پاکستانی ملحدین کا نفسیاتی و سماجی مطالعہ

پاکستانی ملحدین کا نفسیاتی و سماجی مطالعہ

کچھ دن پہلے ایک تحریر نظر سے گزری جس میں ایک پاکستانی ملحد نے ایک معتدل مزاج عالم سے سوال پوچھا کہ اسے بہت کوشش کے بعد بھی خدا کے وجود کی کوئی عقلی دلیل نہیں ملی۔ لیکن اس کے دل میں یہ خوف آتا ہے کہ کہیں واقعی خدا ہوا تو اس کے ساتھ قیامت والے دن کیا سلوک ہوگا۔ اس معتدل مزاج عالم نے اس ملحد کو تسلی دی کہ اللہ تعالی آپ کو معاف فرما دیں گے کیوں کہ آپ نے اپنی پورے خلوص دل سے اسے ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔ یہ تحریر ذرا مقبول ہوئی تو فورا ہی اس کی مذمت میں کافی بڑے مذہبی لوگوں نے لکھا۔لیکن حمایت یا مذمت سے زیادہ دلچسپ چیز یہ سوال خود ہے۔ پہلی نظر میں یہ آپ کو خدا کی تلاش میں سرگرداں ایک مخلص شخص کا سوال لگتا ہے جو پوری علمی دیانت داری کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ خدا نہیں ہے۔ لیکن ذرا غور کرنے کے بعد آپ کو ایک تضاد نظر آتا ہے، اگر ایک شخص عقلی طور پر اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ خدا نہیں ہے پھر اسے ایک غیر عقلی خوف کیوں محسوس ہورہا ہے؟ ایسی ہی بات جون ایلیا نے بھی محسوس کی تھی شاید

ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگر
سوچتا ہوں تیری حمایت ہیں
اس سوال کو آپ تنہا دیکھیں گے تو شاید کچھ سمجھ نہ آئے لیکن آپ اس سوال کو سماجی اور نفسیاتی تناظر میں دیکھیں گے تو چیزیں واضح ہونا شروع ہوں گی۔ اس کام کے لیے جب ہم پاکستانی ملحدین کی تحریروں، پوسٹوں، کمنٹس،اور انٹرویوز کی رد تشکیل (Deconstruction) کرتے ہیں تو ہمیں کچھ Pattern نظر آنا شروع ہوتے ہیں۔

خدا پاکستانی ملحدین کے لیے کوئی علمی مسئلہ نہیں ہے۔ آپ کو معدودے چند لوگ ایسے ملیں گے جو فلسفہ اور سائنس کی گہری سمجھ کے بعد اور اس کی بنیاد پر خدا کے وجود سے عقلی انکار کرتے ہیں۔ پاکستانی ملحدین سائنس، فلسفہ اور ٹیکنالوجی کی تعریفیں اور حوالے صرف بحث برائے بحث اور طاقت کے حصول کے لیے تو دیں گے۔ اپنی ذاتی اور سماجی زندگی میں بہتری کے لیے کوئی ملحدبھی سائنس، فلسفہ اور ٹیکنالوجی پر سنجیدہ کام کرتا نظر نہیں آئے گا۔ کسی ملحد کو نئی سائنسی تھیوری دینے، نیا فلسفہ بنانے اور نئی ٹیکنالوجی بنانے سے کوئی روکتا نظر نہیں آئے گا۔ لیکن ہمارے ملحدین سوشل میڈیا پر رفتح کے جھنڈے گاڑنے کی کوشش کرتے نظر آئیں گے۔اگر یہ پہلے کم علم اور کم عمل مذہبی تھے جنھیں مذہبی و سماجی اداروں نے دبا کر رکھا تھا تو اب یہ کم علم اور کم عمل ملحد ہیں۔ جو ہرشخصی، مذہبی و سماجی پابند ی اور ہر خود ساختہ منزل و راستہ سے آزاد ہوکر یہ سوچ رہے ہیں کہ اب کیا کریں۔ خدا کی موت کا اعلان تو کرچکے ہیں لیکن اب بھی اس کے خود ساختہ مزار پر مجاور بنے یہ دہائیاں دے رہے ہیں
کہ وہ مر گیا جوتھا ہی نہیں

