پہلے میرا باپ

پہلے میرا باپ

فجر کی نماز اور بچوں کو قرآن ناظرہ کی تعلیم دینے کے بعد گاؤں کی مرکزی جامع مسجد کے امام صاحب اپنے گھر میں استراحت فرما رہے تھے جب بیٹھک کے دروازے پر تیز دستک ہوئی۔آنے والا یقینا امام صاحب سے ملنے آیا تھا ورنہ بیٹھک کی بجائے گھر کے دروازے پر دستک دیتا۔ بے وقت اور اتنی تیز دستک۔ ان کی بی بی چونک اٹھی۔ گاؤں کے سبھی لوگ جانتے تھے کہ امام صاحب اس وقت آرام کرتے ہیں ، ایسے وقت کوئی بھی ان کے پاس مسئلہ لے کر نہیں آتا تھا۔دوسرے ، گاؤں کے سبھی لوگ ان کی بہت عزت کرتے اور ان کے سامنے اونچی آواز میں بولنے سے بھی اجتناب کرتے تھے۔ان کے دروازے پر اتنی تیز دستک کی کسی میں ہمت ہی نہ ہوتی تھی، عام طور پرلوگ درمیانی انگلی کی پشت سے دروازے پر ہلکے سے بجاتے ، اگر امام صاحب دروازہ کھول دیںتو ٹھیک ورنہ تین دستکوں کے بعد وہ برا مانے بغیر ادب کے ساتھ لوٹ جاتے تھے۔ آج اتنی صبح اور اتنی تیز دستک سن کر ان کی بی بی چونک اٹھی تھی ۔ امام صاحب کی طرف فوراً دیکھا ، وہ بھی اس خلافِ معمول ملاقاتی کی آمد پر حیران ہو کرچارپائی سے اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ آنکھوں میں ’’اللہ خیر کرے‘ ’ کے تاثرات تھے۔ جلدی سے انہوںنے بیٹھک کا دروازہ کھولا تو باہر گاؤں کا ایک معزز شخص ملک بشیر کھڑا تھا۔ گو کہ گاؤں کی آبادی میں ملکوں کا تناسب بارہ پندرہ فیصد ہی تھا لیکن یہ ان سب کا سرکردہ تھا اور الیکشن اور دیگراجتماعی سرگرمیوں میں سبھی ملک اس کی پیروی کرتے تھے۔ اس کی اسی مقبولیت کی وجہ سے گاؤں میںچودھری اور راجے دونوں اس کی عزت کرتے تھے۔ مسجد کمیٹی کے معاملات میں بھی وہ دخیل رہتا تھااور امام صاحب بذاتِ خود بھی اس کی نیک نیتی اور خلوصِ دل کے قائل تھے۔ اس وقت ملک بشیر کے چہرے پر پریشانی تو نہ تھی البتہ بے تابی کے تاثرات اس کے تمام بدن سے مترشح تھے۔ امام صاحب نے اسے اندر آنے کی دعوت دیتے ہوئے استفسار کیا:’’خیریت تو ہے ناں؟‘‘

’’بالکل خیریت ہے امام صاحب۔ ‘‘ وہ امام صاحب کے پیچھے پیچھے ذرا ادب سے اندر آ گیا: ’’ آپ سے معذرت ہے۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ کے آرام کا وقت ہے لیکن خبر ایسی ملی ہے کہ مجھ سے رہا نہ گیا۔ ‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر ایسی کیا خبر ہے جو انہیں سنانی اتنی ضروری تھی۔ ان کی نظروں میں سوال دیکھ کر ملک نے کہنا شروع کر دیا:’’آج فجر کی نماز کے فوراً بعد کالے خان میرے گھر آیا تھا‘‘

کالے خان کا نام سن کر امام صاحب کو ذرا اطمینان کا احساس ہوا۔ انہوں نے ملک کو کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا :’’آپ پہلے بیٹھیں تو سہی، میں ذرا چائے کا کہہ کے آتا ہوں۔‘‘

باوجود ملک کے روکنے کے ، وہ بیٹھک سے نکل آئے۔ ناگواری کا ہلکا سا احساس ان کے چہرے پر عیاں ہو چکا تھا۔ کالے خان گاؤں کے بڑے قبرستان کاگورکن اور رکھوالا تھا۔ اس کا کوئی والی وارث نہ تھا ، ماںباپ بچپن میں ہی مر گئے تھے۔ گاؤں میں اس کی کوئی برادری نہیں تھی، نہ ہی اسے گاؤں سے کوئی رشتہ ملا تھا ۔ چھ گاؤں دور سے اپنی ہی طرح کے مفلس گھر کی لڑکی بیاہ لایا تھااور اسی کے ساتھ قبرستان سے ملحقہ حجرے میں رہتا تھا۔ اگر اس کے متعلق کوئی خبر تھی تو آخر کتنی اہمیت کی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کسی ممکنہ خبر پر غور بھی نہ کیا۔بہت ہوا توقبرستان کے درختوں کی کٹائی یا پگڈنڈیوں کی صفائی کا معاملہ ہو گا یا پھر سہاگے جتنے بڑے سانپ کے نظر آنے یا چارچوروں کو اکیلے مار بھگانے کی فرضی کہانی ہو گی۔اس طرح کی کہانیاں گھڑ کے اپنا جیب خرچ بنائے رکھنے میں وہ خاصا تیز تھا۔اس کے متعلق جو بھی ہوا،معاملہ قبرستان کمیٹی سے متعلقہ ہو گا۔ ان کا کیا تعلق۔ سو ان کایہی خیال تھا کہ چائے پلا کے، اس کی بات مختصراً سن کر رخصت کر دیں گے۔

جب وہ بیٹھک میں واپس پہنچے تو ملک بے چینی سے پہلو بدل رہا تھا۔ انہوں نے چائے کے کپ میز پر رکھے اور ملک کے سامنے بیٹھ گئے۔ ملک نے چائے کی طرف دیکھا تک نہیں:’’امام صاحب۔ میں نے آپ سے کہا تھا کہ اس کی ضرورت نہیں۔ میں تو بس وہ بتانے آیا ہوں جو کالے خان نے مجھے بتایا۔‘‘
’’کالے خان نے کوئی اور کہانی گھڑ لی کیا؟‘‘

