چھنال

چھنال

شہرِ عفت کی سب ہی شہزادیاں
اک چھنال سے پریشان
بلا کی حسین اور ذہین
جس کی ملکیت
ایک خوبصورت جسم اور روح
دل اور دماغ
شہزادیوں کے دامن میں
صرف خاندان اور نام
ان کے شہزادے
ان ہی سے بیزار
اسی چھنال کے آگے پیچھے
صبح و شام
خوارو ناکام
پھر وہ پوچھیں مجھ سے
اس کی کوئی چھوٹی بہن بھی ہے کیا۔۔۔
میں کہوں ہاں!
شہر کی سب ہی شہزادیاں
جن کی خواب گاہیں
شریف زادوں کے نام
جبکہ یہ چھنال
اپنے بستر پر تنہا
اس گیت کی آغوش میں
پھر وہی شام وہی غم وہی تنہائی ہے
دل کو سمجھانے تیری یاد چلی آئی ہے
Image: Waseem Ahmed

Mohammad Shehzad

Mohammad Shehzad

محمد شہزاد اسلام آباد میں مقیم انگریزی اور اردو کے لکھاری ہیں۔ دونوں زبانوں میں نثری شاعری بھی لکھتے ہیں۔ کلاسیکل موسیقی میں طبلے اور گانے کے طالب علم ہیں۔


Related Articles

سرمئی نیند کی بازگشت

نصیر احمد ناصر: رات کا سوناٹا ختم ہونے سے پہلے
مجھے خواب کے اُس سرے کی طرف جانا ہے

ہمیں خدا کی ضرورت نہیں

سدرہ سحر عمران: زنجیریں ہمارے دم سے زندہ ہیں
ہمیں نیکیوں کے ہار مت پہناؤ

سوراخوں سے رِستی سیاہی

حسین عابد: میں دیکھتا ہوں
وہ میرا خون
سیاہی میں بدلتے ہیں