پہلا معرکہ

پہلا معرکہ

ڈاکٹر عبدالمجید کا یہ مضمون اس سے قبل روزنامہ دی نیشن پر بھی شائع ہو چکا ہے۔ مصنف کی اجازت سے اس تحریر کا اردو ترجمہ لالٹین قارئین کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔ عبدالمجید تدریس کے پیشے سے منسلک ہیں اور تاریخ کے ساتھ بین الاقوامی امور سے دلچسپی رکھتے ہیں۔

کانگریس نے کشمیر کی اندرونی سیاست میں جارحانہ انداز اپنایا اور مقامی سیاستدانوں خصوصاً نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نے خود کو شاہی ریاستوں کی داخلی سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔
پاکستان کے ہندوستان سے سفارتی تعلقات سالہا سال سے اس خطے میں ہندوستانی بالادستی کے خوف اور دونوں ملکوں کے مابین تنازعہ کشمیر کے پروردہ رہے ہیں۔ دو ہمسایوں کے مابین دیگر تنازعات کی طرح مسئلہ کشمیر کی جڑیں بھی تاریخ میں پیوست ہیں، یہ تنازعہ بھی برطانوی استعمار کے خروج کے بعد پیدا ہوا۔ تقسیم سے قبل کشمیر بھی دیگر 561 شاہی ریاستوں کی طرح ہی ایک نیم خودمختار ریاست کا درجہ رکھتی تھی۔ اس کی زیادہ تر آبادی مسلمان تھی اور اس پر ایک ہندوراجہ حاکم تھا۔

کشمیر میں تقسیم سے قبل مرکزی سیاسی جماعتوں (انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ) کی سرگرمیوں کی تفاصیل حسن ظہیر نے اکٹھی کی ہیں۔ یہ تفصیلات ان کی بطور مجسٹریٹ مرتب کی گئی یادداشتوں "The Times and Trial of The Rawalpindi Conspiracy Case 1951" میں شامل ہیں۔ کانگریس نے کشمیر کی اندرونی سیاست میں زیادہ سرگرم انداز اپنایا اور مقامی سیاستدانوں خصوصاً نیشنل کانفرنس کے شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جبکہ دوسری جانب مسلم لیگ نے خود کو شاہی ریاستوں کی داخلی سیاست سے الگ تھلگ رکھا۔ شاہی ریاستوں کی اندرونی سیاست سے اس فاصلے کے تقسیم کے بعد دور رس اثرات مرتب ہوئے۔

3 جون 1947 کے منصوبے کے تحت تقسیم ہند کا اعلان کیا گیا۔ اس منصوبے کے تحت مستقبل کی دونوں ریاستوں کی سرحدوں کا تعین کیا گیا اور شاہی ریاستوں کو ہندوستان یا پاکستان میں سے کسی ایک سے الحاق کا انتخاب دیا گیا۔ ہندوستان اور پاکستان میں پنجاب اور بنگال کی حد بندی کے لیے حد بندی کمیشن بھی قائم کیے گئے۔ پاکستان کے سرکاری موقف کے مطابق کشمیر سے ملحق گورداسپور کے علاقے غیر منصفانہ طور پر ہندوستان میں شامل کیے گئے۔

مورخ شیریں الٰہی نے اپنے مقالے The Radcliffe Boundary Commission and the Fate of Kashmir میں اس امر کی نشاندہی کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "پنجاب کی تقسیم کے لیے ضلع کی بجائے تحصیل کو اکائی تسلیم کیا گیا۔" ریڈکلف ایوارڈ نے گورداسپور کی چار میں سے تین تحصیلیں جن میں دو مسلم اکثریتی تحصیلیں بھی شامل تھیں، پنجاب سے متعلق مختلف سیکیورٹی تحفظات کے باعث ہندوستان میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ تاہم اگر یہ دونوں مسلم اکثریتی تحصیلیں بھی پاکستان میں شامل کر دی جاتیں، تب بھی پٹھانکوٹ کی ہندواکثریت کے باعث ہندوستان کو جموں و کشمیر تک زمینی راستہ میسر آ جاتا۔ اس بناء پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ باربار دہرائے جانے والے اس الزام میں کہ گورداسپور کی ہندوستان میں شمولیت جموں و کشمیر کو ہندوستان کا حصہ بنانے کی کسی سازش کا حصہ تھا، درحقیقت کوئی صداقت نہیں۔

تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی، پونچھ کے قبائل نے ڈوگرہ افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور انہیں بری طرح شکست دی۔ اسی دوران وزیرستان اور بلوچستان سے قبائل کو اس "جہاد" میں شمولیت کے لیے کشمیر منتقل کیا جانے لگا۔
ان وجوہ کی بناء پر شیریں الٰہی یہ نتیجہ اخذ کرتی ہیں،" اس بات کا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ آیا کسی نے واقعی شاہی ریاستوں کے معاملات پر اثرانداز ہونے کی غرض سے سرحدوں میں ردوبدل کیا"۔ پاکستانی قیادت کشمیر کو اپنے عزائم کی تکمیل کے لیے لازمی خیال کرتی تھی اور انہیں یقین تھا کہ راجہ پاکستان سے الحاق کا فیصلہ کرے گا۔ تاہم راجہ کے سامنے پاکستانی خواہشات کے علاوہ اپنے اور غیر مسلم کشمیریوں کے تحفظ سمیت اور بھی کئی مسائل تھے۔

تقسیم کے کچھ عرصے بعد ہی، پونچھ کے قبائل نے ڈوگرہ افواج کے خلاف بغاوت کر دی اور انہیں بری طرح شکست دی۔ اسی دوران وزیرستان اور بلوچستان سے قبائل کو اس "جہاد" میں شمولیت کے لیے کشمیر منتقل کیا جانے لگا۔ ان قبائلی لشکروں کو فوج کی معانت حاصل تھی اور پنجاب حکومت نے انہیں ہتھیار بھی فراہم کیے۔ اکتوبر 1947 کے اختتام تک حملہ آور قبائلی لشکر سری نگر کے مضافات میں واقع بارہ مولہ تک جا پہنچے تھے۔ تاہم اس موقع پر حملہ آور فوج سے ایک فاش غلطی سرزد ہوئی۔ معروف فوٹو گرافر اور صحافی مارگریٹ برک-وائٹ اس اندوہناک منظر کی شاہد ہیں۔

شمال مغرب سے آئے مہمند، آفریدی، وزیر اور محسود قبائل زبردست جنگجو تھے لیکن یہ قبائلی لشکر، علاقے پر قبضے کے لیے جنگ اور مال غنیمت کے لیے لڑائی میں فرق سے ناواقف تھے۔ تین روز تک قبائلی لشکریوں نے بارہ مولہ میں تباہی، جنسی درندگی اور لوٹ مار کا بازار گرم رکھا۔ برک وائٹ "ہاف وے ٹو فریڈم: میں بیان کرتی ہیں کہ "بعض اوقات مسلم بھائیوں کے لیے ان کی مدد اس قدر جلد پہنچ جاتی تھی کہ لوٹ مار کے سامان سے لدے پھندے ٹرک اور بسیں اسی روز یا اگلے ہی دن مزید قبائلیوں کو لیے لوٹ آتے تھے، جو نئے سرے سے 'آزادی دلانے' کا یہ عمل بلا تفریق دہراتے تھے اور ہندو، سکھ اور مسلمان دیہاتیوں کو ایک ہی طرح دھمکاتے تھے۔"

