پشتونوں سے متعلق چند غلط فہمیاں

پشتونوں سے متعلق چند غلط فہمیاں
ادارتی نوٹ: یہ تحریر ایک پشتون کے ذاتی تجربات پر مبنی ہے جس کا سامنا انہیں مختلف مواقع پر کرنا پڑا۔ اس تحریر کا مقصد پاکستان میں پشتونوں کے ساتھ برتے جانے والے تعصب کو سامنے لانا ہے۔ اس تحریر کا مقصد کسی بھی لسانی، علاقائی یا سیاسی اکائی کے جذبات کو مجروح کرنا یا اشتعال پھیلانا نہیں ہے۔


 

کسی بھی قوم کی اپنے وطن ،زبان اور رسم ورواج سے محبت اس کی بقا کی ضامن ہے۔قومیں تباہی کے دہانے پر تب پہنچتی ہیں جب وہ اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت کو بھول کر یا تودوسری قوموں کی اندھی تقلید میں لگ جاتی ہیں یا پھر احساس کم تری کا شکار ہوکر استعماری قوتوں کی آلہ کار بن جاتی ہیں۔ اپنی تہذیب پر شرمندہ ان بھٹکی ہوئی قوموں کا نام و نشان رفتہ رفتہ مٹ جاتا ہے۔ پشتونوں کی نئی نسل کو اپنی روایات سے دور کرنے کے باعث ان میں اپنی ہی ثقافت کے حوالے سے احساس کم تری پیدا کر دیا گیا ہے۔ اگرچہ پشتون ثقافت میں بعض سماجی روایات ایسی ہیں جو انسانی حقوق کے جدید تصور سے متصادم ہیں تاہم اس بنیاد پر ہر پشتون کو حقارت کی نظر سے دیکھنا مناسب نہیں۔
پورے عالم اسلام کے غم کو اپنے دل میں بسائے قوم پرستی کو لادینیت سمجھتا تھا اور ایک پختون ہونے کے باوجود مجھے اپنے پختون ہونے پر شرمندگی تھی
میں سوات میں پیدا ہوا۔ جماعت اسلامی کے زیر انتظام چلنے والے سکول "حرا" سے میٹرک کیااور انٹر بھی ضلع کے ایک کالج سے کیا۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ میں مذہبی بنیادوں پر استوار جذبہ حب الوطنی سے سر شار تھا لسانی و قومی تفریق سے واقف نہ تھا۔ پورے عالم اسلام کے غم کو اپنے دل میں بسائے قوم پرستی کو لادینیت سمجھتا تھا اور ایک پختون ہونے کے باوجود مجھے اپنے پختون ہونے پر شرمندگی تھی۔ میں اپنے آباء، اپنی تاریخ اور اپنی جدوجہد سے ناواقف تھا۔ مجھے پختونوں کے حوالے سے بس اتنا ہی معلوم تھا جس قدر کسی غیر پختون کو بتایا جاتا ہے۔ مجھے اکثر بتایا جاتا تھا کہ پختون بہت غیرت مند قوم ہے، اسلام سے سب سے زیادہ محبت پختون ہی کرتے ہیں، اگر پختون نہ ہوتے تو پاکستان نہیں ہوتا اور پورے پاکستان کے لوگ پختونوں سے بہت محبت کرتے ہیں۔ میری سوچ ایک تنگ کنوئیں سے باہر دیکھنے کو تیار نہیں تھی۔
یہاں پرپٹھان کو بیوقوف، لڑاکا، جھگڑالو، عورتوں کو بیچنے والا، عورت کو اپنی جوتی سمجھنے والا، لُوطی اور نجانے کیا کیا کہا جاتا ہے
انٹر کے بعد کراچی منتقل ہوا تو یہاں حیرت کے پہاڑ اس وقت میرے سرپر ٹوٹے جب مجھے پتا چلا کہ آج تک جو میں سمجھتا رہا کہ ’’ اس پرچم کے سائے تلے ہم ایک ہیں‘‘ وہ سب جھوٹ تھا۔ یہاں پر تو مجھے کوئی پاکستانی سمجھتا ہے نہ انسان۔ ان لوگوں کی نظر میں تو’’پٹھان‘‘ کا مطلب ایک مسخرہ ہونا یا ایک خلائی مخلوق ہونے جیسا تھا۔ میں نے کراچی سے گریجویشن کی، یہاں کے مختلف اداروں میں نوکری کی اور ہمیشہ پشتونوں سے متعلق غلط العام مفروضوں کاشکار رہا۔یہاں پرہر کسی کا ایک نام اور ایک شناخت تھی لیکن میں استاد، خاکروب، کلرک، افسر، رفیق کار،پڑوسی سمیت ہر کسی کے لیے محض "لالہ" یا "خان صاحب" تھا۔ ہر کوئی مجھے میرے نام کی بجائے انہی ناموں سے پکارتارہا ۔
