پاکستان میں عشق و محبت کی بدلتی ہوئی اخلاقیات

پاکستان میں عشق و محبت کی بدلتی ہوئی اخلاقیات
خاموشی محبت کی ثقافت تھی، لیکن اس خاموشی کے پردے میں موجزن جذبات کا بیکراں طوفان پرانی اخلاقیات کی شکستہ ناؤ کو ریخت کے تھپیڑوں کی زد پر رکھے ہوئے تھا۔
"میڈا عشق وی تو میڈا یار وی تو" دھیمی آواز میں بجتا ہوا، پٹھانے خان کی کہنہ آواز میں فرید کا صوفیانہ کلام، محبوب کے لئے دین، ایمان، کعبہ، قبلہ، فرض فریضے اور حج زکوۃ کے استعاروں کی تمہید باندھ کر سرخی، بیڑہ، پان، حسن، شرم اور بھاگ سہاگ جیسی معاملہ بندیوں تک پہنچ رہا ہے۔ مذہبی استعاروں کو چھان لیجیے تو زمینی محبت کا ایک سادہ اور دل پذیر گیت سامنے آ جائے جو عاشق کے دلِ بے قرار کی سپردگی کی چاہ کا بے طرح اظہار ہے۔ معبود کے پردے میں معشوق سے والہانہ عشق کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

زرعی دور کے سادہ دل کسانوں کی رنگا رنگ دیہاتی فضا، امن و عافیت سے عبارت، گھر بار کی مرکزیت پر مبنی، شادی بیاہ، تولید و پرورش، مضبوط خانگی رشتوں اور رسموں رواجوں میں گندھی ہوئی دل آویز فضا، جس میں ہمارے اجداد کی اخلاقی اقدار پروان چڑھیں۔ اس معاشرے کی بقا، اور اس معاشرے میں فرد کی بقا کا لازمی تقاضا یہ تھا کہ شادی سے پہلے اور بعد کے غیر ازدواجی جنسی تعلقات پر پابندی عائد کی جائے۔ چنانچہ دوشیزگی و کنوار پن مقدس اور عشق و محبت کے تعلقات برائی قرار پائے۔ زرعی دور میں محبت کی قابلِ قبول اخلاقیات بہن کے لیے غیرت، بیٹی کے لیے حفاظت اور بہت ہو گیا تو محبوبہ کے لیے پاکیزگی اور عزت کے جذبے سے آگے نہیں بڑھتی تھیں۔

لیکن وہ نغمہءِ عشق جو اوائل جوانی کی ہمرکاب جسمانی تبدیلوں کے حیرت کدہ سے گزرتے ہر نوجوان کی روح کے تاروں کو جھنجھوڑنے لگتا ہے، محبت کے اس گیت نے اپنا راستہ صوفیانہ کلام میں ڈھونڈ لیا۔ "اول حمد ثناء الہی" کا راگ الاپ کر آغاز لینے والی داستانِ عشق، جوانی کی گناہ کرنے کی لذت اور بڑھاپے کی نصیحت کرنے کی رغبت دونوں کے لیے بیک وقت تسکین کا سامان بن گئی۔ زندگی کی طرح محبت بھی اپنا راستہ خود ڈھونڈ لیتی ہے سو عشقِ حقیقی کے پردے میں "سچی" محبت نے مرزوں اور رانجھوں کو ہیرو اور کیدو بزرگواروں کو ولن کا روپ دے ڈالا تاہم آشنائی اور یاری کے رشتے معتوب ہی رہے۔ جلد ہو جانے والی شادی یا تو محبت کے حصول کا ذریعہ بن جاتی، یا نہ بھی بنتی تب بھی خانگی زندگی کی نت نئی ذمہ داریاں اور کثرتِ اولاد کی خواہش زیادہ عرصہ تک عاشقوں کو آہیں بھرنے نہ دیتی۔

