملتاہے؟ اس نے باپ کی شکل ذہن میں لانے کی کوشش کی،مگر اس کے ذہن میں باپ کا مراہوا چہرہ ابھرا۔ مغرب کی نماز کے بعد اس نے باپ کو قبرمیں ڈالا تھا۔ اور ٹارچ کی روشنی میں آخری باراس کا چہرہ دیکھا تھا۔ سانولا،لمبوترا چہرہ،جلد اکڑی ہوئی اور جلی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔ اسے اپنے باپ کا یہ چہرہ کبھی نہیں بھولا تھا۔ وہ بھول ہی گیا کہ وہ اپنے چہرے کو باپ کے چہرے میں ڈھونڈنا چاہتا تھا۔ وہ ڈربھی گیا تھا۔ مرے چہرے میں اپنا ناک نقشہ دیکھنے کی اسے ہمت نہیں پڑرہی تھی۔ اس نے یہ سوچ کر دل کو تسلی دی کہ اسے باپ نے ہمیشہ اپنا پتر کہا۔

’ابا،اماں پوچھ رہی ہے روٹی اوپر ہی لے آؤں ‘۔وہ چھوٹے بیٹے اسلم کی آواز پر چونک پڑا۔’ہاں،ادھر ہی لے آ‘۔اس نے جیسے جان چھڑانے کے لیے کہا۔اسے پرانی باتیں یاد کرنے میں باقاعدہ لذت مل رہی تھی۔ آٹھویں یا نویں کے چاند کی دودھیا چاندنی میں اس نے اسلم کی پشت کو دیکھا، جب وہ سیڑھیاں الانگتے ہوئے نیچے جارہا تھا۔ بالکل اکر و کی طرح چلتا ہے۔

اس کا دھیان اس بات پر اٹکا تھا کہ اس کا اپنا چہرہ کیسا ہے؟اسے یاد آیا۔لڑکپن کے دن تھے۔وہ سکول سے آنے کے بعد جانگیہ پہن لیتا تھا،اور گلیوں میں دوڑنے لگتاتھا۔ گرمیوں کی ایک سہ پہراس کا دادادکان کے موڑھے پر بیٹھا تھا۔دو آدمی پاس پڑی ہوئی چارپائی پر بیٹھے تھے۔خدا جانے کیا باتیں کررہے تھے۔دکان کے سامنے اینٹوں کے فرش پرپانی کے چھڑکاؤ کیاگیا تھا۔مٹی کی سوندھی باس اٹھ رہی تھی۔ یہ باس اس وقت بھی،اتنے سالوں بعد،اسے محسوس ہورہی تھی۔دادا نے اسے گود میں بٹھا لیا تھا،حالاں کہ اس کا سر دادے کی ناک کو چھو رہا تھا۔’ تمھیں دیکھتے ہی مجھے اپنا دادا یاد آجاتاہے۔تمھاراہاڑ اس کی طرح ہے‘۔دادا نے بھی نہیں بتایا کہ اس کا چہرہ کس سے ملتاہے۔اس کا دھیان ماں کی طرف گیا،لیکن اسے ماں کی کوئی ایسی بات یاد نہیں آئی۔ہاں ایک بار اس کی چاچی نے کہا تھا،سماعیل تیرا متھاتیرے چاچے کی طرح ہے۔لیکن میری شکل؟ اتنی دیر میں اسلم روٹی لے آیا تھا۔ وہ چارپائی پر سرہانے کی جانب اٹھ بیٹھا۔ اسلم نے گلاس میں پانی ڈالا،تاکہ وہ ہاتھ دھولے۔ ’اماں پوچھ رہی ہے، چائے ابھی بنائے یا۔۔۔۔؟‘اسلم نے باپ کے ہاتھ دھلواتے ہوئے پوچھا۔ ’ہاں ابھی بنادے‘۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلے دن وہ کسی سے بات کیے بغیر سکول چلا گیا۔ اس نے شکر کیا کہ اس کا سکول دس میل دور گاؤں میں تھا۔اس کے گاؤں میں چلنے والی آندھی سے ا س کی آنکھوں میں کئی ذرے پڑ گئے تھے،جوکانٹوں کی طرح اسے چبھ رہے تھے۔اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ کس طرح نوکری،جسے سب لوگ اپنی آزادی کے لیے پھندا سمجھتے ہیں، ایک پناہ گاہ ہوتی ہے،اتنی بڑی پناہ گاہ کہ ریٹائر منٹ کے بعد لوگ بَولاجاتے ہیں،اور کچھ کو تو سوائے مرنے کا انتظار کرنے کے کچھ نہیں سوجھتا۔شیخ اسمٰعیل کو ماسٹر نور یاد آئے جو ریٹائر ہونے کے دو سال بعد اس وقت گزر گئے،جب وہ حج کی تیاری کررہے تھے۔ اس نے سامنے سے آنے والی دھول اڑاتی کاردیکھ کر موٹر سائیکل کو کچے راستے پر ڈالتے ہوئے،دل میں فیصلہ کیا کہ وہ ریٹائر ہونے سے پہلے حج کر لے گا۔ لخ لعنت ای۔ کار کی دھول سے آنکھوں میں پڑنے والے ذروں کی چبھن محسوس کرتے ہوئے،اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا۔وہ آج اپنی عینک اٹھانا بھول گیا تھا۔ وہ سکول کی پناہ میں آکر اپنی آنکھیں صاف کرنا چاہتا تھا۔ وہ پرائمری سکو ل دوکمروں اور دوہی استادوں پر مشتمل تھا۔دوسرے استاد ہفتے میں صرف دو دن آتے تھے۔آج نہیں آئے تھے۔شیخ اسمٰعیل نے ان کی غیر حاضری پر خدا کا شکر ادا کیا۔ شیخ اسمٰعیل نے دو کلاسوں کوسبق یاد کرنے اور باقی تین کلاسوں کو پہاڑے یاد کرنے کے لیے کہا۔ ہر کلاس کا ایک مانیٹر بنا کر،وہ خود سکول کے صحن میں موجود شیشم کے درخت تلے چارپائی بچھوا کر لیٹ گئے۔اپریل کے شروع کے دنوں میں دھوپ ذرا ٹھنڈی محسوس ہوئی۔ پانچویں کے ایک طالب علم کو گھر سے چائے بنوالانے کا کہا۔

وہ رات بھر سو نہیں سکاتھا۔ لیٹنے پر انھیں آنکھیں بند ہوتی محسوس ہوئیں،لیکن تھوڑی ہی دیر بعد لگا کہ جیسے ان کا ذہن خاموش ہونا بھول چکا ہے۔ سنسناہٹ کی آواز سے لگتا تھا کہ کوئی تیز لہر ان کی کھوپڑی کو چٹخاتے ہوئے باہر نکل آئے گی۔بند آنکھوں سے سنسناہٹ کو مسلسل سننا عذاب تھا۔میرے اللہ۔اس کی آنکھوں میں نمی تیر آئی۔پنج ایکم پنج،پنج دونی دس۔ہم سب ایک ہیں۔ نو پنجا پنتالی،نو چھ چرنجا۔ ہندو،مسلمان کا دشمن ہے۔تن ایکم تن۔ بچوں کی آوازوں سے ذرا دیر کے لیے لگا کہ سنسناہٹ کچھ کم ہوئی ہے۔ استاد جی، اجی نے میری کتاب پھاڑ دتی ہے۔ اس بے غیرت کوایک تھپڑ جڑ دو،اور میرے پاس کوئی شکایت لے کر نہ آئے۔اوئے، بالے جا، شانی ڈسپنسر کی دکان سے ایک پیناڈال لے آ۔جی استاد جی۔

