وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

وہ سازش ڈھونڈ رہے تھے

کسی خفیہ راستے کی تلاش میں
انہوں نے سرکنڈوں کی بنی دیواروں پر
لپی ہوئی مٹی کھرچ ڈالی
اور تیل کا چولہا الٹ کر انہیں جلا دیا
چھاونی کے نقشے ڈھونڈنے کو
تھکے ہوئے جسموں پر منڈھا ہوا چمڑہ ادھیڑ کر
ہڈیوں میں سوراخ کیے
تاکہ رستا ہوا گودہ
بغاوت کے جراثیم ٹیسٹ کروانے
دارلحکومت بھیجا جا سکے
میلی چادریں بوٹوں تلے کچلیں
ادھڑے ہوئے گریبانوں میں
رال سے لتھڑے ہوئے ہاتھ ڈال کر
سوکھی ہوئی چھاتیاں ٹٹولیں
فاقہ زدہ پیٹوں کو بندوقوں کے دستوں سے ٹھونک
کر ان کے خالی ہونے کا اندازہ لگایا
پھٹے ہوئے جوتے سے جھانکتے ناخن کھینچ کر
ان کے اصلی ہونے کا یقین کیا
آنکھوں کی جھیلیں آنسووں سے خالی کروائیں
تاکہ ان کی تہہ میں چھپا ہوا اسلحہ برآمد کر سکیں
قہقہے ضبط کر لیے
اور مسکراہٹوں کے دانت توڑ ڈالے
ادھڑی ہوئی جیبوں میں
غیر ملکی کرنسی کی تلاش سے مایوس ہو کر پلٹے
تو جاتے ہوئے بچوں کے گلک توڑ گئے
جن میں انہوں نے خواب جمع کر رکھے تھے
میں اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر
اسکے خواب سمیٹ رہا ہوں
پھر اپنی نظموں کی کتاب ترتیب دوں گا۔۔۔۔
Image: Banksy

Salman Haider

Salman Haider

The author is working as Urdu Editor at Tanqeed. He is a visiting Scholar at University of Texas at Auston and a Blog Writer at Dawn Urdu. He has a profound interest in theater, drama and culture.


Related Articles

مرتے ہوئے خواجہ سرا کا انٹرویو

شاید ہم خدا کی بھول ہیں
جس کو یہ بھی معاف نہیں کرتے
انھیں ہم سے گِھن آتی ہے
یہ ہم سے نفرت کرتے ہیں

محبت کے بغیر کون جیتا ہے

عذرا عباس: ابھی وہ میرے دل میں تھی
وہ تمہارے دل میں بھی تھی
اور تمہارے بھی
ڈھونڈو میں اس کے بغیر نہیں رہ سکتی
محبت کے بغیر کون جیتا ہے

درخت

سید کاشف رضا: میرے سینے پر جتنے لفظ اُگے
ان سے میں کچھ اور بنانا چاہتا تھا
مثلاً ایک درخت
جسے کاٹ دیا جائے
تو اس سے میرا خون ابلنے لگے