چودھویں صدی کی آخری نظم

چودھویں صدی کی آخری نظم
چودھویں صدی کی آخری نظم
نئی کتابوں میں یہ بھی لکھنا
کہ پچھلا سارا سفر
تو ریت اور دھوپ کا تھا
درخت کے سائے میں فنا
اور ثمر میں زہریلے ذائقے تھے

ہوا سے پیاس
اور خاک سے بھوک
ہم کو میراث میں ملی تھی

ہم اپنے اجڑے گھروں کی
کچھ راکھ
اپنی بے چہرگی پہ مَلتے
کہ یوں ہی شاید
کوئی ہماری شناختوں کی
سبیل بنتی
کوئی ہمارا جواز ہوتا
کوئی ہماری دلیل بنتی

نئے زمانوں کے نام لکھنا
کہ پچھلے قصوں کے ہر ورق میں
لہو کی بو تھی
سطور حرف وفا سے خالی تھیں
صدق غائب تھا

یہ بھی لکھنا
کہ چودہ صدیوں سے ہانڈیوں میں
ابُلتے پتھر گلے نہیں تھے
ہماری ماوں نے اپنے بچوں کو
دہشتوں میں حنوط کر کے
جنم دیا تھا

نئی کتابوں میں یہ بھی لکھنا

Image: Yadesa Bojia

Did you enjoy reading this article?
Subscribe to our free weekly E-Magazine which includes best articles of the week published on Laaltain and comes out every Monday.
Iftikhar Bukhari

Iftikhar Bukhari

Iftikhar Bukhari is a Lawyer by Profession. He studied at Murray college Sialkot and University of West Virginia USA.


Related Articles

جہلم پر اترتی شام

عمران ازفر:لال گلابی ہو کر سورج
جانے کس کو ڈھونڈھ رہا ہے
دور اندھیرے سے کمرے کی
اندھی ٹوٹی کھڑکی کھولے

خدا یہاں تو نہیں ہے

جسم سجدے تان کر لیٹا ہے
مگر
خدا یہاں تو نہیں ہے

آخری لفظ کے بے کار ہونے تک لکھتے رہو

نصیر احمد ناصر: کتنی عجیب بات ہے
کہ زیادہ تر نظمیں اور کہانیاں
دلوں اور سرحدوں کے آس پاس
کسی قومیت کے بغیر جنم لیتی ہیں