ایک حرامی بچے کا باپ ہونے سے بڑا بھی کوئی عذاب ہوگا دنیا میں اس نے جیسے اپنی صورتِ حال کو پہچانا۔دوزخ۔ میں نے تو اسی دنیا میں دیکھ لیاہے۔اس کا دماغ کی سنسناہٹ بڑھ گئی۔ شاید بلڈ پریشر بڑھ رہا ہے۔ اسے خیال آیا۔ پانی کا گلاس منگوا کرایک ہی سانس میں پی لیا۔ ان بچوں میں سے کتنے اپنے باپ کے ہوں گے؟ اس نے ایک نگاہ ان سب بچوں پر ڈالی جو کھڑے ہو کر سبق اور پہاڑے یاد کررہے تھے۔سب کی شکلیں ایک دوسرے سے مختلف تھیں۔ اس کے ذہن میں اچانک ایک خیال کوندا۔ اس نے چوتھی جماعت کے مانیٹر کو پکارا۔ جاؤ، گلام کمہار کے دونوں بھائیوں کو بلا لاؤ۔ایک پانچویں اور دوسرا شاید تیسری یا دوسری میں ہے۔ جی، استاد جی۔ دونوں بچے ڈرتے ڈرتے سامنے آکھڑے ہوئے۔ ایک کی ناک کی بھینی ہے۔ دوسرے کا ماتھا چوڑاہے۔ ایک کی آنکھیں بڑی اورکالی،دوسرے کی سرمئی اور بڑی ہیں۔رنگ میں بھی فرق ہے۔ ایک کاسیاہ اور دوسرے کا گندمی ہے۔ تمھارے باپ کا رنگ کالا ہے یا گورا؟ دونوں طالب علم بوکھلا گئے،انھیں اس سوال کی توقع ہی نہیں تھی۔

استادجی،کالاہے۔ نہیں استاد جی گوراہے۔
ایک بات کہو،کیا کبھی اپنے باپ کو غور سے نہیں دیکھا۔
نہیں استاد جی میں روز دیکھتا ہوں۔ وہ آپ کی طر ح تھوڑے تھوڑے کالے ہیں۔ بڑے نے کہا۔
چھوٹا ڈر گیا،اور خاموش ہوگیا۔
اچھا،اب جاؤ۔

