پتھر کی زنجیر

پتھر کی زنجیر
پتھر کی زنجیر
کیسے چھیڑوں ہاتھوں سے میں
چیخوں کا یہ ساز
شاہی در پر کیا اپناؤں
فریادی انداز
جنبش کا احساس نہ کوئی
مدھم سی آواز
ٹھہرے لمحے کے قصے میں
آخر نہ آغاز
شورش گر آغاز کرے تو
منصف کرے سوال
پوچھے تو میں کھولوں سارے
ظالم شب کے راز
راز کھلیں تو شاید اپنی
کھل جاۓ تقدیر
لیکن بےحس عادل گھر میں
ایک وہی تاخیر
مدت سے ہے یہ بھی ساکن
اور میں بھی تصویر
منصف کے گھر پر آویزاں
پتھر کی زنجیر!

Image: Oswaldo Guayasamin

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Join the debate

Your opinion, analysis and feedbacks are welcomed.

Read More...

سنڈریلا آج گھر نہیں آئی

میں آج بھی شیشے چن رہا ہوں
دیواروں کے اندر
میں خود کو کھڑا دیکھنا چاہتا ہوں
میں خدا لگتا ہوں
میری آنکھیں کمزور ہیں
ان کو بس سب کچھ نظر آتا ہے
اور ان سے رویا بھی نہیں جاتا
جیسے اندر سیسہ بھرا ہو
بینائی ٹن! کر کہ رہ جاتی ہے

اجتماعی مباشرت

سید کاشف رضا: تاریخ سے اجتماعی مباشرت
ہم نے کھیل سمجھ کر شروع کی
پھر شور بڑھتا گیا

ناقابل اشاعت آدمی

ایک فرض کیے ہوئے مکان میں
کرائے کی زندگی گزارنے کے بعد