پھر وہی کہانی

پھر وہی کہانی
یہ روشن چہرے اور ہنستی آنکھوں والا نوجوان مرنے والوں میں سب سے عجیب تھا۔ یہ بس سکرین کے سامنے آیا تین دفعہ مسکرا کے پلکیں جھکائیں اور کنپٹی پہ پستول رکھ کہ گولی چلا دی۔ اب تک سینکڑوں لوگوں نے میری آنکھوں کہ سامنے جان دی تھی مگر اتنا خاموش تو کوئی بھی نہیں تھا۔ جب سے میں نے انٹرنیٹ پر لائیو خودکشی کے لئے ویب سائٹ بنائی تھی روز درجنوں لوگ براہ ۔ راست خودکشی کیا کرتے تھے۔ اب تو روزانہ پانچ کروڑ سے زیادہ لوگ میری ویب سائیٹ پر آتے اور خودکشی کے براہ ِ راست مناظر سے لطف اندوز ہوتے۔ مرنے والوں میں ہر طرح کے لوگ تھے۔ کچھ تو بہت چیختے چلاتے اور اپنی تمام ناکامیوں کا ذمہ دار معاشرے کو سمجھتے اور مر کے اپنے تئیں معاشرے سے انتقام لینا چاہتے تھے۔ کچھ کا انتقام تو محض اپنے چاہنے والوں تک محدود ہوتا تھا۔ کچھ بہادر لوگ تھے وہ نہایت کُھلے دل سے اپنی ناکامیوں کا اعتراف کرتے اور مر جاتے۔ ایک طبقہ ان دانشوروں کا تھا جو سکرین پہ آ کر زندگی کی بے ثباتی کا رونا روتے اور موت کی عظمت کے قصیدے پڑھتے۔ مجھے یہ واعظ طبع لوگ انتہائی مکروہ لگتے تھے۔ یہ خود کو کسی دیوتا سے کم نہیں سمجھتے تھے حالانکہ موت کے خوف سے ان کے چہرے کی سفیدی بڑھ جاتی ان کا گلا بار بار خشک ہو جاتا اور پستول اُٹھاتے وقت ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضح طور پر دیکھی جا سکتی تھی۔ وہ بوڑھے بھی انتہائی خبیث ہوتے تھے جو اب زندگی کا بوجھ مزید اٹھانے کی سکت نہ رکھتے تھے اس لئے مر جاتے مگر مرنے سے پہلے وہ اپنے بچوں کی زندگیوں کو تلخ کرنے کی کوشش کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ان سے اپنے ہی بچوں کی جوانی اور خوشی برداشت نہ ہوتی تھی یہ ٹھہر ٹھہر کر مرتے تھے جیسے یہ ٹھہر ٹھہر کر جیے تھے۔

مرنے والوں میں سب سے زیادہ تعداد نوجوانوں کی ہوتی تھی اور خودکشی کچھ انہی کو زیب دیتی تھی۔ ہر موت کے بعد چند لمحوں کے لئے ایسا سناٹا چھا جاتا جیسے موت نے سبھی دیکھنے والوں کو سونگھ لیا ہے۔ موت کی یہ سنسناہٹ ہی دراصل میری کامیابی کی وجہ تھی۔ میری یہ ویب سائیٹ اس وقت ہر محفل کا موضوع بنی ہوئی تھی۔ چرچ اسے مذہب کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیتا تھا۔ وکلا اسے قانونی طور پر غلط سمجھتے تھے۔ سماجی کارکنوں کے حلقے میں میری ویب سائٹ اور میں دونوں ہی معتوب تھے۔ یہاں تک کہ میرا اپنا بیٹا یہ سمجھتا تھا کہ میں معاشرے میں مایوسی پھیلانے کے سوا کچھ نہیں کر رہا۔ وہ آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ آج کے انسان کا مسائل کا حل آرٹ میں ہے۔ آج کے انسان کو روحانی سکون کی ضرورت ہے جب کہ میں سمجھتا تھا کہ آج کے انسان کو مکمل آزادی کی ضرورت ہے۔ میں ایک مسیحا ہوں جو حقیقی معنوں میں روح کو آزاد کروا رہا ہوں۔ آپ لوگوں کی طرح میرے بیٹے کو بھی لگتا تھا کہ اس کہانی کا منطقی انجام یہی ہونا ہے کہ ایک دن مُردہ دل کے ساتھ میں اسی ویب سائٹ پر بیٹھ کر اپنی موت کی خبر سناوں گا۔ پر یقین جانئے کہ اس کہانی میں ایسا کچھ نہیں ہونے والا میں ایک سیدھا سادھا کاروباری آدمی ہوں۔ ہاں یہ سچ ہے کہ کبھی کبھی میں خبط ۔عظمت میں مبتلا ہو جاتا ہوں ۔

