وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے

وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے

گلزار کی یہ نظم معروف ادبی جریدے 'تسطیر' میں شائع ہو چکی ہے، لالٹین قارئین کے لیے اسے مدیر تسطیر نصیر احمد ناصر کی اجازت سے شائع کیا جا رہا ہے۔

تسطیر میں شائع ہونے والی مزید تخلیقات پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

وہ ایک چوکی جڑی ہوئی ہے جو بارڈر پر
اُسی کی دیوار میں جڑا اک سپاہی رائفل لیے کھڑا ہے
جمائیاں لے رہا ہے کب سے
اُسے بھی اب نیند آ رہی ہے
وہ تھک گیا ہے

لکیر اپنی جگہ سے ہٹتی نہیں، نہ ہٹتا ہے وہ سپاہی
چَھپے ہوئے لفظ کی طرح سے پڑے ہیں دونوں

نہ جانے کل رات کیا ہوا تھا
گلے پہ بندوق رکھ کے اس نے
چلا دی گولی

وہ لفظ لیکن مَرا نہیں ہے
وہیں پہ رائفل لیے ہوئے
دوسرا سپاہی جڑا ہوا ہے

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

کُمہار

گلیوں میں
ٹُوٹے ہوئے برتن
کُمہار کو
اپنے وجود کے ٹُکڑے لگتے ہیں

وہ آخری لمحات ان جنازوں پر اُڑھا دیں گے

عذرا عباس: وہ آخری لمحات ان جنازوں پر اُڑھا دیں گے جن پر کوئی رونے والا نہیں

حادثے کے امکان میں زندگی

کاوش عباسی: سڑک پر
ایک تیز کار
ایک ہی پَل کی اِک غلطی سے
مُجھ سے ٹکرائے
اَور مُجھ کو بھینچ کے رَکھ دے