پستان ۔ بارہویں قسط

پستان ۔ بارہویں قسط

ایروٹیکا ایک ایسی نثری صنف ہے جس میں بڑے فنکارانہ انداز کوئی جنسی کہانی یا قصہ تحریر کیا جاتا ہے، دوسری بعض بڑی اصناف کے ساتھ یہ بھی مغرب سے ہمارے یہاں درآمد ہوئی۔ اس صنف میں لیکن بدقسمتی سے سنجیدگی کے ساتھ کچھ زیاده نہیں لکھا گیا جبکہ اردو میں پھوہڑ اور غیر دلچسپ جنسی کہانیوں کی بہتات ہے، پہلی سنجیده اور قابل ﺫکر ایروٹیکا اردو کے اہم افسانہ نگار بلراج مین را نے لکھی جس کا عنوان تھا، 'جسم کے جنگل میں ہر لمحہ قیامت ہے مجھے'، اس کے بعد ابھی تک ایسی کوئی سنجیده کوشش نہیں دیکھی جا سکی ہے۔ تصنیف حیدر نے اسی صنف میں ایک ناولٹ لکھنے کا اراده کیا ہے جسے قسط وار لالٹین پر اپ لوڈ کیا جا رہا ہے

باب-12
اس ایروٹیکا کی مزید اقساط پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

دریا ان دنوں چڑھا ہوا تھا، پانی کی آوازیں، چڑیوں کی شور مچاتی ہوئی منقاروں سے مقابلہ کررہی تھیں۔ ایک طرف تنہا اور پھیلے ہوئے آبی وجود کی گرج تھی تو دوسری جانب بہت سے ننھے منے جسموں کا اتفاق۔ ایک سمت تھل تھل کرتے پیٹ سے اگلی جانے والی شور آور ڈکاریں تھیں تو دوسری طرف باریک جھلیوں میں لپٹٰے ہوئے بازیچہ نما پھیپھڑوں کی یورش۔ دیکھنے پر ایسا بھی معلوم ہوتا تھا کہ ایک منظر دوسرے منظر کو پیدا کررہا تھا، ایک تماشے سے دوسرا تماشہ جنم لے رہا تھا، جیسے چیختے ہوئے ہونٹ، روتے ہوئے بچوں کو جنم دیتے ہیں، جیسے گرجتی ہوئی بجلیاں، راتوں کا سیاہ لباس تبدیل کرتی رہتی ہیں۔سب کچھ یونہی جاری رہتا ہے، اور اس وقت بھی جاری تھا، جب ریت کے پسرے ہوئے دامن پر دھنسی ہوئی چمکیلی سرمئی پنڈلیوں پر چڑھے ہوئے جنیز کے پائنچے، پانی کی گدلاہٹ اور ریت کی بھربھراہٹ میں لتھڑے ہوئے تھے، این ایک ہلکے ٹی شرٹ کو پہنے ہوئے، دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر کے نیچے سجائے ہوئے تھی اور مٹتی ہوئی، شکست کھاتی دھوپ میں اس کی بند آنکھیں، اندر سے ایک سرخ و زرد منظر بنارہی تھیں، پھر وہ منظر دھیرے دھیرے سرمئی ہوتا گیا، جیسے سورج آج پانی کے بجائے ریت کے پیچھے چھپ رہا ہو، اسی میں جذب ہورہا ہو۔اس کے سینے پر 'پستان' نامی وہی کتاب رکھتی تھی، جس کے مطالعے کے لیے اس نے اپنے باپ کے ہوٹل میں بغیر اجازت ایک اجنبی کے کمرے میں جانے کا خطرہ مول لیا تھا۔کتاب اوندھی رکھی ہوئی تھی، اس کا ابتدائی صفحہ پھڑپھڑارہا تھا، جو کہ ہلکے رنگین کاغذ کا تھا، وثوق سے نہیں کہا جاسکتا کہ یہ وہی نسخہ تھا یا نہیں۔این پوری طرح سوئی نہیں تھی اور اس کے دماغ میں اسی کتاب کی چند سطریں گونج رہی تھیں جو کہ ان مردوں کے تعلق سے لکھی گئی تھیں، جن کے پستان عام طور پر زیادہ موٹے اور ابھرے ہوئے ہوتے ہیں اور جن میں ایک قسم کی نسوانی چمک بھی آجاتی ہے، ساتھ ہی ایسی عورتوں کا ذکر تھا، جن کے پستانوں پر بال اگ آیا کرتے ہیں۔ مصنف کا ماننا تھا کہ ایسے تمام پستان جنہیں عام طور پر غیر قدرتی اور غیر فطری خیال کیا جاتا ہے، انسانی زندگی کی ضرورت ہیں، بالوں والے پستانوں کے تعلق سے اس کا کہنا تھا کہ ایسے پستانوں میں دودھ، عام اور چکنے پستانوں سے کہیں زیادہ بنتا ہے،اس کی تکنیکی وجوہات پر بھی اس نے روشنی ڈالی تھی،مگر ایک جملہ ایسا تھا جس کو سمجھنے کے لیے عملی طور پر تجربہ کرنے کی ضرورت تھی، مصنف نے ایک واقعے کا ذکر کیا تھا، جس میں ایک ٹھنڈے ملک میں رہنے والا سفید فام مرد پستانوں کے لیے اس قدر جنونی ہوگیا تھا کہ وہ ان عورتوں کو دوران جنسی عمل قتل کردیتا تھا، جن کے سینے سے سفید یا سرخ رنگ کا لبلبا مادہ نہ نکلتا ہو۔سفید رنگ کے لبلبے مادے سے دودھ کو تشبیہ نہیں دی جاسکتی، پھر وہ کیا چیز تھی، سرخ رنگ کا لبلبا مادہ خون ہوسکتا ہے یا نہیں، وہ اس معاملے میں کنفیوز تھی۔وہ یہ سب سوچ ہی رہی تھی کہ اس کی ناف پر دو انگلیاں رینگنے لگیں،اس نے آنکھیں نہیں کھولیں، ان انگلیوں نے ٹھیک اسی طرح اس کے بازوئوں کے رونگٹے کھڑے کردیے تھے، جیسے کانوں کے پاس کپکپاتے ہوئے ہونٹ، کنپٹی کے بالوں کو اچکانے میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔وہ ان انگلیوں کی سرسراہٹ سے اچھی طرح واقف تھی، یہ ہلکی گرم اور جوان انگلیاں سوائے صدر کے اور کس کی ہوسکتی تھیں۔اس نے آنکھیں بند کیے کیے ہونٹ ہلائے۔

