پاکستان، جہاد اور فرینکنسٹائن

پاکستان، جہاد اور فرینکنسٹائن
فرینکنسٹائن میری شیلے کے ایک مشہور برطانوی ناول کا ایک کردار ہے۔ اس ناول کو دور جدید کا پہلا سائنس فکشن ناول بھی کہا جاتا ہے۔ ناول کی کہانی کے مطابق ایک نوجوان سائنس دان وکٹر فینکنسٹائن تجربہ گاہ میں تجربات کے ذریعے ایک عام آدمی کو مافوق الفطرت اور بے پناہ طاقت کا مالک بنانا چاہتا ہے، یہ تجربہ خیر غلطی سے ایک ایسے بھیانک وجود کو جنم دے دیتا ہے جو خود اپنے بنانے والے سائنس دان کو ہی مار دیتا ہے۔ یہی بات وطن عزیز میں کالعدم شدت پسند اور جہادی تنظیموں پر بھی صادق آتی ہے۔ یہ تنظیمیں بھی فرینکسٹائن کی مانند اب خود اپنے خالق کو کھانے کے درپے ہیں۔

اس واقعے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی بھی بڑھی اور مذاکراتی عمل پر بھی بُرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے قبل یہی لشکر اور جیش ممبئی حملوں کے ذریعے پاک بھارت امن عمل متاثر کر چکے ہیں
بھارت کے فضائی مستقر پٹھان کوٹ پر حملے کی کڑیاں بھی پاکستان میں موجود کالعدم تنظیم جیش محمد سے ملتی نظر آ رہی ہیں۔ اس ضمن میں جیش محمد کے کارکنان اور خود مولانا مسعود اظہر کی گرفتاری ایک بہت بڑی خبر ہے۔ اس واقعے کے بعد دونوں ممالک میں کشیدگی بھی بڑھی اور مذاکراتی عمل پر بھی بُرے اثرات مرتب ہوئے۔ اس سے قبل یہی لشکر اور جیش ممبئی حملوں کے ذریعے پاک بھارت امن عمل متاثر کر چکے ہیں، انہی شدت پسند تنظیموں کے منحرف دھڑے پنجابی طالبان کی صورت میں پاکستان کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں بھی کر رہے ہیں۔

پٹھان کوٹ حملے کے بعد پاکستان میں بھی بلوچستان کے دارلحکومت کوئٹہ میں ایک خود کش دھماکے میں پولیس کے 14 اہلکار جان بحق ہوئے۔ انسان پاکستان میں دہشت گردی کا شکار ہوں یا بھارت میں، ایسے حملے قابل مذمت اور ناقابل قبول ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے وزیر اعظم پاکستان نواز شریف نے بھی بیان دیا ہے کہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ یہ ایک خوش آئند بیان ہے کہ ہم بطور ریاست بجائے پردہ پوشی کے اب حقیقت پسندی سے کام لیتے ہوئے، ان تمام غیر ریاستی عناصر پر ہاتھ ڈال رہے ہیں جو ریاست کے اندر ریاست قائم کیے بیٹھے ہیں۔ کوئٹہ میں پولیو مرکز اور افغانستان میں پاکستانی سفارت خانے پر حملے یقیناً یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد جہادی گروہوں کے خلاف ہماری حکمت عملی تبدیل ہوئی ہے۔ یہ تبدیلی ہمارے اس بدلتے ہوئے قومی بیانیے کی طرف واضح اشارہ ہے جس کے تحت اب ہم جہادی رحجانات پروان چڑھانے اور دنیا کو بزور طاقت فتح کرنے کی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ یہ مثبت تبدیلی ایک پرامن معاشرے کی طرف پہلا تعمیری قدم ہے لیکن ہمیں بیانات دینے کے ساتھ ساتھ نیشنل ایکشن پلان پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے شدت پسند عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹنا ہو گا۔

