پولیس کی کارکردگی اور حقائق

پولیس کی کارکردگی اور حقائق
پولیس کے جوانوں کی جرات مند یا ان کے باہمت ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں مگر، حکمت عملی کے ناقص ہونے، محدود استعداد کار اور وسائل کی کمی کی طرف ضرور ذہن جاتا ہے۔
پولیس اور دوسرے قانون نافذ کرنے والے ادارے جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی اور دہشت گردی کی روک تھام کے لیے صف اول کے سپاہی ہیں۔ قانون کا نفاذ ہو یا امن وامان کی صورتحال کو برقرار رکھنا ہو، جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائی ہو یا دہشت گردی کے خلاف آپریشن، ہر محاذ پر مصروف عمل رہنے والے ان اداروں کے جوان سینہ سپر ہو کر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے لئے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے ہیں۔ جب کبھی یہ خبر اخبارات میں پڑھنے کو ملتی ہے کہ پولیس کی جرائم پیشہ عناصر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے دوران پولیس کے جوان شہید جرائم پیشہ اور دہشت گرد فرار، تو ایسی خبریں سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔ پولیس کے جوانوں کی جرات مند یا ان کے باہمت ہونے میں کوئی دوسری رائے نہیں مگر، حکمت عملی کے ناقص ہونے، محدود استعداد کار اور وسائل کی کمی کی طرف ضرور ذہن جاتا ہے۔

پولیس جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ تربیت اورنقائص سے مبرا حکمت عملی کی بدولت زیادہ موثر اورکامیاب کارروائیاں کر سکتی ہے۔ ان اقدامات سے عوام کے تحفظ کو ممکن بنایا جاسکتا ہے۔ اگر ایسے قدامات نہ کیے گئے تو پولیس سمیت دیگر قانون کے نفاذ پرمامورادارے مزید کمزور ہوجائیں گے، اور ان اداروں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کرجرائم پیشہ اور دہشت گرد تنظیمیں خود کو مزید منظم اور مضبوط کر لیں گی۔ پولیس کی ناقص کارکردگی جرائم میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جس کا مظاہرہ ہم کراچی میں دیکھ چکے ہیں جہاں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی ناقص ہونے کے باعث وہاں منظم جرائم پیشہ گروہوں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملا۔ اس کا براہ راست مطلب یہی ہے کہ امن و امان قائم رکنے کے لیے پولیس سمیت دیگر ایسے اداروں کی استعداد کار کم ہے۔ ان حالات میں نقصان ہوتا ہے اور سب سے بڑا نقصان عام لوگوں اور پولیس کے جوانوں کے مارے جانے کا ہے۔

پولیس جرائم پیشہ گروہ اور دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے اعلیٰ تربیت اورنقائص سے مبرا حکمت عملی کی بدولت زیادہ موثر اورکامیاب کارروائیاں کر سکتی ہے۔
گزشتہ دس سالوں کے دوران پولیس کے پانچ ہزار جوان(ا وسطاً 500 جوان ہر سال) دہشت گردوں اور جرائم پیشہ گروہوں کے ہاتھوں شہید ہوئے ہیں۔ پولیس کے محکمے میں استعداد کار کی کمی، سیاسی مداخلت، وسائل کا نہ ہونا اور حکومتی سرپرستی کا فقدان وہ عوامل ہیں جن کے باعث پولیس کی کارکردگی بہت زیادہ موثر نہیں۔ پولیس کے ادارے کی زبوں حالی کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ آج تک پولیس کے ادارے پر بھرپور توجہ نہیں دی گئی۔ اس محکمہ کو ہر حکومت نے تجربات کے لیے اپنی اپنی تجربہ گاہ میں ٹیسٹ سے گزارا ہے۔ گو پولیس نظام میں اصلاحات ضروری ہیں لیکن زیادہ تر حکومتیں نمائشی تبدیلیاں ہی کرتی آئی ہیں۔ ابھی تجربات کی بھٹی چل رہی ہے نت نئے تجربے کئے جا رہے ہیں مگر یہ بات بھی اہم ہے کہ اعلیٰ تربیت اور ٹھوس حکمت عملی کے فقدان کا اعتراف کرنے میں پولیس عموماً ہچکچاہٹ محسوس کرتی ہے۔