چائے کا گرم گھونٹ حلق میں اترا تو شیخ اسمٰعیل کو اپنی طبیعت ذرا بحال ہوتی محسوس ہوئی۔ اس نے خود کو اندر سمٹتے محسوس کرنا شروع کیا،اوراس کے ساتھ ہی اسے لگا کہ کچھ گرد ہٹنے لگی ہے۔سارے فساد کی جڑہی عورت ہے۔عورت ہی بتا سکتی ہے کہ اس کے پیٹ میں کس کا تخم ہے۔عورت کو تخم سے غرض ہے،کسی کا ہو۔ نکاح کے ساتھ ہو، نکاح کے بغیرہو۔یہ عورت بھی کتنی واہیات ہے،بغیر نکاح کے بھی تخم ٹھہرا لیتی ہے۔تف ہے تجھ پر۔یہ تخم بھی تو نہیں دیکھتا کہ۔۔۔کہاں۔۔۔۔کیسے۔۔۔۔۔یہ تخم باپ ہے؟۔۔۔۔میں نہیں۔۔۔۔ہائے کیاتماشا ہے۔۔۔۔میں اور تخم۔۔۔تخم مرد کا،مگر مردہی کو خبر نہیں۔۔۔۔اپنے تخم کی خبر نہیں۔۔۔۔۔یامیرے مالک۔میں پاگل ہوجاؤں گا۔ماسٹر اسمٰعیل کی زندگی میں یہ پہلا لمحہ تھا،جب اسے اپنے اند ر کی اس تنہائی کا سامنا ہوا،جس میں آدمی اپنی تقدیر سے آگاہ ہوتاہے،اور اسے چاہتے یا نہ چاہتے ہوئے کچھ کڑوی حقیقتوں کے روبرو ہونا پڑتا ہے۔ آدمی پر وہی لرزہ طاری ہوتا ہے جو قدیم زمانے میں دیوتاؤں جیسی آسمانی مخلوق یا ان کے قاصدوں کے اچانک سامنے آجانے پر طار ی ہوجایا کرتا تھا۔ ماسٹر اسمٰعیل کے ماتھے پر پسینہ نمودار ہوا۔ اس نے صافے سے پونچھتے ہوئے سوچاکہ شاید یہ گرم چائے کا اثر ہے۔اس نے خود کو ایک غار میں محسوس کیا، جہاں تھوڑے تھوڑے وقفے سے ایک چمک سی پیدا ہوتی تھی اور وہ مزید ڈر جاتاتھا۔اس چمک میں کچھ سوالات اسے غراتے محسوس ہوتے۔ باپ ہونے کا مطلب کیا ہے؟میرا باپ ہونا میرے تخم سے ہے؟ اتنی غلیظ شے سے میں پیدا ہوا،اور باپ کی حقیقت اس میں ہے؟ چلیں غلیظ سہی،پر میں اس کو اولاد میں محسوس کیوں نہیں کرسکتا؟ میں تو ان کے چہرے دیکھتا ہوں۔ہونہہ، یہ چہرہ،بال،قد کاٹھ، کھوپڑی سب اسی سے۔۔۔۔واہ میرے مالک،تیرے کام۔۔۔۔آدمی کی یہی اوقات ہے۔۔۔۔باپ اور بچے کا رشتہ۔۔۔۔کہاں سے شروع ہوتا ہے؟۔۔۔۔نہیں۔۔۔۔۔اس لمحے تو خیال بھی نہیں ہوتا۔۔۔۔اگر یہ خیال آجائے کہ دونوں کے بیچ بیٹی یا بیٹا۔۔۔۔تو خدا کی قسم آدمی شرم سے پانی پانی ہوجائے۔۔۔خیال سے یاد آیا۔۔۔۔اس لمحے،صرف اسی لمحے کا خیال تھوڑی ہوتا ہے۔۔۔۔ہاں شروع شروع میں کوئی خیال ہی نہیں آتا تھا،لگتا تھا کھوپڑی میں سوچنے والی مشین ہے ہی نہیں۔۔۔۔پھر دو ایک ماہ بعدیہ مشین چلنا شروع ہوئی۔۔۔جسم ایک جگہ مصروف اور مشین دوسری جگہ۔۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کیا یہ سچ نہیں کہ تم ہانپ یہاں رہے ہوتے تھے،مگر دھیان کسی اور کی طرف ہوتا تھا؟۔۔۔۔ہونہہ۔۔۔۔۔تو کیا اس کا دھیان بھی کسی اور کی طرف ہوتا تھا۔۔۔۔اللہ،کتنا ظلم۔۔۔۔کتناچھل ہے۔۔۔خودمیری بانہوں میں اور دھیان کسی اور کا۔۔۔۔اولاد حرامی نہیں ہوگی تو اورکیا؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔۔قیامت کیوں نہیں آجاتی۔۔۔۔مرد کی بات اور ہے۔۔۔وہ سارا دن باہر دھکے کھاتا ہے،اس لیے اسے نماز میں بھی طرح طرح کے خیال ستاتے رہتے ہیں،مگر عورت تو کہیں نہیں جاتی،پھر اس کا دھیان۔۔۔۔اسی لیے تو میں نے نوکری چھڑوادی تھی۔۔۔۔باہر جاتی رہتی تو جانے کس کس کودیکھ کر اس کا دھیان کرتی۔۔۔یاد آیا۔۔۔۔چھوٹی چاچی مجھ سے کوئی آٹھ دس سال بڑی تھی۔۔۔۔سماعیلے میں چاہتی ہوں میرا بیٹا تیری شکل صورت کا ہو۔۔۔۔وہ ہر وقت میرا چہرہ دیکھتی رہتی اور میرے ماتھے پر چومتی ہوئی مجھے دعائیں دیتی تھی۔۔۔۔اس کا بیٹا واقعی میرا چھوٹا بھائی لگتا ہے۔۔۔۔عورت کے دھیان میں اتنی طاقت !!۔۔۔شیماں کس کا دھیان لاتی رہی ہے۔۔۔۔اگر دھیان سے بچے کی صورت پر اثرپڑ سکتا ہے تو۔۔۔۔آدھا باپ وہ بھی ہوتا ہے۔۔۔میں آدھا باپ ہوں۔۔۔۔۔ماں پوری ہوتی ہے۔۔۔۔پر باپ آدھا بھی ہوسکتا ہے؟۔۔۔۔اللہ۔۔۔مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں آدھا باپ بھی ہوں کہ نہیں۔۔۔۔بچے کو باپ دینے کا سارا اختیار عورت کے پاس کیوں ہے؟۔۔۔۔قدرت مردکو اندھیرے میں کیوں رکھتی ہے؟۔۔۔۔نہیں،قدرت نہیں،عورت رکھتی ہے۔۔۔۔وہ قدرت کا نام لینے ہی سے ڈر گیا تھا۔اچانک وہ چارپائی سے اٹھ کھڑا ہوا،اور ایک نامعلوم طاقت کے زیراثر سکول سے باہر کھیتوں کی طرف چل پڑا،اور ایک پگڈنڈی پر ہولیا۔اس کا دل خوف سے بھرا تھا۔اس کا جی چاہا وہ اپنی ساری طاقت بروے کار لاکر بھاگے۔اس دنیا سے کہیں دور نکل جائے۔ پھر جانے کیا سوچ کر وہ آہستہ آہستہ شمال کی طرف چلنے لگا۔شمال کی جانب دور تک کوئی نظر نہیں آتا تھا۔ کسی انسان پر کسی بھی طرح کی ذمہ داری ڈالنا کتنا آسان ہے۔اس نے سوچا۔مگر قدرت پر ذمہ داری۔۔۔نہیں۔۔۔یہ گستاخی ہوگی۔۔۔نہیں یہ گناہ ہوگا۔۔۔۔اس کے ذہن میں قدرت کا مطلب خدا تھا۔اس نے محسوس کیاکہ اس معاملے میں خدا کاذکر گناہ ہے۔پانی کی کھال کوڈگ بھر کر عبور کرتے ہوئے،اسے گناہ کا خیال آیا، اور اپنے ساتھ خوف کی ایک لہر لے کر آیا،مگر وہ پوری طرح نہیں سمجھ سکا کہ وہ خدا کے ڈر کی وجہ سے،اس معاملے میں اس کا ذکر نہیں لانا چاہتا تھا،یا اس کے ذہن میں اکرو کا معاملہ ہی گناہ کا تھا،اور اس کے لیے یہ ناممکن تھا کہ گناہ کے ساتھ کہیں بھی خدا کا حوالہ آئے۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی چھوٹی سی دنیا میں خدا کا عمل دخل نہیں دیکھتا تھا۔وہ خدا کے بغیر اپنا اور اپنی چھوٹی سی دنیاکا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا، سچ تو یہ ہے کہ ایسا سوچنے سے بھی وہ ڈرتا تھا، مگر وہ اس بات سے بھی ڈرتا تھا کہ کہیں وہ غلطی سے شیماں کے گناہ کو۔۔۔۔۔اسے اکرو کوشیماں کا گناہ کہنے میں عار نہیں تھی۔۔۔۔ خدا کی رضا نہ سمجھ لے۔اس نے جلدی جلدی توبہ کی۔اچانک قدرت۔۔۔۔اور خدا کا خیال،اسے نئی مصیبت میں ڈال گیا۔اسے محسوس ہوا کہ ایک بار کسی بات میں خدا کا ذکر آجائے تو اسے خارج کرنا ممکن نہیں رہتا۔خدا کو کسی بات میں سے خارج کرنے کا خیال ہی اسے سخت کافرانہ محسوس ہونے لگا۔اس کے ساتھ ہی اسے محسوس ہوا کہ وہ اس مصیبت سے نکل سکتا ہے۔ہاں یہ سب خدا کی مرضی تھی۔نہ نہ، توبہ توبہ، حرامی بچے خدا کی مرضی نہیں ہوسکتے۔۔۔لیکن خدا کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا،پھر بچہ بننا۔۔۔ایک عورت خود۔۔۔۔نعوذ باللہ۔۔۔اس کے قدم ڈگمگانے لگے۔۔اس نے کسی نامعلوم طاقت ور جذبے کے تحت،اچانک ایک کھیت کی مینڈھ پر سر سجدے میں گرادیا،اور پورے خلوص سے استغفار کا ورد کرنا شروع کردیا۔

