چاند میری زمیں پھول میرا وطن

چاند میری زمیں پھول میرا وطن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن
میرے دہقان فاقوں کے مارے ہوئے
سینچ کر خون سے کھیت ہارے ہوئے
لوٹ کر لے گیا پھر وڈیرہ کوئی
میرے کھیتوں کی مٹی کے لعل و یمن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

 

میرے بچوں کے ہاتھوں میں ہتھیار کیوں
ہر گھڑی لڑنے مرنے پہ تیار کیوں
اس کی تکفیر کیا اس سے تکرار کیوں
کیوں لہو میں نہائے ہیں کوہ و دمن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

 

میرے فوجی جواں جراتوں کے نشاں
مارتے بس نہتوں کو ہیں گولیاں
کچھ کی لاشیں برہنہ ملی ہیں ہمیں
اور کچھ کو ملا بوریوں کا کفن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

 

ڈالروں سے گھر اپنے سجائے گئے
میرے بیٹوں کو فتوے سنائے گئے
کچھ تو کشمیر کو جا کے لوٹے نہیں
اورکچھ سٹریٹیجک ڈیپتھ میں ہیں دفن
چاند میری زمیں پھول میرا وطن

Salman Haider

Salman Haider

The author is working as Urdu Editor at Tanqeed. He is a visiting Scholar at University of Texas at Auston and a Blog Writer at Dawn Urdu. He has a profound interest in theater, drama and culture.


Related Articles

ﺳﺎﺩﮬﻮ

سعید اللہ قریشی:
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻭﻗﺖ ﮐﺎ ﺩﺍﺋﺮﮦ ﺗﻮﮌ ﮐﺮ ﺍﯾﮏ ﺁﺩﮬﯽ ﺧﺒﺮ
ﮨﯽ ﺍﮌﺍ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ
ﺣﻆ ﺍﭨﮭﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﮨﻮﮞ

امیزون

ھناء خان:
میں نے اک دن اتنا پوچھا
کیا مصنوعی ٹانگیں، بازو بھی ملتے ہیں؟
دل، گردے اور آنکھیں بھی
تھوڑے زیادہ پیسے دے کر
مل جاتی ہیں دو گھنٹے میں؟

آدمی بیوپار ہے

آدمی ہو یا کتا
جو روٹی دیتا ہے
وہ مالک ہوتا ہے