پاکستانی شہریت ترک کرنے کی شرح میں اضافہ۔مدیر کے نام خط

پاکستانی شہریت ترک کرنے کی شرح میں اضافہ۔مدیر کے نام خط

Letter-to-Editor

کسی بھی ملک کے عوام کا دوسرے ملکوں میں شہریت کی یا پناہ کی درخواست دینا، روزگار کے لیے درخواست دینا وغیرہ اس ملک میں بے روزگاری، استحصال، امن و امان کی خراب صورتحال کا اشارہ دیتے ہیں اور بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان ان مسائل سے دوچار ہے۔
کہتے ہیں کسی بھی ملک میں عوامی شعور کا اندازہ اس کی سڑکوں پر چلنے والی گاڑیوں سے لگایا جاسکتا ہے اور کسی بھی ملک کی معاشی حالت کا اندازہ وہاں کے انجیئیرز کے کام سے لگایا جاسکتا ہے اور کسی بھی ملک میں لوگوں کی صحت کا اندازہ وہاں کے شفاء خانوں کی تعداد سے لگایا جاسکتا ہے۔ اگر کسی بھی ملک کے شہری ڈرائیونگ کے دوران ٹریفک کی تمام قوانین کی پابندی کرتے نظر آئیں تو جان لیجیئے کہ یہاں کی عوام باشعور ہے اور قانون کی بالادستی بھی ہے، جس ملک میں انجئینرز فارغ نہ ہوں بلکہ اپنے اپنے شعبہ جات میں خاصے مصروف ہوں تو پتا چلتا ہے کہ ملک کی عوام خوشحال ہے اسی طرح اگر کسی ملک میں دور دور تک کوئی میڈیکل اسٹور یا شفاء خانہ نظر نہ آئے تو اس کا مطلب ہے کہ عوام کی صحت اچھی ہے اور اسے صحت افزاء آب و ہوا کہ ساتھ خالص غذائیں بھی میسر ہیں۔ ایک سب سے اہم بات جو اس تحریر کی بنیادی وجہ بھی ہے وہ یہ کہ کسی بھی ملک میں عوام کا دوسرے ملکوں میں شہریت کی یا پناہ کی درخواست دینا، روزگار کے لیے درخواست دینا وغیرہ اس ملک میں بے روزگاری، استحصال، امن و امان کی خراب صورتحال کا اشارہ دیتے ہیں اور بدقسمتی سے وطن عزیز پاکستان ان مسائل سے دوچار ہے۔ یہاں تعلیم حاصل کرنے والا نوجوان جب تعلیم سے فارغ ہوتا ہے تو زیادہ تر کی سوچ یہی ہوتی ہے کہ ملک سے باہر کوئی ملازمت حاصل کی جائے اور حیران کن بات یہ ہے کہ اکثر نوجوانوں کے والدین کی بھی یہی خواہش ہوتی ہے لیکن اس کا مطلب صرف اچھے پیسے کمانا نہیں بلکہ پرسکون ماحول میں رہتے ہوئے ملازمت کرنا یا بلا خوف و خطر اپنا کاروبار کرنا بھی ہے؛ نہ اغوا کا خطرہ ہو نہ ماردئیے جانے کا خوف ہو نا ،بھتہ دینا کا خطرہ نہ لوٹ مار کا اندیشہ ہو۔

میرے وطن کی بدقسمتی ہے کہ یہاں کے بہترین ذہن کسی اور ملک میں استعمال ہورہے ہیں یہاں مستقبل کے ڈاکٹرز، انجئینرز،سائنسدان، ٹیچرز اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے ذہین لوگ ملک سے باہر جارہے ہیں ۔ دوسری طرف مذہبی فرقہ واریت سے تنگ آکر پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں کی بھی ایک بڑی تعداد پاکستان سے نقل مکانی کررہی ہے۔ اگر سرکاری اعداد و شمار ہی کا مطالعہ کرلیا جائے کہ 1953 سے لیکر اب تک کتنے لوگوں نے پاکستانی شہریت حاصل کی اور گذشتہ چند سالوں میں کتنے لوگوں نے پاکستانی شہریت ترک کی تو یہی اعداد و شمار آنکھیں کھولنے لیے کافی ہیں ۔