اس کی غیر موجودگی میں بچے کھیل رہے تھے یالڑ رہے تھے۔ خلاف معمول اس نے انھیں گالی نہیں دی۔انھیں،ان کے حال پر چھوڑ دیا۔ چائے کا ایک اور کپ تھرموس سے انڈیلا۔یااللہ،مجھے معاف کرنا۔ چائے سے لائچی کی خوشبو کے ساتھ گاڑھے پن کی ذرا سی ناگوار باس آرہی تھی،مگر اسے لگا کہ چائے کے گھونٹ بھرتے ہوئے،وہ اپنے خیالات میں گم رہ سکتا ہے۔ اس نے پندرہ سال پہلے کا ایک بھولا بسرا لمحہ یاد کیا۔اسے پرائمری سکول میں استاد بھرتی ہوئے پانچواں سال تھا۔دو سال پہلے شادی ہوئی تھی۔اسے یاد تھا،اس نے کبھی باپ بننے کی خواہش نہیں کی تھی۔باپ بننا کون سا تیر مارنا ہے، اسے اکثر خیال آتا۔باپ نہ بن کر آدمی کون ساتیر مار لیتا ہے۔ اس کے ساتھی استاد نے ایک بار کہا تھا۔ہاں، صحیح کہا،آپ نے،خود آدمی ہوکر کون سا تیر مارتے ہیں ہم۔ تم تو فلسفی ہوتے جارہے ہو شیخ صاحب! ساتھی استاد نے تبصرہ کیا تھا۔ اسے ان لوگوں پر حیرت ہوتی تھی،جو شادی کے اگلے مہینے ہی میں اس باپ بننے کی خبر سننے کے منتظر رہتے تھے۔گرمیوں کی چھٹیاں تھیں۔شاید اگست کا مہینہ تھا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ ایک دن پہلے بارش ہوئی تھی، اور ایسا حبس تھا کہ سانس لینا دشوار ہورہا تھا۔گاؤں کی دائی،اپنی بڑی بہو کے ساتھ، صبح سے ان کے گھر میں تھی۔دوپہر کو ڈسپنسر نے شیماں کو گلوکوز کی بوتل لگادی تھی۔چار یا پانچ کا ٹائم ہوگا،جب اسے بتایا گیاکہ بیٹا ہوا ہے۔اسے دیکھنے کی جلدی نہیں تھی۔ وہ نماز پڑھنے مسجد چلا گیا تھا۔ واپسی پر اس نے بچے کو دیکھاتھا۔اسے یاد آیا جب بچے کو پہلی بار روتے سناتھا،تب اسے لگا کہ وہ باپ بن گیا ہے۔کوئی روتا ہوا بچہ تمھاری گود میں ڈالتا ہے تو تمھیں علم ہوتا ہے کہ تم باپ ہو۔ماں ہونا،اور بات ہے۔ ماں کو کوئی اور نہیں بتاتا کہ تم ماں ہو۔ اس کا جسم اسے بتاتا ہے کہ وہ ماں ہے۔ جسم سے بڑی گواہی کیا ہوسکتی ہے؟اسے ان لوگوں پر حیرت ہوئی جو دلیل کو جسم کی گواہی کے مقابلے میں زیادہ اہمیت دیتے ہیں۔ بہت سی چیزیں گڈ مڈ ہورہی تھیں۔وہ پوری طرح سمجھ نہیں پارہا تھا کہ آیااگست کی ایک سہ پہر کے واقعات یاد کررہا تھا،یا ان واقعات کو نئے معانی پہنا رہا تھا۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ اسے دائی پر ہلکا سا غصہ آیا تھا۔کیاتو مجھے بتائے گی کہ میں اس بچے کا باپ ہوں اپنی حیثیت تو پہچان،احمق کہیں کی۔دائی کی طرف دیکھتے ہوئے اس نے دانت کچکچائے تھے۔تو مجھے اس لیے اس بچے کا باپ بتا رہی ہے کہ تو نے اپنی آنکھوں سے بچے کو اس جسم سے بر آمد ہوتے دیکھا ہے،جس پر مجھے قانوناً اختیار حاصل ہے؟تف ہے،اس قانونی اختیار پر بھی۔ ایک جسم پر قانونی اختیار،کیا اس جسم پر۔۔۔۔اور اس کے ذہن۔۔۔۔اس کے دل پرکسی دوسرے کو مکمل اختیاردے سکتا ہے؟۔۔۔۔تو اس لمحے کی گواہی دے سکتی ہے کیا،جب۔۔۔۔جب۔۔اس لمحے کی گواہی کون دے سکتا ہے؟ اس کا دل بے بسی کے احساس سے ڈوبنے لگا۔

اسے یاد آرہا تھا۔ دائی نے کہا تھا ماسٹر تمھیں خوشی نہیں ہوئی۔ وہ ہڑبڑا گیا تھا،اور جلدی جلدی بچے کے کان میں اذان انڈیلی تھی۔لے،آج تو مسلمان ہوگیا۔ کم ازکم ایک آدمی کو تو میں نے بھی مسلمان کیا۔ یا اللہ تیر اشکر ہے،تو نے مجھے یہ توفیق دی۔ تجھے بچے سے زیادہ اسے مسلمان بنانے کی خوشی ہوئی ہے دائی نے چوٹ کی، جو شیرینی کی توقع میں کھڑی تھی۔آج وہ پوری دیانت داری سے اس اوّلین لمحے کو یاد کررہا تھا کہ جب اس نے پہلی دفعہ اسے دیکھا تھا۔ اسے واقعی خوشی نہیں ہوئی تھی۔افسوس بھی نہیں ہوا تھا۔وہ یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ اس نے سرے سے کچھ محسوس ہی نہیں کیا تھا،مگر کیا محسوس کیا تھا، اسے یاد نہیں آرہا تھا۔خوشی اور دکھ تو یاد رہتے ہیں،پر کسی شے کا آدمی پر اثر ان دونوں سے ہٹ کر بھی تو ہو سکتا ہے۔ یہی تو مصیبت ہے کہ اسے نہ تو سمجھا جاسکتا ہے،نہ اس کو کوئی نام دیا جاسکتا ہے۔ البتہ اسے یاد تھا کہ اسے بچے کو دیکھتے ہی لگا تھا کہ۔۔۔۔یہ سب بچے جب پید اہوتے ہیں تو ایک جیسے ہوتے ہیں۔۔۔ کچھ دنوں بعد جب اس کا ناک نقشہ واضح ہوا تو معلوم ہوا کہ۔۔۔۔نہیں،ہر بچے کی اپنی شکل صورت ہوتی ہے،اور تبھی اس کا دل نفرت سے بھر گیا تھا۔ اکرو میرا تخم کیسے ہوسکتاہے،جب وہ میری طرح ہے ہی نہیں۔نیا نیا اس نے چلنا شرو ع کیا تھا۔اس کا دوست ماسٹر احمد آیا تھا۔دونوں بیٹھک میں چائے پی رہے تھے۔اکرو ننگے پاؤں بیٹھک میں آیا تھا۔ماسٹر احمد نے کہا تھا۔اسمٰعیل یار اس کی شکل تم پر تو بالکل نہیں۔اسے یاد آیا۔اسے لگا تھا کہ جیسے کسی نے اس کے دل کی بات سر عام کہہ دی ہے۔ وہ پہلا لمحہ تھا،جب اس نے اپنے اندراکرو کے لیے گھناؤنے پن کو محسو س کیا تھا۔اس کے منھ سے بے ساختہ نکلا تھا۔ حرامی پتا نہیں کس پر گیا ہے۔اس کے بعد اس نے ان سب مردوں کو غور سے دیکھنا شروع کیا تھا،جو اس کے گھر آتے تھے،یا جتنے مرد اس گاؤں میں رہتے تھے۔ وہ یاد کررہا تھا۔اسے سب مرد مجرم نظر آتے تھے۔اس کی آنکھوں میں عیارانہ چمک پیدا ہوگئی تھی۔اس حرامی نے میرے گھر جنم لے کر میری زندگی جہنم بنادی ہے۔جلد ہی سب گھروالوں نے یہ بات محسوس کرلی تھی کہ پہلوٹھی کے بیٹے کے ساتھ باپ کا رویہ،ایک پتھر دل شخص کا ہے۔ شیماں سے کئی بار توتومیں میں ہوچکی تھی۔ تم اسے اس طرح دھتکارتے ہو،جیسے یہ تمھارا بیٹا نہیں شیماں نے ایک شام اسے کہا تھا،جب اس نے اکرم کو اس بات پر تھپڑ جڑدیا تھا کہ وہ اسے دیکھتے ہی بھاگ کرآیا تھا،اوراس کی ٹانگوں سے لپٹ گیا تھا، اور اس کا توازن بگڑ گیا تھا۔وہ کہنا چاہتاتھا کہ مجھے کیا پتا یہ کس کا تخم ہے،مگر اپنی ماں کو وہاں موجود پاکر رک گیا تھا۔

