پینے لوپیا

پینے لوپیا
پینے لوپیا
زیوس کی بیٹی اتھینہ بھیس بدلے
ہمالیہ کی ترائیوں میں موت کے گیت گاتی
رقص گاہوں میں جام لنڈھاتے دیوتا
ان دیوتاؤں کی بے بسی پر خندہ
پینے لوپیا
غار میں قید تمھارا اودیسس
کسی خوش جمال دیوی کی خواہشات کا
لباس پہنے
اپنے خیال کا قیدی
تمہارے ہاتھوں سے بنتے، اڈھرتے کپڑے
کی مانند
فصیل جاں پر نسبتوں کا بوجھ اٹھائے
تمہیں یاد رکھتا ہے.
پینے لوپیا!
ذرا صبر دیکھنا کہیں ریت مٹھی سے نہ پھسل جائے.
موت کے وحشی درندے
کے پنجے، جسم پر گھاؤ
مگر میرا دل سلامت ہے
زندگی کی کشتی میں ایک روز
پھر لوٹوں گا
پینے لوپیا!
اتلس کی بیٹی تم سے زیادہ خوبصورت نہیں ہے.
اتھینہ ہمالیہ سے لوٹے گی
اولمپس پر زیوس اس کی بات پر کان
دھرے گا
بس ریت مٹھی سے پھسلنے نہ پائے

Image: Francis Sydney Muschamp


Related Articles

خُدا اپنا لباس نہیں بدلتا

کون پڑھتا ہے زندگی کو تمہاری مو جودگی میں
اور کسے لکھنا آ جا تا ہے لفظ "موت "
تمہارے بغیر

فلیش بیک سے باہر

نصیر احمد ناصر: ماضی کی ایک تنگ گلی میں کھڑے
چم چم اور گلاب جامن کھاتے ہوئے
تم لوگوں سے یوں مِل رہے تھے
جیسے سب تمھارے ہم جوار و ہم جولی ہوں

بیرنگ نیتیں‎

رضی حیدر: کہاں کی نیت کی بات کرتے ہو؟ پاکبازوں کی نیَتوں کی ؟
مرے سرہانے تو اس طرح کی کسی بھی نیت کے بت نہیں ہیں!