پی ٹی وی پر حملے سے اے آر وائی پر حملے تک

پی ٹی وی پر حملے سے اے آر وائی پر حملے تک
ذرا 2014 کے ان دنوں کو یاد کیجیے جب 'شرپسند' پی ٹی وی کی عمارت پر چڑھ دوڑے تھے اور ذرا اے آر وائی ٹی وی پر حملے کا بھی جائزہ لیجیے۔ یہ دونوں حملے قابلِ مذمت ہیں، صحافت اور سیاست کی حرمت کے خلاف ہیں مگر ذرائع ابلاغ ان دونوں حملوں پر ایک بالکل مختلف موقف اختیار کیے دکھائی دیتے ہیں۔ ٹی وی اینکروں نے پی ٹی وی پر حملہ کرنے والوں کو انقلابی اور اے آر وائی پر حملہ کرنے والوں کو غدار قرار دیا ہے۔ یہ فرق ایم کیو ایم اور تحریک انصاف کا فرق نہیں بلکہ یہ فرق ہے کہ کون خاکی وردی والوں کا محبوب ہے اور کون نہیں۔ کس کے پیچھے چار ستارہ جرنیل ہیں اور کس کے ساتھ نہیں۔ یہ فرق ہے ریاست کے طاقتور عسکری اداروں کی جانب سے شرپسند کی تعریف کا۔ یہاں شرپسند وہ ہیں جن سے عسکری ادارے کام لے چکے ہیں اور اب انہیں ان کی ضرورت نہیں رہی۔ لیکن کیا شرپسند صرف وہی ہیں جنہیں عسکری ادارے شرپسند قرار دیں کیا کوئی ہے جو یہ فیصلہ کر سکے کہ وہ جو منتخب حکومتوں کا تختہ الٹتے ہیں، اپنے حلف کی خلاف ورزی کرتے ہیں، آئین کو ٹھوکر مار کر اپنے راستے صاف کرتے ہیں وہ بھی شرپسند ہیں یا نہیں؟

پی ٹی وی پر حملے سے لے کر اے آر وائی پر حملے تک ہم نے سیاسی قوتوں کو پسپا ہوتے دیکھا ہے اور عسکری اداروں کو ہر معاملے پر سبقت حاصل کرتے دیکھا ہے۔
یہ دو حملے سول عملداری پر ایک اور عسکری فتح کی کہانی بھی ہیں۔ پی ٹی وی پر حملے سے لے کر اے آر وائی پر حملے تک ہم نے سیاسی قوتوں کو پسپا ہوتے دیکھا ہے اور عسکری اداروں کو ہر معاملے پر سبقت حاصل کرتے دیکھا ہے۔ یہ دونوں حملے دو مختلف رحجانات کی عکاسی کرتے ہیں۔ ایک حملہ طاقتور اداروں کے چہیتوں نے کیا اور ایک حملہ عسکری اداروں کے زیرِ عتاب آنے والوں نے۔ عسکری ادارے ایم کیو ایم کو ایک عبرتنک مثال بنانا چاہتے ہیں حالانکہ ایم کیو ایم کی سرپرستی بھی انہی طقتور اداروں نے کی۔ سیسی جماعتوں کے لیے یہ یک اچھا سبق ہے کہ فوج کی نہ دوستی اچھی نہ دشمنی ان کے نزدیک سیاست دان اور سیاسی جماعتیں محض ٹش پیپر ہیں اور یہ بات نواز شریف صاحب کو بھی ذہن میں رکھنی چاہیئے۔

