پابلو پکاسو؛ ایک باغی فنکار

پابلو پکاسو؛ ایک باغی فنکار
عہد ساز مصور "پابلو پکاسو" نے آٹھ اپریل 1973ء کو 91 سال کی عمر میں وفات پائی۔ پکاسو تجریدی مصور میں کیوبزم کی تحریک کا موجد تھا۔ "عمل کو کامیابی کا بنیادی ستون" کہنے والا پابلو پکاسو ایک کمال انسان تھا، ایک باغی، روایت شکن اور ایک متحرک انسان!

پکاسو نے ابتدائی عمر میں روایتی تعلیم سے بغاوت کی۔ پکاسو کا والد خود بھی ایک مصور تھا، اُس نے جب پکاسو کی ڈرائنگ دیکھی تو اُس نے اپنا برش اور رنگ پکاسو کے حوالے کرتے ہوئے ہمیشہ کے لیے پینٹنگ کو خیرباد کہہ دیا۔ سال 1900ء میں پکاسو کو اپنی پہلی مصوری نمائش کی اجازت ملی، پھر پکاسو 1904ء میں پیرس منتقل ہو گیا اور وہیں رہنے لگا۔ جہاں اُس نے Bateau Laboir کے نام سے اپنا سٹوڈیو بنایا. پکاسو نے ایک بار کہیں لکھا تھا کہ "فنکاری یہ ہے کہ روح پر سے روایتی زندگی کی گرد کو صاف کیا جائے۔

پیرس میں رہتے ہوئے اُس نے ابتدا میں مایوس، اداس اور بیمار کرداروں اور سرکس میں ناچنے والوں کی تصویریں بنائیں۔ یہ تصاویر خالص نیلے رنگوں میں بنائی گئی تھی، اِس لیے پکاسو کی مصوری کے اُس دور کو "نیلا دور" کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔

پکاسو کے 'نیلے دور' کی ایک اہم تصویر "دی سوپ"

پکاسو کے 'نیلے دور' کی ایک اہم تصویر "دی سوپ"

پھر پکاسو کی مصوری کا "گلابی دور" شروع ہوا۔ اِس کے بعد پکاسو کی باغیانہ رَگ پھر سے جاگ اُٹھی اور اُس نے مصوری کی تمام سابقہ روایات سے تعلق توڑ لیا۔ پھر دو سال افریقی حبشیوں کی قدیم مصوری اور سنگ تراشی کا عمیق مطالعہ کیا اور ساتھ ہی ساتھ عظیم فنکار "سیزانے" کا مطالعہ بھی کیا۔

پکاسو کے گلابی دور کی ایک تصویر

پکاسو کے گلابی دور کی ایک تصویر

بعدازاں 1909ء میں پکاسو کی مصوری کا "کیوبزم" کا دور شروع ہوا۔ پھر 1920ء سے اُس نے حقیقت پہ مبنی مصوری کی۔

پکاسو کو کیوبزم کی وجہ سے  بے پناہ شہرت ملی

پکاسو کو کیوبزم کی وجہ سے بے پناہ شہرت ملی

جنگ کے بعد پکاسو نے کوزہ گری شروع کر دی۔ پکاسو نے اپنی بےپناہ فنکارانہ صلاحیتوں کی بِنا پر عالمگیر شہرت حاصل کی۔ اُس کی کئی تصاویر ایسی ہیں جو دنیا کی مہنگی ترین مصوری میں شامل ہیں۔

پکاسو کوزہ گری کرتے ہوئے

پکاسو کوزہ گری کرتے ہوئے

پکاسو ایک ماسٹر اور ایک دیو مالائی شخصیت تھا۔ بیسویں صدی میں شروع ہونے والی مصوری کی ہر تحریک میں اس کا ہاتھ تھا اور وہ اُن تحریکوں کے اہم ترین افراد میں سے تھا۔ پکاسو نے لاتعداد "جنگ مخالف" پینٹنگ بھی بنائی تھیں۔ مگر پہلی اور دوسری جنگِ عظیم کے دوران پکاسو "غیرجانبدار" ہی رہا اور باقی افراد کے رویے کے متضاد وہ کسی بھی ملک کی فوج کشی کا حصہ نہ بنا۔ سپین میں "سول وار" کے دوران بھی پکاسو کا رویہ غیرجانبدارانہ تھا۔ سپین کے باقی تارکین وطن جو فرانس میں رہ رہے تھے عموماً جنگِ عظیم اور سپین کی خانہ جنگی کے دوران غیرجانبدار نہ رہ سکے اور مسلح جدوجہد کی مگر یہ پکاسو تھا جو غیرجانبدار رہا اور بار بار جنگوں کے خلاف لکھتا، بولتا اور مصوری کرتا رہا۔ حتیٰ کہ پکاسو نے سپین اور یورپ کے مشہور جنرل فرانسسکو فرانکو کے خلاف مصوری شروع کر دی۔