بالاخر تنگ نظروں سے انسانوں کی یہ آزادی برداشت نہ ہوئی انہوں نے میری ویب سائٹ کو عدالت میں چیلنج کر دیا اور اعداد و شمار کے گورکھ دھندوں سے یہ ثابت کرنے کی کوشش کرنے لگے کہ میں خودکشی کے رجحانات میں خطرناک اضافے کا سبب بن رہا ہوں اور میری ویب سائٹ معاشرے کے لئے ناسور بنتی جا رہی ہے۔ میں عدالت میں ہونے والی تما م جرح پر بس مسکراتا رہتا ہوں۔ عدالت میرے خلاف فیصلہ سنانے والی تھی کہ میں نے (معزز) عدالت کے سامنے تجویز رکھ دی کہ اگر عدالت چاہے تو میں اپنی ویب سائٹ میٰں ایسی تبدیلی کر لیتا ہوں کہ دیکھنے والوں میں سے اگر کوئی خودکشی کرنے والے سے بات کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ یہ سوشل ورکر اور مذہبی ٹھیکدار اگر چاہئیں تو اُسے جینے کے لئے قائل کر سکتے ہیں۔ میں اپنی عیاری کے سبب عدالت کو یہ باور کرانے میں کامیاب ہو گیا کہ ایسا کرنے سے خودکشی کے اعداد و شمار میں بے پناہ کمی لائی جا سکتی ہے۔ میں نے دیکھا کہ میری اس تجویز پر پادری کی ہنسی چھپائے نہیں چھپتی تھی اس کا موٹا پیٹ ہلکورے کھا رہا تھا۔ اُسے یقین تھا کہ موت کے اس کھیل کو مذہب کے چھتری کے ذریعے وہ اپنے کنٹرول میں کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔

میری یہ تجویز میرے حق میں ہی رہی اب بہت سارے خدائی خدمت گار بھی میری ویب سائٹ پر آنے لگے اور چکنی چُپڑی باتوں سے دوبارہ زندگی کے سبز خواب دکھانے لگے۔ لیکن اب یہ بھی ہوا کہ بہت سے شوقیہ فنکار بھی خودکشی کا ڈرامہ کرتے ،مرنا کبھی بھی ان کے منصوبے کا حصہ نہیں تھا۔ لیکن یہ کھیل زیادہ عرصہ چل نہیں سکا۔ موت کے حقیقی شائق آہستہ آہستہ کم ہونے لگے اور میری ویب سائٹ صرف بھانڈوں کی اماج گاہ بن کر رہ گئی۔ مجھے یقینا اس بارے میں کچھ کرنا ہو گا۔ میں نے راہ ڈھونڈ لی ہے اب خودکشی کرنے والوں کو صرف ان لوگوں سے بات کرنے کا موقع ملتا جو پہلے سے ہی میرے تیار کردہ تھے اور یہ ہر گز موت سے نا روکتے بلکہ موت کی ترویج کرتے تھے۔ میرا یہ طریقہ کامیاب رہا اور پہلے کی طرح مجھے کامیابیاں نصیب ہونے لگیں۔ موت لمحہ بہ لمحہ زیادہ تیزی سے زندگی پہ جھپٹنے لگی یہاں تک کہ ایک ایسا نوجوان آیا جو ایک آرٹ سکول کھولنا چاہتا تھا۔ وہ بتا رہا تھا کہ کہ وہ اپنے باپ سے کتنی محبت کرتا ہے اور وہ یہ سکول اپنے باپ کے لئے ہی تو کھولنا چاہتا تھا جس کی روح نہ جانے کہاں قید ہو گئی تھی۔ میں نے بہت کوشش کی کہ میں اس سے رابطہ کر سکوں لیکن میرے تیار کردہ افراد اُسے مسلسل موت پر اُکسا رہے تھے۔ میرا دل بیٹھا جا رہا تھا۔ گولی کی آواز کسی بھی لمحے مجھ تک پہنچ سکتی تھی۔

رات کسی بھی لمحہ ختم ہونے والی تھی میرے سامنے میری ویب سائٹ کُھلی ہوئی تھی۔ آج کے دن ایک کم ہزار لوگوں نے خود کُشی کی تھی۔ میں اندر سے بالکل خالی ہوں میرے پاس کہنے کے لئے کچھ بھی نہیں ہیں۔ ہاں میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں وہ میرا اکلوتا بیٹا تھا۔ پر میں اس کے نام کا آرٹ سکول نہیں بنا سکتا۔ میں نے ٹیبل کا دراز کھول لیا ہے ۔ میں سچ میں اپنے بیٹے سے بہت پیار کرتا ہوں۔ مجھے اپنا وہ دوست بھی بہت یاد آ رہا ہے جو ہمیشہ ایک ہی کہانی سناتا تھا۔

Image: Alvaro Tapia Hidalgo

Asad Raza

Asad Raza

Asad Raza is an anthropologist. He is a researcher by profession and is interested in reading and writing stories.


Related Articles

گمراہ

ابنِ مسافر: آخری لال بیگ نے اس کے بائیں کندھے پر کچھ دیر ٹھہر کر اسے جانی پہچانی لیکن بری نظروں سے دیکھا۔۔ اور اپنے معدے میں خود ساختہ فاضل جکڑ بندیوں کی باقیات چھپائے ایک اڑان بھر کر سامنے راستے پر والدین کی انگلی تھامے ایک بچے کے سر پر جا بیٹھا۔

کج فہمیاں

ایک بین الااقوامی کارپوریش نے صاف آکسیجن فراہم کرنے کا ٹھیکہ لے لیا۔ایک بین الاقوامی قانون کے ذریعے، جس کے تحت منظور شدہ سلنڈر اور ماسک کے بغیر سانس لینا جرم قرار دیا گیا جس کی سزاعمر قید طے پائی۔

تاریک سورج

پورا قصبہ آج پھر اجتماعی خاموشی کا شکار تھا- بازار بند پڑا تھا اور اس کے مغرب میں قصبہ کے مرکزی چوک میں لوگ چھوٹی چھوٹی ٹولیوں میں کھڑے چہ میگوئیوں میں مصروف تھے۔عجیب سہما ہوا منظرتھا-