ہمیں 12 مئی کو یاد رکھنا چاہیئے کیوں کہ فوجی آمر اپنے اقتدار کی خاطر قتل عام سے بھی درگزر کر سکتے ہیں۔ وہی جماعت جو ایک وقت میں ایک فوجی آمر کی اتحادی تھی تب مقدمات بھی ختم کر دیے گئے اور لوگ رہا بھی کر دیے گئے؟ ہمیں آج کی فوجی قیادت سے یہ سوال کرنا چاہیئے کہ اگر ایم کیو ایم کراچی میں تشدد کی ذمہ دار ہے تو کیا اس وقت کا وہ فوجی آمر ذمہ دار نہیں اس جماعت کی غیر قانونی سرگرمیوں کا؟ مگر کس میں ہمت ہے کہ وہ کہہ سکے کہ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائی کرنی ہے تو ان کے سرپرست اور مربی سابق جرنیلوں کو بھی کٹہرے میں لائیے۔ کوئی ہے جو یہ مطالبہ کرے کہ بھائی تحریک طالبان کے سرپرست تو ہمارے خاکی بھائی تھے ان کا محاسبہ کون کرے گا؟ ہمارے خاکیوں کا جب جی چاہتا ہے جیسے جی چاہتا ہے یہ دہشت گرد اور شرپسند کی تعریف متعین کر کے کسی کے بھی خلاف کارروائی شروع کر دیتے ہیں۔ کیا کسی نے زحمت کی کہ وہ کسی عدالت سے رجوع کرے، کوئی مقدمہ درج کرائے، کوئی قانونی کارروائی کر لے اور پھر متحدہ کے دفاتر پر چھاپے مارنے یا گرفتاریوں کا فیصلہ کیا جائے؟

ایم کیو ایم کے اس اقدام کا دفاع ممکن نہیں مگر عسکری اداروں کا دفاع بھی ممکن نہیں، لیکن ایم کیو ایم کم سے کم اپنے کیے پر شرمندہ تو ہے، خاکی وردی والے اور ان کے چہیتے سیاستدان تو آج تک پنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں
یہ کیسا قاعدہ اور قانون ہے کہ اسلام آباد میں پارلیمان کے سامنے تشدد پر اکسانے والوں کے خلاف کارروائی نہیں ہوتی، گرفتاریاں نہیں ہوتیں مگر متحدہ کے کارکنان کو بغیر کی عدالتی کارروائی کے حراست میں بھی لیا جاتا ہے اور دفاتر بھی بند کیے جاتے ہیں۔ سول نافرمانی کی تحریک چلانے اور حکومت گرانے کی باتیں کرنے والوں کو فوجی سربراہ سے ملاقات کے لیے بلایا جاتا ہے مگر جو تین برس سے غیر قانونی حراستوں اور لاپتہ کارکنان کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں ان کے دفاتر فتح کیے جا رہے ہیں۔

یہ ممکن ہے کہ ایم کیو ایم کے ہندوستان سے روابط ثابت ہو جائیں، تشدد میں ملوث کارکنان کے خلاف قانونی کارروائی بھی ضروری ہے، الطاف حسین کے بینات کی مذمت بھی کی جانی چاہیئے مگر قانون کی کارروائی یک طرفہ نہیں ہونی چاہیئے۔ خاکی وردی والوں کا بھی محاسبہ ضروری ہے جو قانونی حدود سے تجاوز کرتے ہیں، جو منتخب حکومتوں کے مینڈیٹ کی پرواہ کیے بغیر پارلیمان پر چڑھ دوڑتے ہیں اور جن کی تحویل سے سیاسی کارکن مسخ شدہ لاشیں بن کر نکلتے ہیں، جو سیاسی جماعتوں کو ڈرا دھمکا کر توڑتے ہیں۔ ایم کیو ایم کے اس اقدام کا دفاع ممکن نہیں مگر عسکری اداروں کا دفاع بھی ممکن نہیں، لیکن ایم کیو ایم کم سے کم اپنے کیے پر شرمندہ تو ہے، خاکی وردی والے اور ان کے چہیتے سیاستدان تو آج تک پنی غلطیوں کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔
Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmad

Tauseef Ahmed is a marketing executive from Bahawalpur and regularly writes for Laaltain.


Related Articles

Love-Hate Relationship with Pakistan... Perspectives of a British Citizen of Pakistani Origin

Syma Khalid Growing up as a second generation immigrant of working class parents in the West Midlands, I easily identified

پاکستان کی سیکولرتشکیل ضروری ہے

مسلم ریاستوں میں موجود سیاسی بحران ماضی کی قدامت پرست روایات اور آئین سازی اور قانون سازی کے عمل میں مذہبی علماء خصوصاً تقلید پرست اور قدامت پسند علماء کے غلبہ کی وجہ سے ہے۔

پاکستان بدل رہا ہے

پاکستان بدل رہا ہے اور بہت تیزی سے بدل رہا ہے۔