'ایک بات پوچھنی ہے؟'

'ہمم۔۔۔ضرورپوچھو'

' پستانوں سے نکلنے والا سفید و سرخ رنگ کا لبلبا مادہ کیا ہوسکتا ہے؟'

انگلیاں ابھی بھی ناف پر تیر رہی تھیں، مگر ان کی بے قراری میں کچھ کمی آگئی، ایسا لگتا تھا جیسے ڈوبتی ہوئی مضطرب ٹانگیں، ہولے ہولے ٹھنڈی پڑتی جارہی ہیں۔تھوڑی دیر خاموشی رہی تو این نے آنکھیں کھول دیں۔'کیا سوچ رہے ہو؟'

' تم یہ کتاب مت پڑھا کرو۔۔۔'

'کیوں؟

' کیونکہ تم اسے تحقیقی کتاب سمجھ کر پڑھتی ہو، جبکہ یہ ایک مکمل اور خالص تخلیقی کتاب ہے۔اس میں بہت سے واقعات ایسے ہیں، جو آج کی سائنسی اور معروضی دنیا میں بالکل بے جواز معلوم ہوتے ہیں۔اب جس واقعے کو پڑھ کر تم یہ سوال مجھ سے کررہی ہو، میں نے اس سے ایک بہت خوبصورت بنائی تھی، سفید و سرخ رنگ کا مادہ، اور وہ بھی لبلبا۔ہماری متھ بتاتی ہے کہ انسان کیچڑ سے بنا ہے، یعنی ایسی مٹی سے جو بجتے ہوئے گارے کی طرح ہے، اس لحاظ سے دیکھا جائے تو انسان کا رنگ سمینٹی ہونا چاہیے تھا، مگر کیچڑ کے لبلبے ہونے میں کیا شک ہے۔اب اس سوکھی ہوئی کیچڑ سے جو چیز باہر نکالی جائے گی اور خاص طور پر جب وہ مائع شکل میں ہو تو اسے گاڑھے سرخ اور سرمئی رنگ کی آمیز ش سے تیار شدہ ہونا چاہیے۔ تم کہہ سکتی ہو کہ مصنف نے جس مرد کی نفسیات بیان کی ہیں، وہ صرف اسی مرد کا مسئلہ نہیں ہے، ہم کیا کرتے ہیں،دراصل ہماری پوری زندگیاں عورتوں کے پستان کھاتے اور پھاڑتے ہوئے ہی گزرتی ہے، وہ شخص جو اس سے اپنے حصے کی مٹی لے رہا ہے، خوراک حاصل کررہا ہے، اور گاڑھا سفید رنگ کا مادہ اپنے جسم میں انڈیل رہا ہے دراصل وہ اس سے کیا بنائےگا، خون ہی تو بنائے گا۔مان لو، ایک عورت یہ سفید رنگ کا مادہ دینے میں کامیاب نہ ہو تو، اگر وہ بانجھ ہو تو، تو اس کے پستانوں کا کیا مصرف؟ پستانوں سے دنیا کے ہر مرد کا تعلق ہے، ان مردوں کا بھی، جنہوں نے مائوں کی چھاتیوں کو منہ نہیں لگایا، کیونکہ وہ بھی مختلف جانوروں کی سیاہ اور بھوری، سفید اور خاکی رنگ کی چھاتیوں سے نکلنے والے سفید رنگ کے مادے پر ہی خون بناتے آئے ہیں۔ایسے تمام جانور اسی لیے پستانیہ کہلاتے ہیں۔