ریاستی سطح پر جہاں تبدیلی کے مثبت آثار نمایاں ہو رہے ہیں، وہیں مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتیں آج بھی درپردہ ایسے گروہوں کی سیاسی حمایت اور کھلم کھلا ان کے نظریات کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔
ریاستی سطح پر جہاں تبدیلی کے مثبت آثار نمایاں ہو رہے ہیں، وہیں مذہبی اور مذہبی سیاسی جماعتیں آج بھی درپردہ ایسے گروہوں کی سیاسی حمایت اور کھلم کھلا ان کے نظریات کی تبلیغ میں مصروف ہیں۔ شریعت، خلافت اور اسلامی حکومت کے قیام جیسے نعرے آج بھی سنائی دے رہے ہیں جو ایسی تنظیموں کو عوامی ہمدردی فراہم کرتے ہیں۔ پٹھان کوٹ میں ہونے والی اس دہشت گردی کو جیش محمد جیسی تنظیم بنا کسی مدد کے اکیلے نہیں کر سکتی تھی، یقیناً انہیں چندہ، اسلحہ اور شخصی تعاون حاصل ہوا ہو گا۔ کالعدم تنظیمیں نام بدل کر انہی چہروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، چندہ جمع کر رہی ہیں، تحریری مواد تقسیم کر رہی ہیں اور دفتر کھولے بیٹھی ہیں۔ ایک تنظیم پر پابندی عائد کی جاتی ہے تو سینکڑوں اور جنم لے لیتی ہیں۔ اب کڑوا گھونٹ پیتے ہوئے ان کالعدم جماعتوں پر بھی ہاتھ ڈالنے کی اشد ضرورت ہے جنہیں کبھی دفاعی اور تزویراتی اثاثے کہا جاتا تھا۔ اگر ان تنظیموں کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو یہ تنظیمیں ریاستی حکمت عملی میں تبدیلی کو رد کرتے ہوئے پٹھان کوٹ جیسی کارروائیاں جاری رکھیں گی جن کا نتیجہ ہم سب کو بطور قوم بھگتنا پڑے گا۔

یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ القاعدہ کے اراکین گرفتار کریں لیکن افغان طالبان کو پناہ دیں، تحریک طالبان پاکستان کے لوگوں کو ماریں اور حقانی نیٹ ورک کی سرپرستی کریں، اے پی ایس حملے کے مجرمان کو سزائیں دیں اور ذکی الرحمان لکھوی، مولانا مسعود اظہر، مولوی عبدالعزیز اور حافظ سعید کو کھلی چھوٹ دیے رکھیں۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ حزب التحریر کے لوگوں کو پکڑا جائے اور تنظیم اسلامی اور اوریا مقبول جان جیسے لوگ کھلم کھلا خلافت اور داعش کی حمایت کرتے نظر آئیں۔ ہمیں تمام دہشت گرد جہادی تنظیموں، ان کے مذہبی نظریات اور ان کے ہمدردان کے خلاف بیک وقت موثر کارروائی کرنا ہو گی۔

ضرب عضب تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کشمیر فتح کرنے کے نام پر جہاد کرنے والی تنظیمیں کھلے عام کام کرتی رہیں گی۔ اسلام آباد کی لال مسجد سے داعش کو پاکستان آنے کی دعوت دی جا رہی ہو اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہے، تو پھر یہ کھیل یونہی جاری رہے گا۔ دنیا اب ہماری صفائیاں قبول کرنے کو تیار نہیں کیونکہ دنیا کو نظر آتا ہے کہ کالعدم جماعتوں کے تعلقات سیاسی و عسکری حلقوں سے بہت گہرے ہیں۔ دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی بجائے اگر ہم اپنے بچوں کو ان شدت پسندوں کا سبق پڑھنے سے روک سکیں تو یقیناً یہ ہماری بہت بڑی کامیابی ہو گی۔
پٹھان کوٹ حملے سے جو فوری مقصد ان شرپسندوں اور ان کی پشت ہناہی کرنے والی قوتوں نے حاصل کرنا تھا اس میں وہ کسی حد تک کامیاب ہوئے ہیں۔ پاک بھارت امن مذاکرات بے شک معطل نہیں ہوئے لیکن پھر بھی دونوں ممالک کے درمیان ایک تناو کی سی کیفیت ضرور پیدا ہو گئی ہے۔ دونوں ممالک جو ماضی کے کئی تلخ تجربات کی وجہ سے ایک دوسرے کے بارے میں شکوک و شبہات رکھتے ہیں یقیناً اس واقعے کے بعد ایک دوسرے پر بھروسہ کرتے ہوئے مزید ہچکچائیں گے۔