خامیاں اور کمزوریاں اگر نظرانداز کی جائیں تو پھرنہ تو اداروں میں مضبوطی آ ئے گی اور نہ مہارت بڑھے گی۔ ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پولیس کو پوری طرح مسلح نہیں کیا گیا جن عناصر کے خلاف وہ نبرد آزما ہے وہ ان سے زیادہ جدید اور بہتر اسلحے سے لیس ہیں۔ پولیس کو بے جا سیاسی مداخلت کے باعث سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا ہے جو اس ادارے کی بُری کارکردگی کی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔ پولیس کے لیے قانون سازی بھی ایک مسئلہ رہی ہے برطانوی دور میں انگریزوں نے جو 1861 کا پولیس ایکٹ نافذ کیا تھا آج تک وہی ایکٹ کسی قدر کمی بیشی کے ساتھ نافذالعمل ہے۔ اس قانون میں تبدیلی کرتے ہوئے پولیس آرڈیننس2002 کے نام سے دوبارہ نافذ کیا گیا، جسے پولیس میں اصلاحات کا نیا قانون کہا گیا مگر 2002 اور اس پہلے یا اس کے بعد اس میں کی گئی تبدیلیوں سے اس کی اصل روح بھی مجروح ہو چکی ہے۔ اس عرصہ کے دوران کی گئی اصلاحات بھی قابل عمل نہیں۔ وسائل کی کمی کی کا رونا بھی رویا جاتا ہے جو ایک حقیقت ہے۔

دنیا بھر میں کسی ملک میں کسی شعبہ میں ڈیوٹی کا دورانیہ 24 گھنٹے نہیں ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان میں پولیس کی ڈیوٹی 24 گھنٹے کی ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔
پولیس میں تنخواہ بھی کم ہے جس کی وجہ سے "رشوت ستانی" میں اضافہ ہوا ہے۔ ایک اور مسئلہ جو پولیس کی کارکرگی کو بہتر نہیں ہونے دیتا وہ ہے ڈیوٹی ٹائم۔ دنیا بھر میں کسی ملک میں کسی شعبہ میں ڈیوٹی کا دورانیہ 24 گھنٹے نہیں ہے مگر حیران کن طور پر پاکستان میں پولیس کی ڈیوٹی 24 گھنٹے کی ہے جس کی وجہ سے اس کی کارکردگی شدید متاثر ہوئی ہے۔ کئی بار شفٹ سسٹم کے نفاذ کا عندیہ دیا گیا ہے مگر تاحال ایسا نہیں ہوا پولیس اپنا اصل کام کرنے کے بجائے اہم شخصیات کی حفاظت کے لئے اور بیرونی ممالک سے آئے VIP اشخاص، سیاستدانوں اور اعلی افسران کے محافظ کے طور پر کام کرنے پر مجبور ہے، اس سے پولیس کے ادارے اور جوانوں پر بہت برا پڑا ہے اور پولیس اپنے اصل مقصد سے ہٹ گئی ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ پولیس کے محکمے کو مزید نمائشی تجربات سے بچایا جائے اور کارکردگی کو بہتر بنانے کے لیے پولیس کو وسائل، تربیت،ٹیکنالوجی اور جدید اسلحہ فراہم کیا جائے اور اصلاحات کا عمل شروع کیا جائے۔ ڈیوٹی ٹائم 24 گھنٹے کی بجائے شفٹ کے نظام کے ذریعے کم کیا جائے، سیاسی مداخت ختم کی جائے، تحقیق و تفتیش کے شعبہ میں روائتی انداز کی بجائے جدید طریق ہائے کار کو اپنایا جائے، اہلکاران اور افسران کو جسمانی کے ساتھ نفسیاتی تربیت بھی مہیا کی جائے، تنخواہوں میں معقول اضافہ کیاجائے اور سب سے اہم یہ کہ پولیس ایکٹ 2002کو اس کی اصل حالت میں نافذ کیا جائے۔

Related Articles

بگ تھری اور کر کٹ کا مستقبل

کہا جاتا ہے کہ کرکٹ شرفاء کا کھیل ہے، کئی ممالک میں کھیلا جاتا ہے اور پوری دنیا میں پسند بھی کیا جاتا ہے۔ یہ بھی کہا جاتاہے کہ کھلاڑی ملک کے سفیر ہوتے ہیں، ان کی کامیابیاں کسی بھی قوم کا سرمایہ افتخار ہوتی ہیں۔۔۔۔

ایدھی، قندیل بلوچ اور ناکام ریاست

فوزیہ نے قندیل بلوچ بن کر معاشرے کی صرف اس حس کو جگایا جو عورت کا جسم دیکھ کر قوت پکڑتی ہے۔

کامریڈ سراج الحق کو مفت مشورہ

مولانا مودودی کی ایجاد اسلامی جمعیت طلبہ جسے جماعت اسلامی کا بغل بچہ بھی کہا جاتا ہے کا رحجان شروع دن سے ہی شدت پسندی کی جانب رہا ہے ۔