وہ اپنی دھن میں بولے جارہا تھا اور یقینی طور پر ابھی اور بھی کچھ کہتا کہ این نے اسے ٹوک دیا
یہ کوئی بات نہیں ہوئی، تم ابھی بھی لبلبلے کا جواز نہیں دے پائے ہو، مجھے تو لگتا ہے کہ مصنف سے زیادہ تمہارا اپنا ذہن ایک عجیب سی اپج کا شکار ہے۔عورت کے پستان اور جانور کے پستان کو تم آپس میں ملارہے ہو،اسی کتاب میں ذکر ہے کہ بہت سے قدیم معاشروں میں پستانیہ کا لفظ عورت کے لیے بھی مستعمل تھا۔لیکن اس سے کیا فرق پڑتا ہے، میں جاننا یہ چاہتی تھی کہ وہ لبلبا مادہ کیا ہے۔عورت کے سینے سے نکلنے والے دودھ اور کسی جانور کی پنڈلیوں میں جمع گودے میں کچھ تو فرق ہوگا، مصنف انہیں کیسے ملا سکتا ہے۔

یکدم صدر کو کچھ سوجھا اور اس نے کہا'رکو، شاید میں نے اپنی تصویر میں، جب کہ میں نے اسے بنایا تھا، اسے زیادہ بہتر طور پر واضح کیا تھا۔کیا تم اسے دیکھنا پسند کرو گی؟

این نے اثبات میں جواب دیا، کچھ ہی دیر بعد وہ دونوں صدر کے اپارٹمنٹ میں مچان سے ایک لکڑی کا ایسا فریم نکالنے میں مصروف تھے، جو بہت سی دوسرے فریموں میں پھنس کر رہ گیا تھا، احتیاط کی ضرورت اس لیے تھی تاکہ اس کا کینواس جو کہ کپڑے کا تھا، ذرا سی کھینچ تان میں پھٹ سکتا تھا۔بمشکل جب وہ پینٹنگ باہر نکل آئی تو اس پر جمی بہت سی دھول کو ایک صافے کی مدد سے جھاڑ کر الگ کیا گیا، باہر کا اندھیرا دبیز ہوتا جارہا تھا، کمرے کی لائٹٰ جل چکی تھی، دھول بھری آنکھوں سے این نے اس پینٹنگ کو دیکھا، جس میں ایک طرف کوئی مردانہ ہیوالا عورت کے سینے پر سوار تھا، عورت کے پاس صرف ایک بڑا سا گنبد نما پستان تھا جو سینے پر کسی مقدس عمارت کی طرح دمک رہا تھا، مرد کا سرہلکا سا اس پر جھکا ہوا تھا، جبکہ اس کی دو نوں ہاتھ اوپر کو اٹھے ہوئے تھے، ایک میں نکیلا، چمکدار چاقو تھا اور دوسرے میں ایک سانولے رنگ کا موٹا اور شکن آلود عضو تناسل، جس کے منہ پر ہلکا سفید رنگ لپیٹا گیا تھا، عورت کا منہ تو نہیں دکھایا گیا تھا، مگر پورے سر کی جگہ صرف دو کھلے ہوئے ہونٹ تھے، جن کے اندر بہت سے ستارے چمکتے ہوئے دکھائے گئے تھے۔ این ابھی اور غور سے اس پینٹنگ کو دیکھنا چاہتی تھی کہ صدر نے اس کے بازو کو پکڑ کر اسے بائیں سمت پینٹنگ سے کافی دور لے جاکر کھڑا کردیا اور کہا

'اب یہاں سے بھی دیکھو!'