کالعدم تنظیمیں نام بدل کر انہی چہروں کے ساتھ کام کر رہی ہیں، چندہ جمع کر رہی ہیں، تحریری مواد تقسیم کر رہی ہیں اور دفتر کھولے بیٹھی ہیں۔ ایک تنظیم پر ٌپابندی عائد کی جاتی ہے تو سینکڑوں اور جنم لے لیتی ہیں۔
مولانا مسعود اظہر جسے پٹھان کوٹ حملے کی تفتیش کے لیے 'حفاظتی تحویل' میں لیا گیا ہے پہلے بھی کئی مرتبہ پاک بھارت کشیدگی کا سبب بن چکا ہے۔ جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے مولانا مسعود اظہر کو ہندوستانی جیل سے چھڑانے کے لیے 1999 میں اس کے بھائی عبدالروف اصغر کی منصوبہ بندی کے مطابق حرکت المجاہدین کے دہشت گردوں نے ایک بھارتی مسافر طیارے کو ہائی جیک کر کے کابل ائیرپورٹ اترنے پر مجبور کیا تھا۔ مسافروں کی جان بخشی کے بدلے میں مسعود اظہر، احمد عمر سعید شیخ اور مشتاق احمد زرگر کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ سال 2001 میں بھارتی پارلیمنٹ پر حملے میں بھی مسعود اظہر اور اس کی جماعت کا ہاتھ تھا ان حملوں کے بعد پاک بھارت کشیدگی بڑھ کر جنگ کے قریب پہنچ گئی تھی اور عالمی قوتوں کی مداخلت کے باعث کشیدگی کو جنگ کا رخ اختیارکرنے سے روکا گیا۔ اس واقعے کے بعد مسور اظہر کو پاکستان میں حراست میں لیا گیا لیکن ایک برس بعد لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر آزاد کر دیا گیا۔ 2008 میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کے سلسلے میں بھی مسعود اظہر پر اس حملے میں ملوث دہشت گردوں کی درپردہ مدد اور منصوبہ بندی کا الزام دھرا جاتا ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مسعود اظہر کو درپردہ کون سی طاقت کی حمایت حاصل ہے اور کیا وجہ ہے کہ اتنا کچھ ہونے کے باوجود بھی یہ اور اس کی تنظیم آزادانہ اپنے نظریات کا پرچار کر کے نوجوانوں کو شدت پسندی اور دہشت گردی پر اکساتے ہیں۔ جب بھی بھارت سے تعلقات میں بہتری آنے لگتی ہے تو یہ شدت پسند نام رہنما اور جماعتیں فوراً اس دوستی کی راہ میں روکاوٹ بن جاتے ہیں۔

غیر ریاستی عناصر کو مسلح کرنے اور ان کے ذریعے عالمی اثرورسوخ میں اضافے کا چلن اب قابل قبول اور قابل عمل نہیں رہا۔ جب ہم ان شدت پسندوں کو بنا رہے تھے اور پال پوس رہے تھے اس وقت ہم نے اپنی آنے والی نسلوں کے متعلق بالکل نہیں سوچا تھا۔ ہم بھول گئے تھے کہ دماغوں کو نفرت سے بھر کر اور ہاتھوں کو محض اسلحہ چلانے کی ترغیب دے کر ہم ایسے عفریت تیار کر رہے ہیں جو ایک دن ہمیں ہی کھانے کی کوشش کریں گے۔

مسعود اظہر حرکتہ الانصار نامی جہادی تنظیم میں کئی جہادی رسالوں کی ادارت کے فرائض بھی انجام دے چکا ہے۔ ان رسالوں سے متاثر ہو کر جہادی تنظیموں میں شامل ہونے والے نوجوان صرف مدارس کے پڑھے ہوئے نہیں تھے بلکہ یونیورسٹیوں اور کالجوں سے بھی بہت سے طلبہ شدت پسندی کی جانب مائل ہو کر جہاد پر گئے۔ اگر پڑھا لکھا طبقہ جہادی پراپیگینڈے اور انتہا پسندی کا شکار ہو کر انسانوں کی جانیں لے سکتا ہے، تو پھر یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ نیم خواندہ یا ان پڑھ افراد کتنی آسانی سے اس شدت پسندی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ مسعود اظہر پر اگر پٹھان کوٹ حملوں میں ملوث ہونے کے ثبوت ملتے ہیں تو اسے نہ صرف قانون کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیئے بلکہ اس سے تفتیش ہونی چاہیئے کہ اس گھناونے کھیل میں اس کی مدد کون سی طاقت کر رہی ہے۔