تنگ آ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ چند ہی روز میں ہندوستانی افواج سری نگر پہنچ گئیں اور انہوں نے شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا۔
بارہ مولہ مشن ہسپتال کی راہباوں نے جب اپنے مریضوں کو بچانے کی کوشش کی تو انہیں اجتماعی طور پر ذبح کر دیا گیا۔ نیشنل کانفرنس کے ایک رہنما میر مقبول شیروانی کشمیر ملیشیا کی جانب سے غیر منظم قبائلی لشکروں کے خلاف خفیہ کارروائیاں کیا کرتے تھے۔ حملہ آور قبائلیوں نے انہیں پکڑ لیا اور انہیں سب کے سامنے پاکستان کی حمایت کا اعلان کرنے کا حکم دیا۔ انکار کرنے پر انہوں نے "مقبول شیروانی کے ہاتھوں میں میخیں ٹھونک دیں"۔ ان کی پیشانی پر جست کے نوکدار ٹکڑے سے لکھا: غدار کی سزا موت ہے۔ بعدازاں انہیں ایک فائرنگ سکواڈ کے سامنے کھڑا کر کے اڑا دیا گیا تھا۔

تنگ آ کر کشمیر کے ڈوگرہ راجہ نے ہندوستان سے الحاق کا فیصلہ کیا۔ چند ہی روز میں ہندوستانی افواج سری نگر پہنچ گئیں اور انہوں نے شہر کا نظم و نسق سنبھال لیا۔ پاکستان کی باقاعدہ افواج نے بھی اپنی پوزیشن مستحکم بنانے کے لیے پیش قدمی کی لیکن ہندوستانی افواج نے اپنی تزویراتی برتری کے باعث انہیں پیچھے دھکیل دیا۔ 1947-48کی یہ جنگ اقوام متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان تک چند ماہ جاری رہی۔

ہندوستانی صحافی پروین سوامی نے اپنی کتاب "Indian, Pakistan and the Secret Jihad" میں ذکر کیا ہے کہ 1947-48 کی جنگ ریاست حکمت عملی کے تحت شروع کی گئی مقدس جنگ تھی نا کہ مذہبی اشتعال انگیزی یا برادرانہ ہمدردی کے جذبات کے باعث شروع ہونے والی کوئی بغاوت (جیسا کہ ہمارے قومی بیانیے میں مذکور ہے)۔ جنگ بندی کے بعد بھی فوجی کارروائیوں میں حصہ لینے والے بہت سے افسران کشمیر کو "آزاد کرانے" کے خواب دیکھتے رہے۔ "راولپنڈی سازش کیس" کے ذمہ داران کے لیے پاکستان پر قبضے کے بعد کشمیر کی آزادی اس سازش کے بنیادی محرکات میں سے ایک تھی۔ پہلی دہائی میں ہی کشمیر کے معاملات پر صورت حال کی تبدیلی کی خفیہ کوششیں شروع ہو چکی تھیں جیسا کہ 1958 کی "کشمیر سازش کیس" سے ظاہر ہوتا ہے۔ کشمیر کی پہلی جنگ سے ہمیں کشمیر پر بعد کے برسوں میں پاکستان کی جانب سے اپنائی گئی حکمت عملی کو سمجھنے کے لیے کافی سراغ ملتے ہیں۔
Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.

Related Articles

جنگ، جہاد اور پاکستان؛ ایک مختصر جائزہ-پہلا حصہ

بنگال کی آزادی سے دو قومی نظریے کا خاتمہ ہوا اور یہ بات ثابت ہوئی کہ زبان اور نسلی امتیاز مذہب سے طاقت ور ہوتا ہے صرف اسلام کے نام پر جنگیں نہیں جیتی جا سکتیں۔

عورتوں کی تعلیم پر ایک آزاد خیال عورت کی نظر

جس طرح انسانی آزادی کی تحریک نے ممالک کو آزاد کیا۔ حرفتی تحریک نے پیشہ ور کا عقدہ وا کیا اسی طرح ہم بھی عورتوں کے تعلیمی نصاب میں ایک سریع السیر انقلاب چاہتے ہیں تاکہ عورت بندی خلاص ہو۔

(رائے بہادر سر گنگا رام (ایم وی او، سی آئی ای

رائے بہادر سر گنگا رام کو اس بستی کے باسی بھی فقط ایک سرکاری انجنئیر کے طور پر جانتے ہیں جسے بسانے میں گنگا رام کی محنت اور دولت ہی نہیں بلکہ اُن کے خلوص اور محبت نے اہم کردار ادا کیا۔