این ہلکی سی چڑچڑی نظروں کے ساتھ صدر کو دیکھ کر دوبارہ پینٹنگ میں داخل ہوگئی، یہاں سے دیکھنے پر عورت کے سینے پر دو پستان نظر آتے تھے، دونوں کی سائز میں ہلکا سا فرق تھا، مگر اب مرد پینٹنگ سے غائب تھا، ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے پستانوں کے دو سینگ اگ آئے ہیں اور ان سینگوں پر مزید سینگ نکلے ہوئے ہیں۔ایک طرح سے یہ پورا منظر اب بارہ سنگھے کی اس کھوپڑی کی طرح معلوم ہورہا تھا، جس کو کسی جنگلی اور سوکھے ہوئے پیڑ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔این سمجھ نہیں پارہی تھی کہ صدر نے ایسا کیوں کیا، اس نے ایک ہری بھری، سر سبز چھاتی سے بھرپور منظر کو کیوں ایک بنجر کھوپڑی اور سینگوں کی اوبڑ کھابڑ دنیا میں تبدیل کردیا، اس پینٹنگ کو بناتے وقت اس نے لامحالہ فنکاری دکھائی تھی، مگر یہ فنکاری اس کے قنوطی ہونے کی دلیل بھی تھی، لیکن پاس جانے پر وہ منظر بدل بھی تو جاتا تھا، لیکن صدر نے پہلے اسے یہ مایوس منظر کیوں نہ دکھایا،این سوچتی رہی، زندگی بھی تو پہلے سرسبزی و شادابی ہی دکھاتی ہے، دنیا میں انسان کا سامنا سب سے پہلے ایسی ہی بھری ہوئی چھاتیوں سے ہوتا ہے، انہی بھری ہوئی چھاتیوں سے زندگی نکلتی ہے اور انسان کی شریانوں میں داخل ہوجاتی ہے، پھر ایک دن مرد کے سینگ نما عضو تناسل سے نکلنے والے ایک گاڑھے سفید رنگ کے مادے سے خون کی ایک نئی دنیا آباد ہوتی ہے، جو عور ت کی چھاتیوں تک پہنچتی ہے اور پھر وہاں سے شروع ہوتا ہے، ایک نیا سفر۔پتہ نہیں وہ جو کچھ سمجھ پائی تھی، اتنا ہی آسان تھا، یا اس کی سوچ ہی سطح تک رکی ہوئی تھی،لیکن کیا ضروری ہے کہ ہر بات کو نہایت مبہم بنایا جائے۔آخر سمجھ میں آتے ہی ہر بات اتنی ہلکی اور بے جان کیوں معلوم ہونے لگتی ہے، جیسے اس میں کوئی نکتہ ہی نہیں، کیا سلجھی ہوئی گتھیوں اور حل کی جاچکی پہلییوں سے زندگی کا کوئی واسطہ نہیں،ان کا کوئی مقدر نہیں۔وہ چاہتی تھی کہ یہ صدر سے اس پینٹنگ کا مطلب پوچھے، مگر جانتی تھی کہ وہ کچھ نہیں کہے گا، کبھی نہیں، اسے اپنی پینٹنگ کی تشریح و تعبیر کرنا کرانا بالکل پسند نہیں تھا۔وہ تو ایسے لوگوں کو پینٹنگز بیچنا بھی پسند نہیں کرتا تھا، جو انہیں مکمل طور پر سمجھ لینے کا دعویٰ کرتے ہوں۔