اکیسویں صدی کمیونیکشن انقلاب کی نقیب بن کر آئی تو محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے کوچہءِ یار میں دن سے رات کرنے والوں کی بن آئی۔
اخلاقیات کی بنیاد آسمانی نصیحتوں پر کم اور زمینی حقیقتوں پر زیادہ ہوتی ہے۔ وقت و حالات اخلاقیات کو بدل دیتے ہیں اور دیہاتوں کی نسبت شہروں میں وقت بہت تیزی سے بدلتا ہے۔ نوے کی دہائی کے آخری برسوں میں جب ہماری اس وقت کی نئی نسل عنفوانِ شباب کے ہیجان خیز مراحل سے گزر رہی تھی تو اس وقت محبت کے بارے میں مڈل کلاس اخلاقیات زرعی دور کی پابندیوں کی باقیات کو نبھانے میں کوشاں تھی، باپ کی گھر واپسی پر ٹیپ ریکارڈر اور ریڈیو بند کر دئیے جاتے تھے، ٹیلی ویژن ڈراموں میں کبھی کبھار ہونے والا محبت کا اظہار ایک ساتھ بیٹھے خاندان کے بزرگوں اور نوجوانوں کے لیے یکساں بے سکونی اور خجالت کا باعث بن جاتا تھا۔ خاموشی محبت کی ثقافت تھی، لیکن اس خاموشی کے پردے میں موجزن جذبات کا بیکراں طوفان پرانی اخلاقیات کی شکستہ ناؤ کو ریخت کے تھپیڑوں کی زد پر رکھے ہوئے تھا۔ جذبات پر روک لگانے کی کوئی صورت نہ تھی۔ جب لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے یکساں اور لازمی تعلیم کا حق تسلیم کر لیا گیا تو سولہ سترہ سال کی عمر میں شادی کا سوال ہی ختم ہو گیا۔ لڑکے اور لڑکیوں کے لیے نقل و حرکت اور آزادانہ فیصلوں کی گنجائش برھنے لگی تو رومانی تعلق کے لیے بھی برداشت بڑھی۔ چنانچہ چھتوں سے پتھر باندھ کر محبت نامے پھینکے جانے لگے اور ٹیلی فونوں پر رانگ نمبروں کی گھنٹیاں گونجنے لگیں۔ مائیں بیٹیوں کی ہمراز بننے لگیں اور باپ اور بھائی صرفِ نظر برتنے لگے۔ عشق نے جوانیوں کو فتح کرنا شروع کر دیا تھا لیکن بے حجابانہ اظہار اور سرِعام ملاقاتیں تب بھی قابلِ دست اندازی جرائم تھے۔

اکیسویں صدی کمیونیکشن انقلاب کی نقیب بن کر آئی تو محبوب کی جھلک دیکھنے کے لیے کوچہءِ یار میں دن سے رات کرنے والوں کی بن آئی۔ کیبل اور انٹرنیٹ نئے انداز اور نئی آزادیوں کے بیج بونے لگے۔ ہندوستانی پروگرام دیکھ کر آشکار ہوا کہ محبوب کو بھائی یا کزن کی بجائے بوائے فرینڈ کہہ کر بھی متعارف کروایا جا سکتا ہے۔ لیکن تکمیلِ تمنا کی منزل ابھی بھی چھپ چھپ کے ملاقاتیں یا وہ شادی ہے جس کی اوسط عمر شہروں میں تیس برس سے کچھ ہی کم ہے۔ پاکستانی شہری مڈل کلاس مخالف جنسوں کی باہمی دوستیوں کی عادی ہو تو رہی ہے لیکن "لیو ان ریلیشن" ابھی بھی گناہِ کبیرہ ہے۔ پیار کرنے والوں کو قبول تو کر لیا گیا ہے لیکن گھروں میں داخل نہیں کیا گیا۔ عورتیں ہر شبعہءِ زندگی میں مردوں کے مساوی حیثیت کے حصول پر پوری طرح کمربستہ ہیں لیکن ان کے لیے گھر کی مرکزیت ابھی بھی قائم ہے۔ حجاب و نقاب اور ڈاڑھی کے مذہبی استعارے مغربیت کی رد میں مقبول ہو رہے ہیں لیکن پرانی نسل کے لیے یہ چراغِ روایت کی آخری ہچکیاں ہیں کیونکہ اخلاقیات اقتصادیات کے آگے ہمیشہ ہتھیار ڈالتی آئی ہے۔
Jazib Roomi

Jazib Roomi

Jazib Romi is working as a Forensic Scientist in Punjab Forensic Science Agency. His areas of interest are Philosophy, sociology, Politics, History and Literature. His writings are an attempt to point out social issues and a contribution towards collective consciousness.


Related Articles

Universities of Terrorism

Pakistan's literacy rate is officially 57% which is still one of the lowest in the world while the out of school population in Pakistan amounts to the second largest.

Farida Apa Ke Naam

Chintan Girish Modi It was a lovely Thursday evening in Mumbai. I had just submitted the final assignment for my

Legalizing the illegal: Protection of Pakistan Ordinance

The laws in a civilized society are promulgated in order to guide its citizens rather than to veil the state sponsored crimes.