پروفیسر اور سیاستدان

پروفیسر اور سیاستدان
تحریر: نلز باس
مترجم : فصی ملک

یونیورسٹی کے قریب ایک خوبصورت فراز پر بیٹھا ایک درمیانی عمر کا شخص ایک چٹانی کھاڑی کے دلکش منظر سے لطف اندوز ہو رہا ہے۔کپڑوں سے اندازہ لگایا جائے تو یوں لگتا ہے جیسے وہ اپنے نیچے موجود گڑھے سے ایک سنگساز ہے۔لیکن حقیقت میں وہ ایک پروفیسر ہے جو اکثر عمیق اور گنجلک مسائل کے متعلق سوچنے کی خاطر یہاں بیٹھنے آتا ہے۔سالہا سال سے اس جگہ پر بہت سارے اچھے تصورات اس کے دماغ میں آئے ہیں۔

سوٹ اور ٹائی میں ملبوس ایک شخص تیزی سے وہاں سے گزر رہا ہے، اس کی سانس پھولی ہوئی اور گال سرخ ہیں اور وہ چلنے کی وجہ سے کافی تھکا ہوا دکھائی دیتا ہے۔وہ ایک سیاستدان ہے۔ سائنس اور تحقیق کی وزارت کا سیکرٹری اور حکومت کی نئی تحقیق اور اثریتی کمیٹی کی مجلس میں شامل ہونے جا رہا ہے۔

سیاستدان تیزی سے دیکھتے ہوئے احترام سے پروفیسر کو سلام کرتا ہے اور استفسار کرتا ہے کہ آپ کون ہیں اور دن دیہاڑے یہاں کیا کر رہے ہیں۔

پروفیسر جواب دیتا ہے " میں یونیورسٹی میں پروفیسر ہوں اور یہاں چیزوں کے بارے میں سوچنے کے لیے بیٹھا ہوں۔ سالہا سال سے یہاں میں نے بہت سارے تصورات کو جنم دیا ہے۔اس وقت میں ایک گنجلک اور عمیق مسئلے پر کام کر رہا ہوں جس کے حل ہونے میں کچھ وقت لگے گا۔
سیاستدان یہ دیکھ کر حیران ہوتا ہے کہ ایک پروفیسر دن دیہاڑے بنا کسی ظاہری مقصد کے وقت ضائع کر رہا ہے۔

سنیے،سیاستدان کہتا ہے، یہ بہت اچھا ہو گا اگر آپ اپنے دفتر میں بیٹھیں اور کسی ایسے مسئلے پر مضمون لکھیں جو زیادہ مشکل نہیں ہے۔

پروفیسر جواب دیتا ہے۔"میرا نہیں خیال ایسا کرنا دلچسپ ہو اور یہ میرے مضمون کی ترقی کے لیے بھی موضوع نہیں ہو گا۔پھر میں ایسا کیوں کروں؟"

لیکن یہ بالکل وہی ہے جو ہم اہنی اثریتی کمیٹی میں حاصل کرنا چاہیں گے۔سائنسدانوں کو ایسے مسائل کے متعلق نہیں سوچنا چاہیے جو بہت زیادہ مشکل ہوں بلکہ انہیں ان مسائل پر ارتکاز کرنا چاہیے جس سے ان کی اشاعتوں کی تعداد بڑھ سکے اور پھر ہمارا اعدادی میعارِ اصول آسانی سے آپ کے کام کو جانچنے کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔جو فوراً ہی ہمیں آپ کے کام کے میعار کی تصدیق کر دے گا۔

"میرا نہیں ماننا کہ ایسا کرنا کارآمد ہو گا، پھر میں ایسا کیوں کروں؟" پروفیسر جواب دیتا ہے۔
سیاستدان جو بحث ختم کرنے والا ہے، پر جاری رہتا ہے۔

جب آپ ہمارے اعدادی درجہ بندی کے مطابق ایک اچھی ریٹنگ کی اشاعت کر لیتے ہیں تو تیسرا گروہ، بشمول میرے، آپ کے کام کی زیادہ تعریف کریں گے اور پھر آپ کو بہت سارے تحقیقی وسائل اور اپنے لیے کام کرنے والے لوگ رکھنے کے بھی زیادہ موقع میسر آئیں گے۔
"لیکن اس سے میرا مسئلہ حل نہیں ہو گا،کیوں کہ تب میں اپنا بہت سارا وقت اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے مینیجمنٹ میں لگاؤں گا۔"

"اگر آپ آسان مسائل کے متعلق مضامین لکھتے ہیں تو آپ کے پاس اتنے وسائل ہوں گے کہ آپ اپنے لیے مینیجر رکھ سکیں گے، ہو سکتا ہے آپ کو اپنا شعبہ بھی مل جائے۔

پروفیسر کہتا ہے" یہ میرے لیے دلکش نہیں ہے، زیادہ لوگ ہو نے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ میں اپنا مسئلہ حل کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔ بلکہ یہ مجھے اصل نقطے سے ہٹائیں گے"۔

سیاستدان کہتا ہے کہ میرا نہیں خیال کہ ایسا ہے، ہم جب حجم کو بڑھانے کے لیے رقم دیتے ہیں تو ہم سمجھتے ہیں اس سے کوالٹی میں بھی بہتری آئے گی۔

فضول، پروفیسر کہتا ہے۔اس لمحے صورت حال خاصی سرد ہو جاتی ہے مگر سیاستدان جو اس کا عادی ہے جاری رہتا ہے۔

کیا یہ زبردست نہیں ہو گا کہ آپ سائنسدانوں کے ایک گروہ کے سربراہ ہوں اور آپ کا اپنا شعبہ ہو اور ہر بندہ آپ کے مسئلے پر کام کرے؟

تو پھر میں کیا کروں گا؟ پروفیسر پوچھتا ہے؟
سیاستدان اس جواب سے ششدر رہ جاتا ہے
"آپ کہیں بھی بیٹھ کر اپنے مسئلے پر سوچ سکتے ہیں"
پروفیسر جواب دیتا ہے" بالکل یہی تو میں ابھی کر رہا ہوں"

سیاستدان بمشکل ہی جواب کو سنتا ہے اور اثریتی کمیٹی کے اجلاس میں بھاگ جاتا ہے۔ ممکنہ طور پر نئے خیالات اور تھوڑے سے رشک کے ساتھ۔

(میں یہ ترجمہ ڈاکٹر پرویز ہود بھوئے کے نام کرتا ہوں)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Fasi Malik

Fasi Malik

Fasi Malik teaches physics at a federal college.


Related Articles

نظام الدین اولیاء کی درگاہ پر بسنت پنچمی منانے کا آغاز کیسے ہوا؟

اپنے چہیتے شاگرد کو اس طرح بھیس بدل کر گاتے ہوئے خود کو مناتے دیکھ کر نظام الدین اولیا مسکرا دیے۔ تب سے لے کر آج تک ان کےمریدین ہر برس بسنت کے موقع پر پیلا لباس پہن کر، پھول اٹھائے یہی قوالی گاتے چلے آ رہے ہیں۔

اِس دنیا میں خدا کا ہاتھ ہے

یاہودا امیخائی: میرا دُکھ میرا جدِ امجد ہے
اِس نے میرے دُکھوں کی دو نسلوں کو جنم دیا
جو اُس کی ہم شکل ہیں

اسیری

لی میرے کل: تمہارے معیار پر
پورا اترنے کی کوشش
میری سوچ کی
اسیری کا ثبوت ہے گویا