پُرسہ

پُرسہ
پُرسہ
کچے ماس کی باس آتی ہے
اجلے خواب کے دروازے میں کتوں کی بھونکار بچھی ہے

پُرسہ دارو!
پُرسہ داری کتنا مشکل کام ہے
یعنی کہر ذدہ خاموشی کے زنگار میں لپٹی "یکتائی" پر فقرے کسنا
خبروں میں ان تابوتوں کی گنتی کرنا
جن میں ٹھونکی جانے والی میخیں
مریم کے بیٹے کے خون پہ اتراتی ہیں
وقفے وقفے سے غالب کے سوندھے شعر کی خوشبو پینا
سوشل سائٹ پر اونگے بونگے شعر کی کِھلی اڑتے دیکھ کے ہنسنا
ہنسنا زور سے ہنسنا
"جیسے پاگل ہنستے ہیں"
گاہے گاہے رو بھی دینا
اور سو جانا
پُرسہ داری، کتنا مشکل کام ہے
پرسہ دارو!!!!
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

تری دنیا کے نقشے میں

ابرار احمد: ہجوم روز و شب میں
کس جگہ سہما ہوا ہوں میں
کہاں ہوں میں
تری دنیا کے نقشے میں
کہاں ہوں میں

اندھیرا تم سے ہم کلام ہوتا ہے

حٖیظ تبسم:عذرا عباس !
میز پر رکھے تمہارے ہاتھ
انگلیاں بجاتے ہیں
لکیروں کے ساکت ہجوم میں
اور سرگوشی میں پوچھتے ہیں
خود سے پرانے عہد کی داستان

ذرا بدلا ہوا لیکن وہی پہلے سا پاکستان

ستیہ پال آنند: دھڑکتے دل سے بستے کو اٹھائے
امتحان کے واسطے تیار
تازہ دم، کسی اسکول کا بچہ
ہتھیلی پر درخشاں قسمتوں کی ننھی مُنی سی لکیریں
میں اسے پہچانتا ہوں اپنے بچپن سے!