پچھلی گلی کا دروازہ

پچھلی گلی کا دروازہ
شام سے ہی اچھا خاصا سناٹا درودیوار سے لپٹا تھا۔ اس گھر میں تھا ہی کیا وحشت اور تنہائی کے سوا۔ سارا دن ویرانی کا مرگھلا پرند مکان کی چھت سے الٹا لٹکا کریہہ آوازوں میں ہیبت نا ک کلمے پڑھتے رہتا تھا۔ وہ کافی دیر سے ذہن کے اندرو نی حصے میں روشن خیالا ت کے عکس کو آنکھوں کی تاریک اسکرین پر دیکھ رہا تھا۔ سیاہ لباس میں ملبوس کئی چہرے ادھر سے ادھر بھاگ رہے تھے اور وہ ایک کھمبے کے پیچھے چھپ کر افراتفری کے عالم کو دیکھ رہا تھا۔ کتنی ہی دیر تک تو اسے سمجھ ہی نہیں کہ ہو کیا رہا ہے۔اور جب اس کے حواس قدرے بیدار ہوئے اس نے ذہن پہ زور دینا شروع کیا۔وہ ان چہروں کو پہچان نہیں پا رہا تھا۔ شاید وہ راستہ بھول کر کسی اور بستی میں آ گیا تھا۔ لیکن وہ گھر سے کس کام کے لئے نکلا تھا۔ اسے یاد نہیں آ رہا تھا۔ وہ دم سادھے لیٹا اپنے خواب کی کیفیت کو سمجھنے کی کوشش کر تا رہا۔ پھر اکتا کر اس نے خود کو آزاد چھوڑ دیا۔ معاً اس کی سماعت میں پروں کے پھڑپھڑانے کی آواز سرسرانے لگی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کئی سانپ ایک ساتھ پھنکار رہے ہوں۔ اس کے ماتھے پہ پسینے کے قطرے نمودار ہونے لگے تھے۔ حبس زدہ فضا میں عجیب سی باس تھی اس نے نتھنے سکیڑ کر خوشبو سونگھنے کی کوشش کی تو اسے چھینک آ گئی۔ایک جھنجھناہٹ نے بدن کو چیر دیا تھا۔ اس کے منہ میں خشک مٹی کا ذائقہ گھلنے لگا تو اس نے بائیں طرف تھوکنے کی کوشش کی۔مگر سر اتنا بھاری ہو رہا تھا کہ اس سے بالکل بھی ہلا نہیں گیا۔ سر تک چادر اوڑھے ہوئے وہ نیم غنو د کیفیت میں تھا۔ دفعتاً اسے لگا کہ کوئی اس کا شانہ ہلا رہا ہے۔ اس کی آنکھ کھل گئی تھی مگر اس نے خود کو سوتا ظاہر کیا۔ وہ مزید کچھ دیر سونا چاہتا تھا مگر جب اسے زبردستی اٹھا دیا گیا تو وہ بارہ بجاتی شکل کے ساتھ اس گستاخ کو کوسنے لگا جس نے اسے پھر بے آرامی کے برزخ میں دھکیل دیا تھا۔ آج مدت بعد تو سکھ چین کی نیند آئی تھی۔ گو کہ کرنے کو بہت سارے کام باقی تھے۔ کام کیا زندگی کے جھنجھٹ کہئے۔۔۔جو ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس کی ملوکیت میں آ چکے تھے۔ پہلے تو اپنے جی کا جنجال تھا اب پانچ جانیں مزید ساتھ تھیں۔اس کی کرخت انگلیاں تو اسی جمع توڑ میں لگی رہتی تھیں۔ مکان کا کرا یہ، بجلی، گیس کا بل، بچوں کی فیسیس، گھریلو اخراجات اور پھر کچھ عرصے بعد بڑی بیٹی کی شادی بھی طے تھی۔ گو اس کی نیک بخت شریک حیات نے کافی کچھ جوڑ رکھا تھا مگر پھر بھی سو بکھیڑے تھے۔اس نے اپنی ماں سے مکان کے حصے کی بات کی جو اس کے بھائی کے زیر استعمال تھا۔ پہلے سب اکھٹے رہتے تھے مگر پھر چھ کمروں کا مکان چھوٹا پڑنے لگا تو اسی نے قربانی دی اور کرائے کے مکان میں آ پڑا۔پانچ سال ہو گئے تھے اسے مختلف مکانوں میں دھکے کھا ؎تے۔ چھوٹے بھائی نے الگ ہو نے کے بعد نیا کا روبار شروع کیا تو اسے خاطر خواہ فائدہ ہوا اور اب تو اس نے کئی پلاٹ بھی لے لئے تھے اس لئے جب ماں اور بھائی کو احساس نہ ہوا تو اس نے خود ہی منہ سے کہہ دیا۔ماں تو سنتے ہی ہتھے سے اکھڑ گئی اور بکتی جھکتی چھوٹے کے ہاں چلی گئی تھی۔

