پاکستان میں کوٹہ نظام کی ضرورت

پاکستان میں کوٹہ نظام کی ضرورت

عدنان عامر کی یہ تحریر اس سے قبل انگریزی روزنامے دی نیشن میں بھی شائع ہو چکی ہے۔ مصنف کی اجازت سے اس کا اردو ترجمہ لالٹین پر شائع کیا جا رہا ہے۔

مترجم
شاہ جہان زہری

بد قسمتی سے 68 سال گزرنے کے باوجود پاکستان کی مختلف وفاقی اکائیاں سماجی و معاشی لحاظ سے ایک دوسرے سے ہم آہنگ نہیں ہوسکیں۔ اسی اونچ نیچ کے سبب کچھ لوگ دوسرے لوگوں کی نسبت ذیادہ مراعات یافتہ ہیں۔ یہ مراعات محض پُرآسائش طرزِ زندگی تک ہی محدود نہیں بلکہ تعلیمی سہولیات اور اعلیٰ تعلیم تک رسائی بھی اسی طبقے کے لیے مخصوص ہے۔ اسی خلیج کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں کوٹے کا نظام متعارف کرایا گیا تاکہ ملک کے شہریوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جاسکیں مگر بہت سے لوگ اس نظام پر غیر منطقی انداز میں غیر مدلل تنقید کرتے دکھائی دیتے ہیں۔

اس کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ لوگ اپنے جیسے پسِ منظر کے حامل افراد سے مقابلہ کر سکیں
پاکستان میں تمام وفاقی نوکریاں ایک مخصوص کوٹے کے تحت تقسیم کی جاتی ہیں۔ اعلیٰ تعلیمی کمیشن (ایچ ای سی) کے وظائف بھی اسی نظام کے تحت دیئے جاتے ہیں۔ یہ نظام بنیادی طور پر مختلف وفاقی اکائیوں اور وفاق کے ماتحت قبائلی اور شمالی علاقہ جات کی آبادی کے تناسب سے وضع کیا گیا ہے۔ یہ نظام ہمسایہ ملک ہندوستان سمیت دنیا بھر کے اُن تمام ممالک میں رائج ہے جو سماجی اور معاشی حوالوں سے ترقی پذیر ہیں اور عدم مساوات کا شکار ہیں۔

کوٹہ نظام کا اہم فائدہ یہ ہے کہ یہ ملک کے لوگوں کو روزگار اور تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کرتا ہے۔ مثال کے طور پر کراچی اور لاہور کا تعلیمی معیار ضلع چاغی کے تعلیمی معیار سے کئی گنا بہتر ہے۔ اس کے برعکس کوٹہ نظام ہی وہ واحد نظام ہے جس کے تحت ضلع چاغی کو دوسرے ترقی یافتہ اضلاع سے مقابلہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔

یہ بات وضاحت طلب ہے کہ برابری کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مختلف پسِ منظر رکھنے والے تمام لوگوں کو یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ اس کا مطلب درحقیقت یہ ہے کہ مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ لوگ اپنے جیسے پسِ منظر کے حامل افراد سے مقابلہ کر سکیں یعنی اس نظام کے تحت غیر ترقی یافتہ یا کم ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں کو ترقی یافتہ علاقوں کے لوگوں کے برابر موقع دیا جاتا ہے۔

کوٹہ نظام کے مخالفیں کا یہ دعویٰ ہے کہ پاکستانی افسر شاہی اور تعلیمی اداروں کی تمام تر خامیوں کا باعث مروجہ کوٹہ نظام ہے جس کے سبب نااہل لوگوں کا چناؤ کیا جاتا ہے۔ یہ محض ایک متعصبانہ اور من گھڑت دعویٰ ہے کہ کوٹہ نظام کے تحت نااہل لوگوں کا چناؤ ہوتا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ کوٹہ نظام کے تحت سامنے آنے والے لوگوں کی کارکردگی اگرچہ نام نہاد اہل لوگوں کے مقابلے میں بہترین نہیں تو بہتر ضرور ہے۔

کوٹہ نظام کے برعکس جس نظام کا ذکر کیا جاتا ہے وہ اہلیت کی بنیاد پر انتخاب کا نظام ہے۔ یہ ایک ایسا نظام ہے جس میں کسی بھی فرد کے پسِ منظر کو بالائے طاق رکھ کراسے تعلیم یا روزگار کی فراہمی میں یکساں موقع دیا جاتا ہے۔ اسی لیے کوٹہ نظام کے مخالفیں کوٹے کے خاتمے پر زور دیتے ہیں۔ پاکستان جیسے معاشرے میں اہلیت کی بنیاد پر انتخاب کے نظام کا رواج ایک خیالی پلاؤ کی مانند ہے اور محروم طبقے کے حقوق ہڑپنے کے لیے فقط ایک خوش نما لفظ ہے۔

کوٹہ نظام کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ تو بنایا جاتا ہے لیکن جب بات اس نظام پر شفاف طریق کار سے عمل درآمد کرنے کی آتی ہے تو اس مطالبے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔
یہ نظام اس وقت تک قابلِ قبول نہیں ہوسکتا جب تک پاکستان کے تمام 146 اضلاع میں یکساں تعلیمی نظام متعارف نہیں کرایا جاتا جو مستقبلِ قریب میں تقریباً ناممکن ہے۔