’’کہانی ! نہیں نہیں۔ اس نے کہانی نہیں گھڑی۔ ایک سچا واقعہ سنایا ہے۔ آج رات وہ اپنے حجرے میں لیٹا تھا کہ اسے قبرستان سے کوئی آواز سنائی دی۔ آپ تو جانتے ہیں کہ ہمارے قبرستان میں اس قدر جھاڑ جھنکاڑ ہے کہ رات کو کوئی ادھر جاتا ہی نہیں۔‘‘

’’ارے بھائی! قبرستان میں دن کو بھی کون جانا چاہتا ہے۔ مردے سے بھی پوچھو تو وہ بھی نہیں جائے گا۔ سب اسی دنیا میں مشغول رہنا چاہتے ہیں۔ ‘‘
’’کالے خان بتا رہا تھا کہ کبھی کبھار رات کو چوروں یا چرسیوں کا کوئی گروہ قبرستان میں گھس جایا کرتا ہے۔ اور وہ جو اس نے ماچھیوں کے لڑکے لڑکی کو قبرستان میں کسب کرتے پکڑا تھا، وہ تو آپ کو بھی یاد ہی ہو گا خیر۔‘‘ملک نے ہاتھ بڑھا کر چائے کا کپ اٹھا لیا اور تیز چسکی لے کر بولا:’’اس نے بتایا کہ یہ آواز سن کر وہ دبے پاؤں ، بغیر ٹارچ جلائے قبرستان کے اندر آواز کے پیچھے چل پڑا۔ جب وہ میرے چاچاجی (ملکوں کی پوری برادری باپ کو چاچاجی اور تایا کو ابا جی کہتی تھی)کی قبر کے قریب پہنچا تب تک آواز بالکل صاف سنائی دینے لگی تھی۔ کوئی اونچی آواز میں درود شریف پڑھ رہا تھا ۔ وہ کافی دیر وہاں کھڑا رہا۔ اندھیرے میں دیکھنے کی اسے کافی مہارت ہے۔ وہ قسم کھا کر کہہ رہا تھا کہ میرے چاچا جی تھے جو اپنی قبر کے سرہانے بیٹھے درود شریف پڑھ رہے تھے۔ ‘‘

امام صاحب یہ سن کر حیرت زدہ تھے۔ کافی دیر کوئی جواب نہ دیا۔ پھر ایک لمبا سانس لے کر بولے:’’نبی کی ذاتِ مقدس جہاں شامل ہو جائے ، وہاں جھوٹ کی گنجائش ذرا بھی نہیں رہتی۔‘‘

’’آپ اس معاملے پر کیا کہیں گے؟‘‘

’’میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ آپ کے والد گرامی بے شک اللہ کے برگزیدہ بندے تھے۔ زندگی میں بھی کوئی عیب ان سے منسوب نہیں تھا اور بعد از مرگ تو ان کے عمل سے ثابت ہو گیا کہ وہ خدا اور اس کے پیارے محبوب کے بہت مقرب ہیں۔ ‘‘

ملک بشیر اپنے مرحوم چاچا جی کی تعریف سن کر خوش تھا۔اس کی آنکھیں مسرت سے چمک رہی تھیں: ’’تو کیا میں یہ بات گاؤں میں سبھی کو بتا سکتا ہوں کوئی مسئلہ تو نہیں نا؟‘‘

’’مسئلہ کیا۔ جس بستی میں زندوں کو کبھی درود شریف پڑھنے کی توفیق نہ ہو، وہاں مردے ہی پڑھیں گے ناں!آپ اپنے گھر میں ہر جمعرات کو درود کی محفل سجایا کریں۔ پورے گاؤں کو اس میں شرکت کی دعوت دیا کریں۔ خدا آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کے درجات بلند فرمائے گا اور آپ کے چاچا جی کو بھی اس کا ثواب پہنچے گا۔ اور ہاں کالے خان کو بھی ضرور کچھ صدقہ کریں۔ اس بے چارے کو بھی کچھ دن سہولت کے ساتھ زندہ رہنے کا حق ہے۔‘‘
ملک صاحب ان کے مشورے پر سرِ تسلیم خم کرتے ہوئے رخصت ہوگئے ۔ امام صاحب کی ساری ذہنی کلفت دور ہو چکی تھی، انہوں نے بھی ’صلِ علیٰ‘ پڑھتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔

٭٭٭

آنے والے دنوں میں ملک صاحب نے اس واقعے کو گاؤں کے تقریباً ہر فرد کو سنا دیا تھا اور سب گاؤں والے ان کے والد صاحب کی منازلِ عاقبت میں نصرت پر ا نہیں مبارک باد دے چکے تھے۔ جمعرات کو انہوں نے میلاد کی محفل سجائی جس میں آس پاس کے گاؤں دیہاتوں سے بھی نعت خوان حضرات بلوائے گئے۔ محفل کے آخر میں امام صاحب نے سیرت کے موضوع پر سیر حاصل گفتگو کی اور ساتھ ہی ساتھ ملک بشیر کے والد گرامی کی ذات کو پورے گاؤں کی نجات کا ذریعہ بھی قرار دیا جو بعد ازمرگ بھی اس گاؤں کی طرف سے درود کے تحفے شانِ اقدس میں ارسال کر رہے ہیں۔ مزید برآں انہوں نے فرمایا کہ میلاد کا یہ سلسلہ جو ملک صاحب کے صاحبزادے نے آغاز کیا ہے ، یہ بالواسطہ طور پر ان کے والد گرامی کی خواہش تھی اور ہم امید کرتے ہیں کہ آئندہ بھی ہر جمعرات کو یہ محفل سجتی رہے۔

