پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

پیچھے مُڑ کے مت دیکھنا!

اس وقت ناں کوئی تُمہارا باپ ہے
نہ بھائی
نہ کوئی سرپرست
ناں تُم کسی کی بیٹی ہو
نہ عزت

صحیفے طاق پہ دھرے ہیں
قانُون مر چُکا ہے
اور تُم صرف ایک ناہنجار عورت ہو

وہ عورت
جس نے آواز اُٹھائی ہے
احتجاج کرنے والی عورتوں کی
زہریلے لفظوں سے بے حُرمتی کرنا
ہمارے مُقدس سماج کا
سرمایہء افتخار یے

وہ دن دُور نہیں
جب تُمہارے ہی قبیلے کا کوئی جوانمرد
غیرت کے نام پہ
تُمہیں قتل کر کے
سرخُروئی کا تاج سر پہ رکھے
فخر سے سینہ تان کے چلے گا

اب ڈرنا نہیں بیٹی!
کہ تُمہارا پیچھے ہٹنا
تُمہاری قوم کی ہر بیٹی کی شکست ہے
ہر ماں کے مُنہ پہ طمانچہ ہے
مُقابلہ کرنے نکلی ہو تو سر پہ کفن باندھ لو
ہر روز مت مرنا
مرنا تو صرف ایک بار ہے
بُھول جاؤ کہ تُم کون ہو
صرف یہ یاد رکھو
کہ تُمہیں کسی کی کٹھ پتلی نہیں بننا !!!!

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Samina Tabassum

Samina Tabassum

Samina Tabassum is a teacher and lives in Canada. She strongly advocates humanitarian values and stands for love and respect for all. Three collections of her prose poetry 'Naya Chand', 'Miti ki Aurat' and 'Aini Shahid' have been published.


Related Articles

خاموش۔۔۔۔خبردار

یہ جسم نہیں روح ہے
اور ہزاروں، لاکھوں، کروڑوں جسموں میں چکر کاٹتی رہتی ہے
مگر پھانسی کے پھندے میں سماتی نہیں ہے : نورالہدیٰ شاہ

گونگے لفظ چبانے والو

سلمان حیدر: پستولوں کو طمنچہ کہہ دینے سے
بولی کو گولی نہیں لگتی
اور آئین کے تختہ سیاہ پر لکھ دینے سے
کوئی زباں نافذ نہیں ہوتی۔۔۔۔۔۔۔۔

دُکھ

نصیر احمد ناصر: دکھ کسی بچے کی بنائی ہوئی تصویر ہے
زندگی کے ٹریسنگ پیپر پر
دکھ کبھی سیدھی، کبھی آڑی ترچھی
لکیریں بناتا ہے