یہاں پرپٹھان کو بیوقوف، لڑاکا، جھگڑالو، عورتوں کو بیچنے والا، عورت کو اپنی جوتی سمجھنے والا، لُوطی اور نجانے کیا کیا کہا جاتا ہے اور بدقسمتی سے پاکستان میں موجود عمومی سماجی مسائل کو صرف پشتونوں کے ساتھ جوڑ کر دیکھا جاتا ہے۔ پشتونوں کو مختلف تحقیرآمیز القاب سے پکارتے اور ہمارے لطیفے بناتے وقت لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ یہ مسائل ہر جگہ ہیں اور صرف پشتونوں کے ساتھ مخصوص نہیں۔ یہاں تک کہ میرے دفتر میں جب کوئی نامعلوم کالر تنگ کر رہا ہو تو آپریٹر کہتی ہے" لگتا ہے پٹھان ہے کوئی"۔ میں نہیں جانتا کہ یہ بدگمانیاں کیوں کر عام ہوئی ہیں لیکن میں اپنا دفاع کرنے میں اس لیے کامیاب نہیں ہو سکا کیوں کہ میں خود پشتون روایات اور تاریخ سے بے بہرہ تھا۔
باچا خان غدار ہے ،ملالہ یوسفزئی ایجنٹ ہے، پٹھان طالبان ہیں،ڈکیتی و مختلف جرائم میں پٹھان ملوث ہیں، دراصل کراچی کے حالات ہی پٹھانوں کی وجہ سے خراب ہیں۔۔۔ یہ اور اس جیسی کئی باتیں روزانہ کراچی میں ہر پشتون کو سننی اور برداشت کرنی پڑتی ہیں
جب آپ یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں یا کسی ادارے میں کام کرتے ہیں تو لوگ یہ نہیں سمجھتے کہ آپ ایک تعلیم یافتہ باشعور انسان ہیں بلکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ آپ اتفاقیہ یہاں بیٹھے ہوئے ہیں۔ پشتونوں کے حوالے سے لوگوں کا عمومی طرز عمل یہ ہے کہ انہیں یا تو کسی چوکیدارکا بیٹا سمجھا جاتا ہے یا کسی بس یا ٹرک ڈرائیور کا یعنی پٹھان ہونایہاں کسی جرم سے کم نہیں۔باچا خان غدار ہے ،ملالہ یوسفزئی ایجنٹ ہے، پٹھان طالبان ہیں،ڈکیتی و مختلف جرائم میں پٹھان ملوث ہیں، دراصل کراچی کے حالات ہی پٹھانوں کی وجہ سے خراب ہیں۔۔۔ یہ اور اس جیسی کئی باتیں روزانہ کراچی میں ہر پشتون کو سننی اور برداشت کرنی پڑتی ہیں۔ بہت سے لوگ ہم پر احسان جتاتے ہیں گویا ہم پاکستان کے نچلے درجے کے شہری ہیں۔ ایسے لوگ آئے روز ہمیں جتاتے ہیں کہ یہ تو کراچی والوں کاہم پٹھانوں پر بہت بڑااحسان ہے کہ انہوں نے ہمیں کراچی میں رہنے کا موقع دیا ہے ورنہ پتہ نہیں ہم پٹھان کہاں کہاں در در کی ٹھوکریں کھاتے۔
میری ایک رفیق کار خاتون نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھا کہ آپ لوگ اپنی عورتوں کو گھر پر قید کیوں رکھتے ہو؟ اور پھر اپنے سوال کا جواب بھی اس نے خود ہی دے دیا کہ "میرے بہنوئی کے ایک پٹھان دوست نے کہا کہ یار تم لوگوں کی خواتین جب باہر جاتی ہیں تو واپس آتی ہیں لیکن جب پٹھان عورت ۱یک بار بھی گھر سے نکلتی ہے تو پھر واپس نہیں آتی اس وجہ سے ہم پٹھان اپنی خواتین کو گھر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔" اس خاتون کے اس سوال اوراسی کے بنائے ہوئے جواب کومیں آج بھی نہیں سمجھ سکا۔ یقیناً ایسی غلط فہمیاں پشتونوں کی روایات اور تاریخ سے ناواقفیت کا نتیجہ ہیں۔