کیونکہ پہلے تو یہ معلوم تھا کہ ساری خرابیوں کی جڑ خدا اور مذہب ہے لیکن ا ب تو دونوں کو ہی ہم نے دفنا دیا پھر بھی خدا نما نیا انسان کیوں نہیں پیدا ہوا۔ اب بھی وہی وجودی مسائل ہیں، وہی کائناتی تنہائی کا احساس، وہی بے معنویت و لغویت ہے، وہی پہچان کی تلاش، وہی تبدیلی کے طوفان میں کچھ مستقل بنیادوں کی تلاش۔ کھنڈر کو بھی ڈھادیا لیکن نئی عمارت کی تعمیر کا بھی نہیں پتا۔ان مسائل کے پیچیدہ حل کی تلاش کیونکہ بہت دشوار اور صبر آزما عمل ہے۔ لیکن انھیں تو اپنے قومی مزاج کے مطابق فوری اور کلی حل چاہیے۔ اسی لیے بہتر ہے ناکامی کا الزام مذہب اور خدا پر ڈالو اور سراب کو زندہ رکھو۔ الحاد ان کی زندگی میں آزادی، مادی ترقی اور خوشی نہیں لاسکا تو اسے بھی انھوں نے مذہب کا قصور قرار دے کر ایک جنگ برپا کردی۔ ایک طرف سے ہم سنتے ہیں کہ مذہبی حکمرانی تمام مسائل کا حل ہے اس کے مقابل یہ نعرہ لگایا گیا کہ الحاد ہی تمام مسائل کا علاج ہے۔ اور خالی خولی باتیں اور تبلیغ قومی مزاج کو راس آتی ہے اسی لیے وہی کررہے ہیں۔

تو پاکستانی ملحدین کی نفسیاتی کیفیات اور امنگوں کی جڑیں ہمارے اپنے سماج میں ہی ہیں۔ یہ کہنا علمی طور پر درست بات نہیں ہوگی کہ یہ لوگ بھٹکے ہوئے، سازشی اور بیرونی ایجنڈے پر کام کررہے ہیں۔ کیونکہ یہ بات مذہبی و جہادی تنظیموں پر زیادہ درست لاگو ہوتی ہے۔ ایک پاکستانی ملحد اپنی نفسیاتی کیفیات اور امنگوں میں ایک شدت پسند پاکستانی مذہبی سے انیس بیس کا ہی فرق رکھتا ہے۔یہ الگ بات کہ ہمارے ہاں یہ ابھی شدت پسندوں کی طرح اکثریت،لمبی تاریخ اور منظم ادارے نہیں رکھتے اسی لیے طاقت کا ستعمال نہیں کرتے۔ دونوں ہی ایک پسماندہ اور زوال یافتہ قوم کے فرد ہیں جو زمینی حقائق کو بھلا کر یہ پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام مسائل کا حل ان کے نظریے کی مکمل کامیابی اور دوسرے کی مکمل شکست میں ہے۔ شدت پسند بزور طاقت پورے معاشرے کو روایت کے قید خانے میں قید کرنا چاہتے ہیں اور ملحد زبانی یہ ثابت کرنے پر تلے ہیں کہ ایک بار کچے مکان سے نکلو اور بارش میں بیٹھ کر سوچتے ہیں کیا کرنا ہے۔ پچھلی دو صدیوں سے یہی دیکھا جارہا ہے کہ ہر نظریہ اور تبدیلی ہمارے ہاں بڑی پرکشش انداز سے پیش کی جاتی ہے لیکن وہ دور رس منفی اثرات چھوڑ کر جاتی ہے۔ کلونیل دور کی جدیدیت اور بعد کی اشتراکیت ایک عمدہ مثال ہیں۔ اس دور کے جدت پسند اور مارکسسٹ آج کے ملحدوں سے نفسیاتی طور پر مختلف نہیں ہیں۔