گاؤں میں ملک صاحب کے والد کی برگزیدگی کی اس شہرت پر چودھری اور راجے کافی حسد کر رہے تھے۔ ان کے خیال میں ان کی ذات بڑی تھی اور گاؤں کے حوالے سے ان کی بے لوث خدمات اور عبادات بھی زیادہ تھیں تو پھر کم تر لوگوں کو کیوں ا س نیک کام کے لیے چنا گیا ۔ چودھری اس گاؤں میں بڑی مدت سے سیاسی حوالے سے حکمران تھے اور مقامی الیکشن میں ہمیشہ فتح مند قرار پاتے تھے جب کہ راجے ان کے مستقل حریف تھے اور سیاست میں سخت مقابلے کے ساتھ ساتھ دیہی زندگی کے ہر شعبے میں برابر کی ٹکر رکھتے تھے۔ اگر گاؤں میں کسی کا مقابلہ تھا تو وہ ان دونوں کا آپس میںتھا۔ مذہبی حوالے سے بھی انہی دونوں ذاتوں کا عمل دخل زیادہ تھا۔ گاؤں کی سات مساجد میں سے پانچ کے لیے چودھریوں نے اور دو کے لیے راجوں نے زمین عطیہ کی تھی۔ سبھی مسجدوں کا بجلی کا بِل چودھریوں کا کوئی نہ کوئی گھرانہ دیتا تھا۔ سردیوں میں وضو کے پانی کو گرم کرنے کے لیے تمام لکڑی راجے مہیا کرتے تھے ۔تینوں سکولوں کے لیے جگہ چودھریوں نے اور سرکاری دواخانے کے لیے زمین کا ٹکڑا راجوں نے دیا تھا۔ گاؤں کی سبھی نالیاں، گلیاں چودھریوں نے پکی کروائی تھیں اور تھانہ کچہری میں بھی یہی دونوںگروہ عوام کی مدد کیاکرتے تھے۔اگر آخرت کی منزل میں درجات کی بلندی دنیاوی اعمال کے نتیجے میں عطا کی جاتی ہے تو پھر ان دونوں ذاتوں کا حق زیادہ بنتا تھا۔ اگر ملکوں کو یہ بلند رتبہ مل گیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کہیں نہ کہیں کسی سے چوک ہو گئی ہے۔ خدا اس قدر نا انصاف نہیں ہو سکتا کہ حق دار کو اس کے حق سے محروم رکھے۔

ایک رات چودھریوں کا ایک سرکردہ آدمی عشاء کے بعد کالے خان کے حجرے میں جا پہنچا ۔ اس کی بیوی کے ہاتھوں سے گرما گرم چائے پینے کے بعد اس نے کالے خان سے یہی سوال کیا کہ خدا نا انصاف کیسے ہو سکتا ہے۔ کالے خان نے عاجزی سے ہاتھ باندھ کر استدعا کی کہ جس بستی میں بڑے بڑے دولت مندوں کے ہوتے ہم جیسے غریب خاندان بھوک سے مرنے لگیں ، وہاں عدل و انصاف کیسے قائم ہو سکتا ہے۔ چودھری نے خدا کے اس زمینی نمائندے سے آئندہ کے لیے زمین پر کامل انصاف کا وعدہ کیا اور بیعانے کے طور پر دو مہینے کے خانگی اخراجات عنایت کر دیے۔

اگلے دن آسمان پر انصاف کی میزان درست ہونے کی نوید گاؤں کے ہر چودھری گھرانے تک پہنچ گئی ۔ کالے خان چہرے پر روحانی چمک لیے ہر گھر میں جا جا کے بتاتا پھر رہا تھا کہ آج رات قبرستان میںاس نے نور کی بارات دیکھی۔رات کے پچھلے پہر کسی غیبی آواز نے اسے نیند سے جگا دیا ۔ وہ اٹھ کر باہر نکلا تو قبرستان کے پہلے سرے کی طرف روشنی کے آثار نظر آئے۔ وہ ایک پر اسرار سی کشش کے تحت ادھر کھنچتا چلا گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ آسمان سے نور کا ایک دھارا (کیا خبر نوری فرشتے اتر رہے ہوں، وہ درمیان میں اپنی ہی بات کاٹ کر کہتا)زمین کی طرف رواں تھا۔آسمان سے دودھ جیسی چمکتی روشنی کی ایک آبشار قبرستان کے اس کونے کی طرف گر رہی تھی۔ حمد و ثنا کی آوازیںہر طرف چھائی ہوئی تھیں۔اس کا دل رعب سے تھم گیا تھا۔و ہ صمٌ بکمٌ وہیں کھڑا رہا۔ کافی دیر بعد جب یہ سلسلہ رکاتو اس کے بدن میں جنبش کااحساس جاگا اور اس نے آگے بڑھ کر اس کونے میں جا کر دیکھا تو چودھری رشمت علی کی قبر کے چاروں طرف دودھیا روشنی کا تالاب بنا ہوا تھا۔ ان کی قبر کا سینہ چاک تھا اور یہ سبھی روشنی اسی طرف سمٹ رہی تھی۔حمد و ثنا کی آواز اسی قبر میں سے آ رہی تھی۔ ہوتے ہوتے آواز بھی مدھم پڑتی گئی اور تمام روشنی بھی اسی قبرمیں سمٹ گئی۔ پھر کسی نامعلوم طاقت نے قبر کا تعویذ دوبارہ جوڑ دیا اور اس سارے عمل کا کوئی نشان بھی نہ چھوڑا۔ صبح وہ اس قبرکو غور سے دیکھ کر آیا ہے ۔ بالکل اپنی اسی حالت میں ہے جیسے روز وہ دیکھتا تھا۔ حتیٰ کہ کھبل گھاس بھی اسی طرح اگی ہوئی ہے اورچھ مہینے پہلے شبِ برات کو جلائی گئی اگر بتیوں کے ادھ جلے سرے بھی اُسی طرح ٹھکے ہوئے ہیں۔ اوپر والے کی شان ہے، جو کرتا ہے ، اس کا راز وہی جانے۔