آج شیشم تلے چارپائی کوچھاؤں کی طرف کھینچتے ہوئے،وہ اذیت کا زمانہ یاد کررہاتھا۔آج اسے لگ رہا تھا کہ جیسے ایک گتھی سلجھنے لگی ہے۔ عورت ہی فساد کی جڑ ہے۔ ہاں عورت،مرد کی دنیا میں فساد پیداکرتی ہے۔ عورت اس دکھ کی الف بے نہیں جانتی جومرد کو کسی حرامی بچے کا باپ ہونے سے لاحق ہوتا ہے۔ماں کے لیے بچے کا جائز ناجائز ہونا،سرے سے کوئی مسئلہ ہی نہیں،لیکن باپ ہونے کا مطلب ہی،بچے کا جائز ناجائز ہوناہے،اور اسی کا علم اگر باپ کو نہ ہو۔۔۔تو۔۔۔ وہ روح کی ساری گہرائی سے۔۔۔جس کا پہلا اسے کبھی تجربہ نہیں ہواتھا۔۔۔ اس اذیت کو محسوس کررہا تھاجو اس کے باپ ہونے کی بدترین جہالت کی پیدا کردہ تھی۔شاید وہ اس بدترین جہالت کو بھی سہار جاتا،لیکن اس جہالت کے اندھے کنویں پر طرح طرح کے بھوت منڈلانے لگتے تھے،اور اس کے باپ ہونے کو مسلسل مشکوک بناتے تھے،اور اس کے منھ پر تھوکتے ہوئے،اسے اس کی جہالت کا طعنہ دیتے تھے،اور اس کے مرد ہونے پر لعنت بھیجتے تھے۔وہ دیکھتا اچانک یہ سب بھوت ایستادہ ہوگئے ہیں،اور ایک درز میں سے کسی نامعلوم غار میں داخل ہورہے ہیں۔ اس منظر کی تاب اس کے حواس میں نہیں تھی۔اس کا جی چاہا،وہ دنیا کی سب عورتوں کو قتل کردے۔سب عورتیں،مرد کو دھوکا دے سکتی ہیں،اور مرد بے چارہ،ان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔اس نے آنکھیں بند کرلی تھیں۔۔۔۔۔عورت تف ہے تجھ پر،کس کس کا تخم تو قبول کرلیتی ہے۔۔۔ماسٹر اسمٰعیل کا لرزہ ختم ہوگیا تھا،اور اس کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔مرد کی بیچارگی اس وقت اپنی انتہا کو پہنچ جاتی ہے،جب وہ اس سے بے خبر کہ کس کا تخم ہے، بچے کو گود لے کر کہتا ہے کہ تو میرا نام روشن کرے گا۔۔۔ صرف عورت جانتی ہے،اس نے کب سر دھویا تھا۔۔۔مگر وہ بتاتی کب ہے؟ عورت سے زیادہ مگھم کوئی شے نہیں۔ اسے اچانک ایک قصہ یاد آیا۔ کسی پرانی کتاب میں شاید پڑھا تھا،یا کسی نے سنایا تھا۔ ایک عورت تھی۔پرلے درجے کی چالباز۔اس نے سہیلی سے شرط لگائی کہ وہ اپنے خاوند کی موجودگی میں اپنے یار سے ہم بستری کرے گی۔توبہ ! پرانے زمانے میں بھی یہ سب تھا،اس نے سوچا۔اس نے ایک دن بہانہ کیا کہ اس کے پیٹ میں درد ہے۔خاوند سے کہا کہ بستی کی دائی کو بلا لائے۔ وہ دائی کو پہلے کہہ چکی تھی کہ اس کے پیچھے پیچھے اس کا یار بھی آئے گا۔ دائی آئی۔ عورت نے خاوند سے کہا کہ تم بھی یہیں رکو،کسی دوادارو کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔وہ غریب رک گیا۔دائی نے اسے لٹا کر ایک چادر تان دی۔سر اور سینہ چادر سے باہر تھا۔خاوند اس کے سر کے پاس بیٹھا تھا۔ چادر کی دوسری طرف دائی بول رہی تھی،اور یار مصروف کار تھا۔ عورت کسی میٹھے درد سے کراہے جارہی تھی۔یہ کہانی یاد کرتے ہوئے، شیخ اسمٰعیل کو لگا کہ اس پر کسی بہت ہی خاص راز کا انکشاف ہواہے۔مسئلہ اکرو نہیں،مسئلہ تُوہے۔اگر تُو ٹھیک ہوتی تو ایسا کبھی نہ ہوتا۔ یہ بات مجھے آج سے پہلے،اتنے سالوں تک کیوں نہیں سوجھی؟ تم نے کبھی،تنہائی میں دو منٹ کے لیے بھی سوچا،اس سے پہلے کہیں دور سے ایک منحنی سی آواز آئی۔ پر وہ ہے کون؟اس نے فلاسک سے کپ میں مزید چائے انڈیلی۔میں نے تو نوکری بھی اس طعنے کے بعد چھڑائی تھی کہ سب استانیوں کے یار ہوتے ہیں۔ وہ کون حرامی ہے؟ آخر ان دونوں کے بارے میں آج تک کوئی سن گن کیوں نہ ملی۔ کیا اس نے بھی کوئی چادر تانی تھی،اور میں سرہانے بیٹھارہا اور وہ کام کرتے چلا بنا۔ اس کا دماغ شدید غصے اور ناقابل برداشت بے بسی سے بھر گیا۔