کوٹہ نظام کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ تو بنایا جاتا ہے لیکن جب بات اس نظام پر شفاف طریق کار سے عمل درآمد کرنے کی آتی ہے تو اس مطالبے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ ترقی یافتہ علاقوں کے لوگ اپنا اثرو سوخ استعمال کرکے پسماندہ علاقوں کی مختص شدہ کوٹہ پرتعنیات ہوتے ہیں۔ مثلاً بعض سرکاری ملازمیں، جن کا تعلق پنجاب اور خیبر پختونخوا جسیے نسبتاً ترقی یافتہ صوبوں سے ہے، نے اپنے رشتہ داروں کو بلوچستان کے جعلی ڈومیسائل سرٹیفیکٹ جاری کیے ہیں جو، سی ۔ایس۔ ایس میں بلوچستان کے کوٹے سے کامیاب ہوتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اس نظام کو شفاف طریقے سے رائج کرکے، اس میں موجود تمام تر خامیوں کا خاتمہ کرکے، اسے ان لوگوں کے لیے مفید بنایا جائے جن کے لیے درحقیقت یہ تشکیل دیا گیا ہے۔

نیز، کوٹہ نظام کی ضروت پر نظر ثانی کی جانی چاہیئے تاکہ غیر ترقی یافتہ علاقوں کے سماجی اور معاشی استحکام کی رفتار میں تیزی لائی جاسکے۔ موجودہ کوٹہ نظام کے تحت صوبوں کی ترقی کے بجائے ان کی آبادی کی تناسب کے مطابق ان کو حصہ ملتا ہے۔اس کوٹہ نظام کو ساتویں این۔ ایف۔ سی ایوارڈز کی طرز پر تشکیل دیا جانا چاہیئے جس میں صوبوں کو ان کی آبادی کے علاوہ ان کی پسماندگی کی بنیاد پر حصہ ملتا ہے۔ یعنی بلوچستان، فاٹا، اور دیگر غیر ترقی یافتہ علاقوں کا کوٹہ بڑھایا جائے اور دوسرے ترقی یافتہ علاقوں کا کوٹہ کم کیا جائے۔

یہ بات واضح ہے کہ کوٹہ نظام کوئی مستقل حل نہیں لہذا اس سے متعلق ایسا تجزیہ نہیں کیا جاسکتا ہے کہ یہ مذکورہ مسائل کا حل ہے۔ لیکن یہ نظام اس وقت تک لاگو ہونا چایئے جب تک پاکستان کے تمام صوبے اور خطے تعلیمی، معاشی و سماجی حوالوں سے ہم آہنگ اور یکساں نہیں ہوتے۔ اس کے لیے کتنا وقت درکار ہوگا، اس کا اندازہ تو نہیں لگایا جاسکتا البتہ پاکستان میں ترقی کے حوالے سے اگر پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میں مشرقی گزرگاہ کو دی گئی "ترجیح" کو دیکھا جائے، تو اندازہ ہوگا کہ یہ جلد ممکن نہیں۔

کوٹہ نظام کے ناقدین کو اس کی مخالفت میں اپنی توانائی صرف کرنے کی بجائے ملک بھرمیں یکساں ترقی کے عمل میں تیزی لانے پر زور دینا چاہیئے، ملک میں یکساں ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا ملک کو مزید انتشار کی جانب لے جا کر مستقبل میں اسے غیر مستحکم کرنے کے مترادف ہے۔
Adnan Aamir

Adnan Aamir

Author is the Editor of The Balochistan Point, Balochistan’s only English-Language online newspaper. He can be reached at Adnan.Aamir@Live.com. Follow him on Twitter.


Related Articles

مذہبی انتہا پسند اور ہمارے کوتاہ بین فیصلہ ساز

جھنگ، کبیر والا، خانیوال، خیرپور اور اب کراچی کے مختلف حلقوں میں کھڑے کیے گئے راہ حق پارٹی کے 250 سے زائد امیدوار یہ سمجھانے کے لیے کافی ہیں کہ انتہاءپسند عناصر اب اپنے مقاصد کی تکمیل کے لیے بلٹ کے ساتھ ساتھ بیلٹ کو بھی بطور ہتھیار استعمال کررہے ہیں۔

سقوط ڈھاکہ اور امریکی کردار (آخری قسط)

پہل پاکستان نے کی۔ اسرائیل کے انیس سو سڑسٹھ کے مصر پر حملے کی طرز پر ابتدائی برتری لینے کے لئے پاکستان نے تین دسمبر انیس سو اکہتر کو آپریشن چنگیز خان لانچ کیا جس کا ہدف بھارتی ایئر بیس تھے۔

نقصان سب اٹھائیں گے

موجود ہ سیاسی بحران میں تحریک انصاف ، عوامی تحریک اور نوازشریف تینوں ہی کامیاب نہیں ہوں گے۔ عمران خان صاحب آزادی مارچ میں بہت ساری خامیوں کے ساتھ آئے ہیں