اب چودھری لوگوں کا وقت تھا۔ ان کے سب سے بڑے سیاسی رہنما چودھری ظریف علی کے باپ کی قبر پر خدا نے اپنی رحمتیں نازل کی تھیں۔ اسے عاقبت کی زندگی میں اعلیٰ مقام ملنے کی نشانی دی گئی تھی۔ امام صاحب گو کہ اس دفعہ سمجھ گئے تھے کہ یہ کالے خان کی گھڑی ہوئی کوئی کہانی ہے مگر ایک طرف چودھریوں کی دل شکنی کا خیال تھا دوسرے یہ احساس کہ اس واقعے کو جھٹلانے پر پہلے واقعے کی بھی تردید ہو جائے گی اور ان پر ملکوں کے ساتھ فریب میں ملی بھگت کا الزام آ جائے گا۔ سو انہوں نے خاموشی میں عافیت سمجھی۔ چودھریوں نے اس کا خاصا شہرہ کیا اور تمام گاؤں والوں کوان کی دین داری ، پرہیز گاری اور آخرت میں یقینی بخشش پر ایمان قائم ہو گیا۔

٭٭٭

کالے خان کی بیوی دہل گئی جب ان کے حجرے کا دروازہ کسی نے ٹھوکر مار کر کھولا۔ آنے والے تین افراد تھے جن کے چہرے رات کی تاریکی میں نظرنہ آرہے تھے ۔ کالے خان ہڑبڑا کر رضائی سے نکلا اور کون ہے ، کون ہے کی صدا لگائی۔ فوراً ہی اسے چارپائی سے دبوچ کر نیچے گرا لیا گیا اور گھٹنوں تلے دبا کر دھپوں اورگالیوں سے نوازاگیا۔ بیوی جو رضائی میں ہی دبکی تھی،یہ سب دیکھ کر چیخنے لگی لیکن ایک آواز نے اسے ڈپٹ کر خاموش کرا دیا:’’تو چپ رہ، تم دونوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ ‘‘

وہ پہچان گئی کہ یہ کرامت راجہ ہے۔ یہ ہمیشہ چودھری ظریف کے مخالف الیکشن لڑا کرتا تھا۔ وہ دونوں ہر دفعہ اسی کو ووٹ دیتے تھے ۔ بیوی نے سُکھ کا سانس لیا اور اٹھ کر طاق پر دِیا جلا یا اور خود رضائی لپیٹ نیچے زمین پر دبک کر بیٹھ گئی۔ کرامت راجہ کے دونوں آدمیوں نے کالے خان کو پکڑ کر پیڑھے پر بٹھا دیا ، ایک آدمی نے اس کے بازو مروڑ کر پیچھے سے پکڑ لیے، دوسرا اس کی گردن پر لاٹھی تانے کھڑا تھا۔ کالے خان منمنایا:’’راجہ صاحب! ہوا کیا۔ مجھ سے کیا گستاخی ہو گئی؟‘‘

راجہ صاحب اب چارپائی پر بیٹھ گئے تھے:’’گستاخی نہیں، حرامزدگی ہوئی ہے۔‘‘

’’راجہ صاحب۔ قسم لے لیں ، آپ کا نمک کھا کھا کر زندہ ہوں۔ میں نے کبھی آپ کے ساتھ دغا بازی کا سوچا تک نہیں۔ ہمیشہ ووٹ آپ کو دیا۔‘‘
’’ووٹ گیا تیل لینے۔ لگاؤ اسے دو چھتر۔‘‘

بازو جکڑے آدمی نے اپنا جوتا اتار کر کالے خان کی پشت پر دو چھتر کس کے لگائے اور اس کے پھڑکتے بدن کی تکلیف سے بے نیاز دوبارہ اس کے بازو مروڑ کر پکڑ لیے۔ کالے خان چیخوں کو اندر ہی اندر روکتا ،سسکیاں لیتا ہوا بولا:’’راجہ صاحب ! مجھے تکھر کھا جائے اگر آپ کے متعلق کبھی غلط سوچا بھی ہو تو۔آپ کا دیا ہی تو کھاتا ہوں۔‘‘

’’حرام زادے۔ تم نے کبھی دغابازی کا نہیں سوچا تو نمک حلالی کا خیال بھی تو نہیں کیا۔ ہمارے دشمنوں کے باپ دادا کی قبروں پر نور کی بارات نازل ہو رہی ہے اور ہماری قبریں ویران پڑی ہیں۔ دشمن دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہونے کا جشن مناتا ہے اور ہمارے حصے میں دونوں جہان کی شرمندگی۔ ہم کسی پر کیسے ثابت کریں کہ ہمارے بڑے بھی اتنے نیک اعمال کر کے گئے ہیں کہ آخرت میں بخشے جائیں۔‘‘

کالے خان گڑگڑانے لگا:’’راجہ صاحب۔ غلطی ہو گئی۔یہ سب تو بھوک کا کیا دھرا ہے۔ میں آپ ہی کا وفادار ہوں مگر اپنے اور زنانی کے پیٹ نے مجبور کردیا تھا۔‘‘

’’مجبوری ہمیں نہیں پتا۔ اب بہت جلد ہمارے باپ کے متعلق بھی ایسی کوئی حکایت سامنے آ جانی چاہیے ورنہ ہم دوبارہ آئے تو ساتھ اگلا گورکن پکڑ کر لائیں گے۔‘‘

’’لیکن آپ کے والد صاحب تو ابھی زندہ ہیں‘‘

’’زندہ تو خیر کیا ہیں، بس دو چار دنوں میں مرنے ہی والے ہیں۔ مگر تم یہ بتاؤ کہ کیا خدا زندہ لوگوں کو اگلے جہان میں بخشش کا وعدہ نہیں کرسکتا؟یہ سب سوچنا تمہارا کام ہے۔ تم ہی کرو۔‘‘