"میرے جیتے جی اس گھر کا بٹوارہ نہیں ہو سکتا۔ اگر میرا وجود کھٹکتا ہے تو زہر دے دو تم دونوں میاں بیوی مجھے " وہ شدید غصے میں کا نپنے لگی تھی۔اس کی بیوی نے تو کبھی ضرورت سے زیادہ مانگا تھا نہ وہ چا در سے پاؤں با ہر نکا لنے کی قا ئل تھی پھر بھی اس کی ماں کو لگتا وہی اس کے بیٹے کو پٹیاں پڑھاتی رہتی ہے۔ اس کا دل برا ہو گیا تھا۔ ماں رو ٹھ کر چلی گئی اور کچھ دیر بعد ما لک مکا ن کا لڑ کا کرا یہ لینے آیا تو اس کا دل مزید افسردہ ہو گیا۔

"بیٹا ! ابا سے کہو اگلے مہینے اکھٹا دے دوں گا دونوں مہینوں کا " اس نے بے چارگی کی انگلی تھام کر کہا۔

"ک ئی نہیں چاچا۔ابا نے کہا تھا کرایہ ضرور ہی لے کے آئیو۔ اسٹور والے کا حسا ب چکتا کرنا ہے۔" بد لحاظ سا نوجوان اکھڑ پن سے بولا۔

"اچھا۔۔میں کل ان کی خدمت میں حا ضر ہو تا ہوں" وقتی طور پہ یہی عذر ذہن میں آیا تھا۔ لڑکا تو چلا گیا۔وہ کمرے میں آ کر حساب کتاب کرنے لگا۔ اس کی بیٹی اس سے کھانے کا پوچھنے آئی تھی۔ اس نے گھڑی کی بدرنگ سوئیوں پہ وقت شمار کیا تو رات کے نو بجنے میں کچھ ہی وقت باقی تھا۔ اور طبیعت اس قدر مکدر تھی کہ رہی سہی بھوک پیاس بھی اڑ چکی تھی۔

"ابھی بھو ک نہیں ہے بیٹا۔۔۔ بعد میں کھا لوں گا" اس نے نر می سے کہا۔

"جی اچھا۔۔۔ امی نے بھی نہیں کھایا کہتیں بھو ک نہیں ہے۔ آج کسی کو بھی بھو ک نہیں لگی ابا۔۔ "

"تم لو گوں نے کھا لیا؟" اس نے چا روں بچوں کے متعلق پو چھا۔
"نہیں ابا۔۔۔سب نے منع کر دیا۔ میں نے اتنے شوق سے بگھا رے بیگن بنائے تھے۔ دا دی اماں نے فرما ئش کی تھی اب وہ تو خفا ہو کر چلی گئیں۔ کسی اور نے بھی نہیں کھائے۔"

"چلو کھا نا لگا ؤ۔۔۔سب مل کے کھا تے ہیں۔" اس نے اپنی پریشا نی کا تھیلا اٹھا کر الما ری میں رکھا۔جن بچوں کے لئے وہ دن رات محنت کرتا تھا ان کے ملول چہرے دیکھ کر اسے دکھ تو ہوا مگر خود پر زبردستی بشاشت طاری کرتے ہوئے وہ خوش گپیوں میں مصروف ہو گیا تھا۔

اور اگلی صبح طمانیت کی نرم کرنیں لئے طلو ع ہو ئی تھی۔ وہ دفتر سے گھر آ یا تو گھر کے باہر لوگوں کو جم غفیر دیکھ کر اسے کسی انہونی کا احساس ہوا۔ وہ بھیڑ چیر کربد حواسی کے عا لم میں اندر آیا تو اس کی بیوی بچے، بہن بھا ئی، ماں، بھتیجے، بھتیجیاں، بھانجے، بھانجیاں، عزیز و اقربا سب ہی جمع تھے۔درمیان میں رکھی چارپا ئی پہ سفید چادر اوڑھے وہ کون تھا؟