تم سب حرام کے تخم ہو۔دفع ہوجاؤ۔وہ بلاوجہ ان بچوں پر چلایا،جو پڑھنا وڑھنا چھوڑ کرکھیل رہے تھے،اور ایک دوسرے سے گتھم گتھا بھی تھے۔بچے یہ سنتے ہی اپنے بستے اٹھائے گھروں کی طرف روانہ ہوگئے،اور اس نے بھی پاؤں جوتی میں ڈال دیے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شام کووہ سکول سے سیدھا سائیں کے پاس پہنچا۔’ شاہ صاحب،تم نے میرا اچھا تما شا بنایا؟‘اس نے گلہ کیا۔
تم خود ہی تماشا بننا چاہتے ہو؟

میں نے رازداری کی گزارش کی تھی۔ وہ منمنایا۔

کون سا راز؟ وہ کیسا راز ہے جسے تم اپنے سینے میں سنبھال نہیں سکے،اور دوسروں سے کہتے ہو کہ وہ سنبھالیں۔ تم سب لوگ اپنے راز ہی تو بھرے بازار میں لانے کے لیے مررہے ہو؟

میں سمجھا نہیں۔

تم نے بتایا تھا کہ تم بچوں کو پڑھاتے ہو۔ خاک پڑھاتے ہو۔سائیں سے کیا پوچھتے ہو؟ میری بیوی کا یار کون ہے؟ میری بہو کے پیٹ میں کس کا تخم ہے؟ میری بیٹی کو دورے کیوں پڑتے ہیں میرے گھر میں کون تعویذ گاڑتا ہے؟پہلے بیٹے کے وقت میری بیوی کس کے ساتھ سوئی تھی شادی سے پہلے وہ برقع پہن کر کس کے ساتھ جاتی تھی فلاں کے پاس ٹوڈی کہاں سے آئی؟ یہ سارے راز ہی تو تم سر عام لانا چاہتے ہو۔کیا نہیں؟

اس پر جیسے گھڑوں پانی پڑ گیا۔

اتنے میں سائیں نے کہا۔’ ساواپتر، گیلی اگ‘۔

اس کا کیا مطلب ہے؟ کیا سائیں نے اکرو کے اصل باپ کا بتادیا؟

اس کا وہی مطلب ہے جو تم سمجھنا چاہتے ہو؟سائیں کو تو خود نہیں پتا وہ کیا کہتے ہیں۔ کان کھول کر سنو،سائیں کی باتوں کا کوئی مطلب ہی نہیں ہوتا۔میں،تم،سب سائیں کی باتوں کو اپنی مرضی کا مطلب پہناتے ہیں۔ہم سار ادن یہی تو کام کرتے ہیں۔ہم میں سے کوئی دوسرے کی بات نہیں سنتا،دوسروں کی ہربات کو اپنی مرضی اور منشا کا مطلب دیتا ہے۔ تم ماسٹر ہو،میرا باپ بھی ماسٹر تھا،اور مجھے بے حد پیا ر کرتا تھا،اسی کے صدقے تمھیں سب سچ بتارہاہوں۔ویسے بھی کل ہم یہاں سے چلے جائیں گے۔ ہم نے شہامند سے ایک مہینے کا معاہدہ کیا تھا۔ اس نے تم لوگوں سے جتنے بدلے لینے تھے، لے لیے،تم سے تو خاص بدلہ لیا ہے۔میں ہر بار کسی ایک جگہ سے جاتے ہوئے کسی معقول آدمی کو سچ بتا کر جایا کرتاہوں۔ اگرچہ سب سے مشکل کسی بستی میں معقول آدمی کی تلا ش ہے۔ جو سب سے کم احمق ہو،میں تو اسی کو معقول سمجھتا ہوں۔ ماسٹر اسمٰعیل کو اپنے احمق ہونے میں کوئی شک نہیں تھا۔دودنوں سے وہ خود کو بزدل بھی سمجھ رہا تھا۔شاہ صاحب نے بات جاری رکھی۔ سائیں اپنی موج میں خدا جانے کیا بات کہتاہے۔ تم،میں سب اس میں اپنے مطلب کی بات نکال لیتے ہیں۔ اگر تم مجھ سے پوچھتے ہو تو میں وہ بات کہوں گا،جو تم سننا چاہتے ہو۔میں تم سب کو سمجھ گیا ہوں۔تم سب گدھے ہو۔ اگر تمھیں واقعی شک ہے کہ تمھارے گھر میں کسی اور کا بیٹا ہے تو جاؤٹیسٹ ویسٹ کرواؤ۔سناہے،اب ٹیسٹوں سے کسی کی ولدیت کا اسی طرح پتا چل جاتا ہے،جس طرح پیشاب کے ٹیسٹ سے بیماری کا پتا چل جاتاہے۔
جی مجھے اس ٹیسٹ کا معلوم ہے۔ شایدڈی این اے ٹیسٹ کہتے ہیں۔ میں نے ٹی وی پر ایک کہانی دیکھی تھی،جس میں بچہ اپنے اصل والدین سے اس ٹیسٹ کے ذریعے مل گیا تھا۔

پھر یہاں کیوں آئے تھے؟

وہاں اکرو کو ساتھ لے جانا پڑتا،اور اس سے پتا نہیں کیا کیا کہانیاں گھڑی جاتیں۔
وہ کہانیاں تو اب بھی گھڑی گئی ہوں گی؟
شاہ صاحب،خد اکے لیے مجھے یہ بتادیں کہ میرے اور آپ کے درمیان کی بات کوٹھوں کیسے چڑھی؟
تو سچ سنو۔ دنیا میں کوئی کام مفت نہیں ہوتا۔ ہم یہاں مفت نہیں بیٹھے۔ سمجھے؟
ہونہہ۔ شہامند۔
اب جاؤ یہاں سے۔ میں اس سے زیادہ تم سے بات نہیں کرسکتا۔
پر ’ساوا پتر، گیلی اگ‘ کا مطلب؟

تم ماسٹر نہیں گھامڑ ہو۔ سنتے جاؤ۔ اس کا کوئی مطلب نہیں،مگر تم پھر بھی اصرار کرو گے کہ اس کا مطلب تمھیں کوئی بتائے۔اس آدمی کی بات تم جلدی مان لیتے ہو، جو ذرا ساپراسرار ہو، مطلب یہ کہ تمھاری سمجھ سے ذرا اوپر ہو۔تم اپنے برابر اور چھوٹے کی بات سنتے ہو،نہ مانتے ہو۔تم سب کو ایک سائیں،اور ایک شاہ صاحب ہر وقت چاہیے۔مجھے یقین ہے،میں ان دو لفظوں کا جو مطلب بھی بتاؤں گا تم مان جاؤ گے۔میں اگر ان کا مطلب یہ بتاؤں کہ تم ایک گیلی آگ میں جل رہے ہو،اور تمھار ا بیٹا تمھارے چھوٹے بھائی سے ہے جو سبز پتے کی طرح نوجوان ہے،تو تم مان جاؤ گے،اور اس غریب کے جاکر ٹوٹے کردوگے۔اگر تم چند دن پہلے آتے تو میں یہی کہتا۔میرے یہاں بیٹھنے کا مقصد بھی یہی تھا۔ لیکن تمھاری خوش قسمتی ہے کہ تم آج آخری دن آئے ہو۔سنو، اس کا مطلب ہے، سبز پتے ہوسکتے ہیں، مگر آگ گیلی نہیں ہوسکتی۔تمھیں اگر آگ جلانی ہے تو سوکھے پتے جمع کرو۔ دشمن کو مارو، اپنوں کو نہیں۔ اب سمجھے؟
ہونہہ۔ کچھ کچھ۔