راجہ صاحب اسے ایک اور ٹھڈا مار کے حجرے سے نکل گئے۔

کچھ دن بعد کالے خان کی بیوی گاؤں میں سرکاری دواخانے پہنچی تو سخت پریشان حال تھی۔ وہاں موجود عورتوں نے پریشانی کی وجہ پوچھی تو اس نے رو رو کر بتایا کہ کالے خان سخت بیمار ہے۔ عورتوں نے بیماری کا سبب دریافت کیا تو اس نے دوپٹے سے آنسو پونچھتے ہوئے کہا کہ کالے خان سے گستاخی ہو گئی ہے اور اب مرنے والا ہو رہا ہے۔ کیسی گستاخی، عورتوں کے چہرے پر سوال کندہ تھا۔ جواباً کالے خان کی بیوی نے سسکیاں بھرتے ، ہچکیاں لیتے جو کہانی سنائی،وہ یہ تھی:

’’رات کو ہم بستری کے بعد ہم سونے لگے تھے کہ قبرستان کی طرف سے ایک تیز خوشبو آنے لگی۔ کالے خان نے فوراً ہی بتایا ، یہ کستوری ہے۔ مگر ساتھ ہی وہ حیران بھی تھا کہ کستوری کی خوشبو اور وہ بھی اتنی تیز کہاں سے آرہی ہے۔ اس نے باہر نکلنے میں جلدی کی، میں نے کہا ، میں بھی ساتھ چلوں، مگر وہ نہ مانا۔ وہ کافی دیر بعد واپس آیا تو اس نے بتایا کہ قبرستان میں عجیب سماں تھا۔ قبروں میں سے مردے نکل نکل کر قبرستان کے درمیان اکٹھے ہورہے تھے۔ وہ بھی چھپتا چھپاتا ان کے پیچھے چلتا گیا۔ قبرستان کے درمیان میں جہاں درختوں اور جھاڑیوں کی وجہ سے دن کو بھی اتناگھپ اندھیراہوتا ہے کہ اونچی اونچی قبریں بھی دکھائی نہیں دیتی، صاف قطعہ بنا ہوا تھا جس میں چاندنی جیسی تیز روشنی نے اجالا کر رکھا تھا۔ اس تمام جگہ پر سبھی چیزوں کا صرف اور صرف ایک رنگ تھا، دودھیا۔ سبھی روحوں کا لباس بھی اجلا کفن تھا(کالے خان کہہ رہا تھا کہ ضرور صرف نیک روحیں اکٹھی ہوئی تھیں)ان سب کے درمیان ایک تخت رکھا تھا جس پر دودھیا رنگ کے ہی قسما قسم پھول پڑے تھے۔ سبھی نے اس تخت کے گرد گھوم گھوم کر چکر لگائے ، اونچی اونچی آواز میں سورہ یٰسین کی تلاوت کی اور پھر سبھی اس کے چار چوفیرے اَدب کے ساتھ سر جھکا کے بیٹھ گئے۔ ایک روح جو شاید ان میں سب سے نیک تھی، کھڑی رہی اور ان سے خطاب کرنے لگی: آپ سب نیک روحو ںکو مبارک ہو، ہمارا کئی عشروں کا انتظار ختم ہونے کو ہے۔ وہ جو اللہ کے نزدیک سب سے پیارا ہے، ہماراوہ سردار بہت جلد ہمارے ہاں آنے والا ہے۔ ہم سب اس کے نورانی وجود سے برکتیں حاصل کریں گے۔ سبھی نیک روحیںاپنے آنے والے سردار کے حق میں درود و صلوٰۃ پڑھنے لگیں۔ ایک روح جو شاید وہاں نئی تھی، پکار کے پوچھنے لگی، ہمارا یہ سردار ہے کون، سبھی روحوں نے اس کی نادانی پر اسے گھورا مگر کھڑی ہوئی برگزیدہ روح نے بتایا کہ ہمارا سردار وہ ہے جو دنیا میں انتہائی خاموشی سے اپنے نیک اعمال سر انجام دیتا رہا، تمام عمر لوگوں کی خدمت میں گزاری اور کبھی دکھاوا نہیں کیا۔ اس کی بہت سی نشانیاں ہمارے پاس ہیں جو اس کے یہاں آنے کے بعد ظہور ہوںگی، البتہ اس کے فانی جسم کے سینے پر عین دل کے اوپر تین تِل ہیں اور اس کی پیدائش رمضان کے مہینے میں ہوئی تھی۔ اس کے بعد تمام روحوں نے کچھ دیر ذکر اذکار کیا، پھر تبرک تقسیم ہوا جس کا کچھ حصہ کالے خان تک بھی پہنچ آیا اور اس نے بغیر سوچے سمجھے چکھ لیا۔ یہ سب ختم ہوا تو روحوں نے واپسی کا ارادہ کیا۔کالے خان پلٹ کر جھونپڑے میں جب پہنچا ، اسی وقت اس کا پِنڈا تپنا شروع ہو گیا تھا۔ ناپاک حالت میں تبرک جو چکھ آیا تھا، سزا تو ملنی تھی ۔ اب تین رضائیوں تلے پڑا ہے اور ابھی بھی پالا پالا چِلا رہا ہے۔‘‘