جب تک پاکستان میں بسنے والی دوسری قومیں ہماری زبان ، ہماری ثقافت اور ہماری روایات کی دل سے عزت نہیں کریں گی اس وقت تک اس پرچم کے سائے تلے ہم پٹھان ہی رہیں گے، کبھی پاکستانی نہیں بن پائیں گے۔
ایک خاتون نے بتایا کہ انہوں نے مطالعہ کیا اور انہیں یہ پتا چلا ہے کہ پٹھان دراصل جرمن نسل سے ہیں اور ہٹلر کے ساتھ ہمارا قریبی رشتہ ہے۔ یہ سن کے میرے منہ سے بے ساختہ ہنسی نکل گئی جس پر اس خاتون نے فوراً سرزنش کی کہ اس میں ہنسنے والی کونسی بات ہے؟؟ یقیناً دریائے سندھ کے میدانی علاقوں میں پشتونوں کو ہتھیار بند ، جنگجو اور سنگدل سمجھا جاتا ہے اور پشتونوں کے اندر موجود لطیف انسانی جذبات کو دریافت کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔
کراچی میں آپ مہاجروں کے بارے میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ سارے مہاجر آپ پر نسل پرست ہونے کا الزام لگائیں گے۔ سندھیوں کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا جاتا۔ اگر سندھی آپس میں اپنی مادری زبان میں بات چیت کریں تو بھی کوئی اعتراض نہیں کرے گا لیکن آپ پشتو میں بات کر یں تو آس پاس کے لوگ آپ کو عجیب نظروں سے دیکھیں گے اور آپ کو گنوار سمجھیں گے۔ حتیٰ کہ اگر پولیس کسی پشتون کو روکے تو مہاجروں اور پنجابیوں کے نسبت زیادہ پوچھ گچھ کرے گی اور زیادہ رشوت لے گی۔
پاکستان ایک وفاق ہے اور اس میں مختلف زبانیں بولنے والی اور مختلف تہذیب وثقافت کی حامل قومیں رہتی ہیں لیکن ہر خطے میں کسی دوسرے خطے کی اقوام کے حوالے سے مختلف تعصبات پائے جاتے ہیں۔ جب تک پاکستان میں بسنے والی دوسری قومیں ہماری زبان ، ہماری ثقافت اور ہماری روایات کی دل سے عزت نہیں کریں گی اس وقت تک اس پرچم کے سائے تلے ہم پٹھان ہی رہیں گے، کبھی پاکستانی نہیں بن پائیں گے۔

Related Articles

شیعہ سنی مخاصمت مذہبی سے زیادہ سیاسی ہے

عرب خطے میں ایک زمانے تک کسی عرب سے اس کاعقیدہ یا مسلک پوچھنا نامناسب خیال کیا جاتا تھا، اگرچہ اس کے نام، لہجے، جائے رہائش ،عبادت گاہ یا دیوار پر آویزاں تصاویر سے اس کا سنی ، شیعہ یا عیسائی العقیدہ ہونا عیاں ہو

Stop Shaming Women for Not Wearing Dupattas

Stumbling upon a blog post titled “How can I complain about men staring at me when I’m not wearing my dupatta?” I somewhat knew what I was going to read upon clicking. It wasn’t because I am a clairvoyant, but because such narratives have been so tirelessly peddled in our society, one can see them coming from a mile away.

موت کا سلنڈر

متعدد مہلک حادثات میں سینکڑوں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع کے باوجود پبلک ٹرانسپورٹ میں غیر معیاری گیس سلنڈروں کے استعمال کو روکا نہیں جا سکا۔