باہر اذان کی آواز بلند ہوئی، کہیں دور سے ہی سہی، مگر اس کی لہر نے این کے انہماک کے شیشے پر پتھر کا سا کام کیا۔اس نے کمرے میں دیکھا تو سب سے پہلے اسے ہلکا دھواں دکھائی دیا، صدر ایک خوشبو دار لوبان کہیں سے لایا تھا، ان دنوں وہ روز شام کو اسے سلگاتا تھا، اس کا ماننا تھا کہ یہ لوبان اس کے ذہن کو بہت سکون پہنچاتا ہے، ہلکے دھویں کی موج میں این نے اپنی انگلیوں کو چٹخاتے ہوئے اس کی طرف دیکھا، سفید اور سانولی چھلنیوں میں سے صدر کا چہرہ بالکل کسی پیغمبر یا اوتار کی طرح سنجیدہ نظر آرہا تھا۔ این نے جینز کی جیب میں ہاٹھ ڈال کر ایک ہلکے نیلے رنگ کا سفوف نکالا اور منہ میں یوں ڈالا جیسے چھوٹے بچے پانی کے ننھے ننھے نوالوں کے سانس کے ساتھ پھٹک لیتے ہیں۔اچانک ساری دنیا رقص کرنے لگی، اس نے آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے دھیان میں بیٹھے صدر پر دھاوا بول دیا، نئے زمانے کی مینکا اور فنکاروشوامتر کے ادھ کھلے ننگے بدن پر جھول گئی، اس کا کے پستانوں نے جب چکنی پیٹھ پر ہلکی رگڑ پیدا کی تو چقماق کی طرح روشنی اور اگن نے ایک ساتھ صدر کے دماغ پر دھاوا بول دیا، لوبان کی بو میں نشہ تھا یا این کی سانسوں میں، مگر صدر دھیان کی دنیا سے نکل کر جنس کی دنیا میں داخل ہونے پر مجبور ہوگیا۔ این پر جیسے عجیب قسم کی افتادہ کیفیت طاری تھی،وہ صدر کے کپڑے، جو کہ اس کے بدن پر پہلے بھی محض جھول رہے تھے، نکالنے کے بجائے پھاڑنے لگی، وہ دونوں ایک دوسرے کے جسموں کو نوچتے ہوئے، کاٹتے اور چباتے بیڈروم سے نکل کر ڈرائنگ روم میں آگئے، جہاں ہلکا اندھیرا تھا، جب این کی زبان صدر کے تالو سے چپکتی، اس کی زبان پر پھانکے گئے سفوف کا نیلا افسوں پھونکتی تو وہ بھی لڑکھڑانے لگتا، اس کی سنجیدہ سانسوں کے غار سے آوازوں کی چیاؤ چیاؤں کرتی چمگاڈریں نکل کر ہوائوں میں رقص کرنے لگتیں۔اسی قسم کے وحشیانہ رقص میں پتہ نہیں کب این بے ہوش ہوکر گری، صوفے کے ہتھے سے اس کا سر ٹکرایا اور وہ فرش پر آرہی، مگر صدر اپنی پیاس کے بے چین بارہ سنگھے کی اوبڑ کھابڑ شاخوں والی کھوپڑی کو اس کی گرم اور لبلبی، بے جان اور سرد ظلمتوں والی آغوش میں دھکیلتا رہا، یہاں تک کہ ایک سفید لبلبے مادے نے ابل کر سانسوں اور دھڑکنوں کی اس بے تاب ریل کو سبز کپڑا نہیں دکھادیا۔ تھوڑی دیر وہ پھولتی ہوئی سانسوں کے ساتھ، این کے بے جان بدن پر پڑا اونگھتا رہا، پھر نیم غنودگی کے عالم میں اٹھا اور اپنے کمرے کے دروازے کو دھکا دے کر بستر پر اوندھ گیا،دروازہ پورا بند ہوجاتا، مگر زور لگنے کی وجہ اس کا سٹاپر جو کہ ڈھیلا ہوچکا تھا، اپنے آپ زمین پر گرایا اور ہوا کے اس اجلے شور سے سائڈ ٹیبل پر رکھی بیئر کی ایک خالی بوتل نہ جانے کب، زمین پر گری اور لڑھکتی ہوئی دروازے کے باہر نکل کر صدر کی طرح خاموش اور این کی طرح بے جان ہوگئی۔

(جاری ہے)
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Tasneef Haider

Tasneef Haider

Tasneef Haider is running Adabi Dunya. He is working as a freelance scriptwriter and trying to promote Urdu literature through internet.


Related Articles

ایک عاشق نامراد کا ادبی شکوہ

کہانی کا کچھ تو انجام ہو جائے، دیکھو، کہانیاں کچھ ٹوٹی پھوٹی سی میں بھی لکھ لیتا ہوں، کوئی اوپر بیٹھا بھی لکھ رہا ہے، ان گنت کہانیاں، خوشگوار اور بھیانک کہانیاں۔

صدا کر چلے

کسی موہوم سی آسائشِ فردا کے چکر میں
حکایاتِ غمِ دیروز کا نقشہ بدلنا کیوں
تمہیں کس نے کہا ہر سست رو کے ساتھ چلنے کا
سبک قدمی میں لیکن سبزۂ رَہ کو کچلنا کیوں

تخلیق کار

مجھے ایک نظم سمجھ لو وہ نظم جو کیفرکردار تک نہیں پہنچی ۔۔۔۔۔ جو ڈولتے خیالات کے تھرتھراتے ہونٹوں پر ابھی ایک نوحہ ہے ۔۔ وہ نوحہ جسے نوچنے کی کوشش میں تخیل کے تمام رنگ پھیکے پڑ گئے