پل بھر کا بہشت

پل بھر کا بہشت
پل بھر کا بہشت
ایک وہ پَل جو شہر کی خفیہ مٹھی میں
جگنو بن کر
دھڑک رہا ہے
اس کی خاطر
ہم عمروں کی نیندیں کاٹتے رہتے ہیں

یہ وہ پَل ہے
جس کو چھو کر
تم دنیا کی سب سے دلکش
لذت سے لبریز اک عورت بن جاتی ہو
اور میں ایک بہادر مرد

ہم دونوں آدم اور حوا
پَل کے بہشت میں رہتے ہیں
اور پھر تم وہی ڈری ڈری سی
بسوں پہ چڑھنے والی، عام سی عورت
اور میں دھکے کھاتا بوجھ اٹھاتا
عام سا مرد
دونوں شہر کے
چیختے دھاڑتے رستوں پر
پل بھر رُک کر
پھر اس پَل کا خواب بناتے رہتے ہیں
Sarmad Sehbai

Sarmad Sehbai

Sarmad Sehbai is a prominent Pakistani Poet, Playwright and Director. His poetry is known for fresh imagery and modern idioms. He wrote his first tele-play "The Lampost" in 1968 after joining PTV. Three collections of his poetry has been published so far. He also wrote a film "Mah-e-Meer" which was praised by critics and public alike.


Related Articles

چودھویں صدی کی آخری نظم

افتخار بخاری: یہ بھی لکھنا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا

پھانسی گھاٹ

حسین عابد: وہ آدمی مر چکا ہے
وہ لوگ بھی مر رہے ہیں
لیکن کندھوں پر اٹھائے ان کے بچے
آج بھی گندے نالے میں گر رہے ہیں

وقت تو میرا دوست ہے

وقت بہت گزر کر میرے پاس آیا ہے
اتنا گزر جانے کے باوجود