اسے دھچکا لگا۔ وہ حیرت سے آنکھیں ملتا آ گے بڑھا تو سب سے پہلے اسے اپنی بیوی کا چہرہ دکھائی دیا۔ وہ رو رو کر ہلکان ہو چکی تھی۔ بکھرے بال، ٹوٹی چوڑیاں، سوجی آنکھیں۔۔۔۔اس کی حالت دیکھ کر اسے اس پہ بے تحاشہ ترس آیا۔وہ اسے دلاسہ دینے کے لئے آگے بڑھنا چا ہتا تھا مگر اس کے ساتھ ہی اس کی بیٹیاں سر جھکائے سسکیاں بھر رہی تھیں۔وہ وہیں کھڑا رہ گیا۔رشتے دار خواتین میں سب سے زیادہ بلند آواز اس کی ماں کی تھی وہ ہاتھ پھیلا پھیلا کر بین کر رہی تھی۔پچھا ڑیں کھا رہی تھی۔ اسے دیکھ کر اس کے لبوں پر تمسخرانہ مسکرا ہٹ بکھر گئی۔ اسے وہ سوانگ بھرے کردار کسی ڈاکیومنٹری کا حصہ لگے۔ وہ ان کی ادا کاری پہ جی بھر کر داد دینا چاہتا تھا مگر اس کی طرف کوئی دیکھ ہی نہیں رہا تھا۔ اس نے اپنی بیوی کو پکارنے کی کوشش کی تو اس کے حلق سے عجیب سی غر غراہٹ نکلی جسے سن کر وہ خود بھی حیران ہو گیا۔ حلق میں انگلی ڈا ل کر اس نے پھنسے ہوئے لفظوں کو باہر نکالنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا۔ اس کی زبان تا لو سے چپکی ہوئی تھی جیسے کسی نے اسے ایلفی سے چپکا دیا ہو۔ وہ گردن لٹکائے الٹے قدموں پیچھے کھسکنے لگا۔اسے اس بھر ے مجمع میں کسی سے دلچسپی نہیں تھی لیکن وہ پا نچ مہرباں اور جانے پہچانے چہرے جو اس کے اپنے چہرے تھے۔اس کے وجود کا حصہ بن چکے تھے۔وہ انہیں ایک بار سینے سے لگا کر محسوس کرنا چاہتا تھا۔مگر شاید دیر ہو چکی تھی۔اس کی بیوی کی چو ڑیاں دور تک بکھری ہو ئی تھی۔بیو گی کی سفید چا در اس کے ما تھے تک آئی ہوئی تھی تاہم وہ خود بے بس ہو چکا تھا۔اس نے رو تے، پیٹتے، کرلا تے مجمع پر ایک طا ئرا نہ نگاہ ڈالی اور پچھلی گلی میں کھلتے دروازے سے نکل کر اپنی قبر میں جا کر ساکت لیٹ گیا۔ وہ گہری نیند سو جانا چاہتا تھا۔ایک پرسکون اور طویل نیند۔۔ اب تو اسے روزِ محشر تک کسی نے بیدار کر نے نہیں آنا تھا۔

Image: Joanna Kuhling

Sidra Sahar Imran

Sidra Sahar Imran

Sidra Sehar Imran holds a Masters degree in Urdu. She is one of the prominent names of Contemporary Urdu prose poetry circle.


Related Articles

ستیہ وان ساوتری

"تمہارے پتی کی موت تو قسمت میں لکھی تھی۔ اس کو تو کوئی بھی نہیں بدل سکتا۔ البتہ تم ایک مراد اور مانگ سکتی ہو، اس کے بعد واپس لوٹ جاؤ۔"

ایک پرانی تصویر کی نئی کہانی (ناصر عباس نیر)

تصویر کے آدھے حصے کے غائب ہوجانے کا انکشاف اس زلزلے سے بڑھ کر تھا جو پندرہ سال پہلے آیا

بھگوڑا

جیم عباسی: عصر سے تھوڑا پہلے وہ گھر جا پہنچے۔ گھر میں کیا داخل ہوئے ہنگامہ اورغل برپا ہو گیا۔ شور، گالیاں، دھمکیاں، رونا، دوہتڑ، بدعائیں،تھپڑیں، بالوں سے پکڑنا، کھینچا تانی، پھٹی ہوئی شرٹ سب شامل تھا۔ ایک کمرے میں شگفتہ نشانہ بن رہی تھی ایک میں یونس۔