پینسٹھ کی جنگ میں حصہ لینے والے فرشتے تمغوں سے تاحال محروم

پینسٹھ کی جنگ میں حصہ لینے والے فرشتے تمغوں سے تاحال محروم
یہ خبر خبرستان ٹائمز پر انگریزی میں پڑھنے کے لیے کلک کیجیے۔

جنت الفردوس: یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے 51 برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔ خبرستان ٹائمز سے خصوصی گفتگو کے دوران ان غیر مرئی جنگی سورماوں نے اپنی مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس برس بھی یوم دفاع منایا گیا تاہم انہیں سرکاری طور پر نہ تو کسی تقریب میں مدعو کیا گیا اور نہ ہی ان کے لیے اعزازات کا اعلان کیا گیا۔

یہودوہنود کی سازشوں اور حملوں کو ناکام بنائے اکیاون برس گزر جانے کے باوجود قوم و ملک کے مافوق الفطرت محافظ فرشتے اپنے اعزازات سے محروم ہیں۔
موضوع کی حساسیت کے پیش نظر چونڈہ کے محاذ پر کرامات دکھانے والے ایک فرشتے نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا،"ہمارا تذکرہ نصابی کتب میں ہے، مورخین کے مضامین ہماری کارناموں اور معجزوں سے بھرے پڑے ہیں لیکن آج تک حکومت نے ہماری خدمات کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا۔" ان کا کہنا تھا، "ہمارے نام سرکاری ریکارڈ میں شامل ہی نہیں کیے گئے اور اگر کہیں دیے بھی گئے ہیں تو ہجے درست نہیں۔ یہ دکھ کی بات ہے کہ ہمارے کارناموں کی صحیح تصویر بھی کبھی بھی عوام کے سامنے پیش نہیں کی گئی"۔ سترہ روزہ جنگ میں اٹھارہ سو بم ہوا میں کیچ کر کے ناکارہ بنانے والے فرشتے کا دعویٰ تھا کہ ان میں سے ہر ایک فرشتہ نشان حیدر کا حقدار ہے۔

فرشتوں کی بٹالین کے کمانڈر کا کہنا تھا کہ وہ 65 کی جنگ میں اپنا کام تاشقند معاہدے سے پہلے ہی مکمل کر کے عرش کو لوٹ گئے تھے۔ انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا "حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔" اس غازی فرشتے کے خیال میں ان کی خدمات کو نظرانداز کرنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ چھ ستمبرکو 'یوم دفاع' قرار دیا گیا ہے۔

ایک اور بزرگ فرشتے کے خیال میں جب تک یوم دفاع کو"عجب حملے کا غضب دفاع" قرار نہیں دیا جاتا 65 کی جنگ میں جان کی بازی لگانے والے فرشتوں کی خدمات نظرانداز ہوتی رہیں گی، "ایک بار انہیں سمجھ آ گئی کہ ہم فرشتوں نے کس طرح ان کے پچھواڑے بچائے تھے تبھی انہیں ہماری اہمیت کا احساس ہو گا۔" بزرگ فرشتے کے خیال میں جنگ کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا تھا اس لیے انہیں تمغے اور رقبے نہیں دیے گئے "درحقیقت 65 کی جنگ جیتی نہیں گئی تھی بلکہ ہار جیت کے بغیر ختم ہو گئی تھی، اسی لیے ہمیں اب تک ہمارے تمغے نہیں دیے جا سکے۔"

انہوں نے ہرے چولے سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا "حکومت نے ہمیں تمغہ خدمت تک نہیں دیا، اور تو اور نور جہاں کے کسی گانے میں ہمارا ذکر تک نہیں۔"
فرشتوں کا کہنا تھا کہ اگر جنگ سے پہلے ان سے مشورہ کر لیا جاتا تو یقیناً جنگ کا نقشہ مختلف ہوتا۔ فرشتوں کے کمانڈر نے تاریخ سے گرد جھاڑتے ہوئے بتایا "آپریشن جبرالٹر ہر صورت ناکام ہونا تھا کیوں کہ کشمیری ایسی کسی چالبازی کا حصہ بننے کو تیار نہیں تھے۔" انہوں نے جمائی لیتے ہوئے مزید بتایا کہ "آپریشن گرینڈ سلام بروقت شروع ہو سکتا تھا اگر اس کا نام رکھنے میں اتنی سوچ بچار نہ کرنا پڑتی۔"

عسکری تاریخ کے ماہر فرشتے کے مطابق "ہمیں جنگ بدر سمیت کسی جنگ میں شمولیت پرکسی قسم کے اعزازات نہیں دیے گئے اور اس بات کا ہمیں کوئی دکھ نہیں۔ دکھ اس بات کا ہے کہ جنگ ستمبر میں ہماری کامیابیوں کی کوئی تحقیقاتی رپورٹ تیار نہیں کی گئی'۔ مورخ فرشتے کے مطابق فرشتوں کے کارہائے نمایاں کی بیشتر داستانیں جنگ بدر کے واقعات سے چربہ کی گئی ہیں۔

تاہم تمغے اور اعزازات سے محرومی بھی ان فرشتوں کو پاک فوج اور پاکستان سے متنفر نہیں کر سکی اور وہ آج بھی بی آر بی نہر اور چونڈہ کے محاذوں کی یادیں سینے میں لیے پاکستان کے لیے نیکلیئر وارہیڈز کیچ کرنے کی مشقیں کر رہے ہیں۔ یاد رہے ان فرشتوں نے رات کی تاریکی میں سرحد عبور کرنے والے دشمن کے برسائے گولے نہ صرف ہوا میں کیچ کیے بلکہ ناکارہ بھی بنائے۔

یہ ایک فرضی تحریر ہے۔ اسے محض تفنن طبع کی خاطر شائع کیا گیا ہے، کسی بھی فرد، ادارے یا طبقے کی توہین، دل آزاری یا اس سے متعلق غلط فہمیاں پھیلانا مقصود نہیں۔

Related Articles

پاکستان میں بھارتی مداخلت، 'وار' فلم کی ڈی وی ڈی بطور ثبوت اقوام متحدہ میں جمع کرائی جائے گی۔ سرتاج عزیز

خبرستان ٹائمز: نامہ نگار خبرستان ٹائمز کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کی جانب سے پیش کی جانے والی فائل میں موجود افراد رمل، لکشمی، میجر مجتبیٰ رضوی، اعجاز خان اور احتشام دراصل آئی ایس پی آر کی معاونت سے تیار ہونے والی بلاک بسٹر پاکستانی فلم 'وار' کے کردار ہیں۔

پنجاب میں پیپلز پارٹی کی بحالی، بلاول بھنگڑا سیکھیں گے

خبرستان ٹائمز: بلاول نے خبرستان ٹائمز کو پنجاب کے جلسوں کے لیے خریدے گئے ڈیزائنر لاچے اور رومال بھی دکھائے اور آف دی ریکارڈ بھنگڑے کی چند قدیم شکلیں پرفارم کر کے بھی دکھائیں۔

لاہور؛ سیمنٹ نوشوں کی تعداد میں اضافہ، مزید فلائی اوورز کی تعمیر کا مطالبہ

خبرستان ٹائمز: دریائے لکشمی شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے نتیجے میں رونما ہونے والا ایک اور تعمیراتی معجزہ ہے۔