وہ ایک پُل تھا

وہ ایک پُل تھا

وہ ایک پُل تھا
جہاں ملا تھا
میں آخری بار تم سے جاناں
مجھے ہمیشہ کی طرح
پُل کے اس اور جانا تھا میں جدھر سے
ندی کو جاتے ہوئے نہاروں
مگر تمہیں عادتاً زیادہ پسند پُل کا وہ حصّہ آیا
جدھر سے تم ڈوبتے ہوئے
آفتاب کو دیکھ سکتی تھی
وہیں پے ڈوبی تھی اپنے رشتے کی آخری نبض
وہ ایک پل جو
ملا رہا تھا
ندی کے اک *تٹ کو دوسرے سے
وہیں میں تم سے الگ ہوا تھا

*تٹ- کنارہ
Image: Duy Huynh

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Swapnil Tiwari

Swapnil Tiwari

سوئپنل تیواری ہندوستان کی ریاست اترپردیش کے شہر غازی پور میں 1984 میں پیدا ہوئے اور فی الحال ممبئی میں اسکرپٹ رائٹنگ اور نغمہ نگاری کا کام کررہے ہیں، وہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ ہندی کی نئی فکشن نگار نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان کی کہانیاں ہندی رسالوں میں شائع ہوتی رہتی ہیں۔ان کی مندرجہ ذیل کہانی ہندوستان میں غریب طبقے کی جد و جہد اور زندگی سے اس کے ایک لاحاصل لیکن اٹوٹ رشتے کو اجاگر کرتی ہے۔


Related Articles

تقریرکرنے والوں کے ہونٹوں پر

ممتاز حسین: تقریر کرنے والوں کے ہونٹوں پر
ہم اپنی ضرورتوں کی جمع بندی
رکھ دیتے ہیں

گوتم نے خود کشی کر لی ہے

نصیر احمد ناصر: تم نے شاید صبح کا اخبار نہیں دیکھا
گوتم کو اب نوکری کی ضرورت نہیں رہی
اس نے چوک میں ڈگری جلا کر
خود کو بھی آگ لگا لی تھی

زندہ قبریں

نصیر احمد ناصر: ہم اپنے مُردوں کے انتظار میں کھدی ہوئی
زندہ قبریں ہیں
اور اپنے پُر ہجوم جنازوں کو
دیکھ دیکھ کر خوش ہونے والے
مُردہ وجود