ملکی شہریت ترک کرنے والوں میں شام، عراق، افغانستان، سربیا اور اریٹیریا کے بعد پاکستان چھٹے نمبر پر ہے
صرف 2014 سے اب تک روزانہ اوسط 06 سے زائد پاکستانی اپنی شہریت ترک کررہے ہیں ،امریکہ کے محکمہ ہوم لینڈ سیکورٹی کے مطابق 2002 سے 2014 کے درمیان پاکستانیوں کی جانب سے پناہ حاصل کرنے کی 4113 درخواستیں موصول ہوئی ہیں جبکہ تمام یورپ میں ان درخواستوں کی تعداد 28000 کے لگ بھگ ہے ،جبکہ اس کے برعکس 1953 سے اب تک یعنی 63 سالوں میں پاکستان نے 5606 غیر ملکیوں کو قومیت کے سرٹیفیکٹ جاری کیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق ڈائیریکٹوریٹ جنرل آف امیگریشن اینڈ پاسپورٹ کے دفاتر سے جون 2014 سے اپریل 2016 کے درمیان دوسرے ممالک کی شہریت اختیار کرنے والے 4256 افراد کو شہریت ترک کرنے کے سرٹیفکیٹس جاری کیے گئے ۔اقلیتوں کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ گزشتہ دوسال کے دوران 4300 ہندووں، سکھوں، احمدیوں اور عیسائیوں نے دیگر ممالک کے علاوہ بڑی تعداد میں یونان اور بھارت نقل مکانی کی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق روزانہ اوسطاً 73 پاکستانی بیرون ملک پناہ کی درخواستوں یا ترک شہریت کے سرٹیفکیٹس کے لیے درخوست دیتے ہیں۔ ملکی شہریت ترک کرنے والوں میں شام، عراق، افغانستان، سربیا اور اریٹیریا کے بعد پاکستان چھٹے نمبر پر ہے، اقوام متحدہ کے ہائی کمشنربرائے پناہ گزین مطابق 2014 میں ریکارڈ پاکستانیوں نے بیرون ملک پناہ کی درخواستیں دیں جن کی تعداد 26300 تھی۔

یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ پاکستان کا اس وقت اٹھارہ ممالک کے ساتھ دہری شہریت کا انتظام بھی ہے تو ایک بہت بڑی تعداد اس زمرے میں بھی موجود ہے جو عملی طور پر پاکستان سے جاچکے ہیں۔ حکومتِ پاکستان کو اس جانب سنجیدگی سے توجہ دینی ہوگی اور یہ جاننا ہوگا کہ اتنی بڑی تعدا د میں پاکستانی باشندے کیوں اپنا ملک چھوڑ کر جارہے ہیں، حکومت کو اسے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر بھی نظر ثانی کرنی ہوگی اور ایسا ماحول پیدا کرنا ہوگا کہ اس ملک میں پرورش پانے والے ذہین لوگ یہاں رہتے ہوئے ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔ہمیں تمام مذاہب اور قومیتوں کے حامل افراد کے لیے یکساں مواقع اور تحفظ کی فراہمی کو بھی یقینی بنانا ہو گا تاکہ پاکستان حقیقی معنوں میں ایک فلاحی جمہوری ریاست بنایا جا سکے۔

فقط
محمد ارشد قریشی

Related Articles

صرف ایک گیت کافی نہیں

سوال :اس گیت کے لکھنے کا خیال کیسےآیا؟ اور کیا آپ کے خیال میں اس گیت سے لوگوں میں طالبان

Rise and Rise Again

Chaudhary Aslam and Aitzaz Hasan personify our daily fight against the monster that we have been breeding for decades: the former at the level of the state and the latter at the societal level.

چھت کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔اداریہ

اسلام آباد میں کچی آبادیوں کی مسماری کا عمل عدالتی حکم پر زمین کے اصل مالکان کو ان کا حق ملکیت دلانے کے لیے ہونے کے باوجود شرمناک اور غیر انسانی ہے۔