یہ واقعہ فوراً ہی گاؤں بھرمیں پھیل گیا۔ سبھی کو جستجو ہوئی کہ آخریہ اللہ کا نیک بندہ کون ہے جو ان روحوں کا سردار بنے گا۔ رمضان میں پیدائش والی نشانی تو فضول ہی تھی۔گاؤں میں پچیس تیس سال پہلے پیدا ہونے والے شخص کا درست سالِ پیدائش نہیں ملتا تھا، مہینہ کسے معلوم ہوتا۔ اوپر سے اتنے بڑے گاؤں میں تین چار سو لوگ ایسے نکل آئے جن کی پیدائش رمضان میں ہوئی ہوتی۔ سو تِل والی نشانی ہی کارگر تھی۔ جوں جوں یہ واقعہ پھیلتا گیا، ہر گھر کے مردو زن اپنے کنبے کے افراد کے سینے پرکھنے لگے، کسی کسی کو ایک آدھ تل بھی مل گیا تو وہ خوش ہوتا رہا۔ کافی دیر بعد راجہ کرامت کے گھر سے خوشی کا ایک نعرہ بلند ہوا۔ معلوم ہوا کہ بسترِ مرگ پر پڑے باباجی ،راجہ کرامت کے والد راجہ سلامت علی کے سینے پہ عین دِل کے اوپر تین تِل ہیں۔ ان کی بیٹی نے اپنے باپ کی مالش کرتے کرتے یوں ہی بے دھیانی میں باپ کے سینے پہ غور کیا تو تین تِل نظرآ گئے، اس نے جو گھر والوں کو بتایا تو سبھی خوشی سے جھوم اٹھے۔ وہ رات اور اگلا آدھا دن ان کے ہاں اس مبارک خبر پر اتنا جشن منایا گیا کہ باباجی گھبرا کر اپنا سانس بھول بیٹھے۔ ان کی اتنی جلدوفات نے بھی کالے خان کی بیوی کے سنائے واقعے میں حقیقت کا رنگ بھر دیا۔ سبھی گاؤں باباجی کے کردار کی عظمت کا قائل ہو گیا۔ امام صاحب اس دفعہ بھی سب سمجھ گئے تھے لیکن بوجوہ خاموش رہے۔ باباجی کو اعزاز کے ساتھ دفنایا گیا اور ان کی تختی پر فخر کے ساتھ ولیِ آخرت، قطبِ عقبیٰ جیسے القابات کھدوائے گئے ۔ قبرستان میں ان کا چھوٹا سا مزار بھی بنا دیا گیا جس کے باہر تختی پر یہ سارا واقعہ کالے خان کے حوالے سے کندہ کرادیا گیا تھا۔

گاؤں میں سبھی خوش تھے اور ان سب کی خوشی کی وجہ سے کالے خان کی زندگی بھی آسانی سے گزرنے لگی تھی۔

٭٭٭

چار ماہ بعد ایک دن کالے خان کے بارے میں لوگوں نے سنا کہ وہ پاگل ہو گیا ہے۔ کالے خان کی بیوی صبح سویرے گاؤں کے ایک سیانے کو بلا کر حجرے میں لے گئی تھی ، وہاں کالے خان چارپائی پر لیٹا تھا، مگر اس کی حالت عجیب تھی۔ یوں لگتا تھا کہ وہ نہ کچھ دیکھ رہا ہے نہ سن رہا ہے۔ بس دور کسی چیز کو گھورے جا رہا تھا ۔ سیانے نے اس کا معائنہ کیا۔ اسے نہ تو بخار تھا اور نہ ہی کوئی اور جسمانی تکلیف ۔ البتہ وہ کسی بھی بات کا جواب نہیں دے رہا تھا اور نہ ہی ہلانے جلانے پر کوئی ردِعمل دکھاتا تھا۔ سیانے نے پہلے بیوی پھر گاؤں واپس پہنچ کر سبھی کو سنا دیا کہ کالے خان اپنے حواس سے باہر چلا گیا ہے۔گاؤں کے لوگ پہلے اکا دکا پھر بعد میں گروہ در گروہ کالے خان کی خیریت معلوم کرنے آئے۔ اگر کسی نے اپنے اپنے دیسی ٹوٹکے آزمائے لیکن اسے کسی طرح ہوش میں نہ لاسکے۔نہ کسی کو پاگل پن کی وجہ سمجھ آئی اور نہ ہی اس کا چارہ سوجھا۔اس کی یہی حالت تھی کہ جہاں بٹھا دیا جاتا ، بیٹھا رہتا، نگاہیں دور کسی اور دنیا میں جھانکتی رہتیں اور یوں لگتا جیسے دماغی طور پر اس کا اِس دنیا سے رشتہ ختم ہو گیا ہے۔ آخر کار دو تین دن کے بعد سب نے تھک ہار کر چھوڑ دیا اور کالے خان اور اس کی تیمار داربیوی حجرے میں اکیلے رہ گئے۔

٭٭٭

ایک شام امام صاحب کے گھر کے دروازے پر دستک ہوئی۔ بی بی نے دروازہ کھولا تو باہر کالے خان کی بیوی کھڑی تھی۔یہ عورت ان کے گاؤں کی نہیں تھی لیکن بی بی اسے پہچانتی تھی۔اس نے امام صاحب سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ بی بی حیران تو ہوئی کہ یہ عورت ان سے کیوں ملنا چاہتی ہے ،گاؤں کی عورتیں اپنے شرعی مسائل بی بی سے ہی پوچھا کرتی تھیں۔ امام صاحب تک کوئی عورت کم ہی آتی تھی۔ لیکن پھر بھی بی بی نے اسے بیٹھک میں بٹھایا اور امام صاحب کو خبر کر دی۔ امام صاحب خود بھی حیران تھے کہ اس عورت کو ایسا کیا مسئلہ ہو سکتا تھا جو وہ ان سے پوچھنا چاہ رہی تھی۔

امام صاحب اندر داخل ہوئے تو کالے خان کی بیوی نے نظریں جھکائے جھکائے کھڑے ہو کر انہیں سلام دیا۔ امام صاحب نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کر کے فوراً استفسار کیا کہ اس کا کیا مسئلہ ہے۔ اس نے نگاہیں تھوڑی سی اُٹھا کر امام صاحب سے سوال کیا:’’امام صاحب! میرا شوہر تو ہمیشہ کے لیے پاگل ہو چکا ہے۔ میرا کسی بھی قسم کا حق وہ پورا نہیں کرسکتا۔اب کیا میں اس کے ساتھ ہمیشہ کے لیے فضول بندھی رہوں گی یا دین مجھے اپنی زندگی کہیں اور ڈھونڈنے کی اجازت دیتا ہے؟‘‘

