پاکستان میں بھارتی مداخلت، 'وار' فلم کی ڈی وی ڈی بطور ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے گی۔ سرتاج عزیز

پاکستان میں بھارتی مداخلت، 'وار' فلم کی ڈی وی ڈی بطور ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے گی۔ سرتاج عزیز
یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

اسلام آباد: مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے اقوام متحدہ میں ہندوستانی مداخلت کی فائل جمع کرا دی ہے۔ خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔ خبرستان ٹائمز بعدازخرابی بسیار اس فائل کی ایک نقل صاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا ہے۔ اس فائل کے جائزے سے چشم کشا انکشافات سامنے آئے ہیں۔ فائل میں موجود ڈی وی ڈی کے مطابق ایک ہندوستانی ایجنٹ 'رمل' پاکستان میں ہندوستان کے جاسوس کے طور پر کام کر رہا ہے۔ ان ثبوتوں سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ 'رمل' پاکستان میں ٹی ٹی پی کے مختلف حملوں کی سرپرستی بھی کرتا رہا ہے۔

خبرستان ٹائمز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اس فائل میں دستاویزی شہادتوں کی بجائے تمام ثبوت ایک ڈی وی ڈی کی صورت میں مہیا کر دیے گئے ہیں۔
دو گھنٹے بیس منٹ دورانیے کی اس ڈی وی ڈی سے پاکستان میں ایک اور ہندوستانی جاسوس 'لکشمی' کے سرگرم ہونے کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ آئی ایس آئی کے مطابق 'لکشمی' کا اپنی موت سے قبل ایک پاکستانی سیاستدان اعجاز خان کے ساتھ مراسم تھے اور لکشمی نے چند قیمتی راز ہندوستان کو منتقل کیے تھے۔

آئی ایس آئی نے مختلف کارروائیوں میں دستوں کی قیادت کرنے والے میجر مجتبیٰ رضوی کا بیان بھی نقل کیا ہے۔ میجر مجتبیٰ رضوی کے مطابق لکشمی اور رمل بدنام زمانہ ہندوستانی خفیہ ایجنسی 'را' کے ہرکارے تھے۔ متدد آپریشنز میں حصہ لینے والے فیلڈ آفیسر احتشام کا کہنا تھا کہ رمل اور لکشمی کے گھر پر چھاپے کے دوران ہندوستانی پاسٌورٹ، الطاف حسین کی 'قابل اعتراض حالت میں' تصاویر، پان پراگ اور آزاد بلوچستان کے نقشے برآمد ہوئے۔

خبرستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے پاکستان میں ہندوستانی ہائی کمشنر ڈاکٹر ٹی سی اے راگھون نے پاکستانی دعووں کی سختی سے تردید کی اور پاکستان کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد کو ایک بھونڈا مذاق قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا "یہ کس قسم کا مذاق ہے؟ آپ کیا سمجھتے ہیں ثبوتوں کی فائل میں فلم 'وار' کی کہانی لکھ دینے سے پاکستان میں ہندوستانی مداخلت ثابت ہو جائے گی؟" ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔

ہندوستانی ہائی کمشنر نے اس فائل کے جواب میں فلم ایل او سی، مشن کارگل اور ویرزارا کی ڈی وی ڈیز اقوام متحدہ کے دفتر میں جمع کرانے کا بھی عندیہ دیا۔
نامہ نگار خبرستان ٹائمز کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی فائل میں موجود افراد رمل، لکشمی، میجر مجتبیٰ رضوی، اعجاز خان اور احتشام دراصل آئی ایس پی آر کی معاونت سے تیار ہونے والی بلاک بسٹر پاکستانی فلم 'وار' کے کردار ہیں۔

خبرستان ٹائمز نے ٹویٹر پر میجر جنرل عاصم باجوہ سے اس فائل میں مہیا کیے جانے والے ثبوتوں سے متعلق سوال کیا، میجر جنرل کی جوابی ٹویٹ کے مطابق، "ثبوتوں کی فائل وار فلم کی پروڈکشن شروع ہونے سے قبل تیار کی گئی تھی اور ان دونوں میں مماثلت اتفاقیہ ہے۔"

وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے خطاب کے دوران ثبوتوں کی فائل میں شامل وار فلم کی وی ڈی پروجیکٹر پر چلائی جائے گی اور جلد ہی اس کا تھری ڈی ورژن بھی اقوام متحدہ میں جمع کرایا جائے گا۔ پریس ریلیز کے مطابق ثبوتوں کی ہر فائل کے ساتھ ڈھائی سو گرام پاپ کارن اور 500 ایم ایل کوک بھی دی جائے گی۔

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔

Related Articles

"ٹرمپ کی جیت؛ عالمی جہادی تنظیموں کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار

خبرستان ٹائمز: دنیا کی تمام جہادی تنظیموں کے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے، "وللہ ہم ایسا چاہتے تھے مگر قسمے ہم نے ایسا کیا نہیں۔"

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

خبرستان ٹائمز: بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

'فوج کے ہاتھوں پٹنے والے قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں' آئی ایس پی آر کا انکشاف

خبرستان ٹائمز: میجر جنرل عاصم باجوہ نے پارلیمان سے موٹروے پولیس پر پابندی عائد کرنے کے لیے قانون سازی کرنےاور تمام فوجی ڈرائیوروں، سابق فوجیوں، فوجی افسران کی بیگمات، ہمسایوں اور خانساماوں کے لیے چالان فری ڈرائیونگ لائسنس جاری کرنے کا مطالبہ کیا۔