جرمینیکا پکاسو کی نمائندہ جنگ مخالف تصویر ہے

جرمینیکا پکاسو کی نمائندہ جنگ مخالف تصویر ہے

پابلو پکاسو نے 1944ء میں کیمونسٹ پارٹی آف فرانس میں شمولیت اختیار کی اور تادمِ مرگ پارٹی کا وفادار رکن رہا۔ 1945ء کے دوران پکاسو نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ "وہ ایک کمیونسٹ ہے اور اُس کی مصوری بھی کیمونسٹ ہے"۔ 1950ء میں اُسے لینن امن انعام دیا گیا۔ اُس عہد میں پکاسو اپنے سیاسی نظریات اور وابستگیوں کی وجہ سے یورپ کی متنازعہ ترین خبروں، بحثوں اور گفتگووں کا مرکز تھا۔ اُن دنوں ایک دوسرے مشہور مصور سلواڈور ڈالی کا طنز بہت مشہور ہوا تھا کہ:
"پکاسو ایک مصور ہے اور میں بھی، پکاسو سپین سے ہے اور میں بھی، پکاسو ایک کیمونسٹ ہے مگر میں نہ پکاسو ہوں نہ کمیونسٹ"۔ مشہور مصنف جان برگر نے کہیں لکھا تھا کہ "پکاسو کی کیمونسٹ وابستگی نے اُس کی صلاحیتوں کو قتل کردیا تھا."

پکاسو کے ہی دوست اور مشہور آرٹسٹ جین کاکٹیو کی ڈائری کے مطابق اُسے پکاسو نے کیمونسٹ پارٹی آف فرانس کے حوالے سے بتایا کہ "میں نے ایک خاندان میں شمولیت اختیار کی ہے، اور باقی خاندانوں کی مانند یہ خاندان بھی بکواسیات سے بھرا ہوا ہے"۔

خیر دوسرے عظیم افراد کی مانند پکاسو کی زندگی تنازعات سے بھر پور تھی۔ اُس کے کئی قریبی دوست اُس کی کیمونسٹ وابستگی کی وجہ سے اُسے چھوڑ گئے۔ اُس کے وہ دوست جو خود بھی کیمونسٹ تھے مگر اُس کی ٹراٹسکی( مشہور سٹالن مخالف کیمونسٹ رہنما) کی حمایت نہ کرنے کے غیرمصالحانہ رویے کی بنا پہ قطع تعلق کر گئے۔ لیکن پکاسو تادمِ مرگ اپنے نظریات، خیالات اور کیمونسٹ پارٹی آف فرانس کے ساتھ ڈٹا رہا۔ پکاسو اقوامِ متحدہ اور امریکہ کی پالیسیوں کا بہت بڑا ناقد تھا، خاص طور پر دوسرے خطوں کے اندر امریکی مداخلت کے خلاف۔

پابلو پکاسو کی متنوع اور کثیرالجہت زندگی کی وجہ سے اُس کی زندگی کے کئی دوسرے پہلو عموماً نظرانداز کر دئیے جاتے ہیں۔ پکاسو نے اپنی زندگی کے ابتدائی 53 سال شاعری یا دوسرے علمی کام پہ توجہ مرکوز نہیں کرتا رہا، مگر 1935ء میں اُس جزوقتی طور پہ مصوری ترک کردی اور ساری توجہ شاعری پہ مرکوز کر دی۔ اُس دوران پکاسو نے سُو سے زائد نظمیں لکھیں جن میں کچھ تو بہت مشہور بھی ہوئیں۔


Related Articles

درزی اوشو

اوشو کو عیسیٰ، گاندھی یا مدر ٹریسا جیسے لوگوں سے کوئی علاقہ نہیں تھا، اس کا اصل مقصد دنیا کی ایک چھوٹی اور بے وقوف آبادی کو اس چھلاوے کی نذر کرنا تھا، جو بس بغیر سوچے سمجھے تالیاں بجانا جانتی ہو۔

کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

کتنے قطروں کو سمندر کر گیا
کام پورا کر کے اپنے گھر گیا
تاقیامت وہ رہے گا جاوداں
کوئی نہ کہنا کہ ایدھی مر گیا

میکال حسن - لالٹین انٹرویو

ہمارے مسائل بیورو کریٹک اور سیاسی ہو سکتے ہیں مگر ہندوستان پاکستان کا سُر علیحدہ نہیں ہو سکتا۔" میکال حسن