امام صاحب چونک گئے۔ آخر دوسرے گاؤں سے آئی ہوئی عورت ایک ہی مہینے میں بیزار ہو گئی۔ یہاں گاؤں میں کتنی ہی عورتوں کی مثال موجود ہے جو دہائیوں سے اپنے بیمار اور معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ اس عورت کا صبر اتنا جلدی جواب دے گیا۔ امام صاحب نے اس پر جھنجھلا کر اسے شرع کے مطابق جواب دیا:’’دیکھیں جی! شرع اس معاملے میںصاف کہتی ہے کہ اگر مرد کا تمام بدن پیپ سے بھرا ہواور زوجہ کو اسے زبان سے چاٹ کر صاف کرنا پڑے تب بھی مرد کا حق ادا نہیں ہوتا۔ تم کیسی عورت ہو جو ذرا سی آزمائش سے گھبرا گئی ہو۔ دیکھو ان عورتوں کو جو کب سے اپنے بیکار حتیٰ کہ معذور شوہروں کے ساتھ رہ رہی ہیں۔ان کے مرد بھی تو کوئی حق نہیں پورا کرتے۔‘‘

وہ شرمسار ہوئی مگرپھر دونوں ہاتھ امام صاحب کے آگے جوڑ کر بولی:’’امام صاحب ! وہ سب رجے پُجے لوگ ہیں۔ ہمارا ان سے کیا مقابلہ ۔ ان عورتوں کو کھانے پہننے کی کمی تو نہیں ہے نا، پوری برداری ان کی مدد کردیتی ہے۔ میں تو اکیلی جان، کالے خان کا بھی کوئی والی وارث نہیں۔ مرد کے بغیر تو رہ لوں گی مگر روٹی تو روز کھانی ہوتی ہے نا۔مجھے تو کوئی کام آتا نہیں، کالے خان ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے‘‘

’’تم دوسری دفعہ کہہ رہی ہو ، ہمیشہ کے لیے پاگل ہو گیا ہے، تمہیں کیسے اتنا یقین ہے۔ وہ بیمار ہوا ہے، کسی وقت بھی ٹھیک ہو سکتا ہے۔ ‘‘

وہ جھجکے جھجکے بولی:’’امام صاحب! مجھے اس کے پاگل ہونے کی وجہ معلوم ہے نا، میں اسی لیے کہہ رہی ہوں۔‘‘

’’ایں! کیا وجہ ہے ؟ میں نے تو ا بھی تک کوئی وجہ نہیں سنی۔‘‘

’’امام صاحب! میں نے خود ہی کسی کو ابھی تک وجہ نہیں بتائی تھی۔ مجھے تھا کہ کوئی اس پر یقین نہیں کرے گا۔‘‘اس نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا:’’مگر آپ پر مجھے یقین ہے، آپ کو بتا سکتی ہوں، سن کر آپ مجھے بتانا کہ میرے مسئلے کا کیا حل ہے۔‘‘

’’ٹھیک ہے بتاؤ۔‘‘

’’امام صاحب!کالے خان جس طرح کی جھوٹی کہانیاں گھڑتا رہتا تھا، اس نے اسی کی سزا پائی ہے۔ کالے خان شب برات کی رات پاگل ہوا ہے۔ شب برات کے متعلق آپ ہی بتایا کرتے ہیں کہ اس رات پرانی تمام روحیں زمین پر آتی ہیں۔ معلوم نہیں پہلے کبھی ایسا ہوا یا نہیں ،اس رات یقیناً ایسا ہوا تھا۔ ہم دونوں اپنے حجرے میں الگ الگ چارپائی پر سوئے ہوئے تھے۔گرمی کی وجہ سے ویسے بھی نیند پوری طرح نہیں آرہی تھی۔آدھی رات کے قریب دروازے پر ہونے والی تیز دستک سے ہم دونوں جاگ اٹھے۔ کالے خان نے دروازہ کھولا تو ایک بوڑھا آدمی دروازے پر کھڑا تھا۔ پندرہویں کے چاند کی تیز چاندنی میں اس نے پہلی نظر میں ہی اسے پہچان لیا اور جھٹکا کھا کر واپس حجرے میں لڑکھڑا آیا۔البتہ جب وہ آدمی اندر داخل ہوا تو میں اسے نہ پہچان سکی۔ اس نے اندر آتے ہی چپل اتار لی اور کالے خان پربرسانے لگا۔ یہ دیکھ کر مجھے غصہ آیا ہی تھا کہ کالے خان کے الفاظ سن کر میں سُن ہو گئی ۔ کالے خان کہہ رہا تھا۔’’ابا جی! آپ کہاں سے آ گئے؟ آپ کو تومیں نے خود اپنے ہاتھوں سے دفنایا تھا۔‘‘

میں حیرت سے مرنے والی ہو گئی۔ اس کا باپ تو کب کا مر کھپ چکا تھا۔وہ کیسے آ سکتا ہے۔

بڈھے نے چپل برساتے برساتے کہا:’’کیوں، میں نہیں آ سکتا۔ جب تیرے پیو ملک، چودھری اور راجے آ سکتے ہیں تو میں نہیں آسکتا؟‘‘

کالے خان خوف سے گھگھیانے لگا:’’ابا جی ! ابا جی! مجھے معاف کر دو۔ کیا قصور ہو گیا مجھ سے جو ایسے مار رہے ہیں؟‘‘

اتنے میں اس نے چپل برسانی روک کر کالے خان کا کان پکڑ کر اتنی طاقت سے مروڑ دیاکہ کالے کی چیخ نکل گئی: ’’مردود! تم نے ثابت کیا کہ تم میرا بیٹا کہلانے کے لائق ہی نہیں ہو۔ مجھے تم پر غصہ ہی بہت ہے۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے پھر چپل کے وار شروع کر دیے۔

