پتھر کی زنجیر

پتھر کی زنجیر
پتھر کی زنجیر
کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
جنبش کا احساس نہ کوئی
مدھم سی آواز
ٹھہرے لمحے کے قصے میں
آخر نہ آغاز
شورش گر آغاز کرے تو
منصف کرے سوال
پوچھے تو میں کھولوں سارے
ظالم شب کے راز
راز کھلیں تو شاید اپنی
کھل جاۓ تقدیر
لیکن بےحس عادل گھر میں
ایک وہی تاخیر
مدت سے ہے یہ بھی ساکن
اور میں بھی تصویر
منصف کے گھر پر آویزاں
پتھر کی زنجیر!

Image: Oswaldo Guayasamin

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Nasira Zuberi

Nasira Zuberi

Nazira Zuberi is a renowned journalist. She started her career from daily Business Recorder. She has three books "Shagoon", Kaanch ka Charagh" and "Teesra Qadam" on her credit.


Related Articles

عمر کے رقص میں

نصیر احمد ناصر: لاجوردی خلا
ہے ازل تا ابد
جست بھر فاصلہ
روشنی! روشنی!!

بنتِ حوّا

ثروت زہرا: بنت حوّا ہوں میں یہ میرا جرم ہے
اور پھر شاعری تو کڑا جرم ہے

لاشیں اور دن ترتیب سے گنے جاتے ہیں

نصیر احمد ناصر: لاشیں ترتیب سے رکھی گئیں
شناختی نشانوں کے ساتھ
روزنامچے میں
دن، تاریخ اور وقت درج کیا گیا
تا کہ بے حساب مرنے والوں کا
حساب رکھا جا سکے