جاؤ، وہ کام کرو،جسے ٹھیک سمجھتے ہو۔

ماسٹر اسمیٰعیل نے کچھ روپے شاہ صاحب کے ہاتھ پہ رکھے،مصافحہ کیا،اور چلنے لگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات ہوچکی تھی،اور اس کے گھر کے دروازے کا بلب جل رہا تھا۔ابھی وہ چند قدم دور تھا کہ اسے کئی ملی جلی آوازیں سنائی دیں۔ وہ کل رات سے اپنے خیالوں سے باہر نہیں آیا تھا۔ اسے ان آوازوں کے حوالے سے کوئی جستجو نہیں ہوئی۔ اس نے موٹر سائیکل کا ہارن دیا تو اس کا چھوٹا بیٹا گھبرایا ہوا آیا۔ فوراً دروازہ کھولا۔ اندر کئی لوگ جمع تھے۔ اچانک سب چپ ہوگئے۔ سب ماسٹر اسمٰعیل کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگے۔ ماسٹر اسمٰعیل،ان سب کو سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔ چند ثانیوں کا سناٹا،سب کو جان لیوا محسوس ہوا۔ اچانک سب لوگ،ایک طرف ہٹ گئے۔ ماسٹر نے بلب کی روشنی میں دیکھا کہ چارہائی پر اکرو کو گلوکوز کو بوتل لگی ہوئی تھی۔تم یہی چاہتے تھے ناں۔ شیماں نے چیختے ہوئے کہا۔ وہ ابھی تک صورت حال کی سنگینی کا احساس کرنے سے قاصر رہا تھا۔ تم کہاں چلے گئے تھے؟ اکرم نے گندم والی گولیاں کھالی تھیں۔اس کے چھوٹے بھائی نے اسے بتایا۔پھر؟جیسے وہ کوئی خبر سننے کا منتظر ہو۔وہ کسی انجانے احساس کے تحت اکرم کی طرف بڑھا۔ وہ نیند میں تھا۔ شیماں اس کے سر پر مسلسل ہاتھ پھیرے جارہی تھی،اور دعائیں مانگے جارہی تھی۔ اس نے اکرم کے چہرے کو دیکھا۔ تھوڑا مختلف محسوس ہوا۔ اس نے آج تک اسے سوتے ہوئے نہیں دیکھا تھا۔

سب انتظار کررہے ہیں کہ تم آؤ تو اسے سول ہسپتال لے جائیں۔اس کی حالت اچھی نہیں ہے۔اس کے چھوٹے بھائی نے کہا۔
وہ خاموشی سے باہر نکلا۔ دس منٹ بعد شیخ جمیل سے اس کی کار مانگ کر آیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دو دنوں بعد اکرم کی حالت بہتر ہوئی۔ ان دودنوں میں ماسٹر اسمٰعیل نے ایک لفظ نہیں بولا۔ دونوں دن وہ ہسپتال میں رہا۔ وہ خاموشی سے ڈاکٹروں کی لکھی گئی دوائیں میڈیکل سٹور سے خرید لاتا۔زیادہ وقت ہسپتال کی کینٹین پر بیٹھا رہتا،یا او پی ڈی میں پڑے بنچوں پر۔رات کو ہسپتال کے او پی ڈی کے برآمدے میں،پنکھے تلے لیٹ جاتا۔وہ اس بات سے بے نیاز تھا کہ اسے نیند آتی ہے،یا نہیں۔ اس نے ان دودنوں میں ساری نمازیں پڑھیں،مگر کوئی دعا نہیں مانگی۔اس نے گزشتہ چند دنوں میں خاموشی اور تنہائی کو زندگی کی سب سے بڑی،سب سے گھناؤنی،سب سے اہم حقیقت کے طور پر محسوس کیا تھا۔ اس کی خاموشی دیکھ کر سب یہ سمجھنے لگے کہ وہ نادم ہے۔شیماں نے اس سے صرف ایک جملہ کہا کہ وہ کپڑنے بدلنے گھر چلا جائے۔ وہ اس کے جواب میں بھی چپ رہا۔چپ رہنے کی وجہ سے،اسے وہ سب باتیں واضح سنائی دینے لگی تھیں،جو پہلے ریل گاڑی سے نظر آنے والے منظروں کی طرح تیزی سے ذہن میں آتیں اور کوئی اثر ڈالے بغیر گز ر جاتی تھیں۔ایک سوال بار بار اس کے ذہن میں آتا،اگر اکرم مرگیا۔۔۔۔۔تو۔۔۔۔۔ اس کا ذمہ دار کون ہوگا۔۔۔اسے اس میں ذرا بھی شک نہیں ہوا کہ کوئی اور نہیں۔وہ۔ میں قاتل کہلاؤں گا۔۔۔ایک باپ نے اپنے بیٹے کو حرامی سمجھ کر قتل کر ڈالا۔پورے علاقے میں یہ خبر۔۔میں قاتل، میر ابیٹا حرامی۔۔۔میں کس کس کا منھ پکڑوں گا۔۔۔۔اسے قبر میں،مَیں اتاروں گا۔۔۔قاتل قبر کو مٹی دے گا۔۔۔قاتل قل پڑھوائے گا۔۔۔قاتل سے لوگ کہیں گے، شیخ صاحب، امر ربی۔شیخ صاحب سورہ فاتحہ۔اس نے ان سب باتوں کوکسی ردعمل کے بغیر سنا۔ میں قاتل بن کر بھی،اس کا با پ کہلاؤں گا۔۔۔اس کا باپ ہونا،میری تقدیر ہے۔۔۔اور اْس کا قاتل ہونا بھی۔۔۔نہیں یہ تقدیر نہیں۔۔۔اگر پندرہ سال گزر گئے تھے تو باقی سال بھی تو گزر سکتے تھے۔۔۔۔تقدیر اٹل ہے۔۔۔اس کی ولدیت کے خانے میں میرانام آنا اٹل ہے۔