کالے خان گھگھیا کر معافی مانگ رہا تھا اور اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔ بڈھے نے چپل ایک طرف پھینک کر اسے بالوں سے پکڑ کر اوپر اٹھا لیا۔ ’’ قصور قصورحرام کے جنے۔ مجھ سے قصور پوچھتا ہے۔ پوری دنیا کے باپوں کو تُو نے بخش بخشوا دیا، سب کے متعلق گاؤں میں مشہور کروا دیاکہ ان کی عاقبت رحمتوں اور برکتوں سے مالا مال ہے۔ اور مجھے اپنے باپ کو بھول ہی گیا۔ کیا میں نے تمہاری ماں کو تھا یاوہ چودھریوں اور راجوں نے۔ ‘‘

’’ابا جی، آپ ہی میرے باپ ہیں۔ مجھ پر رحم کریں۔ ‘‘

’’میں باپ ہوں تو تم مجھے کیوں بھول گئے تھے؟ میرے متعلق کیوں کوئی کہانی تمہارے منہ سے نہیں نکلی بد بخت۔اب میں تمہیں کبھی نہیں بخشوں گا۔ یاد رکھ تمہیں اپنے باپ سے نا انصافی بھگتنی پڑے گی۔ ‘‘ یہ کہہ کر اس نے کالے خان کو دو دھموکے مارے اور پاؤں پٹختا باہر کو چل دیا۔

کالے خان اس کے جانے کے بعد اٹھ کر قبرستان کی طرف نکل گیا۔ میں بھی ڈرتی ڈرتی اس کے پیچھے چلی مگر وہ آدھے راستے میں واپس ہوتا مل گیا۔ ’’یہ تو واقعی ابا جی تھے، اپنی قبر میں ہی گھس رہے تھے۔‘‘جب وہ جھونپڑی میں پہنچا تو اس کے پورے بدن پر جھرجھری طاری تھی۔ چارپائی پر لیٹا مگر بولا کچھ نہیں۔ میں بھی خاموش اس کے سرہانے بیٹھ اس کا ماتھا دباتی رہی۔ جانے کب میری آنکھ لگ گئی اور میں اس کے ساتھ ہی لیٹ رہی۔ صبح جب جاگی تو کالے خان نہ ہل رہا تھا نہ میری طرف دیکھ رہا تھا۔ بس ایک ہی طرف نظریں جمائی ہوئی تھیں۔ میں اس کی حالت سے ڈر گئی اور سیانے کو بلا کر لائی۔ تب معلوم ہوا کہ اس کا دماغ الٹ گیا ہے۔ ‘‘

کالے خان کی بیوی اتنا سنا کر رونے لگی۔ امام صاحب اسے پچکارتی نظروں سے دیکھتے رہے اور پھر آخر کار بولے:’’دیکھو بیٹی! کالے خان کے ساتھ جو ہوا، سو ہوا۔ اس کا اپنا کیا دھرا سامنے آیا۔ تم اس کہانی کو اپنے تک رکھو ، کسی کو سنانے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

’’اور امام صاحب! میں اس کالے خان کا ساتھ چھوڑ سکتی ہوں کیا؟‘‘اس نے امید بھری نظروں سے امام صاحب کو دیکھا۔

’’شرعی طور پر ایک مخبوط الحواس کے ساتھ عقد کا رشتہ قائم نہیں ہوتا۔ تم خود کو کالے خان سے الگ ہی سمجھو۔ جاؤ اپنے گاؤں واپس چلی جاؤ،کچہری سے خلع لے لو اوراپنا گھر کہیں اور بسالو۔ اورہاں اس بات کویہیں بھول جاؤ۔ کسی سے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘

کالے خان کی بیوی انہیں تشکر بھری نظروں سے دیکھتی اٹھی ، ہاتھ اٹھا کر سلام کیا او ر امام صاحب سے رخصت ہو گئی۔

اس عورت نے امام صاحب کا کہا مانا اور کسی سے کبھی اس واقعے کا ذکر نہیں کیا۔ کچھ ہی دنوں بعد وہ کالے خان کو اس کے حال پر چھوڑ کر اپنے مائیکے گاؤں واپس چلی گئی جب کہ کالے خان حجرے سے بے دخل ہو کر گاؤں کی گلیوں پر آن پڑا۔ اب وہ سارا دن ایک ہی جگہ ساکت و صامت کھڑا رہتا ہے ، نہ کسی سے بات کرتا ہے، نہ کسی سے کچھ کہتا ہے۔ کوئی کچھ کھلا دے تو کھا لیتا ہے ورنہ کسی سے مانگتا نہیں ہے۔ کسی پر اس کے پاگل پن کا باعث نہیں کھلتا۔ بس ایک امام صاحب ہیں جن کی نظر کبھی کبھار اس پر پڑتی ہے تو ایک آشنائے راز مسکراہٹ ان کے لبوں پر پھیل جاتی ہے لیکن اس آشنائی نے بھی کبھی ہونٹوں سے زبان تک کا ذرا سا فاصلہ طے نہیں کیا۔

Image: Francisco de Goya

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Muhammad Abbas

Muhammad Abbas

محمد عباس جہلم کے گاؤں طور میں 1983 میں پیدا ہوئے۔


Related Articles

بھگوان آج کل تہہ خانے میں رہتا ہے

وہ آج کل تہہ خانے میں رہتا ہے اور میں دھرتی کی سطح ہمورا کرتے ہوئے بستیاں بساتا ہوں۔

خونی لام ہوا قتلام بچوں کا

محمد حمید شاہد: زندہ رہ جانے والوں کو اپنی موت تک زندہ رہنے کے جتن کرنا ہوتے ہیں،اسی حیلے کو بروئے کار لا کر وہ اپنے دلوں سے گہرے دُکھ کا وہ بوجھ ایک طرف لڑھکانے میں کامیاب ہو ہی گئے تھے

کشف

میں جھٹ سے اپنا وجود سمیٹتے ہوئے دور بھاگ جاتی ہوں"نہیں یہ وہ نہیں ہے جو مجھے سہار سکے، آخر یہ سب سجھتے کیوں نہیں کہ میں ٹکڑوں میں زندہ نہیں رہ سکتی، مجھے تقسیم ہونا نہیں آتا، میں تو اکائی کی قائل ہوں۔ م