ردعمل کی نفسیات کا ایک نتیجہ یہ بھی نکل رہا ہے ہے کہ روایت کو روندے بغیر آگے بڑھنے کا تصور ہی موجود نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہنا بہتر ہوگا کہ سرعام روایت کی تذلیل کو مشغلے کے طور پر اپنا لیا گیا ہے۔ انسانی تجربہ یہی بتاتا ہے کہ روایت سے بالکل کٹ کے آگے بڑھنا ناممکن ہے۔ انسانی اجتماعی شعور روایت سے کٹی ہوئی چیز کو مکمل طور پر تسلیم نہیں کرسکا۔ موجودہ مغربی سماج بھی خود کو تین ہزار سالہ روایت سے جوڑنا پسند کرتا ہے۔ وہ ابھی تک 17 صدی کے آزادی، جمہوریت، اور ترقی کے ہیومنسٹ آئیڈیلز کو سامنے رکھتا ہے۔ اب یہ بات ایک الگ موضوع ہے کہ کیا روایت کی تحقیر کا رویہ افادیت پسندی کی وجہ سے آیا ہے یا مرعوبیت کی وجہ سے۔ قومی مزاج کی اور اجتماعی نفسیات کے دو انتہائیں یہاں بھی نظر آتے ہیں جمود پرست تہذیبی نرگسیت اور دوسری غیر ضروری روایت شکنی۔

پاکستانی ملحدین کی ایک عادت ہر وقت گلے شکوے اور روتے رہنا بھی ہے۔ مان لیا آپ نے ساری زنجیروں کو توڑ دیا ہے لیکن اب بھی ان زنجیروں کی یاد میں آنسو کیوں بہا رہے ہیں آگے بڑھیے اور وہ کیجئے جو مذہب اور سماج نےآپ کو ساری زندگی نہیں کرنے دیا گیا۔ لیکن ایسا نہیں ہورہا یہ ملحدین پہلے بھی زندگی سے بیزار کڑھتے رہتے تھے اب بھی زندگی سے بیزار کڑھتے رہتے ہیں۔ یہ ایک آزاد انسان کی طرح اپنی خوشیوں اور مقاصد کا تعین کرکے زندگی نہیں گزار رہے۔ سوشل میڈیا ہو یا حقیقی زندگی پاکستانی ملحدین خدا اور مذہب کے حوالے سے آگے نہیں بڑ پاتے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے یہ رد کرنا ان کی پہچان بن گیا ہے اس سے باہر ان کی کوئی پہچان نہیں ہے۔ شاید پہچان اور وابستگی کی یہی تلاش آخر عمر میں اکثر پاکستانی ملحدین کو اپنے آباؤ اجداد کے مذہب کی طرف لے آتی ہے۔ اس سلسلے کی ایک شاندار مثال مشہور مارکسسٹ اور ایکٹوسٹ اقبال احمد کی موت کا واقعہ ہے جو ان کے ہیومنسٹ دوست اور مشہور سائنس دان پرویز ہود بھائی نے بیان کیا۔ ہود بھائی کہتے ہیں بستر مرگ پر اقبال احمد کے پاس ایک خاتون سورہ یاسین پڑھ رہی تھیں۔ میں نے اس خاتون کو منع کرنے کی کوشش کی تو اقبال احمد نے مجھے روک دیا کہ اسے پڑھنے دو۔ میں نے کہا اقبال کیسی باتیں کررہے ہو تم مسلمان نہیں ہو اور ان باتوں کو نہیں مانتے۔ تو اقبال احمد نے کہا نہیں میں مسلمان پیدا ہوا تھا اور مسلمان ہی مروں گا یہی میری پہچان ہے۔


Related Articles

ہمیں خود سے خطرہ ہے

ہمیں ملک پرستی کے بجائے ملک سازی پر دھیان چاہیےکیونکہ سخت گیر قسم کی ملک پرستی ایک خراب چیز ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح مذہب پرستی بہت سی بربادیاں لایا کرتی ہے

چلو انقلاب لاتے ہیں

انقلاب کے موضوع پر گزشتہ برس ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران میں نے حاضرین سے جب یہ پوچھا کہ ’آپ میں سے کتنے لوگ سول نافرمانی پر یقین رکھتے ہیں؟‘ تو کوئی ایک فرد بھی اس سوال کا جواب ہاں میں دینے پر آمادہ نہیں تھا۔

Selective Muslim Outrage & Social Identity Theory

As I write this, news of the IDF (Israel Defense Forces) bombing UN protected schools in Gaza is making the