ضرب عضب تب تک کامیاب نہیں ہو سکتا جب تک کشمیر فتح کرنے کے نام پر جہاد کرنے والی تنظیمیں کھلے عام کام کرتی رہیں گی۔ اسلام آباد کی لال مسجد سے داعش کو پاکستان آنے کی دعوت دی جا رہی ہو اور ریاست خاموش تماشائی بنی رہے، تو پھر یہ کھیل یونہی جاری رہے گا۔
ارباب اختیار اگر دہشت گردی کے خاتمے میں واقعی سنجیدہ ہیں تو پھر مسعود اظہر جیسے لوگوں کو کٹھ پتلی کی طرح نچانے والے اصل افراد کو شناخت کر کے انہیں اس گھناونے اور مکروہ کھیل کو جاری و ساری رکھنے سے روکنا ہو گا۔ اسی طرح اگر بھارت امن مذاکرات میں سنجیدہ ہے تو اسے بھی ایسے عناصر کی سرپرستی بند کرنی ہو گی جو پاکستان میں امن کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ ہم کیونکہ اپنے عمل کے خود ذمہ دار اور جوابدہ ہیں اس لیے وطن عزیز میں شدت پسندی کے سرچشموں تک پنچنا اور ان کی بندش لازمی ہے۔ جن تجربہ گاہوں میں ہم نے مسعود اظہر جیسے لاتعداد فرینکنسٹائن پالے ہیں وہاں کے کئی سائنس دان اپنے اپنے مفروضے ان فرینکسٹائنوں کے ذریعے آزمانے کے لیے نت نئے تجربات کرتے رہتے ہیںـ ایسی تجربہ گاہوں کے ان سائنس دانوں کو روک کر ہی ہم فرینکنسٹائن کا خاتمہ کر سکتے ہیں، بصورت دیگر ریاستی بیانیہ تبدیل کرنے سے لے کر دہشت گردی کے خاتمے تک کی تمام کوششیں بے سود ہی ثابت ہوں گی۔ یہ شدت پسند اور کالعدم جماعتیں بندوق میں استعمال ہونے والے کارتوس کی طرح ہیں اگر بندوق اور اس کے چلانے والوں کو ان کے انجام تک پہنچا دیا جائے تو یہ کارتوس ویسے ہی ناکارہ ہو جائیں گے۔

میاں نواز شریف کو بھی یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر کارگل کی جنگ یا پٹھان کوٹ واقعہ اسی وقت کیوں پیش آتے ہیں جب ہندوستان کے وزرائے اعظم خود چل کر امن کی خواہشات لیے پاکستان آتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت دونوں ممالک کو اب اپنے اپنے اندر موجود شدت پسندوں اور آستین کے سانپوں سے جان چھڑانی ہو گی، کیونکہ نفرت کی اس جنگ میں جیت صرف شدت پسندی کی ہی ہوتی ہے، پاکستان یا بھارت کی نہیں۔ بھلے کوئی پاکستانی دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار ہو یا پھر کوئی ہندوستانی، شکست امن اور انسانیت کی ہوتی ہے۔ پیرس میں ہونے والے مصافحے اور ملاقات سے لاہور دورے تک، امن اور دوستی کے ان شگوفوں کو جیش محمد یا شیو سینا جیسی شدت پسند تنظیموں کی بادسموم سے بچانا دونوں ممالک کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ساتھ دیرپا امن قائم کرنے کے لیے اپنے اپنے فرینکنسٹائن خود تلف کرنے ہوں گے۔

Image: Manoj Kureel


Related Articles

Pakistan: A View from Germany

I did not know much about Pakistan as a country, and even less about its political situation or its civil society. I have spent far more time in Europe and West and North Africa in my life.

دلی 'آپ' کا ہوا

دلی میں دو ہزار تیرہ کے انتخابات کے بعد عام آدمی پارٹی صرف انچاس روز حکومت میں رہی، اتحادیوں سے بنی ریاستی حکومت(State Government) کو ان انچاس روز میں بے پناہ مسائل کا سامنا کرنا پڑا او

ترکی کے نقش قدم پر

کنور خلدون شاہد: پاکستان اور ترکی دونوں ممالک میں سول عسکری تعلقات کی صورت حال مختلف ہونے کے باوجود خواہ معاملہ 'سیکولرازم کے تحفظ' کا ہو یا 'قومی مفادات کے تحفظ' کا دونوں ملکوں کی افواج میں بغاوتوں کے سہولت کار افسران موجود ہیں۔