اکرم کی ممکنہ موت کا سوال خود بہ خود اسے آگے کھینچ کے لے جارہا تھا۔وہ ہسپتال کی کینٹین کے درخت کی گھنی چھاؤں میں کرسی پر بیٹھا تھا۔آج کے اخبار کے ادارتی صفحے کے سب مضامین پڑھ چکا تھا۔چائے پیتے ہوئے،سوچے چلا جارہا تھا۔نہیں،اس کے لیے سوچنے کا لفظ مناسب نہیں۔سوچنے میں کوشش کا عمل دخل ہے،جب کہ بغیر کسی کوشش کے، اس کے ذہن میں باتیں آتی چلی جارہی تھیں۔اس کا دل اس تقدس سے بھر گیا تھا، جو کچھ بڑی سچائیوں کے ظاہر ہونے سے از خود پیدا ہوتا ہے،اور یہ بڑی سچائیاں ظاہر ہونے کے لیے صرف بڑے لوگوں کا انتخاب نہیں کرتیں،بلکہ یہ کسی شخص کی اوقات کو سرے سے دیکھتی ہی نہیں، صرف کچھ مخصوص حالات کا انتظار کرتی ہیں۔شیخ اسمٰعیل انھی مخصوص حالات سے گزررہا تھا۔اس کے ذہن میں آرہا تھا کہ۔۔۔ کسی کو مارنے کا حق کس کو ہے۔۔۔۔جس نے پیدا نہیں کیا،وہ مارنے کا حق رکھتا ہے؟۔۔۔۔پھر۔۔۔۔کیا باپ ہونے کا مطلب کسی کو زندگی دینا ہے۔۔۔۔۔باپ ہونے کا اصل مطلب کیا ہے۔۔۔۔زندگی دینا،یا صرف شناخت۔۔۔۔شناخت کون کرےاکرم کی خود کشی کی کوشش نے اس سوال کا زہر نکال دیا تھا،یا اس کی وہ بزدلی ایک نئے رنگ میں لوٹ آئی تھی،جسے وہ پندرہ سالوں سے اکرم سے نفرت کے پردے میں چھپاتا آیا تھا۔وہ اس بات کو قطعاً نہیں سمجھ سکا کہ کیسے اسے یہ محسوس ہونے لگا تھا کہ کسی کو مارنے کا ارادہ کرنے،اور اسے مرتے ہوئے دیکھنے میں بڑا فرق ہوتا ہے،اتنا بڑا فرق جتناایک بھوت کا خیال کرنے اور اسے حقیقت میں سامنے دیکھنے میں ہوتا ہے۔ اب تک اکرم کو صرف بیٹا سمجھتا آیا تھا،اب پہلی بار اسے محسوس ہوا کہ وہ ایک آدمی بھی ہے۔آدمی کے طور پر وہ ماں، باپ، بہن،دوست سب رشتوں سے الگ۔۔۔اور آزاد۔۔ایک وجودہے۔آدمی رشتوں کے جال سے باہر بھی وجود رکھتا ہے۔جس طرح درخت کہیں اگتا ہے، آدمی کو بھی کسی نہ کسی کی کوکھ سے جنم لیناہوتا ہے۔ کس کوکھ میں کون جنم لیتا ہے، اس کا فیصلہ۔۔۔بخدا مجھے نہیں معلوم،کون کرتا ہے۔اس کے دل کے کسی کونے سے آواز آئی۔کوکھ بنی کس لیے ہے۔۔۔۔جنم دینے کے لیے۔۔۔کوکھ کے لیے کوئی وجود حرام ہے نہ حلال۔۔۔وہ صرف وجود ہے۔۔۔وجود کوظاہر ہونے کے لیے کوکھ چاہیے۔۔۔وجود کے لیے کوئی کوکھ حرام ہے نہ حلال۔۔۔جس طرح درخت کے لیے کوئی مٹی حلال ہے نہ حرام۔۔۔آدمی اور درخت میں فرق ہی کتناہے مٹی اور عورت ایک ہی کام تو کرتے ہیں۔

اس نے محسوس کیا کہ اس کا دل شیماں کے احترام سے لبریز ہو گیا ہے۔نہیں،دنیا کی سب عورتوں کے لیے۔وہ چائے کا چوتھا کپ پیتے ہوئے سوچے چلا جارہا تھا۔ جنم لینا ہر وجود کا حق ہے۔یہ حق اسے اس قوت نے دیا ہے، جس کا خیال کرتے ہی،آدمی کا دل بے بسی اور انکسار سے بھرجاتاہے۔ اس قوت کے عمل میں مداخلت کرکے،اس نے کتنا سنگین جرم کیا،اس کا احساس اسے اب ہورہا تھا۔اس قوت کے آگے ماں،باپ اتفاقی حیثیت رکھتے ہیں۔ہاں یہ اتفاق ہے کہ میں شیخ نعیم کے گھر پیدا ہوا،یہ اتفاق ہے کہ اکرم کی ولدیت کے خانے میں میرا نام لکھا گیا۔کینٹین پر درخت کے سائے میں کرسی پر بیٹھے، چائے پیتے ہوئے،اسے لگا کہ اکرم،میں،شیماں، اسلم سب درختوں کی طرح بھی ہیں۔ درخت کو کسی پہچان کی ضرورت نہیں۔ اس کے بچپن کی زندگی کا سب سے المناک واقعات صرف دوتھے۔ جب اس کا باپ مرا تھا،اور جب اس درخت کو اس کے چچا نے کاٹ دیا تھا،جس کی شاخوں سے پینگ کی رسی باندھ کر تینوں بہن بھائی جھولا جھولتے تھے،اور وہ اپنے دوستوں کے ساتھ باندر کلا کا کھیل کھیلتا تھا۔ کٹا ہوا درخت،اسے دنیا کا سب سے وحشت ناک منظر محسوس ہواتھا۔اس منظر کودوبارہ دیکھنے کی اس میں تاب نہیں تھی۔ وہ درخت کو چھاؤں اور پھل کی خصوصیت سے الگ ہوکر دیکھ رہا تھا،اور اس خاموشی اور تنہائی کو اپنی تقدیر سمجھ کر قبول کررہا تھا، جو سنگین تھیں، ادھیڑ ڈالنے والی تھیں،روح میں خنجر کی طرح اترتی تھیں،آدمی خود کو لق و دق صحرا میں محسوس کرتا تھا،کبھی کبھی خود کو نوچنے کو بھی جی چاہتا تھامگراس کی روح کے کسی آخری منطقے میں اس بات کا یقین بھی ٹمٹما رہا تھا کہ یہی خاموشی اور تنہائی بدترین جہالت کی اذیت سے نجات دلانے والی بھی ہیں !

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک ہفتے بعداپنے گھر میں اس نے اکرم کا زندگی میں پہلی مرتبہ ماتھا چوما،اورخیرات کی۔

Image: Rabia Zuberi

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

صدا کر چلے

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

لکن میٹی

اسد رضا:برگد کے درخت کے نیچے سے سائیکل اٹھاتے وقت مجھے ایک فکر نے آن گھیرا۔ مجھے رہ رہ کر یہ احساس ہو رہا تھا کہ کوئی خط میز کے اوپر چھوڑ آیا ہوں۔ کیا “میں آج تمام خط پہنچا پاوں گا میں نے خود سے سوال کیا”۔ ہوا میرے اندر رقص کر رہی تھی بیگ میں موجود تمام خط پھڑپھڑا رہے تھے۔

ایک افسانہ ایک حقیقت

دن اپنے اختتام کی جانب بڑھ رہا تھااور شب کے گہرے سائے پھیلتے جارہے تھے۔