ٹائم کیپسول

ٹائم کیپسول
نصیر احمد ناصر کی یہ نظم اس سے قبل 'ہم سب' پر بھی شائع ہو چکی ہے۔ نصیر احمد ناصر کی اجازت سے یہ نظم لالٹین پر شائع کی جا رہی ہے۔


ٹائم کیپسول
مجھے دبا دو
کہیں زمیں میں
کسی پلازے کی بیسمنٹ میں
کسی عمارت کے قاعدے میں
سمندروں میں بہا دو مجھ کو
کبھی زمان و مکاں کے ملبے سے
کوئی آئندگاں کا باسی
مجھے نکالے گا
مجھ کو سمجھے گا سنگوارہ
قدیم وقتوں کی ڈھیر ساری
عجیب چیزوں کے ساتھ میں بھی پڑا مِلوں گا
میں ایک برتن ہوں
خود میں مدفون
داستانوں، کہانیوں سے بھرا ہُوا ہوں
میں اِس زمیں کی نشانیوں سے بھرا ہُوا ہوں!

Image: Viswan Vinod

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir

Naseer Ahmed Nasir is one the most eminent, distinct, cultured and thought provoking Urdu poets from Pakistan. He is considered as a trend setter poet of modern Urdu poems among his contemporaries. His poetry has been translated into various languages and has several poetry collections to his credit. A lot of his work is yet to be published.


Related Articles

ہندسوں کے شہر میں

رباب علی: کبھی سوچتی ہوں
میں کچھ پہلے کے دور میں جی رہی ہوتی
جب ہاتھوں میں لکیریں ہوتی تھیں،
کیلکولیٹر نہیں
مگر ۔۔۔۔ مگر میں تو یہاں ہوں
ہندسوں کے شہر میں
کیلکولیٹرز جیسے لوگوں کے درمیا

خلا میں لڑھکتی زمین

ثروت زہرا: زمیں
بانجھ چہروں کے ہمراہ
چلتی چلی جا رہی ہے

نرم گھاس میں سرگوشیاں

ہانس بورلی: تنہا پرندے
سورج کی روشنی میں تیرتے رہتے ہیں
اور تیرتے ہوئے خوشی میں گانے لگتے ہیں